November 3, 2010
44 تبصر ے

ورڈ پریس اردو تھیم

مجھے نہیں لگتا کہ اردو کے موجودہ تھیمز کے مقابلے میں میرا تھیم کوئی اہمیت رکھتا ہے، لیکن پھر بھی کئی بار دوستوں نے اس تھیم کی خواہش کی تو میں نے انہیں ارسال کر دیا۔ مزید جب بھی وقت ملتا تو تھیم میں تبدیلیاں کرتا رہتا اور جب نئی ڈومین پر منتقل ہوا تو تھیم کا رنگ تبدیل کر کے موجودہ یعنی نیلا کر دیا اور ساتھ میں ایک اور تھیم بنایا جس کو سبز رنگ دیا۔ اب جو بھی دوست تھیم کی فرمائش کرتا ہے تو میں اسے سبز تھیم دیتا ہوں۔ سبز اور نیلے تھیم میں کوئی خاص فرق نہیں سوائے رنگ کے۔ کچھ دن پہلے تھوڑا سا وقت ملا تو اسی تھیم کو مزید دو رنگوں میں تیار کیا اور کچھ چیزوں کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ سبز اردو تھیم کو بھی تھوڑا سا اپڈیٹ کیا۔

ان تینوں میں سے جو تھیم بہتر لگے استعمال کرو بلکہ خود سے تبدیلیاں کر کے اپنی مرضی کا بناؤ بس میری ایک چھوٹی سی گذارش ہے کہ اگر ہو سکے تو نیلا تھیم جو ابھی میرے بلاگ پر چل رہا ہے اسے میرے بلاگ کے لئے ہی رہنے دو۔

آپ کی آسانی کے لئے میں نے یہ تھیم بنائے ہیں مگر میرا مشورہ یہ ہے کہ کوئی بھی مناسب سا تھیم استعمال کرو اور زیادہ توجہ اپنی تحریر پر دو کیونکہ اگر تحریر جاندار ہو گی تو چاہے کوئی بھی تھیم ہو وہ صرف چلے گی نہیں بلکہ دوڑے گی۔ اپڈیٹ 9 جنوری 2011 :- یہ تینوں تھیم اپڈیٹ کر دیئے ہیں۔ دو تبدیلیاں کی ہیں۔ ایک تو دونوں سائیڈ بارز کو تھوڑا چھوٹا کر دیا ہے اور دوسرا ”محفوظات“ کے لئے ڈراپ ڈاؤن مینیو کی سہولت بھی دے دی ہے۔←  مزید پڑھیے
October 27, 2010
12 تبصر ے

مقصد برائی لیکن وہ مخلص ہیں

آپ خود سوچو! ان خراب حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے یا نظام کی بہتری کے لئے ہم نے ان کا مقابلہ کرنے یا اچھائی کے لئے کیا کیا؟ ہم بڑی آسانی سے حکمرانوں کو قصوروار کہہ کر پھر اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں۔ تھوڑا سا سوچو! یہی ہمارے حکمران جنہیں ہم نالائق کہتے ہیں لیکن وہ اپنے کام اور مقصد کے لئے ہم سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اب ان کا کام اور مقصد ہی برائی کرنا ہے تو وہ برائی کرنے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے۔ بچپن سے لے کر مرنے تک دشمن کے ڈر اور خوف میں رہتے ہیں۔ میڈیا سے بچتے بچاتے اپنا کام کرتے ہیں۔ کئی کئی سال جیلوں میں گذارتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے اپنے رشتہ داروں کو گنواتے ہیں۔سوچ سوچ کر پلان بناتے ہوئے پاگل ہو جاتے ہیں۔ راتوں کو جاگ جاگ کر میٹنگز کرتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے دن رات لوگوں سے ملتے ہیں۔ کسی کو توڑتے ہیں تو کسی کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے انہوں نے ایک منظم گروہ تیار کر رکھا ہے۔ ایک مرتا ہے تو اس کا بیٹا، بیٹی یا دیگر کوئی وارث اس کی جگہ لے کر اپنے کام کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔63 سال ہو گئے لیکن ان کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ اپنے جیسوں کا بڑا برا انجام دیکھ کر بھی ان کی ہمت میں کمی نہیں آئی۔ بے شک ان کا مقصد برائی ہے لیکن وہ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ضرور ہیں۔←  مزید پڑھیے
October 26, 2010
4 تبصر ے

