جولائی 7, 2019
تبصرہ کریں

اور جب ہم بازارِ حُسن گئے

تین چار سال پہلے کی بات ہے کہ سعد ملک کے ساتھ لاہور آوارگی ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ استاد آج لگے ہاتھوں شاہی محلہ ہی دکھا دے۔ اس نے جواب دیا ”کچھ خدا کا خوف کر۔ میں ایسا بندہ نہیں ہوں“۔ تو میرے کونسے ”وانٹڈ“ کے اشتہار لگے ہیں۔ میں بھی ایساویسا نہیں ہوں، مگر آج مجھے شاہی محلہ دیکھنا ہی دیکھنا ہے۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ وہاں کونسی ”شہنشاہیت“ بستی ہے۔ میرے اصرار پر وہ مان گیا اور ہم چل دیئے شاہی محلے۔ وہی محلہ جسے ہیرا منڈی اور بازارِ حُسن بھی کہا جاتا ہے۔ خیر شاہی محلے پہنچتے ہی سڑک کنارے گاڑی پارک کی اور پھر ایک کوٹھے پر پہنچے۔ جہاں طوائفوں کے رقص اور موسیقی←  مزید پڑھیے
جولائی 2, 2019
تبصرہ کریں

بھان متی نے تصویر جوڑی، شمال و جنوب سے لی تھوڑی تھوڑی

ایک تصویر ہزار الفاظ سے بھی بھاری ہوتی ہے۔ مگر المیہ تو یہ ہے کہ دنیا اسی بھار کے چکروں میں ہلکی ہو رہی ہے۔ اگر ایک تصویر ہزار الفاظ سے بھاری تو ایک جعلی تصویر ہزاروں الفاظ کو ہلکا بھی کر دیتی ہے۔ چوری شدہ یا جعلی تصویروں کے ذریعے تصویری چونا لگانے اور فوٹوگرافرز کو دیوار سے لگانے کا عمل جاری و ساری ہے۔ بتاتا چلوں کہ مجھے کسی پر کوئی اعتراض نہیں۔ برفوں سے صحرائی اونٹ گزاریں یا کہیں خلائی مخلوق اتاریں، میری بلا سے۔ مجھے تو بھان متی فوٹوگرافر صاحب اور اس چمتکاری تصویر پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ جس تصویر نے فوٹوگرافی کا بلاتکار کیا اور اچھے اچھے فوٹوگرافرز کی←  مزید پڑھیے
مارچ 14, 2019
تبصرہ کریں

ان آنکھوں کی مستی میں

مجھے ایک رات حسینہ کے ذاتی کمرے میں گزارنے اور اسے چھونے کا موقع بھی ملا۔ وہ ایک یادگار اور لاجواب رات تھی۔ مگر گھپ اندھیرے میں حسینہ نے مجھے تگنی کا ناچ نچایا۔ اور پھر میرا کھڑکی سے چپکے چپکے فوٹوگرافی کرنا ایسا ہی تھا کہ جیسے امریکن فلم ”ورٹیکل لمٹ“ کا ہیرو ہمالیہ کے دوردراز برف پوش پہاڑوں میں برفانی چیتوں کی فوٹوگرافی کر رہا ہوتا ہے۔ بہرحال حسینہ کا ماضی بہت دردناک ہے۔ وہ کیا ہے کہ جب یہ بہت چھوٹی تھی تو ایک دفعہ اپنے بھائی اور ماں کے ساتھ دریا عبور کر رہی تھی۔ دونوں بہن بھائی لہروں کی تاب نہ لا سکے اور پانی میں بہہ کر ماں سے بچھڑ گئے اور حسینہ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ←  مزید پڑھیے
مارچ 8, 2019
تبصرہ کریں

سائیکل سلامت، سفر بخیر

ابھی مجھے تنہا کئی دریا عبور کرنے ہیں۔ کئی وادیوں سے گزرنا ہے۔ بڑی منزلیں مارنی ہیں۔ لیکن اس سب سے پہلے، چناب کناروں والا منظرباز کچھ باتیں واضح کرنا چاہتا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ سیروسیاحت کے حوالے سے میں کوئی انوکھا نہیں، جبکہ وہ سائیکل والا کھوجی بھائی تو کمال ہے۔ ٹھیک ہے کہ میرے سیاحت اور فوٹوگرافی جیسے کئی شوق اس سے ملتے ہیں، لیکن کہاں مجھ جیسے مُلا کی دوڑ مسجد تک اور کہاں وہ۔ خیر جو بھی ہو مگر یارو! تلاش کا یہ سفر آسان تو نہیں۔ موسم کی شدت سے لڑنا، صحراؤں کی خاک چھاننا اور خطرناک جنگلی جانوروں کے درمیان بالکل تنہا جنگل بیابانوں میں راتیں گزارنا اور←  مزید پڑھیے
فروری 6, 2019
3 تبصر ے

دنیا کو میری ضرورت ہے یا نہیں؟

آج آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں اور یہ کہانی صرف میری ہی نہیں، بلکہ بہت سارے لوگوں کی ہے۔ کیونکہ دنیا ایسے عجوبوں سے بھری پڑی ہے۔ کہیں آپ بھی عجوبہ تو نہیں؟ بس جی! یہی بات تو جاننے والی ہے۔ مجھے بھی پہلے معلوم نہ تھا۔ لیکن پھر کسی حد تک معلوم ہو گیا کہ آخر میں کیا عجوبہ ہوں۔۔۔ ہاں تو! کہانی میرے بچپن سے شروع ہوتی ہے۔ میں وہ بندہ ہوں کہ جس کا بچپن شدید ذہنی الجھنوں میں گزرا۔ مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ بڑے ہو کر کیا بنوں گا۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ میری کوئی دلچسپی یا شوق نہیں تھا، بلکہ مسئلہ تو یہ تھا کہ میرے بہت سارے شوق تھے۔ سکول اور پھر کالج میں مجھے تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ بھی پسند←  مزید پڑھیے