پاکستان کا قومی پرچم ۔۔۔ سبز ہلالی پرچم
م بلال نے جمعہ، 13 اگست 2010 کو شائع کیا.

تمام پاکستانی میری طرف سے ایک چھوٹا سا تخفہ قبول فرمائیں۔ تخفہ ہے کہ پاکستانی پرچم کس طرح بناتے ہیں اور اس کی پیمائش کیا ہوتی ہیں۔ بات تو چھوٹی سی ہے لیکن ہماری اکثریت پرچم کی شکل و صورت تو جانتی ہے لیکن سو فیصد درست پرچم بنانا تو دور پیمائش تک نہیں جانتے۔ اس لئے میں نے سارا طریقہ، پیمائش اور ساتھ میں ایک کیلکولیٹر بھی تیار کردیا ہے تاکہ کسی بھی پیمائش کا پتہ لگانا آسان ہو سکے۔
جیسا کہ پہلے لکھا ہے چھوٹا سا تخفہ تو یہ واقعی آپ سب کے لئے چھوٹا سا تخفہ ہے لیکن میں نے اس پر بہت محنت کی ہے۔ محنت کسی قسم کی پروگرامنگ یا کسی اور چیز پر نہیں ہوئی بلکہ پاکستانی پرچم بنتا کیسے ہیں اس پر ہوئی ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ابھی تک مجھے کوئی مستند حوالہ نہیں مل سکا۔ وکی پیڈیا اور دیگر ویب سائیٹ نے ایک ہی طریقہ جگہ جگہ کاپی پیسٹ کیا ہوا ہے جو کہ میرے خیال میں نامکمل ہے یا پھر مجھے ان کے طریقوں کی سمجھ نہیں آ رہی۔ اگر آپ کے پاس قومی پرچم کی معلومات یا کوئی مستند حوالہ ہو تو ضرور شیئر کریں۔
آپ سب سے پہلے پاکستانی پرچم بنانے اور پیمائش کے حوالے سے کچھ تفصیل دیکھیں مزید بحث بعد میں کرتے ہیں۔
پاکستانی پرچم کی شکل
پرچم کی لمبائی چوڑائی کی نسبت 3:2 ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر پرچم کی لمبائی 3فٹ ہو گی تو چوڑائی 2فٹ ہو گی۔ لمبائی کا ایک چوتھائی سفید حصہ ہوتا ہے اسی طرح باقی گہرا سبز حصہ تین چوتھائی ہوتا ہے۔ گہرے سبز حصے کے درمیان میں ایک ہلال(پہلی کا چاند) اور ستارہ ہوتا ہے۔

پاکستانی پرچم کیسے بنایا جاتا ہے؟
پرچم کی پیمائش کی نسبت کو دیکھتے ہوئے ہم یہاں لمبائی تین فٹ اور چوڑائی دو فٹ فرض کرتے ہیں۔ 3فٹ لمبائی فرض کرتے ہوئے لمبائی کا ایک چوتھائی(1/4) کے حساب سے سفید حصہ 0.75فٹ ہو گا جبکہ گہرا سبز حصہ تین چوتھائی(3/4) کے مطابق 2.25فٹ ہو گا۔

