December 18, 2010
13 تبصر ے

موبی لنک جاز کی ناجائز حرکتیں

پاکستانیوں نے موبی لنک کے کنکشن لینے میں خوب دلچسپی دیکھائی اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ 2001ء میں موبی لنک جاز کے محدود کنکشن ہونے کی وجہ سے بلیک میں فروخت ہونے لگے۔ موبی لنک جاز نے اپنے کنکشن کی تعداد تو بڑھا دی لیکن پیچھے چلنے والی ایکسچیج یا سسٹم کو بہتر نہ کیا جس کی وجہ سے پورا نیٹ ورک اکثر اوقات ڈاؤن رہتا۔ سروس کا معیار اتنا گِر چکا تھا کہ کئی کئی دفعہ کال ملاتے، پیسوں کی کٹوتی ہو جاتی لیکن بات نہ ہو پاتی۔ موبی لنک جاز اپنی من مانی کرتا رہا۔ ایک وقت تو وہ بھی آیا تھا جب موبی لنک کے اسکریچ کارڈ بھی بلیک میں فروخت ہوتے تھے۔ جب تک یوفون اور باقی مزید کمپنیاں عام نہ ہوئیں تب تک موبی لنک نے خوب من مانیاں کیں اور انتہائی درجہ کی بری سروس دی۔ خیر اللہ اللہ کر کے مزید کمپنیاں آئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول و عرض میں پھیل گئیں۔ تمام کمپنیوں میں خوب مقابلے کی فضا قائم ہوئی اور اس کا فائدہ صارف کو ہوا۔ وہی کنکشن جو چار پانچ ہزار میں فروخت ہوتا تھا اب وہی کنکشن مفت میں بلکہ کمپنیاں کنکشن کے ساتھ بیلنس کی صورت میں پیسے دینے لگیں۔ کال بہت سستی ہو گئی، ایس ایم ایس کی بھر مار اور نہ جانے کیا کیا ہونا شروع گیا۔ کمپنیاں یہ دیکھے بغیر کہ فلاں پیکیج دینے سے ملک و قوم کو کیا نقصان ہو گا پیکیج پر پیکج دیتی گئیں، حکومت روشن خیالی کی نیند سوتی رہی اور نوجوان نسل ”چاندنی راتیں ، جب سارا جگ سوئے ہم کریں باتیں“ پر لگی رہی۔←  مزید پڑھیے
December 17, 2010
5 تبصر ے

واہ رے حکومت پنجاب

سارا معاملہ بالکل صاف ہے۔ اسلحہ اور اسلحہ لائسنس کا ریکارڈ بھی موجود ہے، ڈاکخانہ میں اندراج اورتمام اسلحہ لائسنسوں کی ڈاکخانہ سے ایک یا دو بار تجدید فیس کے ساتھ ہو چکی ہے۔ بس اسلحہ لائسنس بنواتے ہوئے جو فیس تھی وہ اسلحہ برانچ کا عملہ خود کھا گیا تھا اور اسی بات کو لے کر حکومت نے شریف شہریوں کے لائسنس منسوخ کر دیئے ہیں اور ان کا اسلحہ ضبط کر رہی ہے۔ ایک لمحہ کے لئے مان لیتے ہیں کہ اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے والا قدم بالکل ٹھیک ہے تو کوئی ان تیرہ ہزار کو بھی تو بتائے کہ ان کا پیسا جو سرکار کے ملازمین کھا گئے ہیں وہ کون واپس دلوائے گا؟ ڈاکخانہ سے لائسنس کی تجدید کے لئے جو فیس حکومت کو ادا کی گئی تھی، کیا حکومت وہ فیس واپس کرے گی؟ اسلحہ مال خانے جانے سے جو اسلحہ کی قیمت ہے وہ کون دے گا؟ کیا حکومت ان تیرہ ہزار کو اتنا وقت اور ساتھ دے سکتی ہے کہ وہ اسلحہ واپس اسلحہ ڈیلروں کو فروخت کر دیں؟ لیکن ایسا کچھ نہیں ہو گا کیونکہ اگر اسلحہ واپس اسلحہ ڈیلروں کو فروخت کرنے کا کہا گیا تو اسلحہ ڈیلر بہت شور مچائیں گے اور شاید حکومت یہ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ بس عوام کو ہی دبا سکتی ہے۔ اگر حکومت کہے کہ اس کا کوئی قصور نہیں بلکہ عوام نے خود ہی غلطی کی ہے تو پھر میرے سیدھے اور سا دے سے سوال ہیں کہ اسلحہ برانچ کس کی ہے؟ اسلحہ برانچ کا عملہ کس نے بھرتی کیا تھا؟ اتنا بڑا کام ہوتا رہا اور اسلحہ برانچ کے انچارج تک کو پتہ نہ چلا؟ اینٹی کرپشن والے کہاں تھے؟ تقریباً دو سال حکومت کہاں سو رہی تھی؟ ”حاکمِ اعلیٰ “کیا اب ایسے حالات کو ٹھیک کرنا بھی عوام آپ کو سیکھائے گی؟←  مزید پڑھیے
December 6, 2010
8 تبصر ے

