جنوری 29, 2021 - ایم بلال ایم
تبصرہ کریں

اور جب پُلوں نے منظرباز کو بلایا

گزشتہ سے پیوستہ
اس مقام سے بہت اوپر ”پنج آب“ نے عشق کی معراج پائی اور اپنا آپ سندھو ندی میں فنا کر دیا۔۔۔ کسی کو محبوب نہر والے پُل پر بلاتے ہیں تو مجھے خود پُلوں نے ہی بلا رکھا تھا۔۔۔ وہ جس کے عشق میں ستلج، بیاس، راوی، جہلم اور چناب فنا ہوئے، اسی دریائے سندھ کے اک ایسے کنارے تاریک رات میں پہنچا کہ جہاں بالکل کنارے کے اوپر تک آبادی تھی۔ مگر جس جگہ میں تھا، وہاں مکانات قریب ہونے کے باوجود بھی غضب کی تنہائی تھی۔ مجھے کچھ کچھ ڈر بھی لگ رہا تھا کہ اگر کوئی بندہ آ گیا تو مجھے یہ سب کرتا دیکھ کر یقیناً شک کرے گا اور پھر الٹے سیدھے سوالات بھی ہوں گے۔ ان دور کی نگریوں میں کسی کی نظر میں مشکوک ہونا نہیں چاہتا تھا، اس لئے جلدی جلدی اپنا کام کرتا رہا۔ اور جب خیروعافیت سے کام تمام کر کے سامان سمیٹ رہا تھا تو وہی ہوا، جس کا ڈر تھا۔ گھپ اندھیروں سے اچانک ایک بندہ نمودار ہوا اور بولا ”ارے بھئی! کون ہو اور یہ کیا کرتے پھر رہے ہو؟“ اس کا انداز ایسا تھا کہ جیسے اس نے کوئی چور پکڑ لیا ہو۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے شک کو تقویت دیتا، میں فوراً بولا ”کرنا کیا ہے جوان، سرکاری کاموں نے دن رات مت ماری ہوئی ہے“۔۔۔ اب وہ تفتیش کی بجائے سادگی سے کیمرے اور ٹرائی پاڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ”اس مشین سے کیا ناپ رہے تھے؟“۔۔۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ شکر ہے، اس نے پیمائش والی مشین ہی سمجھی، اگر کوئی اور مشین سمجھ لیتا تو پتہ نہیں کیا کرتا۔ خیر کیمرہ وغیرہ بیگ میں رکھتے یعنی اپنا کام کرتے کرتے اعتماد اور کچھ بے پروائی سے کہا کہ ناپ نہیں بلکہ تصویر بنا رہا تھا۔۔۔ اتنا کہہ کر میں نے اپنے دھیان اس کے پاس سے گزر کر راہ لی۔ یقیناً وہ مڑ کر مجھے دیکھتا تو ہو گا۔ لیکن میں نے پیچھے مڑ کر بالکل بھی نہ دیکھا۔ ایسے کہ جیسے مجھے اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔۔۔

شاید ایسا کچھ نہ ہوتا اگر ہم بروقت یعنی اندھیرہ ہونے سے پہلے وہاں پہنچے ہوتے، لیکن اس دن ہمارا بہت سا وقت اروڑ میں “پربتِ عشق” تلاش کرنے میں گزر گیا اور پھر جب شام کے وقت سکھر روہڑی کی طرف جا رہے تھے تو ”گوگلی خاتون“ کی مہربانی سے شارٹ کٹ کے چکر میں ایک ریلوے پھاٹک پر پھنس گئے۔ خدا خدا کر کے وہاں سے نکلے اور پھر روہڑی شہر کی گھمن گھیریاں تھیں اور گاڑی چلاتے بھائی صاحب کا صبر۔ ایک تو ہم دن بھر کے تھکے ہوئے، اوپر سے ان تنگ گلیوں میں گاڑی کھڑی کرنے کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں مل رہی تھی۔ وہ کیا ہے کہ وہیں کہیں گاڑی کھڑی کر کے دریا کنارے تک پیدل جانا تھا۔

