September 21, 2010
11 تبصر ے

ہم اور ہمارا کردار (دوم)

میری نظر میں ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر کے ماسٹر کی پہچان کرنی ہو گی کہ ہم کونسا کام اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں، جو ہماری فطرت کے مطابق بھی ہو اور وہ کام کرتے ہوئے ہمیں اچھا بھی لگے۔ یوں ہماری ایک منزل منتخب ہو جائے گی۔ پھر اس منزل تک پہنچنے کے لئے ہمیں راستہ منتخب کرنا ہو گا اور پھر سفر شروع کرنے سے پہلے سفر کی ضروریات دیکھتے ہوئے اپنا سامان باندھنا ہو گا اور پھر اللہ کا نام لے کر سفر شروع۔ دوران سفر کئی لوگ ملیں گے، بہت کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا، کئی جگہ پر تھکاوٹ کی وجہ سے پاؤں تھوڑے بہت رک بھی جائیں گے، بہت احتیاطی تدابیر کے باوجود کہیں ڈاکو سب کچھ لوٹ کر بھی لے جا سکتے ہیں اور اسی طرح کئی دیگر مشکلات بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن کامیاب وہی ہو گا جس نے یہ سب ہونے کے باوجود چاہے آہستہ آہستہ ہی کیوں نہ سہی لیکن منزل کی طرف سفر جاری رکھا۔ فرض کریں اگر ہم منزل پر پہنچ گئے تو پھر آگے کیا ہو گا تو میں اس منزل کو کچھ اس طرح دیکھتا ہوں کہ ایک بار شمالی علاقہ جات کی سیر کے دوران میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ یار اس پہاڑ کی دوسری طرف کیا ہے تو اس نے جواب دیا ”ایک اور پہاڑ“۔ ہماری منزل بھی کچھ ایسے ہی ہے کہ ایک منزل کے بعد دوسری منزل اور یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو شاید زندگی میں کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ لیکن کامیاب وہی انسان ہوتے ہیں جو منزل کی جانب سفر کرتے ہیں۔←  مزید پڑھیے
September 20, 2010
13 تبصر ے

ہم اور ہمارا کردار (اول)

سیانے کہتے ہیں کہ جو جس چیز کا ماسٹر ہو، اگر وہ وہی کام کرے گا تو خود بھی فائدے میں رہے گا اور باقی بھی اس کی وجہ سے سکھی رہیں گے۔ اگر کوئی ہیرو بننے کی کوشش میں ہر جگہ ٹانگ اڑائے گا تو اس کی اپنی ٹانگ تو ٹوٹے گی لیکن ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ اس لئے ہمیں اپنے اندر کے ماسٹر کی پہچان کرنی ہو گی اور وہی کام کرنا ہو گا جس کے لئے ہم بنائے گئے ہیں۔ جس طرح ہم سے پہلے لوگ اس دنیا کے سٹیج پر اپنا کردار ادا کر کے چلے گئے ہیں ویسے ہی ہم نے بھی←  مزید پڑھیے
August 13, 2010
48 تبصر ے

پاکستان کا قومی پرچم – سبز ہلالی پرچم

تمام پاکستانی میری طرف سے ایک چھوٹا سا تحفہ قبول فرمائیں۔ تحفہ یہ ہے کہ پاکستانی پرچم کس طرح بناتے ہیں۔ بات تو چھوٹی سی ہے لیکن ہماری اکثریت پرچم کی شکل و صورت تو جانتی ہے مگر سو فیصد درست پرچم بنانا تو دور پیمائش تک نہیں جانتی۔ میں نے سارا طریقہ، پیمائش اور ساتھ میں ایک کیلکولیٹر بھی تیار کردیا ہے تاکہ کسی بھی پیمائش کا پتہ لگانا آسان ہو سکے←  مزید پڑھیے
July 20, 2010
19 تبصر ے

قبیلہ جس کے ہتھیار انٹرنیٹ اور گوگل ارتھ ہیں

درخت کاٹنے والے لکڑ چوروں نے جب برازیلی قبیلے کے علاقے پر دھاوا بولا تو قبائلیوں نے تیر کمان نہیں جدید ٹیکنالوجی کے بل پہ انہیں شکست دے دی۔ ایک سبق آموز داستان 18 جولائی 2010ء کے سنڈے ایکسپریس میں چھپنے والی ایک سپیشل رپورٹ کا یہ عنوان تھا۔ یوں تو ساری رپورٹ ہی 35 سالہ قبائلی سردار ”علمیر نارایا موگا“ کی ہمت اور جدیدیت پسندی پر لکھی ہے لیکن یہاں اس رپورٹ کے چند اقباس پیش کروں گا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سردار علمیر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے علاقے کے جنگل اور اپنی قبائلی روایات کی حفاظت کر رہا ہے۔سردار علمیر کا آبائی جنگل دراصل مشہور زمانہ ایمیزن بارانی جنگلات (Rainforest) کا حصہ ہے۔ سردار علمیر ایک پست قامت اور گھٹے جسم کا مالک انسان ہے۔ گول چہرے پر چھوٹی چھوٹی چمک دار آنکھیں ہیں۔ چست و چالاک ہے اور اپنے مقصد کے لیے بڑا سرگرم! دوسروں کو اکثر اپنے سامنے سیاہ نوٹ بک کھولے بیٹھا ملتا ہے۔ اس کے گھر کی دیواریں تیر کمانوں اور دیگر قبائلی سوغاتوں سے سجی ہیں۔ یہ اس کا چھوٹا سا گھر ہی ہے جہاں سے سردار نے اپنے وطن میں ”جنگل کٹائی“(Deforestation) کے خلاف زبردست جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ تاہم اس کے ہتھیار نیزے یا تیر کمان نہیں بلکہ انٹرنیٹ، گوگل ارتھ اور جی پی ایس ہیں۔←  مزید پڑھیے
July 4, 2010
23 تبصر ے

کھلا محبت نامہ آپ کے نام

ایک زمانہ تھا جب لوگ صنم کو خط لکھتے اور جب خط مکمل لکھ لیتے تو دوبارہ پڑھتے تاکہ اگر کوئی غلطی ہوئی ہو تو درست کر لی جائے۔ لیکن اکثر یہی محسوس کرتے کہ یہ الفاظ اظہار محبت کے لئے بہتر نہیں۔ پھر کیا ہوتا، خط کو پھاڑ دیتے اور نیا خط لکھنے بیٹھ جاتے۔ یہی عمل کئی بار دہرایا جاتا اور جب دل اکتا جاتا تو سوچتے کہ سیدھی سیدھی بات لکھتے ہیں۔ اگر صنم کو پیار پر یقین آنا ہوا تو آ جائے گا، نہیں تو نہیں۔ آج میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔←  مزید پڑھیے