Baadshahi Masjid Lahore

گذشتہ سے پیوستہ

اردو بلاگرز کانفرنس کے چند شرکاء بادشاہی مسجد، مزارِ اقبال اور شاہی قلعے کی سیروسیاحت کے بعد ہوٹل واپس لوٹے۔ ہوٹل پہنچ کر دوست احباب گپ شپ میں مصروف ہو گئے اور میں چپ چاپ کانفرنس کے متعلق ایک نہایت ہی اہم کام کے لئے چلا گیا۔ اب کانفرنس کے بعد یار لوگ تو ”کانسپیریسی تھیوریز“ کی ہنڈیا پکانے میں مصروف ہیں۔ اگر یہ کانفرنس میں شرکت کرتے اور آگے بڑھ کر انتظامیہ کا ساتھ دیتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ کانفرنس کن حالات میں، کتنے شارٹ نوٹس پر اور کیا کیا جتن کر کے اردو بلاگنگ کے واسطے کروائی گئی ہے۔ خیر ہر بڑی کامیابی کے بعد کانسپیریسی تھیوریز ضرور جنم لیتی ہیں اور یہی کامیابی کو ظاہر کرتی ہیں، اس لئے ہمیں ان کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھنا ہو گا۔ حالات کا مقابلہ کر کے آگے بڑھنا اردو بلاگستان کا ہمیشہ سے خاصہ رہا ہے۔ بہر حال اگر دل مانا تو ان باتوں کو علیحدہ تحریر میں زیرِبحث لاؤں گا۔

میں کام مکمل کر کے ہوٹل پہنچا تو سب کھانے کے لئے تقریباً تیار تھے۔ بلاگران سے پوچھا گیا کہ ہوٹل میں ہی کھانا کھاؤ گے یا باہر کسی جگہ جانا پسند کرو گے۔ اکثریت کی یہی رائے تھی کہ باہر کسی دوسرے ہوٹل چلتے ہیں۔ لاہور کے لکشمی چوک میں ہوٹلوں کی بھر مار ہے اس لئے ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس کے پاس جائیں۔ آخر متفقہ فیصلہ کر کے ایک ہوٹل میں بیٹھ ہی گئے۔ سب کو پوچھا گیا کہ کیا کھانا پسند کرو گے؟ کوئی چپ تو کوئی شرما رہا تھا۔ آخر میرے مشورے پر چکن کڑائی، موٹے کی دال کی ٹِکیاں(مکھن مار کے) اور دیگر لوازمات جیسے رائیتہ، سلاد، کاربونیٹڈ اور منرل واٹر منگوایا گیا۔

کھانے کے لئے جانے والے ہم پندرہ لوگ تھے جبکہ کاشف نصیر اور اقبال حیات اپنے کسی دوست کی طرف چلے گئے تھے اور انہوں نے اس کی طرف ہی کھانا تھا۔ کھانا آنے تک تمام دوستوں نے خوب گپ شپ کی۔ لنڈی کوتل سے آئے ہوئے مدثر شاہ صاحب سنجیدہ اور مزاحیہ گفتگو کا مرکز رہے۔ مدثر شاہ صاحب بڑے زبردست انسان اور بڑے مزے کی گفتگو کرتے ہیں۔ خوشحال خان خٹک، رحمان بابا اور دیگر شعراء پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول کو مزاح سے بھی بھر پور رکھا۔ مدثر شاہ اور غلام عباس نے خوب باتیں کیں۔ اس کے بعد کھانا آ گیا مگر یہ دونوں کھانے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتے رہے۔ ان کے ساتھ ہی خاموش طبیعت مگر ہر وقت پروسسنگ والا دماغ پانے والے ڈیرہ اسماعیل خان کے محمد سعد بیٹھے تھے۔ ان کے ساتھ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مصطفےٰ ملک تھے۔ میں سمجھتا تھا کہ مصطفےٰ ملک نہایت ہی سنجیدہ بزرگ ہوں گے، گو کہ ان کا شمار بزرگوں میں ہی ہوتا ہے مگر یہ تو ہم جوانوں سے بھی زیادہ جوان اور پرجوش انسان ہیں۔ ان سب کے علاوہ اس کھانے میں اسلام آباد کے راجہ اکرام، محمد سعد کی طرح راجہ اکرام کو بھی خاموش ہی دیکھا۔ جب بھی بات کی میں نے ہی کی۔ ان کے ساتھ شعیب صفدر (کراچی)، عبدالستاراور عاطف مرزا (جلالپور)، فخر نوید (گوجرانوالہ)، ساجد امجد (جڑانوالہ)، مسرت اللہ جان (پشاور)، محمد عامر (کراچی)، نعیم اللہ خان (پشاور)، م بلال م اور محسن عباس شامل تھے۔

