ہم اور ہمارا کردار (دوم)
میری نظر میں ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر کے ماسٹر کی پہچان کرنی ہو گی کہ ہم کونسا کام اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں، جو ہماری فطرت کے مطابق بھی ہو اور وہ کام کرتے ہوئے ہمیں اچھا بھی لگے۔ یوں ہماری ایک منزل منتخب ہو جائے گی۔ پھر اس منزل تک پہنچنے کے لئے ہمیں راستہ منتخب کرنا ہو گا اور پھر سفر شروع کرنے سے پہلے سفر کی ضروریات دیکھتے ہوئے اپنا سامان باندھنا ہو گا اور پھر اللہ کا نام لے کر سفر شروع۔ دوران سفر کئی لوگ ملیں گے، بہت کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا، کئی جگہ پر تھکاوٹ کی وجہ سے پاؤں تھوڑے بہت رک بھی جائیں گے، بہت احتیاطی تدابیر کے باوجود کہیں ڈاکو سب کچھ لوٹ کر بھی لے جا سکتے ہیں اور اسی طرح کئی دیگر مشکلات بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن کامیاب وہی ہو گا جس نے یہ سب ہونے کے باوجود چاہے آہستہ آہستہ ہی کیوں نہ سہی لیکن منزل کی طرف سفر جاری رکھا۔ فرض کریں اگر ہم منزل پر پہنچ گئے تو پھر آگے کیا ہو گا تو میں اس منزل کو کچھ اس طرح دیکھتا ہوں کہ ایک بار شمالی علاقہ جات کی سیر کے دوران میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ یار اس پہاڑ کی دوسری طرف کیا ہے تو اس نے جواب دیا ”ایک اور پہاڑ“۔ ہماری منزل بھی کچھ ایسے ہی ہے کہ ایک منزل کے بعد دوسری منزل اور یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو شاید زندگی میں کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ لیکن کامیاب وہی انسان ہوتے ہیں جو منزل کی جانب سفر کرتے ہیں۔← مزید پڑھیے
