Pak Urdu Installer

 

بلاگ کی تازہ تحاریر


    فوٹوگرافی میں ایکسپوژر - شٹر، اپرچر اور آئی ایس او    
جاندار کی آنکھ ہو یا پھر کیمرے کی، دونوں ایک طرح ہی کام کرتی ہیں۔ جس طرح آنکھ کی پتلی پھیل یا سکڑ کر روشنی کی شدت کو قابو کرتے ہوئے پردۂ چشم پر عکس بناتی ہے، بالکل ایسے ہی کیمرے میں اپرچر کو بڑا یا چھوٹا کر کے مناسب عکس بنایا جاتا ہے۔ اپرچر کے ساتھ ساتھ شٹر اور آئی ایس او سے بھی روشنی کی شدت یعنی ایکسپوژر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ فوٹوگرافر بننے کے لئے ان چیزوں کی سمجھ بہت ضروری ہے۔ کیمرہ سیکھنے، اچھی فوٹوگرافی کرنے اور نئے لوگوں کی آسانی کے لئے اس تحریر میں

مکمل تحریر پڑھیے



    ڈیجیٹل کیمروں کی اقسام    
جوشیلے کیمروں کی طرح مشہورِ زمانہ ”تاڑو مارو“ کیمرے یعنی پوائنٹ اینڈ شوٹ کا شمار بھی چھوٹے کیمروں میں ہی ہوتا ہے۔ ان سے اوپر سپرزوم کیمروں کا نمبر آتا ہے اور پھر لینز تبدیل ہونے والے کیمرے سب سے اچھے ہوتے ہیں۔ ڈی ایس ایل آر کیمرے فوٹوگرافی کے بے تاج بادشاہ اور ہر فن مولا ہیں اور ان کا شمار لینز تبدیل ہونے والے کیمروں میں ہوتا ہے۔ ابھی ہم ڈیجیٹل کیمروں کی اقسام اور ان کے فنکشنز کی تفصیل دیکھتے ہیں تاکہ کیمرہ خریدنے اور اچھی فوٹوگرافی کرنے

مکمل تحریر پڑھیے



    ڈیجیٹل کیمرہ خریدنے کی راہنمائی    
موبائل میں کیمرہ آنے کی وجہ سے ہر کوئی فوٹوگرافر بن چکا ہے۔ بعض لوگ بڑی زبردست تصاویر بناتے ہیں، جبکہ بعض تو کیمرے کو اذیت ہی دیتے ہیں۔ میرے خیال میں بے تکی اور بغیر موضوع کے فوٹوگرافی کو تصویر کشی کی بجائے ”تصویر زنی“ کہنا زیادہ بہتر ہے۔ بہرحال اچھا فوٹوگرافر بننے، فوٹوگرافی کی دنیا میں آگے بڑھنے اور تصویروں میں حقیقی رنگ بھرنے کے لئے یہ سلسلہ شروع کیا ہے، تاکہ کچھ آپ اور کچھ ہم سیکھیں اور دنیا کو ایک نئے انداز سے دیکھیں۔ یہاں کیمرہ خریدنے کی تفصیلی معلومات

مکمل تحریر پڑھیے



    ہمارے بچپن کے رمضان المبارک    
بھلے زمانے کی بات ہے کہ خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے اور تب میڈیا پر ”رمضانی ٹرانسمیشن“ نہیں ہوتی تھی۔ روزہ کشائی کی بجائے افطاری ہوا کرتی تھی۔ ویسے ہم کوئی ”انیس سو پتھر“ کے زمانے کے بھی نہیں اور نہ ہی قائم علی شاہ صاحب ہمارے ہم جماعت تھے۔ ہمارا بچپن گزرے تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔ خیر ہمارے بچپن میں تو رمضان کی سب سے مزے کی چیز عید کارڈ اور تراویح ہوتی تھی۔ تراویح میں بچہ پارٹی خوب تفریح کیا کرتی۔ جیسا کہ ایک بچے نے حاجی صاحب کو حالتِ سجدہ میں

مکمل تحریر پڑھیے