جب کہیں سیر و سیاحت کا ارادہ کرتا ہوں تو پہلے خوب ”ہوم ورک“ کرتا ہوں۔ خاص طور پر فوٹوگرافی کے حوالے سے کہ کس مقام کی کیسی تصویر، کس وقت اور کہاں سے بنے گی۔ ایسے ہی دریائے سندھ پر بنے لینس ڈاؤن اور ایوب پل کی ایک ساتھ، ایک سیدھ میں، دونوں اطراف بالکل سمٹری(Symmetry) اور وہ بھی شام کے وقت تصویر بنانے کے لئے گوگل میپس کی مدد سے دریا کنارے ایک مقام منتخب کر رکھا تھا۔ اندھیرا ہونے سے پہلے وہاں اس لئے پہنچنا تھا کہ وہ گنجان آباد علاقہ تھا، ایک تو یہ کہ کسی مقامی کی مدد حاصل کر کے مطلوبہ مقام تک رسائی آسان ہو سکے اور ویسے بھی جب دن کی روشنی میں کسی جگہ پہنچے ہوں، مقامی لوگوں کے علم میں ہو کہ آپ سیروسیاحت کے واسطے آئے ہیں تو پھر تھوڑی دیر بھی ہو جائے تو کوئی اوٹ پٹانگ نہیں سوچتا، مگر جب اندھیرے میں ہی کہیں جائیں اور اوپر سے کیمرہ و ٹرائی پاڈ لگائیں تو لوگ ایویں شک کرنے لگتے ہیں۔

بھائی کو کہا کہ مجھے یہیں اتارو اور خود کہیں جگہ ڈھونڈ کر گاڑی کھڑی کر لینا، ورنہ یونہی سڑکوں پر گھومتے رہنا۔ تصویر بنا کر تم سے رابطہ کر لوں گا اور ”لائیو لوکیشن“ سے ایک دوسرے تک پہنچ جائیں گے۔ خیر گاڑی سے اتر کر چل دیا۔ بارش کی وجہ سے کیچڑ بھی خوب تھا۔ بہرحال جیسے تیسے اپنے مطلوبہ مقام پر پہنچ ہی گیا اور پھر کیمرہ ٹرائی پاڈ پر لگا کر ”لانگ ایکسپوژر“ تکنیک سے تصویر بنانے لگا۔ کیمرہ اپنی آنکھ f/2.8 جتنی کھولے، ISO-400 کی حساسیت سے 30 سیکنڈ تک عکس جذب کرتا رہا۔۔۔ اس کے بعد کیا ہوا، وہ آغاز پر بتا چکا ہوں۔ البتہ ابھی ان پُلوں کے بارے میں کچھ بات ہو جائے۔ وہ کیا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا کوئی ایک نہیں بلکہ یہ ساتھ ساتھ بنے دو پُل ہیں۔ ایک لینس ڈاؤن اور دوسرا ایوب۔ لیکن تصویر ایسے زاویے اور سیدھ سے بنائی تھی کہ دونوں ایک لگیں اور دائیں بائیں میں بھی کوئی فرق نہ آئے۔ اسی لئے تو اتنا وخت کیا اور ایسا مقام ڈھونڈا کہ جہاں سے ایسی تصویر بن سکے۔

برطانوی راج میں ریلوے کے لئے سکھر اور روہڑی کو ملاتا لینس ڈاؤن(Lansdowne) پُل 1889ء میں بنا اور اس کا نام اس وقت کے گورنر جنرل ہند کے نام پر رکھا گیا۔ لوہے سے بنا اور 241 میٹر لمبا یہ پُل اس دور میں دنیا کا سب سے لمبا سخت شہتیری پل (Rigid Girder Bridge) تھا۔ جو کہ اپنے آپ میں ایک شہکار تھا۔ 1962ء میں اس کے ساتھ ہی ایوب پل بنا تو ریلوے کو اس پر منتقل کر دیا گیا اور لینس ڈاؤن کو عام ٹریفک کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ تصویر میں پُل کے اوپر جو قوس(کمان) سی ہے، وہ دراصل ایوب پُل کی ہے، جو کہ لینس ڈاؤن سے پرے ہے۔ دونوں پُل دریائے سندھ کے درمیان ایک بیلے(جزیرے) پر ختم ہو جاتے ہیں اور پھر دوسری طرف دو اور پُل ہیں۔۔۔ کبھی جو سکھر جاؤ تو ان پلوں کے ساتھ ساتھ دیگر دریائی جزیروں مثال کے طور پر سادھو بیلہ ضرور جانا۔ لبِ مہران سڑک پر سفر کرنا۔ معصوم شاہ مینار اور گھنٹہ گھر دیکھنا۔ سات سہیلیوں کی قبروں پر جانا اور اروڑ میں”پربتِ عشق“ پر حاضری ضرور دینا۔ اور ہو سکے تو منظرباز کو دعاؤں میں یاد رکھنا۔ کیونکہ آج کل دماغ کا دہی بنانے والے معاملات اور مثبت توانائی کی واٹ لگانے والی پریشانیوں نے گھیر رکھا ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *