بسم اللہ الرحمن الرحیم
2008ء میں جب میں نے بلاگنگ شروع کی تو اس کے چند مہینوں بعد میں نے ”اردو اور کمپیوٹر“ کتابچہ لکھا اور پھر اب 2011ء میں اردو بلاگنگ کے لئے ”اردو اور بلاگ“ کتاب لکھی۔ ان دونوں کے درمیان بھی کئی ایک ٹیوٹوریل لکھے۔ یہ سب لکھ کر میں نے کسی پر کوئی احسان نہیں کیا۔ بس مجھے لگا کہ ان معلومات کی اردو میں ضرورت ہے اور ان کو دوسروں تک پہنچانا چاہئے تو میں نے پہنچا دیا اور ساتھ ساتھ انہیں موضوعات پر جہاں تک مجھ سے ہو سکا دوستوں کے ساتھ تعاون کرتا رہا اور جہاں تک ہو سکا کرتا رہوں گا۔ کئی لوگوں نے ”اردو اور کمپیوٹر“ کتابچہ کو اپنے بلاگ یا ویب سائیٹ پر لگانے کی اجازت چاہی اور کئی لوگوں نے اجازت بھی نہیں لی۔ خیر اجازت لینے کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ میں نے کتابچہ میں پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ ”اگر کوئی چاہے تو اس کتابچہ کو شائع کر سکتا ہے“۔ کئی فورمز پر تو میں نے خود پورے کا پورا کتابچہ شائع کیا۔ ویسے کئی لوگوں نے تو میرے ٹیوٹوریلز میں سے لنک اور نام تبدیل کر کے انہیں اپنے نام سے شائع کیا۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کوئی میرے نام سے شائع کرے یا اپنے سے، بس میں تو چاہتا ہوں کہ اردو کی معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔ اس لئے جن لوگوں نے میری تحریر/تحاریر اپنے نام سے شائع کیں، میں نے ان کا کہیں ذکر بھی نہیں کیا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی میں بھی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اس لئے مجھے کئی دفعہ ٹیوٹوریلز میں اپڈیشن کرنی پڑتی ہے۔ بہت زیادہ ویب سائیٹ/فورمز پر ٹیوٹوریلز پھیلے ہونے کی وجہ سے چھوٹی سی تبدیلی پر بھی کئی پوسٹس اپڈیٹ کرنی پڑتیں جوکہ میرا بہت وقت لیتیں۔ مزید جو پوسٹس دوسروں نے شائع کی ہوتیں ان سے بھی رابطہ کرنا پڑتا۔ اس کے علاوہ کئی دوست میری بنائی ہوئی پی ڈی ایف فائلز کو اپنی مرضی کی ویب سائیٹ پر اپلوڈ کر کے لنک دوسروں کو دیتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ میں نے اس پی ڈی ایف فائل کو اپڈیٹ کر دیا ہوتا ہے لیکن بعض ویب سائیٹس پر پرانا لنک ہے جس سے پرانی معلومات دوسروں تک پہنچ رہی ہیں۔ ان سارے مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، جب میں نے ”اردو اور بلاگ“ کتاب لکھی تو سوچا کہ مختلف ویب سائیٹ/فورمز پر پوری کتاب شائع کرنے کی بجائے کتاب کی فہرست شائع کر دیتا ہوں اور لنک اپنے بلاگ کے ہی رہنے دیتا ہوں تاکہ جب کوئی تبدیلی کرنی پڑے تو صرف اپنے بلاگ پر کروں۔
اس کے علاوہ پی ڈی ایف فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے اپنی ویب سائیٹ پر ایک صفحہ اسی کام کے لئے بنایا تاکہ یہ مستقل لنک رہے اور ہر کوئی اسی لنک کو دوسروں تک پہنچائے۔ اس کی دو وجوہات تھیں ایک تو پہلے والی کہ پی ڈی ایف فائل میں تبدیلی کرنی ہو تو ایک ہی جگہ پر آسانی سے کر سکوں اور دوسری یہ کہ جہاں فائل رکھی ہوئی ہے اس سرور میں تبدیلی کروں تو کسی کو کوئی مشکل نہ ہو کیونکہ مستقل لنک تو میری ویب سائیٹ کا ہے جو کہ میں تبدیل نہیں کروں گا۔ اس سے مزید ایک قدم آگے ، ڈاؤن لوڈ والے صفحہ پر ای میل کی سہولت دی ہے تاکہ اگر کسی کو ڈاؤن لوڈ میں مسئلہ ہو تو وہ اپنا ای میل ایڈریس لکھ کر بھیج دے اور اسے عارضی طور پر متبادل ڈاؤن لوڈ لنک بتائے جا سکیں۔
لیکن افسوس تب ہوا جب میرے اس طریقے کا کچھ دوستوں نے غلط مطلب نکال لیا کہ میں اپنے بلاگ کی ٹریفک بڑھانے کے لئے ایسا کر رہا ہوں۔ ایسی سوچ والوں کو جواب تو دے سکتا ہوں لیکن میری بلاگنگ کا مقصد فضول بحث میں پڑنا نہیں بلکہ اپنے کام کی طرف توجہ دینا ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ ان کی اس سوچ پر غصہ کرتے ہوئے ان کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو مثبت اندازِ سوچ نصیب ہو اور کسی کی ٹانگ کھینچنے بجائے تعمیری کاموں میں تعاون کریں۔
خیر الٹا سیدھا سوچنے والے تو سوچتے ہی رہیں اور چاہے کوئی ان کی مرضی سے ہی چلے لیکن پھر بھی وہ مطمئن نہیں ہوں گے۔ اس لئے ایسے لوگوں کی پرواہ کیے بغیر اب سوچ رہا ہوں کہ ”اردو اور کمپیوٹر“ کتابچے، ”اردو اور بلاگ“ کتاب اور دیگر ٹیوٹوریلز کی کوئی پالیسی ترتیب دی جائے تاکہ مواد کی ترسیل اور اپڈیشن آسان ہو سکے۔ یاد رہے مندرجہ بالا مشکلات کی وجہ سے مجبوری کے تحت پالیسی بنانے کا سوچ رہا ہوں۔
برائے مہربانی اس بارے میں اپنے قیمتی مشورے دیں تاکہ اردو کمپیوٹنگ اور بلاگنگ کی معلومات آسانی سے دوسروں تک پہنچائی جا سکے۔ میں نے اپنے ذہن کے مطابق پالیسی کے چند نقاط لکھے ہیں۔ یہ ابھی حتمی نقاط نہیں کیونکہ ابھی آپ سب سے بھی تو مشورہ لینا ہے کہ کیا درج ذیل نقاط ٹھیک ہیں یا نہیں؟ یا پھر یہ نہیں ہونے چاہئے؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ درج ذیل نقاط میں کوئی خرابی یا مسئلہ ہے تو ضرور نشاندہی کریں تاکہ اس کو بہتر کیا جا سکے۔ آپ کے قیمتی مشوروں کا انتظار رہے گا۔

 
میرے بلاگ/ ویب سائیٹ کی کوئی بھی تحریر اور کسی بھی قسم کی فائل اگر آپ اپنے بلاگ، فورم، کسی بھی قسم کی ویب سائیٹ یا پرنٹ کر کے شائع کرنا چاہیں تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں۔

 
    بغیر اطلاع کیے آپ کوئی بھی تحریر پوری کی پوری شائع نہیں کر سکتے۔ لیکن بغیر اطلاع کیے اپنے بلاگ، فورم یا ویب سائیٹ پر کسی تحریر کا تقریباً 25 فیصد حصہ شائع کر سکتے ہیں اور ساتھ میں اصل لنک کا حوالہ دینا ضروری ہے۔ حوالہ دینے کے لئے میرا نام لکھنے سے بہتر ہے کہ اس تحریر کا اصل لنک دیں یعنی میرے بلاگ/ویب سائیٹ پر موجود اس تحریر کا لنک دیں۔

    کوئی بھی تحریر پوری کی پوری یا اس کا تھوڑا بہت حصہ بغیر اجازت پرنٹ کر کے شائع نہیں کر سکتے۔

    میری تیار کردہ کسی بھی قسم کی فائل بغیر اجازت کسی دوسری جگہ اپلوڈ نہیں کر سکتے لیکن انتہائی مجبوری میں اپلوڈ کرنی پڑے تو مجھے اطلاع کرنا ضروری ہے۔

    میری تیار کردہ کسی بھی قسم کی فائل کا لنک ہر جگہ ہر کسی سے شیئر کر سکتے ہیں لیکن صرف میرا فراہم کردہ لنک اور وہ بھی جو میری ویب سائیٹ کا ہو صرف وہی شیئر کر سکتے ہیں۔

 
        میں نے جو تھوڑا بہت کام کیا وہ آپ کے لئے ہی کیا ہے اور بہتر سے بہتر انداز میں آپ تک پہنچانے کی کوشش رہا ہوں۔ مجھے پالیسی بنانے کا نہ کوئی شوق تھا اور نہ ہے۔ آپ سب میرے اپنے ہو اور اس طرح پالیسی بناتے ہوئے مجھے اچھا نہیں لگ رہا لیکن مندرجہ بالا پالیسی صرف مجبوری کے تحت بنانی پڑ رہی تاکہ معلومات بہتر سے بہتر انداز میں آپ تک پہنچ سکیں۔ میں جانتا ہوں ہمارے ہاں نہ کوئی پالیسی ہے اور نہ کوئی قانون۔ لکھنے کو تو ”اطلاع“ کرنے کا لکھ دیا ہے اور اگر اطلاع کر دیں گے تو یہ بھی بڑی مہربانی ہو گی۔