چاند اور ستارہ کیونکہ سبز حصے میں ہوتا ہے اس لئے ہم سبز حصے میں دو وتری(ترچھی) لائنیں لگائیں گے۔ ایک لائن اوپردائیں والے کونے سے لے کر نیچے بائیں والے کونے تک جس کو TR کا نام دیتے ہیں اور دوسری لائن اوپر بائیں والے کونے سے لے کر نیچے دائیں والے کونے تک لگاتے ہیں۔ اس سے ہمیں سبز حصے کے مرکز کا پتہ چل گیا ہے۔ مرکز کو تصویر میں نقطہA سے ظاہر کیا گیا ہے۔ نقطہA سے TRلائن پر اوپر کی طرف پرچم کی چوڑائی کے 1/10 فاصلہ پر یعنی 0.2فٹ کے فاصلے پر ایک نقطہB لیتے ہیں۔ نقظہB سے اتنے ہی فاصلے یعنی 0.2فٹ پر TRلائن پر اوپر کی جانب ایک اور نقطہC لیتے ہیں۔ نقطہA کو مرکز مان کر پرچم کی چوڑائی کے 3/5 یعنی 1.2فٹ قطر کا دائرہ لگاتے ہیں۔اب نقظہB کو مرکز مان کر پرچم کی چوڑائی کے 11/20 یعنی 1.1فٹ قطر کا دائرہ لگاتے ہیں۔ دونوں دائرے ایک دوسرے سے دو جگہ پر مل رہے ہیں۔ ان دونوں جگہ سے اوپر دونوں دائروں کے حصوں کو ختم کرنے سے نیچے والے حصے مل کر چاند بنا رہے ہیں۔
اب آتے ہیں ستارے کی طرف
نقطہC کو مرکز مان کر پرچم کی چوڑائی کے 1/5یعنی 0.4فٹ قطر کا دائرہ لگائیں۔ ایک ستارہ اس پیمائش کا بنائیں کہ وہ اس دائرے جتنا ہو اور دائرے کے بالکل درمیان میں آ رہا ہوں اس کے علاوہ ستارے کا ایک کونہ TRلائن پر آ رہا ہو۔ جیسا کہ تصویر میں دیکھایا گیا ہے۔ اب آپ کا پرچم بن چکا ہے غیر ضروری لائنیں ختم کر دیں۔

اردو میں لکھتے ہوئے ہو سکتا ہے ”کا، کی، کے“ کی وجہ سے کسی چیز کی سمجھ نہ آرہی ہو تو اس لئے فارمولے لکھ رہا ہوں۔
پرچم کی لمبائی یا چوڑائی آپ اپنی مرضی کی رکھ کر باقی پیمائش تصویر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے درج ذیل فارمولوں سے نکال سکتے ہیں۔ ساتھ فرضی لمبائی چوڑائی سے بھی مثال دی ہے۔

پیمائش فارمولہ فارمولہ 2*3 کے حساب سے مثال
لمبائی یعنی OL 3/2 ضرب چوڑائی 1.5 x OW (3/2)*2 = 1.5*2 = 3
چوڑائی یعنی OW 2/3 ضرب لمبائی 0.667 x OL (2/3)*3 = 0.667*3 = 2
سفید حصہ یعنی OM 1/4 ضرب لمبائی 0.25 x OL (1/4)*3 = 0.25*3 = 0.75
سبز حصہ یعنی ML 3/4 ضرب لمبائی 0.75 x OL (3/4)*3 = 0.75*3 = 2.25
AB کا درمیانی فاصلہ 1/10 ضرب چوڑائی 0.1 x OW (1/10)*2 = 0.1*2 = 0.2
BC کا درمیانی فاصلہ 1/10 ضرب چوڑائی 0.1 x OW (1/10)*2 = 0.1*2 = 0.2
مرکز A کے دائرہ کا قطر 3/5 ضرب چوڑائی 0.6 x OW (3/5)*2 = 0.6*2 = 1.2
مرکز B کے دائرے کا قطر 11/20 ضرب چوڑائی 0.55 x OW (11/20)*2 = 0.55*2 = 1.1
مرکز C کے دائرے کا قطر 1/5 ضرب چوڑائی 0.2 x OW (1/5)*2 = 0.2*2 = 0.4
       

ایک کیلکولیٹر بنایا ہے جس کی مدد سے آپ پاکستانی پرچم کی لمبائی یا چوڑائی دے کر باقی پیمائش حاصل کر سکتے ہیں۔
کیلکولیٹر کے لئے یہاں کلک کریں۔
کمپیوٹر پر پاکستانی پرچم بناتے ہوئے رنگوں کے آر جی بی ماڈل میں پرچم کے گہرے سبز رنگ کی ویلیو آر صفر، جی 102 اور بی صفر ہے۔ اس کے علاوہ Hex کوڈ #006600ہے۔

