May 14, 2020
1 تبصرہ

فوٹو گرافی اور کیمرے کو درپیش سیاپے

لڑکے پارک میں جوان لڑکیوں کی چوری چوری تصویریں بنا رہے تھے۔ جس کا لڑکیوں کی فیملی کو پتہ چل گیا اور شدید لڑائی ہوئی۔ ایسے ہی پارک میں انجان لڑکیوں کے ساتھ پرینک شوٹ ہو رہا تھا کہ جھگڑا ہو گیا۔ آخر انتظامیہ نے تنگ آ کر پارک میں کیمرہ لانے پر ہی پابندی لگا دی۔ اس کے علاوہ کئی دفعہ لوگ جان سے بھی گئے۔ مثلاً تصویریں بناتے ہوئے پہاڑ سے گر گئے، سیلفیاں بناتے ہوئے ریل کی زد میں آ گئے۔ ایک طرف فوٹوگرافرز کے یہ کرتوت تو دوسری طرف سرکار آج بھی ”انیس سو پتھر“ کے زمانے میں ہے اور فوٹوگرافی کا کوئی واضح قانون ہی نہیں۔ ایک دفعہ فوٹوگرافی کرتے ہوئے مجھے بھی پولیس نے←  مزید پڑھیے
May 8, 2020
تبصرہ کریں

ارطغرل غازی – ترک ڈرامہ – پہلا سیزن

کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے؟ امید ہے کہ اس فقرے کا مطلب سمجھتے ہی ہوں گے کہ فلمیں یا ڈرامے حقیقت نہیں ہوتے بلکہ کہانی کو دلفریب بنانے کے لئے مصالحہ ڈالا جاتا ہے۔ تخیل کے گھوڑے دوڑا کر تصوراتی اور افسانوی باتیں شامل ہوتی ہیں۔ اور اگر بات کی جائے ترک ڈرامہ ارطغرل غازی کی تو اس میں بھی حقیقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بس فکشن ہی فکشن ہے۔ لہٰذا اوسط سے بھی نچلے درجے اور کمزور پروڈکشن کے اس ڈرامے کو لے کر کوئی ”ڈرامہ“ لگائیں نہ اسے اسلام و کفر کی جنگ بنائیں اور تاریخی دستاویز تو بالکل بھی نہ سمجھیں۔ بلکہ رومانوی داستان کے حامل اس ڈرامے کی کہانی، ڈائیلاگز اور سینماٹوگرافی کا حال یہ ہے کہ←  مزید پڑھیے
April 10, 2020
تبصرہ کریں

پنجاب سے نظر آتا ہمالیہ آپ کی محبت کے نام

جب سے باقاعدہ فوٹوگرافی شروع کی ہے، ان ساڑھے چار پانچ سال میں میری بنائی قدرتی مناظر کی کئی تصاویر اپنے اپنے لحاظ سے سراہی گئیں اور آپ لوگوں کی بے پناہ محبتوں نے انہیں پذیرائی بخشی۔ اسی طرح حال ہی میں یعنی وبا کے دنوں میں اپنے گھر کی چھت سے شمال کی اور نظر آنے والے پیرپنجال سلسلہ کے برف پوش پہاڑوں کی تصویر بنائی۔ اسے بھی آپ لوگوں نے ایسی پذیرائی بخشی کہ دل خوش ہو گیا۔ لہٰذا اس تصویر کا فل ورژن آپ کی محبتوں کے نام۔۔۔ ویسے جہاں یہ تصویر سراہی گئی وہیں پر بہت سارے لوگوں نے اس تصویر کے ساتھ کچھ ایسا کیا کہ←  مزید پڑھیے
February 8, 2020
3 تبصر ے

مجھے اپنا رانجھا راضی کرنا ہے

پہاڑوں پر شام اُتر رہی تھی مگر ہم پہاڑ چڑھ رہے تھے۔ اُس دن کی آخری چڑھائی ختم ہونے کو تھی اور میں دن بھر کی تھکاوٹ سے بے حال ہوا پڑا تھا۔ ایک جگہ سانس لینے رُکا۔ نظر اٹھائی تو سورج کی آخری کرنیں نانگاپربت کا بوسہ لے رہی تھیں۔ اس شاندار نظارے سے لطف اندوز ہونے لگا۔ اچانک ایک سوال کوندا کہ میں یہاں کیوں ہوں؟ اتنا کشٹ کیوں کر رہا ہوں؟ آخر میں نے تصویریں بھی کیونکر بنائی؟ اگلے ہی لمحے کچھ لہریں دماغ تک پہنچیں، قدرت نے جوابات عنایت کر دیئے۔ یہیں پر سیاحت کی ترقی و ترویج اور لوگوں کی راہنمائی جیسے مضحکہ خیر نعرے ←  مزید پڑھیے
February 5, 2020
2 تبصر ے

پھل موسم دا تے گل ویلے دی

بالائی پہاڑوں پر برف پڑنے کی وجہ سے ٹھنڈ تھی مگر ارمان بہت گرم تھے۔ لہٰذا ہم دریائے کنہار کنارے جا بیٹھے۔ ہمارے پاس آم تھے اور عام تھے۔ بابا غالب کی روح یقیناً خوش ہوئی ہو گی۔ آم نکالے، دھوئے، کوئی چھری کانٹے سے لیس ہوا تو کسی نے ”امب چوپنے“ کی راہ پکڑی۔ مگر یقین کریں ذرا سواد نہ آیا۔ تبھی ہم نے جانا کہ ”پھل موسم دا تے گل ویلے دی ای چنگی ہوندی اے“۔ کیا آپ نے وہ گانا سنا ہے ”میں امب چوپن لئی گئی تے باغ وچ پھڑی گئی“۔ یوں پھڑے(پکڑے) جانا تو یقیناً بدنامی اور شرمندگی والی بات ہے مگر سارا چکر دل کے سہانے موسم کے مطابق باغ میں جانے کا ہے۔ اور اگر بے موسمی جاتی اور پھڑی جاتی اور کوئی اسے گرم دیکھ کر←  مزید پڑھیے