میرا یار کمپیوٹر بولا ”اردو صرف اردو ہے“

م بلال م نے اتوار، 15 جنوری 2012 کو شائع کیا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
یارو! کل میری بڑی بے عزتی ہوئی ہے۔ دل تو کر رہا ہے ”کمپیوٹر“ کو اچھی بھلی گالیاں نکالوں کیونکہ اس نے کل وہ کیا جس کی کبھی مجھے امید نہیں تھی۔ خیر کمپیوٹر بھی اپنا یار ہے اس لئے اس کی گستاخی پر درگزر کرتے ہیں۔ ویسے بھی بات چیت کے آخر پر اس نے یاروں کا یار بنتے ہوئے بڑے پیار سے بات کی۔

ہوا یوں کہ کل میں کمپیوٹر کو یہ پوچھ بیٹھا کہ ”یارا! یہ یونیکوڈ اردو کیا ہوتی ہے؟“ کمپیوٹر سر نیچے کیے ہوئے کاغذات کی دیکھ بھال کرنے میں خوب مگن تھا، اس لئے کمپیوٹر نے میرے سوال پر ذرا بھی توجہ نہ دی۔ جب میں نے دوبارہ بڑے پیار سے اپنا سوال دہرایا تو، ناک پر رکھی ہوئی عینک کے اوپر سے آنکھیں تھوڑی زیادہ کھول کر کمپیوٹر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اردو صرف اردو ہے اس لئے کسی یونیکوڈ اردو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔

مجھے سمجھ نہ آئی تو میں نے مزید سوال کیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ”کمپیوٹر کی ایک یونیکوڈ اردو اور دوسری تصویری اردو ہوتی ہے“۔
بس میرا یہی کہنا تھا کہ کمپیوٹر کا دماغ گھوم گیا۔ غصے میں عینک اتار کر زور سے میز پر مارتے ہوا بولا ”تم پتہ نہیں کہاں کہاں سے الٹی سیدھی باتیں سن آتے ہو اور آ کر میرا دماغ کھانے لگ پڑتے ہو۔ جب میں نے کہا کہ اردو صرف اردو ہے، تو پھر مزید کسی سوال کی گنجائش باقی نہیں رہتی“۔
اس دوران مجھے صاف پتہ چل رہا تھا کہ کمپیوٹر کو بہت غصہ آیا ہوا ہے۔ کمپیوٹر کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ اسے اپنے اوپر کوئی تہمت لگتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔
ابھی میں اندازے ہی لگا رہا تھا کہ کمپیوٹر خود بول پڑا ”یار بلال! یہ کچھ اردو والوں نے مجھ پر ”تہمت“ لگا رکھی ہے کہ میری دو قسم کی اردو ہے جبکہ ایسا نہیں۔ جب میں دیگر زبانوں کی ایک ہی قسم رکھتا ہوں تو پھر مجھے اردو کی دو قسمیں رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ لوگوں نے ہی میری اردو کے ساتھ ساتھ ایک تصویری اردو لا کھڑی کی ہے۔ ایک تو مجھ سے میری اردومیں بات نہیں کرتے اور اوپر سے مجھ پر دو قسم کی اردو رکھنے کی تہمت لگاتے ہیں۔ اب میں فضل الحق سری پائے اور کوزی حلیم والوں کی طرح جگہ جگہ اصلی اردو اور نقالوں سے ہوشیار رہنے کے بورڈ لگانے سے تو رہا۔ کچھ تم لوگ ہی اپنی کھوپڑی سے کام لے لو۔“
بات کرتے ہوئے کمپیوٹر کے لہجے میں تھوڑی نرمی آئی ہوئی تھی لیکن ساتھ ہی چیخ کر بولا ”تم لوگ ہو ہی ناشکرے۔ میں نے اپنے اندر ایک نظام یونیکوڈ بنایا تاکہ جہاں میں دیگر زبانوں کے لئے اچھے طریقے سے کام آتا ہوں وہاں پر اردو کے لئے بھی بہتر کام آ سکوں۔ میں نے اس جدت کی خاطر کئی پاپڑ بیلے، کئی سالوں تک محنت کی، لیکن تم ناشکرے لوگوں نے میری اس جدت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے میری اردو کے مقابلے میں تصویری اردو کو سوتن بنا دیا۔“
کمپیوٹر نے یہاں پر تھوڑا سا سانس لیا۔ میں سمجھا مجھے بات کرنے کا موقع مل گیا ہے، آخر میں بھی اس معاشرے کا حصہ ہوں جہاں پر صرف تنقید برائے تنقید اور پوری بات سنے، سمجھے بغیر لیکن لیکن کہا جاتا ہے، اس لئے میں نے موقع سمجھتے ہوئے سوال کرنا چاہا مگر کمپیوٹر نے مجھے سوال کرنے کا موقع ہی نہ دیا اور بول پڑا۔
