Urdu Bloggers Conference

اس بات کا آغاز تب سے ہوتا ہے جب سے اردو بلاگنگ شروع ہوئی۔ یار لوگ جب ٹھنڈے پیٹوں سوتے تھے، تب کچھ ”سرپھرے“ بھری جوانی میں راتوں کو جاگ کر ”موبائل پیکیج“ پر کھسر پھسر کی بجائے اردو بلاگنگ کی ترقی کے لئے کام کرتے تھے۔ اردو بلاگنگ جیسے تیسے چلتی رہی اور نئے سے نئے لوگ آتے رہے۔ آٹھ دس سالوں کی محنت کے بعد اب اردو بلاگنگ اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ہم کسی کے سامنے دھڑلے سے کہہ سکتے ہیں کہ اردو بلاگستان اپنا مقام رکھتا ہے۔ ان کی اکثریت نقل کی بجائے عقل استعمال کرتی ہے یعنی کاپی پیسٹ کی بجائے اپنا مواد تخلیق کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی قومی زبان کو اپنایا اور خواص کی بجائے عوام تک پہنچے۔ جتنا اردو بلاگران پاکستانی معاشرے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اتنا کسی دوسری زبان والے نہیں ہو سکتے۔ میں اور فہدکیہر بھائی اکثر ایسی باتیں زیرِبحث لاتے مگر ہر دفعہ یہی سوال پیدا ہوتا کہ آخر پھر کیا وجہ ہے جو اردو بلاگوں کے قارئین بھی کم ہیں اور یہ جتنے معاشرے پر اثر انداز ہونے چاہئیں، اتنے ہو نہیں رہے۔ پاکستانی انگریزی بلاگرز کو انگریزی اخبارات و چینلز وغیرہ پر اہمیت ملتی ہے مگر اردو بلاگرز کواردو اخبارات وغیرہ میں کوئی خاص اہمیت نہیں مل رہی؟

اس کی دیگر کئی وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک یہ وجہ بھی سامنے آتی کہ اردو بلاگر بس خاموشی سے لکھتے ہیں یعنی اِدھر اُدھر کوئی ہلہ گلہ، شور شرابہ، رابطے شابطے اور ورکشاپ وغیرہ نہیں کرتے۔ انہیں وجوہات کی بنا پر اردو بلاگستان عام پاکستانیوں تک نہیں پہنچ پا رہا اور پاکستانی مین سٹریم میڈیا بھی انہیں گھاس نہیں ڈالتا جبکہ ساری دنیا کے بلاگرز تبدیلی لا رہے ہیں اور اہم آواز مانے جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں۔ بس جی پھر سر پھرے ”م بلال م“ کو دن رات یہی پڑی تھی کہ ”وڈے“ لوگ بے شک اردو لکھیں نہ لکھیں مگر انہیں یہ تو پتہ ہونا چاہئے کہ اردو بلاگر بھی اس ملک میں بستے ہیں۔ کئی بلاگرز کہتے ہیں بلکہ ایک عرصے تک میں خود سوچتا رہا کہ اردو بلاگستان کو کسی مشہوری کی ضرورت نہیں، بس جی اپنے لئے لکھو، کوئی کمنٹ کرے نہ کرے، کوئی پڑھے نہ پڑھے مگر آپ لکھو جی۔ میں کئی دفعہ خود سے سوال کرتا ہوں کہ اگر یہی سب کرنا ہے تو پھر ہم انٹرنیٹ پر کیوں لکھتے ہیں۔ چپ کر کے ڈائریاں لکھیں اور دراز میں رکھ کر تالے لگائیں۔

بہرحال ماضی میں کئی لوگوں سے اردو بلاگنگ پر بات چیت ہوئی، کسی نے کچھ کہا تو کسی نے کہا چھوڑو جی جتنی محنت آپ ادھر کر رہے ہو اگر آدھی بھی انگریزی بلاگنگ پر کرو تو اچھے بھلے پیسے مل جائیں۔ ہر ایک کا اپنا اپنا نکتہ نظر تھا اور مجھے کسی کی بات کا کوئی افسوس نہ ہوا، مگر افسوس تو اس وقت ہوا، جب پاکستان میں اردو کے نفاذ کی ایک تحریک سے رابطہ ہوا اور انہیں بتایا کہ جی میں ایک گیا گزرا اردو بلاگر ہوں جبکہ دیگر کئی بڑے اردو بلاگرز اردو کی ترقی کے لئے کام کر رہے ہیں، آپ لوگوں کو اردو بلاگنگ کی ترقی و ترویج کے لیے قدم اٹھانا چاہئے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو کو ترقی کی نئی منازل پر پہنچایا جا سکے، تو جواب میں انہوں نظرانداز کرنے والے لہجے میں کہا ”ہاں ہاں ہم نے دیکھا ہے کہ دو چار لوگ کبھی کبھی اردو میں بلاگ لکھتے ہیں اور یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ چلو دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے“۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ انہیں کیا کہوں اور کیا نہ کہوں۔ ہم اردو بلاگران تو سینے پر ہاتھ مار کر بڑے جوش سے بتاتے ہیں کہ جی ہم اردو بلاگر ہیں مگر یہاں تو اردو والوں کے ہاتھوں ہی رسوا ہوئے۔ میری تحریر اردو بلاگر اور حقائق کا بھوت دراصل ایسے ہی لوگوں سے بات چیت کا نتیجہ تھی۔ کافی عرصہ سے جو جو مجھے اِدھر اُدھر سے سننے کو ملتا اسے لکھتا جاتا اور پھر پچھلے دنوں وہی باتیں ”حقائق کے بھوت“ کی زبانی سب کو سنا دیں۔ خیر اِدھر اُدھر بات چیت سے مایوس ہونے کی بجائے میں اپنے عظیم فلسفی کے فلسفے ”پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ“ پر عمل کرتا رہا۔ سوچتا کہ کوئی ایسا پلیٹ فارم ہو جس کے ذریعے ہم کچھ کریں، کوئی تقریب ہو، کوئی ورکشاپ ہو، اِدھر اُدھر کے بڑے لوگوں کو بلایا جائے اور کوئی شور شرابہ ہو، لوگوں کو اردو بلاگستان کا پتہ چلے، قارئین زیادہ ہوں، بڑے بڑے اداروں کو اردو بلاگستان نظر آئے تو پھر ہی اردو اور بلاگستان کی ترقی ہو سکتی ہے اور پھر ہی اردو بلاگستان معاشرے پر اثر انداز ہو کر تبدیلی لا سکتا ہے۔

اس سارے کام کے لئے مالی معاونت کے ساتھ ساتھ اور بہت کچھ چاہیئے تھا۔ بس پھر پچھلے کچھ عرصے سے مختلف معاونین کی تلاش میں تھا۔ کوئی ملتا تو وہ اپنی عجیب عجیب شرائط رکھ دیتا۔ مختلف کمپنیوں سے رابطے کیے، وہ کہتے چلو ہم اردو بلاگستان کے لئے کچھ کرتے ہیں اور اردو بلاگز کو اشتہار بھی دیتے ہیں مگر ذرا اردو بلاگز کی ٹریفک تو بتاؤ۔ یہاں پر میری بولتی بند ہو جاتی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کروڑوں پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کی کتنی تعداد اردو بلاگستان کا رخ کرتی ہے۔ ایک عجیب سی صورت حال بن جاتی۔ ایک چیز کے لئے دوسری، دوسری کے لئے تیسری اور تیسری کے لئے واپس پہلی چیز لازم ہو جاتی۔ ایسی صورت حال میں کسی ایسے معاون کی ضرورت تھی جو دنیاوی لالچ کے بغیر اردو اور پاکستان کی محبت میں اردو بلاگستان سے تعاون کرے۔

محسن عباس پاکستانی نژاد کینیڈین اور صحافت کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے تقریباً ایک سال پہلے اپنی ویب سائیٹ کے مسئلہ کے حل کے لئے پہلی دفعہ مجھ سے رابطہ کیا، یہیں سے ہماری بات چیت شروع ہوئی۔ وہ کئی دفعہ کہتے کہ پاکستان کے اصل مسائل تو دیہاتوں میں ہیں اس لئے دیہی صحافت ہونی چاہیئے یا کوئی اچھا ادارہ وجود میں آئے جو لکھنے والوں کی خالص پاکستانی معاشرے کے مطابق تربیت کرے۔ ہمارا رابطہ کبھی کبھار بلکہ مہینے دو مہینے بعد ہی ہوتا۔ بہر حال میری تحریر ”میڈیا اور اردو کے رضاکار“ پڑھنے کے بعد محسن عباس نے کہا کہ تم تو بہت دل جلے نکلے۔ تمہارے لئے کچھ کرنا چاہئے، میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ آپ جو لکھاریوں کی خالص پاکستانی معاشرے کے مطابق تربیت کا کہتے ہو کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اردو بلاگستان وہ ادارہ بن جائے۔ جہاں لکھاری عملی تربیت حاصل کریں اور پھر بڑے بڑے اداروں میں پہنچ جائیں۔ یہ آئیڈیا محسن صاحب کو پسند آیا، مگر بولے یہ کام اتنا آسان بھی نہیں جتنا تم سوچ رہے ہو۔ خیر کچھ کرتے ہیں۔ میں پاکستان آتا ہوں تو کوئی دعوت وغیرہ رکھتے ہیں، جہاں تم کچھ بلاگر دوستوں کو مدعو کر لینا اور سب مل کر سوچیں گے۔ میں نے کہا آپ صاحبِ حیثیت ہو جب دعوت رکھنی ہی ہے تو شاندار تقریب رکھو اور اسی تقریب میں سب اردو بلاگرز مل کر پلان بناتے ہیں کہ اردو بلاگنگ کی ترقی کے لئے کیا کرنا چاہیئے۔ اردو لکھاریوں کے لئے درد دل رکھنے والے محسن عباس کو یہ آئیڈیا بھی پسند آیا اور یہیں سے اس تقریب پر کام شروع ہوا۔ اندازہ کرنے کے لئے کہ کتنے لوگ تقریب میں آئیں گے اور کتنا خرچہ ہو گا اس متعلق اردو بلاگرز کے فیس بک گروپ میں ایک سروے کیا۔ بس جی پھر کئی دوستوں کو عجیب عجیب تشویش ہونے لگی۔ میں کہتا رہا کہ ایسا کچھ نہیں جیسا آپ سوچ رہے ہو مگر دوستوں کے شک کا دائرہ اتنا وسیع ہوا کہ کچھ نہ پوچھیں۔ میرے جیسے جنہیں صرف دو چار لوگ پڑھتے ہیں انہیں بھی یہ شک پڑ گیا کہ وہ بہت بڑے بلاگر ہیں اور کوئی ہمیں مراعات دے کر خرید نہ لے۔ لو کر لو گل۔ بننا بڑا بلاگر اور ڈر اتنا کہ کہیں کوئی ہمارا ”ضمیر“ خرید ہی نہ لے۔ یہی نہیں کئی احباب تو شک سے بھی آگے بڑھ گئے اور فیصلے سنانے لگے کہ اردو بلاگران کو ہائی جیک کرنے کا پلان ہے۔ افف۔۔۔ میں چیختا رہا اور بار بار بتاتا رہا کہ تقریب کروانے والا اردو اور پاکستان سے پیار کرنے والا ہے اور تقریب کا مقصد اردو بلاگران کی حوصلہ افزائی اور اردو بلاگنگ کی ترقی ہے، مگر کوئی سننے اور سوچنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ بہرحال اکثریت کی رائے یہی تھی کہ تقریب کروائی جائے۔ انہیں دنوں میں کچھ معاملات میں ایسا الجھا کہ انٹرنیٹ کی کوئی ہوش ہی نہ رہی اس لئے محسن صاحب کو ساری معلومات پہنچائی اور کہا کہ اردو بلاگرز سے آپ براہ راست بات چیت کرو، ان کے سوالوں کے جواب دو۔ ساتھ یاد رکھیے گا کہ اردو بلاگستان کے میڈیا کے لوگوں سے ماضی میں کافی برے تجربات رہے ہیں، اس لئے دھیان سے۔ محسن صاحب بولے کہ جب ہم نے سب کچھ اردو بلاگستان کی مرضی سے کرنا ہے جیسا بلاگستان والے کہیں گے ویسا کر لیا جائے گا لہٰذا اس میں کوئی مسئلہ والی بات نہیں۔ میری مصروفیت ویسے کی ویسی رہی اس لئے فوراً محسن عباس نے مشاورت سے تقریب کا عنوان ”پہلی دو روزہ بین الاقوامی اردو بلاگرز کانفرنس“ رکھا اور پلیٹ فارم کے لئے اردو بلاگ فورم کے نام سے ڈومین رجسٹر کروائی۔ میں نے محسن صاحب کو کہا کہ تقریب میں وقت تھوڑا رہ گیا ہے، آپ فیس بک پر اردو بلاگرز کا گروپ جوائن کرو اور کانفرنس کے متعلق کام شروع کر دو۔ ان شاء اللہ دوست احباب تعاون کریں گے۔ محسن عباس کو کام کے سلسلے میں چین جانا پڑ گیا اور اُدھر فیس بک کی سہولت نہیں تھی تو اردو بلاگ فورم کے انتظامی معاملات قابلِ اعتماد بندوں کو سونپ دیئے۔ اردو بلاگ فورم کی انتظامیہ نے فیس بک کے گروپ میں کانفرنس کی ابتدائی معلومات فراہم کر دی۔