پاکستانی پرچم کے بارے میں وکی پیڈیا پر مزید معلومات آپ یہاں، یہاں اور یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

اگر آپ کے پاس قومی پرچم کی معلومات یا کوئی مستند حوالہ ہو تو ضرور شیئر کریں۔
نوٹ:- میری تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ تھوڑا سا وقت نکالیں اور تمام پیمائش اور کیلکولیٹر کو مختلف حوالوں سے چیک کریں۔ میں نے اپنی طرف سے بہت تسلی سے اور دھیان سے چیک کر کے پوسٹ کی ہے لیکن پھر بھی اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اس کی نشان دہی ہو سکے۔

اردو اور کمپیوٹر (مکمل کتابچہ)
م بلال نے جمعرات، 1 جولائی 2010 کو شائع کیا.

میں نے ایک چھوٹی سی کوشش کی کہ اردو کمپیوٹنگ کے متعلق بنیادی معلومات کو ایک جگہ جمع کر سکوں اور اس کوشش کے نتیجہ میں ایک چھوٹا سا کتابچہ ”اردو اور کمپیوٹر“ کے عنوان سے تیار کر دیا۔

اس کتابچہ کا مقصد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج ہے تاکہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگ آسانی سے اردولکھ سکیں اور اپنی زبان کی ترقی کے لئے کام کر سکیں۔ یہ کتابچہ بالکل مفت دستیاب ہے اور ہر قسم کے کاپی رائٹ سے آزاد ہے۔ اگر کوئی چاہے تو اسے اپنی ویب سائیٹ یا کسی بھی ذرائع سے شائع کر سکتا ہے۔

مکمل کتابچہ پی ڈی ایف فائل میں یہاں سے اُتار سکتے ہیں۔

مکمل تحریر پڑھیے »

قبیلہ جس کے ہتھیار انٹرنیٹ اور گوگل ارتھ ہیں
م بلال نے منگل، 20 جولائی 2010 کو شائع کیا.

درخت کاٹنے والے لکڑ چوروں نے جب برازیلی قبیلے کے علاقے پر دھاوا بولا تو قبائلیوں نے تیر کمان نہیں جدید ٹیکنالوجی کے بل پہ انہیں شکست دے دی۔ ایک سبق آموز داستان
18 جولائی 2010ء کے سنڈے ایکسپریس میں چھپنے والی ایک سپیشل رپورٹ کا یہ عنوان تھا۔ یوں تو ساری رپورٹ ہی 35 سالہ قبائلی سردار ”علمیر نارایا موگا“ کی ہمت اور جدیدیت پسندی پر لکھی ہے لیکن یہاں اس رپورٹ کے چند اقباس پیش کروں گا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سردار علمیر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے علاقے کے جنگل اور اپنی قبائلی روایات کی حفاظت کر رہا ہے۔سردار علمیر کا آبائی جنگل دراصل مشہور زمانہ ایمیزن بارانی جنگلات (Rainforest) کا حصہ ہے۔ سردار علمیر ایک پست قامت اور گھٹے جسم کا مالک انسان ہے۔ گول چہرے پر چھوٹی چھوٹی چمک دار آنکھیں ہیں۔ چست و چالاک ہے اور اپنے مقصد کے لیے بڑا سرگرم! دوسروں کو اکثر اپنے سامنے سیاہ نوٹ بک کھولے بیٹھا ملتا ہے۔ اس کے گھر کی دیواریں تیر کمانوں اور دیگر قبائلی سوغاتوں سے سجی ہیں۔
یہ اس کا چھوٹا سا گھر ہی ہے جہاں سے سردار نے اپنے وطن میں ”جنگل کٹائی“(Deforestation) کے خلاف زبردست جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ تاہم اس کے ہتھیار نیزے یا تیر کمان نہیں بلکہ انٹرنیٹ، گوگل ارتھ اور جی پی ایس ہیں۔

مکمل تحریر پڑھیے »

کھلا محبت نامہ آپ کے نام
م بلال نے اتوار، 4 جولائی 2010 کو شائع کیا.