”بھائی صاحب! یہ اکیسویں صدی ہے، 2011ء ختم ہو چکا ہے اور 2012ء چل رہا ہے، لیکن تم اردو والے آج بھی 1999ء کی سوچ رکھے ہوئے ہو۔ دنیا نے پچھلے دس گیارہ سالوں میں ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت ترقی کی ہے۔ خدا کے لئے تم بھی کوئی ہوش کے ناخن لو۔“
اب کی بار کمپیوٹر تھوڑا چپ ہوا لیکن اس کا غصہ عروج پر تھا۔ میں نے کمپیوٹر کا غصہ کم کرنے اور اس کی مدد کرنے کے لئے کہا ”یار مجھے ٹھیک ٹھیک اور تفصیلی معلومات دے۔ میں چاہے ایک گیا گزرا بلاگر ہی سہی لیکن اگر تو مجھے ٹھیک معلومات دے گا تو میں اس معلومات کو لوگوں تک پہنچاؤں گا اور پھر ہو سکتا ہے لوگوں کو کچھ خیال آ جائے۔“
میرا اتنا کہنا تھا کہ کمپیوٹر نے بڑی نرمی سے کہا ”بتا تو دیا ہے لیکن پھر بھی تیرا کوئی سوال ہے تو پوچھ“۔
میں نے کہا ”یار! ٹھیک ہے مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ تیری اردو ایک ہی ہے، لیکن انگریزی صرف انگریزی ہے اور دیگر زبانیں بھی بالکل ایسے ہی ہیں لیکن یہ اردو کے ساتھ ہی ”یونیکوڈ“ کیوں لگا ہے؟“
کمپیوٹر بولا ”بات صرف اتنی سمجھنے والی ہے کہ میرا پہلے کوئی اور نظام تھا جس میں اردو لکھنے کی گنجائش نہیں تھی۔ تب تم لوگ تصویروں کی صورت میں اردو لکھتے تھے۔ ایسی تصویری اردو نہ کل میری تھی اور نہ آج میری ہے۔ ایسی تصویری حالت میں اردو کو میں نہیں سمجھ سکتا بلکہ میں تو اسے اردو سمجھتا ہی نہیں۔ میرے لئے جیسے دیگر تصاویر ہوتی ہیں بالکل ایسے ہی یہ بھی تصاویر ہی ہیں اور ان تصاویر میں لکھی ہوئی اردو سے تم لوگ عارضی فائدہ تو اٹھا سکتے ہو لیکن اگر مجھ سے کہو کہ میں ایسی تصویری حالت میں موجود اردو کی سائبر لائیبریریوں سے مواد تلاش کر کے دوں تو یہ میرے لئے فی الحال ممکن نہیں۔ جب پرانا وقت تھا تب تو تصویری حالت میں اردو رکھنا تمہاری مجبوری تھی اور مجھے بھی بہت شرمندگی ہوتی تھی کہ میں باقی کئی زبانوں کے لئے تلاش اور دیگر کئی کاموں میں مدد دیتا ہوں لیکن اردو کے لئے سوائے ڈیسکٹاپ پبلشنگ کے اور کسی کام نہیں آ رہا تو پھر مجھے خیال آیا کہ ایسا کوئی نظام ہو جس سے میں زیادہ سے زیادہ زبانوں کو سمجھ سکوں اور انسانوں کو فائدہ پہنچاؤ۔ یوں میں نے ایک نظام بنایا جس کو یونیکوڈ کا نام دیا۔ میں نے اس یونیکوڈ نظام میں اردو کو بھی جگہ دی۔ اب میری زیادہ تر زبانیں اسی نظام میں موجود ہیں۔ میں صرف اسے زبان مانتا ہوں جو میرے زبانوں کے نظاموں کے تحت لکھی جاتی ہیں۔“