اردو بلاگران کی اکثریت نے تعاون کیا مگر دو چار لوگوں نے وہ ادھم مچایا کہ اللہ بچائے۔ مجھے پتہ ہوتا کہ اس گروپ میں ایسا حال ہونا ہے تو میں کبھی انہیں یہ مشورہ نہ دیتا۔ یار لوگوں نے تو حد ہی کر دی۔ اردو بلاگ فورم کی انتظامیہ چیخ چیخ کر کہتی رہی کہ ”جو اور جیسا“ آپ لوگ کہتے ہو بالکل ویسا کر لیتے ہیں مگر کچھ لوگوں پر بغیر سوچے سمجھے شک کرنے اور فتوی دینے کا بھوت سوار تھا۔ کئی احباب نے کہا کہ کانفرنس کون کروا رہا ہے اس کا پتہ چلے، اردو بلاگ فورم کی انتظامیہ نے فوراً محسن عباس کا پیغام فیس بک گروپ میں لگایا جس میں کانفرنس کروانے کی وجہ اور کانفرنس کروانے والے محسن عباس کا مکمل تعارف موجود تھا۔ محسن عباس چونکہ پاکستانی نژاد کینیڈین ہیں اور بی بی سی اردو جیسے عالمی نشریاتی اداروں میں کام کرتے ہیں لہٰذا ایک دو کی نظر میں ان کا پیشہ صحافت ”جرم“ ٹھہرا، انہیں اسی ”جرم“ کی سزا دی گئی۔ بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی ثبوت کے یہودیوں اور قادیانیوں کا ایجنٹ تک قرار دے دیا اور تو اور اخلاقیات کی ساری حدیں عبور کرتے ہوئے مرزائیوں کا ”پیڈ چمچہ“ تک کہا گیا۔ اردو بلاگ فورم کی انتظامیہ نے محسن عباس کی نگرانی میں ہر سوال اور شک کا جواب دیا۔ واضح الفاظ میں لکھا کہ وہ مسلمان ہیں، محمدﷺ کے آخری نبی ہونے پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور کسی کے ایجنٹ نہیں۔ اب آپ خود فیصلہ کرو کہ اس بیان کے بعد مزید کس طرح پتہ چلایا جائے کہ بندہ مسلمان ہے یا نہیں، اگر تو کوئی ایمان چیک کرنے والا آلہ بازار میں ملتا ہے تو ہمیں بتائیں ہم اس سے اردو بلاگ فورم والوں کے ایمان کی مقدار چیک کر لیتے ہیں۔ خیر اردو بلاگ فورم کی انتظامیہ چیختی رہی مگر کچھ لوگ ان کی سننے کی بجائے بس اپنی ہی کہتے گئے۔ فیس بک کے اس گروپ میں موجود تمام اردو بلاگران کانفرنس کے حق میں تھے مگر ایک دو لوگ مخالفت میں ایسے بضد ہوئے کہ وہ ”جنگ عظیم“ ہوئی کہ کچھ نہ پوچھیئے۔ بات ذاتیات پرآ گئی اور پھر کھلم کھلا گالیوں کے تیر چلے۔ فتوؤں کی بارش ہوئی۔ کسی کو گروپ میں بین نہ کیا گیا تاکہ جس کو جو کہنا ہے وہ گروپ میں ہی کہے اور اردو بلاگستان کی اندر کی باتیں باہر نہ نکلیں مگر کانفرنس کے مخالفین تصویر کے ایک رُخ بلکہ آدھے رُخ کے ساتھ اس بحث کو اپنے بلاگ اور فیس بک پیج تک لے گئے۔ گروپ کے ایڈمن صرف اس لئے چپ تھے کہ ہر کوئی اپنا موقف گروپ میں ہی لکھے مگر جب بحث باہر نکل گئی تو پھر ایڈمن نے کچھ لوگوں کو بین کر دیا۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ سارے اردو بلاگران کانفرنس چاہتے ہیں مگر جن اِکا دُکا کو پریشانی ہے وہ اِدھر اُدھر ایسے لکھ رہے ہیں جیسے وہ اردو بلاگران کے نمائندے ہیں۔ سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ جنہیں اردو بلاگستان کے ہائی جیک ہونے کا خطرہ ہے، اب اِدھر اُدھر دہائی، گالیاں اور دھمکیاں دے کر وہ خود بلاگستان کو ہائی جیک کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پہلے لکھتے ہیں کہ یہ سوشل میڈیا پر یہودی اور مغربی پریس کی اجاراہ داری اور لاہور میں ”خونی فسادات کا منصوبہ“ ہے :-) ہا ہا ہا یعنی پہلے اپنی حتمی رائے دے دیتے ہیں تو بعد میں بڑے بڑے اداروں کو کہتے ہیں ہمیں نہیں پتہ کہ یہ معاملہ کیا ہے اس لئے معاملے کی چھان بین کی جائے۔ آپ بھی ہنس لو کیونکہ مجھے بھی ہنسی آ رہی ہے کہ ایک سیدھی سادی بلاگر کانفرنس کو پتہ نہیں کیا کیا کہتے پھر رہے ہیں۔ ویسے بتاتا چلوں کہ ادارے تو پہلے ہی چھان بین کر کے کلیئرنس دے چکے ہیں بلکہ الٹا یہی ادارے کانفرنس کی انتظامیہ اور سپانسر میں شامل ہیں۔ ;-) مجھے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جب کانفرنس کروانے والا راضی، کانفرنس میں جانے والے راضی، کوئی کسی سے زور زبردستی نہیں کر رہا تو پھر بھلا ان ایک دو لوگوں کو کیا پریشانی ہے؟ ہم کانفرنس چاہتے ہیں اور ہم کانفرنس میں جا رہے ہیں۔ جو نہیں چاہتے وہ نہ جائیں ”سو سمپل“۔ اوہ بھائی جی یہ اردو بلاگران کا ذاتی پروگرام ہے، ایک قسم کی بلاگر میٹ اپ ہے۔ ہم آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں۔ ہم قانونِ پاکستان کے مطابق جو چاہیں کریں، کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمارے ذاتی کاموں میں دخل اندازی کرے۔ ویسے بھی ایک طرف سارے بلاگر اور دوسری طرف ایک دو لوگ، انصاف کا تو یہی تقاضا ہے کہ اکثریت کی بات مانی جائے۔

کانفرنس کے مخالفین نے جب محسن عباس پر سنگین الزام لگائے تو ایک دفعہ تو مجھے بھی تشویش ہوئی۔ میں نے اپنے تعلقات کے زور پر محسن صاحب کا پتہ کروایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ قادیانیوں وغیرہ کا ایجنٹ ہونے جیسے تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ یہ سارے الزامات پاکستانی نژاد کینیڈین ہونے، بی بی سی اور اس جیسے دیگر عالمی اداروں میں کام کرنے اور ”وینکوور رائٹر فورم“ کا ممبر ہونے کی بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں۔ آپ خود سوچیں کہ اگر کوئی پاکستانی نژاد کینیڈین ہو یا عالمی اداروں میں کام کرتا ہو، تو کیا صرف اس کے کام کرنے کی وجہ سے بغیر کسی ثبوت کے قادیانیوں وغیرہ کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جا سکتا ہے؟ رہی بات ”وینکوور رائٹر فورم“ کی تو آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ رائٹر کا ایسا کوئی فورم سرے سے ہے ہی نہیں اور محسن عباس اس جیسے کسی فورم کے ممبر بھی نہیں۔

میری طرح ”زورِ کی بورڈ“ زیادہ ہونے اور لمبی لمبی تحاریر لکھنے سے بات میں وزن زیادہ نہیں ہوتا بلکہ وزن پیدا کرنے کے لئے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے کانفرنس کی بلاوجہ مخالفت اور بغیر ثبوت کے الزام تراشی کرنے والوں سے میری گذارش ہے کہ کچھ سرپھروں نے سالہا سال محنت کے بعد اردو بلاگستان کو یہاں تک پہنچایا ہے، جو ”جنگ“ ہونی تھی وہ ہو گئی، اب اردو بلاگستان کو مزید کمزور نہ کرو، خدارا ہوش میں آؤ اور اللہ سے ڈرو۔

جب یہ ”جنگ عظیم“ ہو رہی تھی ایک تو میں ان دنوں مصروف تھا اور اگر مصروف نہ بھی ہوتا تو پھر بھی اس طرح کی بحث میں ہر گز حصہ نہ لیتا۔ میں نے کوئی حصہ نہ لیا، کسی کو کچھ نہ کہا مگر پھر بھی ہم راہ گزرنے والوں کے کھاتے میں مارے گئے۔ :-) کانفرنس کے ایک دو مخالفین جو ایک طرف مجھے استاد، محترم اور برادر کہہ کہہ کر عزت دیتے تو دوسری طرف انہیں ”شاگردوں“ نے مجھ پر بھی یہودیوں اور قادیانیوں کا سپورٹر ہونے کا فتوی تک لگا دیا اور فیس بک پر فحش گالیاں تک دیں۔ اب انہیں کیسے بتاؤں کہ جیسا بھی سہی مگر میں (م بلال م) ایک مسلمان ہوں، محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور قادیانیوں سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔ میں اکثر اوقات تحریر اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں مگر لگتا ہے اب اللہ کے نام کی بجائے تحریر کی شروعات قادیانیوں پر لعنت بھیج کر کرنی پڑے گی۔ خیر فی الحال میں یہاں کسی کو اپنے ایمان کی وضاحت پیش نہیں کر رہا اور ان جیسوں کی طرف سے قادیانیوں کا سپورٹر اور دیگر فحش گالیاں دینے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ میرا اللہ جانتا ہے کہ میں کیا ہوں اور میرے لئے اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ ہی کافی ہیں۔ ہمارا پُرامن پیغام ”اردو“ ہے، ان شاء اللہ یہ کارواں چلتا رہے گا۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں بلکہ کئی لوگوں نے مختلف ہتھکنڈوں سے اس کارواں کو روکنے کی کوشش کی مگر یہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی سے چلنے لگا۔ ویسے آپس کی بات ہے، لوگوں کو مخالفت کرنے دو، اپنی طرف سے تو یہ مخالفت کر رہے ہیں مگر حقیقت میں ناچاہتے ہوئے بھی یہ لوگ اردو بلاگستان اور کانفرنس کی تشہیر کر رہے ہیں۔ میں تو حیران ہوں کہ جب سے انہوں نے مجھے گالیاں دینی شروع کی ہیں تب سے میرے بلاگ کی ٹریفک دگنی ہو گئی ہے۔ اشفاق احمد صاحب کے ڈرامے ”من چلے کا سودا“ کے کردار لبھے خاکروب کا ڈائیلاگ ”لبھے کو اور کیا چاہئے، موجاں ای موجاں“۔

بہر حال اردو بلاگستان کی ترقی، اسے طاقت ور بنانے اور مضبوط کرنے کے لئے پہلی دو روزہ بین الاقوامی اردو بلاگرز کانفرنس 26-27 جنوری 2013ء کو لاہور میں منعقد ہو رہی ہے۔ اردو کی ترقی کے لئے جو جو کانفرنس میں شرکت کر سکتا ہے وہ ضرور کرے۔ کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے رجسٹریشن کی آخری تاریخ پندرہ جنوری ہے۔ اس لئے اگر آپ شرکت کرنا چاہتے ہیں تو فوراً رجسٹریشن کروائیں۔ یہ دو روزہ کانفرنس ہے اس لئے ضلع لاہور سے باہر سے آنے والے ”اردو بلاگر“ کے قیام و طعام کی ذمہ داری اردو بلاگ فورم پر ہو گی۔ مزید تفصیل اردو بلاگ فورم کی ویب سائیٹ پر دیکھیں۔