July 8, 2020
1 تبصرہ

خاموش و بے ہوش فیس بکی دوست

کئی دفعہ ایسے سٹیٹس پر نظر پڑتی ہے کہ جس میں فرینڈ لسٹ چھانٹی کرنے کا ذکر ہوتا ہے۔ بعض تو کافی تپے ہوتے ہیں اور دھمکی دیتے ہیں کہ جو ہماری پوسٹ پر دل پھینکتے ہیں نہ انگوٹھا دکھاتے ہیں، ایسے دوستوں کو انفرینڈ کر دیا جائے گا۔ خیر ان پر بھی بات کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ فیس بک ”منہ فوٹو“ اور خاص طور پر لڑکیوں کی تصویروں کو خصوصی ترجیح دیتی ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ لڑکیوں کی تصویروں میں بھائی لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن میک اپ کر کر کے اور شکل بدل بدل کر جب تصویریں آتی ہیں تو فیس بک کو ہر تصویر ہی کسی نئی لڑکی کی لگتی ہے، یوں ہر تصویر کو ہی خاص الخاص←  مزید پڑھیے
July 3, 2020
تبصرہ کریں

ہم ہوں نہ ہوں، گردش میں تارے رہیں گے سدا

اس اذیت ناک رات کے دو بج رہے تھے کہ جب میں کمرے میں گیا، کیمرہ وغیرہ اٹھایا اور واپس چھت پر پہنچا۔ تصویر میں دائیں ہاتھ والے گھر پر میں نے خود ٹارچ سے روشنی پھینکی۔ ویسے کسی کے گھر پر یوں روشنی مارنا میری نظر میں غیر اخلاقی حرکت ہے لیکن یہ گھر نہیں بلکہ صرف مکان ہے۔ اکثر ایسے مکانوں کو دیکھ کر گنگناتا ہوں کہ ”تھیں جن کے دم سے رونقیں شہروں میں جا بسے … ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا“۔ خیر یہ تو بات تھی فوٹوگرافی، گھر اور مکان کی۔ جبکہ اصل کہانی اس شعر میں ہے ”کل کھیل میں ہم ہوں نہ ہوں … گردش میں تارے رہیں گے سدا“ جاتے جاتے آخر پر آپ سب کو بتانا بس یہ چاہتا ہوں کہ←  مزید پڑھیے
June 24, 2020
تبصرہ کریں

اک جادوئی گاڑی کی کہانی

کیا آپ نے ”اِن ٹو دی وائلڈ“ کتاب پڑھی یا فلم دیکھ رکھی ہے کہ جو سچی کہانی پر مبنی ہے۔ اس میں 24 سالہ کرسٹوفر تعلیم کے بعد اپنا کریئر بنانے کی بجائے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سچائیوں اور خوشیوں کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ پیدل چلتا، سفر کی مشکلات برداشت کرتا آخر کار جنگل بیابانوں اور ویرانوں میں پہنچ جاتا ہے۔ وہاں اسے ایک پرانی کھڑی جادوئی گاڑی ملتی ہے۔ وہ اس گاڑی میں بسیرا کر لیتا ہے اور فطرت کے قریب رہتا ہوا کتابیں پڑھتا، اپنی نئی جنگلی زندگی کے متعلق سوچتا اور ڈائری لکھتا رہتا ہے۔ آخر اچانک اس جادوئی گاڑی میں اس کی موت ہو جاتی ہے۔ جیسا اس کے ساتھ ہوا اور اس جیسی گاڑی ہمارے اِدھر بھی←  مزید پڑھیے
June 18, 2020
تبصرہ کریں

دن دیہاڑے رات کا مشاہدہ اور اس کی فوٹوگرافی

یہ ہمارے بچپن کی بات ہے کہ جب ہم سائیکلوں پر سکول جا رہے تھے تو اس صبح سورج کی روشنی پہلے جیسی نہیں تھی۔ تبھی ایک لڑکے نے سورج کی طرف اشارہ کر کے کہا ”یہ کیا ہو رہا ہے؟“ میں نے جواب دیا کہ ”قیامت آ رہی ہے“۔ بس پھر وہ ایسا ڈرا کہ انہیں قدموں سے واپس گھر کو دوڑ لگا دی۔ دراصل اس دن شام سے پہلے ہی رات آ رہی تھی اور ہم سولر فلٹر سے اس کا مشاہدہ کرنے لگے۔ اب ایک مرتبہ پھر دو تین دن بعد دنیا کے کئی علاقوں میں ایسا سماں ہونے والا ہے اور دن میں تارے نظر آئیں گے، لیکن گھبرانا بالکل بھی نہیں۔ اگر آپ اسے دیکھنا اور اس کی فوٹوگرافی کرنا چاہتے ہیں تو←  مزید پڑھیے
June 3, 2020
3 تبصر ے

چاندنی میں نہاتا ہمالیہ

پنجاب کا میدانی علاقہ جلالپورجٹاں(گجرات)… اور یہاں پر دریائے چناب کے کنارے… کناروں سے دور لائن آف کنٹرول… اور اس سے پرے مقبوضہ جموں کشمیر… جہاں ہمالیہ کا ذیلی سلسلہ پیر پنجال اور اس کے برف پوش پہاڑ۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو یہ تصویر کیسی لگے گی۔ مگر ان برف پوش پہاڑوں سے تقریباً 103کلومیٹر کی دوری سے یہ تصویر بنائی ہے۔ اتنی دوری سے اور وہ بھی رات میں ایسی تصویر بنانا میرے لئے ایک خواب سا تھا۔ بلکہ جس سے بھی ذکر کرتا تو اس کی نظر میں دیوانے کا خواب ہوتا۔ خیر اس ایک تصویر کے لئے کئی سال کام کیا، انتظار کیا۔ مگر اتنے سب کے باوجود بھی لوگ←  مزید پڑھیے