بسم اللہ الرحمن الرحیم
سننے میں آیا ہے کہ پاکستان کی ستر فیصد آبادی چلو اس سے کم سہی لیکن نصف سے زیادہ ضرور ہے اور وہ دیہی علاقوں میں رہتی ہے یعنی ”پینڈو“ ہے۔ میں بھی ایک پینڈو ہوں۔
مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ شہریوں کو زیادہ حقوق اور دیہاتیوں کو کم کیوں؟ کیا ہم دیہاتی انسان نہیں ہوتے؟ ایک بات واضح کر دوں کہ تمام پاکستانی شہری میرے لئے محترم ہیں اور میں ان کی اتنی ہی قدر کرتا ہوں جتنی میں دیہاتیوں کی کرتا ہوں۔ یہاں بات قدر یا عزت کی نہیں بلکہ اپنے حق کی ہے اور میں اپنے حق کا مطالبہ کسی عام شہری سے نہیں بلکہ صاحبِ اختیار لوگوں سے کر رہا ہوں۔ عام شہری سے تو گذارش ہے کہ جہاں آپ اپنے حق کے لئے آواز اٹھاؤ وہاں اپنے دیہاتی بھائیوں کو بھی یاد رکھو۔
واپس اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں کہ کیا ہم دیہاتی انسان نہیں؟ یہ خیال میرے ذہن میں اس لئے آیا کہ یہاں میرے گاؤں میں شام سات بجے کی بجلی بند ہے اور ابھی بھی بند ہے۔تقریبا 2 بجے کے قریب ایک بار آئی ۔ 30منٹ رہی اور پھر اللہ کو پیاری ہو گئی۔ ہمارے گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا شہر جلالپورجٹاں ہے۔ اگر ہم اپنے چھت پر جائیں تو شہر کی بتیاں نظر آتی ہیں۔ ابھی بجلی نے ”مت ماری“ تو میں صحن میں گیا اور پھر سوچا چھت پر جا کر دیکھتا ہوں کہ شہر کی بجلی ہے یا نہیں۔ معلوم ہوا کہ شہر میں بجلی ہے اور یہ عذاب صرف دیہاتیوں کے لئے ہے۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اکثر بھی نہیں بلکہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے۔ یہ بات آپ بھی اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ خیر نیچے آیا لیپ ٹاپ آن کیا اور پھر کیا ؟ پھر یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔
جب کسی سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دیہات کو کم بجلی اور شہر کو زیادہ تو جواب ملتا ہے شہر میں انڈسٹری ہوتی ہے اور اگر اسے بجلی نہیں ملے گی تو انڈسٹری بند ہو جائے گی۔ شہری لوگ بجلی جانے اور گرمی لگنے پر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اس لئے ان کو بجلی زیادہ دی جاتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اگر شہر کو بجلی صرف ان دو وجوہات کی بنا پر زیادہ دی جاتی ہے تو ہم دیہاتی مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں تو پھر کیا فصلوں کوآنسوؤں سے سیراب کریں؟ تیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں آ جا کر بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل سے کام چلایا تو بجلی بھی ”ٹھس“۔اگر انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں تو زرعی ملک میں زراعت کے بغیر گزارہ کیسے ہو گا؟ میں مانتا ہوں انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں لیکن کیا زراعت کے بغیر گزارہ ممکن ہے؟ کیا ہم دیہاتی گرمی لگنے پر باہر فصلوں میں جا بیٹھیں؟ کیا ہمارے بچوں کو گرمی نہیں لگتی؟ کیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہمارے بچے پنکھوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھ سکیں؟ کیا ہمیں سستی بجلی دیتے ہو جو ساری ساری رات بند رکھتے ہو؟کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟ کیا ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں؟ کیا ٹھنڈا پانی پینے سے ہمارے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں؟اوئے بتاؤ ہمیں بتاؤ کیا ہم جانور ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ کیا ہم پاکستانی نہیں؟ سیاست دانو جواب دو تم کیسے پاکستانیوں کی اتنی بڑی تعداد کو صرف دیہاتی کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہو؟
صرف ایک بجلی کا مسئلہ نہیں ہر بات میں دیہاتیوں کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ مانا کہ ایک دیہات کی آبادی کم ہوتی اس لئے اس کو ساری سہولیات نہیں دی جاسکتی۔لیکن کچھ دیہات ملا کر مشترکہ سہولت تو دی جا سکتی ہے۔ جیسے سکول، کالجز اور ہسپتال وغیرہ۔ ہوتا کیا ہے کہ سکول اور ہسپتال بنائے تو جاتے ہیں لیکن پھر استاد اور ڈاکٹر صاحب غائب۔ کیونکہ ان کو لگتا ہے یہ پینڈو لوگ ہیں ان کو تعلیم اور صحت کی کیا ضرورت۔ حکومت دیہات سے زیادہ شہری سکول و کالجز اور ہسپتالوں کی نگرانی کرتی ہے لیکن دیہات کو دیہات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ دیہات میں شہر جتنی سہولیات نہیں دی جا سکتیں لیکن جب چند دیہاتوں کو ملا کر شہر جتنی آبادی ہو جائے پھر تو سکول، کالج اور ہسپتال شہر جیسے ہونے چاہئیں۔ ہم دور دراز سفر کرنے کو تیار ہیں لیکن ہمیں بھی تعلیم اور صحت کا ویسا ہی معیار ملنا چاہئے جیسا شہری بابو کو ملتا ہے۔ یہاں ہمارے ساتھ والے گاؤں میں ہائی سکول ہے اور شہر میں بھی ہائی سکول ہے۔ دونوں میں طلباء کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں لیکن شہر کے سکول کا معیار اور ہے اور گاؤں کے سکول کا معیار اور۔ جو تھوڑے بہت اچھے استاد ہیں وہ سب شہر کے سکول میں ہیں اور جو سارا دن حقہ پینے والا بندہ ہے وہ گاؤں کے سکول میں استاد ہے اور وہ سارا دن بچوں کو اسی کام لگائے رکھتا ہے۔میں مانتا ہوں چھوٹی جگہ پر چھوٹے پیمانے پر اور بڑی جگہ پر بڑے پیمانے پر کام ہوتا ہے۔ اب ہر گاؤں میں یونیورسٹی تو نہیں بن سکتی لیکن بالکل بنیادی سہولیات تو بغیر کسی تفریق کے ملنی چاہئیں۔شہرمیں رہنے والے کو گرمی لگتی ہے تو گاؤں میں رہنے والے کو بھی لگتی ہے۔ شہری بچے کو تعلیم کا حق ہے تو دیہاتی بچے کو بھی اتنا ہی حق ہے۔ ہم دور دراز سفر کرنے کو تیار ہیں۔ ہم پینڈو کہلوانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے لیکن خدا کے لئے ہمیں مساوی حقوق دیئے جائیں۔ پہلے ہی پیارے پاکستان میں لوگ تفرقوں میں تقسیم ہیں، کوئی صوبہ مانگ رہا ہے تو کوئی ملک۔ کوئی پنجابی کی صدا لگا رہا ہے تو کوئی سندھی کی، کوئی پاکستانی سے زیادہ بلوچی کہلوانا پسند کرتا ہے تو کوئی ہزاروی۔ اس سے پہلے کہ شہری اور پینڈو کی صدائیں بھی بلند ہونا شروع ہو جائیں۔ خدا کے لئے عوام کو پاکستانی بناؤ اور ہم جیسے پینڈو لوگوں کو بھی انسان اور پاکستانی سمجھو۔

 

تازہ تحاریر سے بذریعہ ای میل باخبر رہیں۔ اپنا ای میل ایڈریس درج کریں۔


شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

ملتی جلتی تحاریر:-     • میرا یار کمپیوٹر بولا ”اردو صرف اردو ہے“