Pak Urdu Installer

 

بلاگ کی تازہ تحاریر


    یک روزہ کشمیر گردی - آغاز    
ظالموں کو بہت کہا کہ کسی نئی جگہ چلتے ہیں مگر لمبی چوڑی بحث کے بعد ”یک روزہ کشمیر گردی“ کا پروگرام بنا۔ کئی قصبوں اور دیہاتوں سے ہوتے ہوئے کشمیر کے شہر بھمبر میں داخل ہونا تھا۔ وہ اپریل کا ایک خوبصورت دن تھا۔ تھوڑی مسافت طے کرنے کے بعد کشمیر کی سرحد پر سڑک کنارے میز کرسی لگا کر بیٹھی، بیچاری قسم کی پولیس نے ہمارا قافلہ روکا۔ ادھر ”تنچی“ کروا کر منزل کی طرف چل دیئے۔ وادی کشمیر کے خوبصورت سماہنی سیکٹر میں دوستوں کے تماشے اور تصویر زنی

مکمل تحریر پڑھیے



    پہلی کمائی    
چوہدری صاحب جب گھر پہنچے تو ان کے بیٹے نے کہا کہ ابو جان! مجھے کھیتی باڑی کے لئے زمین چاہیئے۔ پڑھنے لکھنے والے لاڈلے بچے کی ایسی بات پر باپ حیران ہوا۔ بچے کو لاکھ سمجھایا کہ یہ سخت کام ہے، تم نہیں کر سکو گے۔ باپ دلیلیں دینے لگا لیکن بچے کے بہت زیادہ اصرار پر آخر مان ہی گیا۔ کسانوں کی روایت کے مطابق پو پھوٹنے سے پہلے بچہ زمینوں پر تو پہنچ گیا، مگر جب جون کے سورج کی تپش اسے جھلسانے لگی تو اس کی عقل ٹھکانے آنے لگی۔ پھر ایک دن قدرت کی تخلیق

مکمل تحریر پڑھیے



    جغرافیہ کا جدید نظام اور گوگل    
ہر دور میں جسے راستوں کا علم ہوتا، اسے بہت اہمیت دی جاتی۔ لیکن آج کے ذرائع نقل و حرکت میں جدید نظام موجود ہیں، جن سے راستوں کی مکمل معلومات آسانی سے مل جاتی ہے۔ اب تو اکثر سمارٹ فونز میں بھی قطب نما، نقشہ جات اور جی پی ایس کی سہولیات دستیاب ہیں۔ یوں تو آج کل یاہو، مائیکروسافٹ اور وکی میپیا وغیرہ بھی نقشہ جات اور جغرافیہ کی معلومات فراہم کر رہے ہیں، مگر گوگل میپس اور گوگل ارتھ پر یعنی گوگل کی آنکھ سے زمین کا چپا چپا، نقشے، موسم اور

مکمل تحریر پڑھیے



    گوگل کے پاکستانی نقشہ ساز    
گوگل میپ اور گوگل ارتھ کے اتنے جدید ہونے کے پیچھے رضاکار نقشہ سازوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ گوگل کے نقشے بنانے (نقشہ نویسی) میں جہاں دیگر دنیا کے لوگوں نے حصہ لیا وہیں پر پاکستانی بھی پیچھے نہ رہے۔ پاکستانی نقشہ ساز دنیا میں منفرد مقام رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے پوری دنیا میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ جن چند پاکستانیوں کو گوگل نے میپ میکر کا سب سے بڑا عہدہ (ایڈووکیٹ) دے رکھا ہے، ان میں جبران رفیق، عمر شیخ، عثمان لطیف، فراز احمد، عبدالرحمن اور

مکمل تحریر پڑھیے