ابھی اتنی گفتگو ہوئی تھی کہ بجلی چلی گئی اور بات چیت کا سلسلہ رک گیا۔ میں باہر صحن میں چلا گیا۔ دھوپ میں بیٹھ کر مالٹے کھائے۔ مالٹے کھانا مجبوری تھی کیونکہ ایک بہت پیارے دوست نے سرگودھا سے کافی سارے مالٹے بھیج دیئے ہیں۔ مالٹے کھانے کے ساتھ میں سوچتا رہا کہ آخر کمپیوٹر آج اتنے عجیب و غریب لہجے میں بات چیت کیوں کر رہا تھا۔ خیر اللہ اللہ کر کے پانچ گھنٹے بعد شام کے وقت بجلی نے دیدار کروایا اور میں بھاگتا ہوا کمپیوٹر کے پاس پہنچا تاکہ گفتگو کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے اور یوں کمپیوٹر سے دوبارہ بات چیت شروع ہوئی۔

کمپیوٹر سے سلام دعا کے بعد میں نے کہا”تم نے مجھے اتنی لمبی چوڑی تقریر سنا دی ہے لیکن میرا سوال تو وہیں کا وہیں ہے کہ آخر اردو کے ساتھ یونیکوڈ کیوں بولا جاتا ہے؟“
سوال کرنے کی دیر تھی کہ کمپیوٹر بڑے طنزیہ انداز میں بولا ”میں نے تو تم لوگوں کو کب کہا کہ میری اردو کے ساتھ یونیکوڈ لفظ کا اضافہ کرو؟ ٹھیک ہے یونیکوڈ میرے ایک نظام، ایک ٹیکنالوجی کا نام ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم اس نظام کے نام کو زبان کے نام کے ساتھ ملا دو۔ بھائی صاحب! میں تو اردو کی طرح کئی دیگر زبانیں بھی یونیکوڈ نظام کے تحت ہی سمجھتا ہوں لیکن کبھی تم نے ان زبانوں کے ساتھ یونیکوڈ کا لفظ لگا دیکھا یا سنا؟ اصل میں تم لوگ پہلے تصویروں کی صورت میں اردو لکھتے تھے۔ جس کا مجھے کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا۔ میں ان اردو لکھی تصویروں کو تصویریں سمجھ کر ادھر سے ادھر کرتا اور پرنٹر کو بھیجتا تھا لیکن جب میں نے اردو کو سمجھنا شروع کیا اور جس نظام کے تحت سمجھا تم لوگوں نے اردو کے ساتھ اس نظام کا نام لگا دیا۔ ٹھیک ہے ڈویلپر اور دیگر ماہرین تکنیکی لحاظ سے بات چیت کرتے ہوئے میرے نظام کو زیر بحث لائیں اور بات سمجھنے کے لئے یونیکوڈ اردو کہہ لیں، لیکن لوگوں کو بتا دو کہ میری اردو صرف ”اردو“ ہے کوئی ”یونیکوڈ اردو“ نہیں، اس لئے جب تم لوگ میرے حوالے سے اردو کا ذکر کرو تو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہو کہ کمپیوٹر کی اردو۔“
آخر کار میں نے کمپیوٹر سے کہا ”چھوڑ ساری باتوں کو مجھے صرف دو ٹوک بتا کہ اردو کے معاملے میں آخر تو چاہتا کیا ہے؟“
کمپیوٹر نے نہایت ہی نرمی سے کہا ”دیکھو بھائی بلال! پہلی بات تو یہ کہ میری صرف ایک ہی اردو ہے جس کو میں یونیکوڈ نظام کے تحت سمجھتا ہوں۔ دوسری بات اگر چاہتے ہو کہ میں انٹرنیٹ اور ہر جگہ پر اردو کے حوالے سے تم لوگوں کی مدد کر سکوں تو پھر مجھ سے میری اردو میں ہی بات کرو۔ ٹھیک ہے ابھی میں اردو کو بہتر سے بہتر انداز میں دکھانے اور دیگر کئی کاموں کے لئے نظام تیار کر رہا ہوں اور وقت کے ساتھ ساتھ میں تم لوگوں کو مزید اچھے رسم الخط (فانٹ) میں اردو دکھاؤں گا اور کئی قسم کی زیب و آرائش کر کے دوں گا لیکن یہ سارے نظام میں تب ہی بناؤں گا جب تم میری اردو میں مجھ سے مخاطب ہونا پسند کرو گے۔ اگر آج بھی تم زیب و آرائش کے چکر میں تصویروں میں ہی اردو لکھتے رہے تو پھر سوچ لو میں قیامت تک تم لوگوں کو اردو کے متعلق اچھے نظام نہیں دوں گا۔ تجھے آخری اور خاص بات بتا دوں کہ یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جانے والی اردو کا ہی مستقبل ہے اور یہ بات اردو کے مامے چاچے سافٹ ویئروں کو بھی سمجھ آ چکی ہے جبھی تو وہ بھی خود کو اسی نظام کے تحت لے آئے ہیں۔ باقی اب اٹھو اور جاؤ میرا زیادہ دماغ نہ کھاؤ۔ مجھے اور بھی بہت سے کام کرنے ہیں۔ یہ نہ ہو بجلی دوبارہ چلی جائے اور کام وہیں کے وہیں رکے رہ جائیں۔“
خیر میں نے بھی سوچا کمپیوٹر ٹھیک ہی کہہ رہا ہے باقی کام کاج کر لینے چاہئیں۔ یوں میں کمپیوٹر سے گفتگو کرنے کے بعد اٹھ کر جانے لگا تو کمپیوٹر نے پیچھے سے آواز دی ”اس گفتگو پر تحریر ضرور لکھنا۔ زیادہ نہیں تو لوگوں کو میرا صرف اتنا پیغام دے دینا کہ کمپیوٹر نے کہا ہے کہ میری صرف ایک ہی اردو ہے جسے میں یونیکوڈ نظام کے تحت سمجھتا ہوں، باقی رنگ برنگی تصویروں کو میں اردو نہیں سمجھتا اور میرا ان تصویروں سے اردو کے حوالے سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ فی الحال میرے سامنے چاہے اردو لکھی تصویریں رکھو یا وینا ملک کی تصویریں رکھو، میں دونوں کو ایک ہی کھاتے میں ڈال دوں گا۔“

نوٹ (16 جنوری 2012ء) :- شاید کچھ دوستوں کو اس تحریر پر ہونے والے تبصروں سے اندازہ نہ ہو تو سوچا وضاحت کر دوں۔ دراصل انٹرنیٹ پر ایک صاحب اردو سافٹ ویئر بیچنے کی خاطر زرد مارکیٹنگ کرتے ہوئے لوگوں میں گمراہی پھیلا رہے ہیں تو سوچا تکنیکی لحاظ سے تھوڑی وضاحت کر دوں تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوں اور حقیقت کو پہچانیں۔

 


اینڈرائیڈ میں اردو سپورٹ شامل کرنا

م بلال م نے جمعرات، 12 جنوری 2012 کو شائع کیا۔

کچھ اینڈرائڈ موبائل یا ٹیبلیٹس پر اردو پڑھنے کی سہولت نہیں ہوتی۔ بعض میں اردو الفاظ ٹوٹ جاتے ہیں اور بعض میں الفاظ کی جگہ ڈبے یا کوئی عجیب زبان بن جاتی ہے۔ خیر ان سب باتوں اور مسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فی الحال دو بہتر طریقے سامنے آتے ہیں جن کی مدد سے اردو پڑھی اور لکھی جا سکتی ہے

مکمل تحریر پڑھیے »»»


اینڈرائڈ کے لئے فونیٹک اردو کیبورڈ لے آؤٹ

م بلال م نے جمعہ، 6 جنوری 2012 کو شائع کیا۔

اگر آپ کے اینڈرائڈ موبائل وغیرہ پر اردو لکھنے کے لئے اردو کیبورڈ لے آؤٹ موجود نہیں یا پھر آپ فونیٹک کیبورڈ لے آؤٹ چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو علیحدہ سے کیبورڈ انسٹال کرنا پڑے گا۔ اس وقت اینڈرائڈ مارکیٹ میں دو اچھے اردو کیبورڈ لے آؤٹ موجود ہیں۔ ملٹی لنگ کیبورڈ اور گو کیبورڈ

مکمل تحریر پڑھیے »»»


اینڈرائڈ موبائل پر اردو کیبورڈ کی سیٹنگ

م بلال م نے جمعرات، 5 جنوری 2012 کو شائع کیا۔

کیبورڈ کی سیٹنگ مختلف کمپنیوں اور اینڈرائڈ کے مختلف ورژن کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے۔ یوں تو کام ایک ہی ہوتا ہے لیکن آپشن اور دیگر چند ایک چیزوں کے ناموں میں تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کے موبائل میں درج ذیل آپشن موجود نہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں

مکمل تحریر پڑھیے »»»


موجودہ دور میں اردو زبان – جواب

م بلال م نے بدھ، 28 دسمبر 2011 کو شائع کیا۔

یہ سب ایک تحریر”موجودہ دور میں اردو زبان“ کے جواب میں لکھا ہے۔ لگتا ہے لکھاری کو کچھ باتوں کا علم نہیں تھا جبھی وہ کئی جگہوں پر غلطی کر گئے اور ساتھ ساتھ اردو کمپیوٹنگ کی تاریخ میں کافی کچھ چھوڑ گئے۔ تحریر میں کئی باتیں ایسی ہیں جو میرے خیال میں تھوڑی وضاحت طلب ہیں۔ خیر جتنا کچھ میرے علم میں ہے اس کے مطابق جواب اور وضاحت کر دیتا ہوں

مکمل تحریر پڑھیے »»»


اردو اور اینڈرائڈ موبائل

م بلال م نے ہفتہ، 24 دسمبر 2011 کو شائع کیا۔

ضرورت ”بچے“ کی ماں ہے

م بلال م نے اتوار، 18 دسمبر 2011 کو شائع کیا۔

آپ کو پاک اردو انسٹالر کا کیا فائدہ؟

م بلال م نے سوموار، 28 نومبر 2011 کو شائع کیا۔

اگر قیامت کا اعلان ہو جائے تب بھی پودا زمین میں لگا دو

م بلال م نے سوموار، 21 نومبر 2011 کو شائع کیا۔

پاکستان بلاگ ایوارڈ – شام سویرے ہون ووٹاں ای ووٹاں

م بلال م نے اتوار، 20 نومبر 2011 کو شائع کیا۔