جس طرح کمپیوٹر پر انگریزی یا دوسری کوئی زبان لکھتے ہوئے کچھ اصول ہوتے ہیں اسی طرح اردو لکھتے ہوئے بھی کچھ اصول ہیں جو درج ذیل ہیں۔
1:- جہاں آپ اردو لکھ رہے ہیں وہاں تحریر کی سمت Right to Left کر لیں جو کہ دائیں طرف کے Ctrl+Shift سے ہو گی۔
2:- اگر ہو سکے تو تحریر کا رسم الخط (Font) اردو کا استعمال کریں جیسے “علوی نستعلیق”، “نفیس نستعلیق”، “پاک نستعلیق”، “اردو ویب نسخ” یا کوئی بھی اردو رسم الخط جو آپ کو پسند ہو۔ ویسے کوشش کریں کہ عام تحریر کسی نستعلیق رسم الخط میں لکھیں کیونکہ اردو پڑھنے والوں کو نستعلیق رسم الخط ہی زیادہ پسند ہے ویسے بھی اردو پڑھنے والوں کو نستعلیق کی عادت پڑ چکی ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ کوئی نستعلیق رسم الخط ہی استعمال کریں۔
3:- اردو تحریر لکھتے ہوئے سپیس کا استعمال دھیان سے کریں نہیں تو تحریر کی خوبصورتی متاثر ہو سکتی ہے۔
جس طرح انگریزی لکھتے ہوئے ہر لفظ کے بعد سپیس دی جاتی ہے اسی طرح اردو لکھتے ہوئے بھی ہر لفظ کے بعد سپیس دی جاتی ہے اور جب کوئی فقرہ ختم ہو تو اس کے آخری لفظ کے بعد سپیس نہیں دی جاتی بلکہ آخری لفظ کے بعد ختمہ (۔) ڈالتے ہیں اور پھر اگر اسی لائن پر نئا فقرہ شروع کرنا ہو تو نئا فقرہ شروع کرنے سے پہلے سپیس دی جاتی ہے۔ اسی طرح کامہ کا استعمال کیا جاتا یعنی جب کسی لفظ کے بعد کامہ ڈالنا ہو تو اُس لفظ کے بعد سپیس دیئے بغیر کامہ ڈالتے ہیں اور پھر نئے لفظ کے شروع میں سپیس دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر ہم دو فقرے لکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کہاں کہاں سپیس دی گئی ہے۔
فقرے:- “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔”
اب ان دونوں فقروں میں درج ذیل الفاظ کے بعد سپیس دی گئی ہے۔
“اللہ
کے
سوا
کوئی
معبود
نہیں۔
محمد

اللہ
کے
رسول
ہیں۔”
امید ہے اردو لکھتے ہوئے کہاں کہاں سپیس دینی ہے اس بارے میں آپ جان گئے ہوں گے۔ ویسے اردو تحریر میں سپیس دینے کا اصول ویسے ہی ہے جیسے انگریزی میں ہے۔
4:- جب کسی لفظ کے درمیان “ی” استعمال ہو تو وہاں پر چھوٹی “ی” لکھیں۔ اسی طرح جب کسی لفظ کے درمیان نون (ن) استعمال ہو تو وہاں نون نقطہ والا لکھیں نہ کہ نون غنہ (ں)۔
5:- اگر کسی لفظ میں الف مد (آ) لکھنا ہو تو اسے ایک کنجی (Key) سے ایک دفعہ دبا کر لکھیں نہ کہ پہلے ایک کنجی سے “الف” لکھیں اور پھر کسی دوسری کنجی یا اسی کنجی کو دوبارہ دبا کر الف کے اوپر مد ( ۤ) ڈالیں۔ عام طور پر اردو کلیدی تختہ میں الف مد (آ) Shift+a پر ہوتا ہے۔
6:- اردو کا حرف “ء” بہت زیادہ الفاظ میں استعمال ہوتا ہے۔ کمپیوٹر کی اردو میں “ء” کی کئی صورتیں ہیں یعنی کسی لفظ کے شروع میں ، درمیان میں، آخر پر، اوپر اور نیچے۔ کمپیوٹر میں اردو لکھتے ہوئے “ء” کی ہر صورت کے لئے علیحدہ علیحدہ کنجی استعمال کی جاتی ہے۔ اگر کسی لفظ کے درمیان “ء” لکھنا ہو تو اسے “ئ” لکھا جاتا ہے جو کہ عام طور پر اردو کلیدی تختہ میں “u” کی کنجی پر ہوتا ہے اور “ء” کی آخری صورت Shift+u ہوتی ہے۔
عام طور پر اردو میں “ء” درمیانی، آخری اور “و” کے اوپر لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ “و” کے اوپر “ء” لکھنے کے لئے علیحدہ سے کنجی موجود ہے جیسا کہ الف مد (آ) پورا ایک ساتھ لکھنے کے لئے ایک ہی کنجی موجود ہے اسی طرح “و” کے اوپر “ء” لکھنے کے لئے بھی ایک ہی کنجی موجود ہے۔ عام طور پر اردو کلیدی تختہ میں “ؤ” Shift+w سے لکھا جاتا ہے۔

نوٹ:- اگر آپ کمپیوٹر پر اردو لکھتے ہوئے اصولوں کا کوئی خاص خیال نہ رکھیں تو ظاہری تحریر پر کوئی خاص فرق نہ بھی پڑتا ہو لیکن ایک تو آپ کو غلط انداز تحریر کی عادت پڑ جائے گی اور دوسرا جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ جب آپ یا کوئی دوسراآپ کی تحریر سے کوئی لفظ تلاش کرنا چاہے گا تو آپ کو یا کسی دوسرے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