دفاع ذات اور ہماری قانون سازی

کسی بھی معاشرے میں طاقت کا توازن برقرار اور امن و امان رکھنے کے لئے حکومت سب سے پہلے معاشرے میں موجود جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کو دیکھتی ہے۔ پھر سیکیورٹی کتنی جلدی اور کتنی طاقت کے ساتھ پہنچ سکتی ہے اور پھر عام شہری کےلئے دفاع ذات کے سازوسامان جیسے اسلحہ وغیرہ کا انتخاب کرتی ہے اور عام شہری کو اس کی اجازت دیتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حکومت جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کم کرنے اور جرائم کو ختم کرنے پر کام کرتی ہے۔ جیسے جیسے جرائم پیشہ لوگوں کی طاقت کم ہوتی ہے ویسے ویسے قانون میں تبدیلی کر کے دفاع ذات کے سازوسامان میں بھی تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ یہ تبدیلی اس لئے آسانی سے ممکن ہوتی ہے کہ دفاع ذات کے لئے رکھا گیا اسلحہ حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہوتا ہے۔←  مزید پڑھیے
December 5, 2010
8 تبصر ے

جعلی لائسنس یا سرکاری ملازمین کا فراڈ

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ لائسنس جعلی کیسے ہوے؟ لائسنس جاری ہوئے تو حکومتی ادارے سے ڈی سی او کی مہر و دستخط کے ساتھ سرکاری ملازمین کے ہاتھوں جاری ہوئے، پیسے کھائے تو سرکاری ملازمین نے کھائے۔ اب ایک عام شہری کو کیا پتہ اور پتہ چل بھی نہیں سکتا کہ اندر کھاتے سرکاری ملازمین کیا گل کھلا رہے ہیں۔ عام شہری تو اپنے جان و مال کی حفاظت کے لئے اسلحہ کا لائسنس بنوانے سرکاری دفتر جاتا ہے، فیس ادا کرتا ہے اور لائسنس حاصل کرتا ہے۔ بعد میں حکومت اعلان کرتی ہے کہ ہم آپ کے لائسنس منسوخ کرتے ہیں کیونکہ ہم نے جو بندے لائسنس بنانے کے لئے رکھے ہوئے تھے وہ دھوکے باز نکلے اور پیسے کھا گئے ہیں۔ کوئی ان پندرہ ہزار لوگوں کو بتائے کہ ان کا اس میں کیا قصور ہے؟←  مزید پڑھیے
November 10, 2010
22 تبصر ے

اردو ویب سائیٹ اور اینکوڈنگ سسٹم

کچھ ویب ڈیزائنر و ڈویلپر کو اردو ویب سائیٹ بنانے میں تھوڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ بلکہ جو انگلش میں ویب سائیٹ بنا رہے ہیں اگر وہ یہ کہیں کہ انہیں اردو میں ویب سائیٹ بنانی نہیں آتی تو اس پوسٹ سے ان کو بھی اس بات کا علم ہو جائے گا کہ اردو ویب سائیٹ بنانے کے لئے کسی بڑی کوڈنگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زیادہ تر مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ اردو ٹھیک طرح نظر نہیں آتی۔ عام طور پر یہ اینکوڈنگ سسٹم (Encoding System) کا مسئلہ ہوتا۔ اردو ویب پیج بناتے ہوئے اگر اینکوڈنگ کا دھیان نہ رکھا جائے تو پیج کا حلیہ بگڑ جاتا ہے اور اردو کی بجائے کوئی خلائی زبان ہی نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ جیسے ” السلام Ø¹Ù„Û “۔ اس کے علاوہ ایک صورت»»»←  مزید پڑھیے