ستمبر 14, 2019
1 تبصرہ

دیوسائی میں ہماری ریچھ کہانی

جنگلی جانور انسان سے ڈرتے ہیں، لیکن جب مدبھیڑ ہو جائے تو وہ انسان پر حملہ کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ درندہ تو پھر درندہ ہی ہوتا ہے اور جب وہ اپنی آئی پر آتا ہے تو انسان کو بھاگنے کا موقع نہیں دیتا اور چیر پھاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ جب ایک دفعہ کوئی درندہ انسانی خون چکھ لے تو پھر وہ آدم خور ہو جاتا ہے اور انسان کو آسان شکار سمجھنے لگتا ہے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی ہم دیوسائی میں ریچھوں کی تلاش کو نکلے، مگر دعائیں بھی کرتے کہ ریچھ مل تو جائے لیکن اس انداز سے کہ ہم اسے دیکھ لیں، تصویریں بنا لیں اور وہ اتنا قریب بھی نہ ہو کہ ہم پر حملہ کر دے۔ آخرکار واقعی ہمارا ریچھ سے سامنا ہو گیا اور پھر ہماری دوڑیں←  مزید پڑھیے
ستمبر 11, 2019
1 تبصرہ

پربت کے دامن میں (دوبارہ)

خواتین و حضرات! میں ہوں اس داستان کا میزبان منظرباز۔۔۔ زندگی جیتے تمام مسافروں سے التماس ہے کہ برائے مہربانی انسان سے وابستہ امیدوں اور شکوہ شکایت کا بوجھ اتار دیجئے اور سفری و سیاحتی سامان باندھ لیجئے۔ یوں قوی امید ہے کہ آپ کا سفر یادگار ہو گا۔۔۔ بہرحال ہماری اس سفری داستان میں شادیانے بجتے ہیں، چشمے گاتے ہیں، آبشاریں مٹکتی ہیں، برفیں تڑکتی ہیں اور پریاں ناچتی ہیں۔ اس کہانی میں رومانس ہے… ٹریجڈی ہے… ڈرامہ ہے۔ شاعری ہے… نثر ہے۔ نظم، غزل، مضمون اور افسانہ ہے… مکالمہ ہے۔ ساکت و متحرک کردار ہیں۔ یہ مہم جوئی ہے۔ یہ امتحان، صبر، برداشت اور حوصلے کی کہانی ہے۔ اس میں←  مزید پڑھیے
جولائی 7, 2019
2 تبصر ے

اور جب ہم بازارِ حُسن گئے

تین چار سال پہلے کی بات ہے کہ سعد ملک کے ساتھ لاہور آوارگی ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ استاد آج لگے ہاتھوں شاہی محلہ ہی دکھا دے۔ اس نے جواب دیا ”کچھ خدا کا خوف کر۔ میں ایسا بندہ نہیں ہوں“۔ تو میرے کونسے ”وانٹڈ“ کے اشتہار لگے ہیں۔ میں بھی ایساویسا نہیں ہوں، مگر آج مجھے شاہی محلہ دیکھنا ہی دیکھنا ہے۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ وہاں کونسی ”شہنشاہیت“ بستی ہے۔ میرے اصرار پر وہ مان گیا اور ہم چل دیئے شاہی محلے۔ وہی محلہ جسے ہیرا منڈی اور بازارِ حُسن بھی کہا جاتا ہے۔ خیر شاہی محلے پہنچتے ہی سڑک کنارے گاڑی پارک کی اور پھر ایک کوٹھے پر پہنچے۔ جہاں طوائفوں کے رقص اور موسیقی←  مزید پڑھیے
جولائی 2, 2019
تبصرہ کریں

بھان متی نے تصویر جوڑی، شمال و جنوب سے لی تھوڑی تھوڑی

ایک تصویر ہزار الفاظ سے بھی بھاری ہوتی ہے۔ مگر المیہ تو یہ ہے کہ دنیا اسی بھار کے چکروں میں ہلکی ہو رہی ہے۔ اگر ایک تصویر ہزار الفاظ سے بھاری تو ایک جعلی تصویر ہزاروں الفاظ کو ہلکا بھی کر دیتی ہے۔ چوری شدہ یا جعلی تصویروں کے ذریعے تصویری چونا لگانے اور فوٹوگرافرز کو دیوار سے لگانے کا عمل جاری و ساری ہے۔ بتاتا چلوں کہ مجھے کسی پر کوئی اعتراض نہیں۔ برفوں سے صحرائی اونٹ گزاریں یا کہیں خلائی مخلوق اتاریں، میری بلا سے۔ مجھے تو بھان متی فوٹوگرافر صاحب اور اس چمتکاری تصویر پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ جس تصویر نے فوٹوگرافی کا بلاتکار کیا اور اچھے اچھے فوٹوگرافرز کی←  مزید پڑھیے
مارچ 14, 2019
1 تبصرہ

ان آنکھوں کی مستی میں

مجھے ایک رات حسینہ کے ذاتی کمرے میں گزارنے اور اسے چھونے کا موقع بھی ملا۔ وہ ایک یادگار اور لاجواب رات تھی۔ مگر گھپ اندھیرے میں حسینہ نے مجھے تگنی کا ناچ نچایا۔ اور پھر میرا کھڑکی سے چپکے چپکے فوٹوگرافی کرنا ایسا ہی تھا کہ جیسے امریکن فلم ”ورٹیکل لمٹ“ کا ہیرو ہمالیہ کے دوردراز برف پوش پہاڑوں میں برفانی چیتوں کی فوٹوگرافی کر رہا ہوتا ہے۔ بہرحال حسینہ کا ماضی بہت دردناک ہے۔ وہ کیا ہے کہ جب یہ بہت چھوٹی تھی تو ایک دفعہ اپنے بھائی اور ماں کے ساتھ دریا عبور کر رہی تھی۔ دونوں بہن بھائی لہروں کی تاب نہ لا سکے اور پانی میں بہہ کر ماں سے بچھڑ گئے اور حسینہ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ←  مزید پڑھیے