ہماری مایوسی اور مثبت سوچ

اکثر مثبت سوچ کی ترویج کے لئے ایک بات کی جاتی ہے کہ ”گلاس کو آدھا خالی نہ دیکھو بلکہ آدھا بھرا ہوا دیکھو“۔ جو لوگ مشکل سر پر ہو لیکن اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں ایسے لوگوں کی ہمت بڑھانے اور مشکل کا مقابلہ کرنے کے لئے حوصلہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے بلکہ اکثر تنقیدی انداز میں کہا جاتا ہے کہ ”بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینا کسی مسئلے کا حل نہیں“۔ میں اکثر ان دونوں باتوں کی وجہ سے کافی ”کنفیوز“ ہو جاتا ہوں۔ جب کہیں پڑھتا یا سنتا ہوں کہ یہ ٹی وی اینکر، کالم نگار اور باقی لکھاری وغیرہ ملک کی خرابیاں ہی دیکھتے ہیں اور پھر دوسروں کو بتاتے ہیں۔ یہ لوگ ملک میں مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ یہاں پھر وہی بات میرے ذہن میں آتی ہے کہ واقعی گلاس کو آدھا خالی نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ آدھا بھرا ہوا بھی تو ہے۔ کچھ دیر اسی پر اتفاق رکھتا ہوں لیکن ساتھ ہی جب یہ خیال آتا ہے کہ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینا بھی تو کوئی سمجھداری نہیں تو پھر سوچتا ہوں، نہیں نہیں خرابیاں سب کے سامنے لائی جانی چاہئیں، تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہمارے ملک میں کیا کیا گل کھلائے جا رہے ہیں، عوام کو جگایا جائے اور بتایا جائے کہ غفلت کی نیند سے جاگو اور ہوش کرو۔ مزید اس تحریر میں مایوسی اور مثبت سوچ پر بالکل تھوڑی سی بات کرتا ہوں۔←  مزید پڑھیے
September 25, 2010
31 تبصر ے

پیارے دوست خرم کو شادی مبارک

ادھر ہم پہنچے اور ادھر خرم بھائی کی برات راولپنڈی سے جہلم پہنچی۔ ہم بارات کے ساتھ شامل ہو گئے۔ لیکن خرم بھائی نے ہمیں نہیں دیکھا تھا بلکہ ہم نے دیکھا کہ ایک خوبصورت سا دولہا ہے اور ساتھ کچھ باراتی ہیں تو ہم سمجھ گئے یہ اپنے ہی بندے معلوم ہوتے ہیں تو ہم بھی برات کے قافلہ میں شامل ہو گئے۔ ڈھول کی تھاپ پر خرم بھائی کے دیگر دوست بھنگڑا ڈال رہے تھے، سلامیاں دی جا رہی تھیں، چٹے دودھ رنگ کے لباس میں چٹا دودھ دولہا ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔ دولہا اندر سے اور ظاہری طور پر بھی بڑا چہک رہا تھا۔ اسی دوران میں نے بھی خرم بھائی سے پہلی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔←  مزید پڑھیے
September 23, 2010
6 تبصر ے

ہم اور ہمارا کردار (سوئم و آخری)

ہماری اکثریت پسِ پردہ کام کرنے کو تیار ہی نہیں بلکہ سب کو ہیرو بننے کا شوق ہے۔ جو بھی تھوڑا بہت کام سمجھ جاتا ہے وہ پھر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھ جاتا ہے۔ میری نظر میں یہ بھی ہماری ناکامی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ اس کی مثال آپ کو عام زندگی سے لے کر انٹرنیٹ تک ہر جگہ ملے گی۔ عام زندگی میں اس کی سب سے بڑی مثال ہماری سیاسی جماعتیں ہیں اور انٹرنیٹ پر میں اس کی مثال مختلف ویب سائیٹس اور فورمز کے ممبران سے معذرت کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔ آپ دیکھ لیں، اتنے ہمارے فورمز استعمال کرنے والے ممبر نہیں جتنے اب فورمز بن رہے ہیں۔ ذہانت کا ذخیرہ ٹوٹ ٹوٹ کر بہت جگہوں پر بکھرا پڑا ہے۔ ہیرو بننے کے چکروں میں سب شروع سے پہیہ ایجاد کر رہے ہیں۔ کسی نے تھوڑا زیادہ کر لیا ہے اور کسی نے کم۔ اگر یہی کام ایک پلیٹ فارم پر ہوتا تو اب تک پہیہ تو کیا کئی قسم کی گاڑیاں بن جانی تھیں۔ جب ایک پلیٹ فارم سے کام زیادہ ہوتا تو پھر نیا منصوبہ بنایا جاتا اور نئے فورمز، لیکن ایسا کچھ نہیں۔ کبھی غور کیا آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ایک چھوٹی سی وضاحت کرتا جاؤں کہ سب کی بات نہیں کر رہا بلکہ اکثریت ایسی ہے۔ اگر مقصد اور منزل مختلف ہو پھر تو ظاہر ہے علیحدگی ہی بہتر ہے لیکن اگر مقصد ہو اچھا مسلمان بننے کی تو پھر ہر کوئی اپنی اپنی مسجد کیوں بناتا ہے؟ ایک دوسرے کے ساتھ کیوں نہیں چل سکتے؟ ہاں تو کبھی آپ نے غور کیا آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ تو میری نظر میں اس کی چند وجوہات ہیں۔ ←  مزید پڑھیے