یونیکوڈ (Unicode) ایک ایسا نظام ہے جو کسی بھی کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم یا کمپیوٹر پروگرام میں تمام زبانوں کے ہر ایک ایک حرف کو ایک خاص عدد مہیا کرتا ہے۔ کمپیوٹر کی دنیا اس خاص عدد سے مراد صرف وہی حرف لے گی جو یونیکوڈ نے ترتیب دے رکھا ہے۔ مثال کے طور پر اردو کے حرف “ب” کو 0628 عدد دیاگیا ہے اب کسی بھی کمپیوٹر میں 0628 یونیکوڈ قدر (Unicode Value) سے مراد حرف “ب” ہی لیا جائے گا۔
حقیقت میں کمپیوٹر صرف اعداد کو ہی سمجھتا ہے۔ کمپیوٹر سکرین پر نظر آنے والے حروف، الفاظ، تصاویر اور باقی سب کے پس پردہ کمپیوٹر اعداد کے ایک پچیدہ نظام کے تحت چلتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی چیز کو محفوظ کرنے کے لئے بھی اعداد کے نظام کو ہی استعمال کرتا ہے۔ جب صارف (User) کوئی حرف یا حروف دیکھنا چاہتا ہے تو کمپیوٹر کی یاداشت میں محفوظ اعداد کو کسی ایک نظام کے تحت حرف یا حروف میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اعداد کی حرف میں تبدیلی کے نظام کو اینکوڈنگ سسٹم (Encoding System) کہتے ہے۔ کسی بھی اینکوڈنگ سسٹم میں پہلے سے ہی یہ بات مقرر کر دی جاتی ہے کہ کس عدد کے بدلے کونسا حرف دیکھانا ہے۔ آج کل جو اینکوڈنگ سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے اسے یونیکوڈ کہتے ہیں۔ یونیکوڈ نظام سے پہلے بھی کئی نظام موجود تھے۔ جن میں زیادہ مشہور آسکی (ASCII) اور آنسی (ANSI) تھے۔ لیکن یونیکوڈ نظام سے پہلے والے نظاموں میں کئی ایک مسائل تھے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اُن نظاموں میں اعداد کے بدلے حروف مہیا کرنے کی تعداد بہت کم تھی۔ جو کہ کسی ایک زبان کے پورے حروف اور علامات کے لئے بھی ناکافی تھی۔ اس کے علاوہ کسی بھی نظام میں ہر کسی کی ضرورت پوری کرنے کی اہلیت نہیں تھی اس لئے مختلف ممالک اور کمپنیاں اپنی ضرورت کے مطابق مختلف اینکوڈنگ سسٹم استعمال کرتی تھیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا کہ جب ایک کمپنی کا مواد دوسری کمپنی کے کمپیوٹر پر جاتا تو مختلف اینکوڈنگ سسٹم ہونے کی وجہ سے اعداد کے بدلے حروف بھی مختلف ہو جاتے جس سے مواد میں خرابی پیدا ہو جاتی۔
لیکن یونیکوڈ والوں نے تمام مسائل کا حل تلاش کر لیا اور ایک ایسا نظام متعارف کروایا جس میں اعداد کے بدلے حروف مہیا کرنے کی تعداد بہت بڑھا دی گئی۔ یونیکوڈ نظام میں ایک زبان تو کیا دنیا کی ہر زبان کے ہر حرف کو علیحدہ عدد مہیا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔کوئی بھی آپریٹنگ سسٹم ہو، پروگرام ہو یا کوئی بھی زبان ہو یونیکوڈ میں اعداد کے متبادل حروف مہیا کرنے کی اہلیت موجود ہے۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے تمام بڑی کمپنیاں جن میں مائیکروسافٹ، آئی بی ایم، ایپل اور اوریکل وغیرہ شامل ہیں نے یونیکوڈ کو دوسرے اینکوڈنگ سسٹم پر ترجیح دی۔ اور یوں یونیکوڈ اینکوڈنگ سسٹم ایک معیاری اینکوڈنگ سسٹم بن گیا جو آج پوری دنیا میں استعمال ہو رہا ہے۔