ایک زمانہ تھا جب لوگ صنم کو خط لکھتے اور جب خط مکمل لکھ لیتے تو دوبارہ پڑھتے تاکہ اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے درست کر لیا جائے لیکن اکثر یہی ہوتا کہ محسوس کرتے یہ الفاظ اظہار محبت کے لئے بہتر نہیں۔ پھر کیا ہوتا، خط کو پھاڑ دیتے اور نیا خط لکھنے بیٹھ جاتے۔ یہی عمل کئی بار دہرایا جاتا اور جب دل اکتا جاتا تو سوچتے کہ سیدھی سیدھی بات لکھتے ہیں اگر صنم کو پیار پر یقین آنا ہے تو آ جائے گا، نہیں تو نہیں۔
آج میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں خط پھاڑے جاتے تھے لیکن یہاں Ctrl+a کر کے ساری تحریر منتخب ہوتی اور پھر ڈیلیٹ۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا لکھوں اور کس طرح سمجھانے کی کوشش کروں۔ آخر کار میں نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ دو ٹوک کہہ دیتا ہوں اگر انہوں نے ماننا ہے تو ٹھیک نہیں تو ان کی مرضی۔

مکمل تحریر پڑھیے »

نیا نام، نئی جگہ اور نئے ڈیرے
م بلال نے جمعہ، 2 جولائی 2010 کو شائع کیا.

آپ سے گذارش ہے کہ اگر آپ نے اپنے بلاگ رول یا کسی بھی جگہ میرے بلاگ کا ربط دیا ہوا ہے تو تبدیلی کر کے نیا ربط شامل کر دیں۔ شکریہ۔
یہی تحریر میرے نئے بلاگ پر بھی موجود ہے۔ برائے مہربانی نئے نام، نئی جگہ یعنی میرے نئے ڈیرے پر اپنی قیمتی رائے دیجئے تاکہ میں بلاگ کو مزید بہتر کر سکوں۔

اس کے علاوہ تمام بلاگز ایگریگیٹر ویب سائیٹس جیسے اردو سیارہ، اردو لاگز اور ماورائی فیڈر وغیرہ وغیرہ کے منتظمین سے گذارش ہے کہ میرے بلاگ کا ربط تبدیل کر دیا جائے۔

بلاگ کے متعلق چند ضروری روابط درج ذیل ہیں

بلاگ کا پتہ

http://www.mbilalm.com/blog/

تحاریر کے آر ایس ایس کا ربط

http://www.mbilalm.com/blog/feed/

تبصروں کے آر ایس ایس کا ربط

http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/

مکمل تحریر پڑھیے »

Tags:-
نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل
م بلال نے جمعہ، 25 جون 2010 کو شائع کیا.
کیا ہم پینڈو انسان نہیں؟
م بلال نے جمعرات، 24 جون 2010 کو شائع کیا.
وادی ناران کاغان کی سیر (تصاویر حصہ اول)
م بلال نے جمعرات، 10 جون 2010 کو شائع کیا.
وادی ناران کاغان کی سیر (تصاویر حصہ دوم لالہ زار)
م بلال نے جمعرات، 10 جون 2010 کو شائع کیا.
وادی ناران کاغان کی سیر (تصاویر حصہ سوئم جھیل سیف الملوک)
م بلال نے جمعرات، 10 جون 2010 کو شائع کیا.

جملہ حقوق بحق ”م بلال م کی بیاض“ محفوظ ہیں.
ورڈ پریس ”پاک سائن تھیم 4.0 “ منجانب م بلال م