کھانے کے بعد چائے پیتے ہوئے محسن عباس بھائی نے ہمیں اپنی صحافتی زندگی کے بارے میں کچھ بتایا اور بلاگران کو کچھ مشورے دیئے، جیسے اپنے مسائل لکھو، میڈیا دیہی صحافت کی طرف توجہ نہیں دیتا اس لئے دیہات میں رہنے والے بلاگر اپنے مسائل کو دنیا کے سامنے لائیں، روائیتی میڈیا پالیسی کے زیرِ سایہ چلتا ہے جبکہ بلاگر آزادی سے لکھ سکتا ہے اس لئے کھل کر لکھو اور سچ کو سامنے لاؤ وغیرہ وغیرہ۔

کھانے کے بعد ہم ہوٹل پہنچے تو کاشف نصیر اور اقبال حیات اپنے دوست کو مل کر واپس آ چکے تھے۔ ایک ہی کمرے میں سب دوست اکٹھے بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگے۔ میں کمروں کا حساب لگا کر مزید کمرے کھلوا رہا تھا۔ محسن بھائی اور دیگر لوگ مل کر پریس ریلیز تیار رہے تھے جسے کاشف نصیر ٹائیپ کر رہا تھا۔ مجھے کمروں کا حساب لگاتے دیکھ کر مصطفےٰ ملک اور شعیب صفدر بولے کہ زیادہ کمرے نہ کھلواؤ۔ ہم ایک کمرے میں تین تین بھی ہو جائیں گے۔ یہ ہماری اپنی کانفرنس ہے، لازمی نہیں کہ ضرورت سے زیادہ پیسے خرچے جائیں۔ میں نے کہا کہ اگر ابھی کوئی چپ رہا مگر بعد میں جا کر اس نے اسی بات پر انتظامیہ کو دھر لیا اور اس طرح دھرنا کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ کئی لوگ پہلے ہی اسے اپنی نہیں بلکہ ”اردو بلاگرز“ کی کانفرنس سمجھ رہے ہیں اس لئے ہر کمرے میں دو دو بندے ہی ہوں گے۔ اس کے باوجود بھی آپ ایک کمرے میں تین تین ہونے پر بضد ہیں تو پھر یہ بات مجھ سے نہیں بلکہ محسن بھائی سے کرو۔ پتہ نہیں یہ بات محسن بھائی سے ہوئی یا نہیں مگر میں نے مزید کمرے کھلوا دیئے۔ ہر کمرے میں دو دو بندوں کو ٹھہرایا اور جس کو جس چیز جیسے جائے نماز وغیرہ کی ضرورت تھی وہ فراہم کی۔ قارئین آپ کے ساتھ رہتے رہتے اتنی تو سمجھ آ گئی ہے۔ ”جیسے جائے نماز“ میں نے ایسے ہی نہیں لکھا۔ :-)

سارے انتظامات کر کے میں کچھ دیر کے لئے دوستوں کے پاس بیٹھا اور گپ شپ کی۔ خوب مذاق ہو رہے تھے تو ایک بھائی نے کہا کہ یار بلال آج تعارف کرواتے ہوئے تمہارا بڑا زبردست انداز تھا۔ میں نے کہا یار کاہے کا زبردست انداز۔ پھر میں نے اپنی ایک تحریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات میں نے اس میں بھی لکھی ہے کہ ہم ”دوآبے“ کے لوگوں کا لہجہ تھوڑا سخت ہے۔ ہم مذاق کی بات کر رہے ہوں تو دوسرے کو لگتا ہے کہ جیسے لڑ رہے ہیں۔ خیر یہ سب باتیں مذاق میں ہو رہی تھیں اور ہم سب کھل ڈھل کر گپ شپ کر رہے تھے۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ کچھ ایسے بھی دوست احباب ہیں جو انہیں مذاق کی باتوں کو لے کر مجھ پر پوسٹ لکھ ماریں گے۔ بہر حال اللہ ان کا بھلا کرے۔ میں سوائے ان کے لئے دعا کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔ مزید گپ شپ کے دوران ہی وکی پیڈیا کے ساجد امجد صاحب کے ساتھ وکیپیڈیا کی اردو کے متعلق بات چیت ہوئی۔

تھوڑی ہی گپ شپ ہوئی تو مجھے یاد آیا، سب کے کام تو ہو گئے مگر میرے اپنے کپڑے ابھی تک استری نہیں ہوئے اور اوپر سے صبح میں نے پریزنٹیشن دینی ہے ابھی تو اس کا بھی کچھ کرنا ہے۔ خیر دوست احباب گپ شپ میں ہی مصروف رہے اور میں اٹھ کر چلا گیا۔ ایک کمرے میں کاشف نصیر وغیرہ مل کر پریس ریلیز تیار کر رہے تھے۔ میں نے اقبال حیات سے ایک پریزنٹیشن کا ٹیمپلیٹ لیا اور اپنے کمرے میں جا کر اس ٹیمپلیٹ میں اپنی باتیں بھرنے لگا۔ جیسی تیسی بنا کر سارے دن کا تھکا ٹوٹا رات کے چار بجے سونے لگا تو میرے روم میٹ کے ”کرارے“ افف۔۔۔ :-) بہت کوشش کے بعد سوا پانچ بجے کے قریب آنکھ لگی اور پھر صبح سات بجے اٹھنا پڑا۔

اگلا حصہ:- کانفرنس کا دوسرا دن چائے کے وقفے تک