راما جھیل کا خوبصورت راستہ

راما جھیل کا خوبصورت راستہ

گذشتہ سے پیوستہ

ہم دن کے گیارہ بجے ٹریکنگ کے لئے تیار ہو چکے تھے اور عباس کے سوا کسی کے ہاتھ میں کوئی سامان نہیں تھا۔ دراصل ہم نے راما جھیل تک پہنچنا تھا۔ اس کی زیارت کرنی تھی اور شام ہونے سے پہلے واپس راما کے میدانوں میں آ جانا تھا۔ عباس کے پاس جو سامان تھا اس میں ایک دوربین اور چادر تھی۔ اللہ کا نام لے کر ٹریکنگ شروع ہوئی۔ راما کا تھوڑا سا جنگل عبور کیا تو آگے ایک اور میدان آ گیا۔ میدان کے آگے ایک بڑا سا نالہ تھا، نالے پر پہلے ایک پُل تھا، جس سے گاڑی گزر سکتی تھی مگر اب وہ پُل حیات نہیں بلکہ اس کی جگہ کم چوڑائی والا لکڑی کا پل تھا۔ اس پل پر کھڑے ہو کر بلندی کی طرف جہاں سے پانی آ رہا تھا، ایک زبردست نظارہ تھا۔ نالے کے رقبے کی چوڑائی کافی زیادہ تھی مگر پانی درمیان میں ہی تھا۔ اس نالے میں زیادہ تر چھوٹے چھوٹے پتھر تھے۔ دونوں اطراف سرسبز پہاڑ اور درمیان میں چھوٹے چھوٹے پتھروں سے بھری ہوئی کھائی اور بہتا ہوا پانی نہایت لطف اندوز تھا۔ ابھی یہیں تک ہی پہنچے تو مجھے پیاس محسوس ہوئی۔
اوئے پاگلو! ہم نے ٹریکنگ تو شروع کر دی مگر پانی تو ساتھ لیا ہی نہیں۔
سلیم بولا کچھ نہیں ہوتا، بس تین ساڑھے تین گھنٹے ہی تو پہاڑ چڑھنا ہے اور پھر واپس آ جانا ہے۔
شاواشے۔ تین چار گھنٹے تھوڑے نہیں ہوتے۔ پیاس سے مرنے کے لئے تین چار منٹ ہی کافی ہوتے ہیں۔

راما کا دوسرا میدان

راما کا دوسرا میدان

اتنے میں ایک مقامی لڑکا جو پاس کھڑا تھا بولا کہ پانی کی کوئی ضرورت نہیں، راستے میں کافی چشمے آئیں گے۔ گو کہ میں پھر بھی پانی ساتھ لے جانے کے حق میں تھا مگر پتہ نہیں کیوں سب کے ساتھ چل پڑا یا پھر شاید پہاڑکے اوپر سے آتے ہوئے ”رنگ برنگے“ قافلے کو خالی ہاتھ دیکھ کر ہمت بڑھ گئی کہ جب یہ قافلہ بغیر پانی کے پہاڑ چڑھ سکتا ہے تو پھر میں کیوں نہیں۔ دل نے کہا مرد بن مرد اور ”کھلنڈرے پن“ نے عزت کو للکارا اور میں پاگل، جوش سے چل دیا۔

نالے کا پُل عبور کرنے کے بعد ہم اسی نالے کے کنارے کنارے چلنے لگے۔ یہ کسی زمانے میں جیپ کا ٹریک تھا۔ مگر پُل ٹوٹنے کے بعد یہاں پیدل ہی چلنا پڑتا ہے۔ ہم نالے کے کنارے کنارے چل رہے تھے، اب پتہ نہیں نالے نے ہم سے ضد لگا رکھی تھی یا ہم نے نالے کے ساتھ، وہ کیا ہے کہ جیسے جیسے ہم بلندی پر جاتے تو نالا بھی ہمارے ساتھ ساتھ بلندی پر آ جاتا۔ گو کہ نالے میں پتھر تھے اور پتھروں کے اوپر پانی بہہ رہا تھا، مگر میری تحقیق کہتی ہے کہ ان پتھروں کے نیچے برف ہے کیونکہ یہ نانگا پربت کی وجہ سے بنے ہوئے تقریباً دس کلومیٹر لمبے اور ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر چوڑے ایک بڑے گلیشیئر کی دم ہے اور عموماً ایسے گلیشیئر کی دم پر پتھر ہوتے ہیں۔ خیر اس کی تصدیق تو ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔

میدان کے بعد والا نالہ

میدان کے بعد والا نالہ

سوچا تھا راستے میں کافی رنگ برنگے لوگ ملیں گے اور رونق میلے میں سفر کا پتہ ہی نہیں چلے گا۔ جب سفر شروع کیا تھا تب تو کہیں کہیں کوئی آدم ذات نظر آ جاتا مگر پچھلے ایک گھنٹے سے نہ بندہ، نہ کوئی پری، بس ہم ہی ہم تھے۔ سارا کھلنڈرا پن اتر چکا تھا۔ اب تو بولتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا تھا کہ جو توانائی بولنے پر لگانی ہے وہ چلنے پر لگائیں تو اچھا ہو گا۔ ابھی تک کوئی چشمہ نہیں آیا، شدید پیاس لگ چکی تھی۔ اوپر سے اپنے ساتھ والے جن نما انسانوں کو کہا بھی تھا کہ شارٹ کٹ نہ مارو مگر میری کونسا کوئی سنتا ہے۔ اب یہ عالم تھا کہ ہر دس قدم بعد کوئی تصویر بنانے کے بہانے رک کر سانس لیتا تو کوئی ”بدشکل“ گھاس کو خاص قسم کی جڑی بوٹی کہہ کر تعارف کروانے کے بہانے رک جاتا۔ تینتیس چونتیس سو میٹر کی بلندی پر تھوڑی بہت آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہم پہاڑ بعد میں چڑھتے سانس ہمیں پہلے ”چڑھ“ جاتا۔ بمشکل پندرہ بیس قدم چلتے اور پھر سانس بحال کرنا پڑتا۔

ہم ٹریکنگ کرتے ہوئے

ہم ٹریکنگ کرتے ہوئے

عباس نے کہیں سے ایک ڈنڈے کا بندوبست کر لیا تھا اور اس کے ساتھ دوربین والا لفافہ باندھ کر اس طرح کندھے پر رکھا ہوا تھا کہ ایک جگہ میں نے کہا بابا مداری کب شروع کرنی ہے؟ خیر اس وقت ہماری حالت مداری کے تھکے ہوئے بندر سے زیادہ بری تھی تو عباس نے بس ایک ہنسی سے جواب دیا اور میں نے بھی اسی پر اکتفا کر لیا جبکہ عام حالات میں ایسی بات کرتا تو مداری نہ سہی مگر عباس مداری کی سائنس ضرور سناتا۔ سانس ماحول کا کچھ عادی ہوا تو چڑھائی کی تیزی زیادہ ہو گئی اور اب ٹانگیں جواب دینے لگیں۔ ویسے پہاڑ چڑھتے ہوئے اگر سانس عادی ہو جائے اور ٹانگیں تھکنے لگیں تو پھر میں دماغ کو اِدھر اُدھر مصروف کرنے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ یوں وقتی طور پر تھکاوٹ کا احساس کم ہوتا ہے اور فاصلے سمٹ جاتے ہیں۔ یوں تو میں ساری سوچیں گھر چھوڑ کر سفر پر نکلا تھا مگر اب ان کی ضرورت پڑ گئی تھی۔ لہٰذا فوراً ”چھومنتر“ کر کے انہیں حاضر کر لیا۔ یوں تو پیارے ویسے ہی ہر وقت یاد آتے ہیں مگر اب اپنے پیاروں کے بارے میں خاص طور پر سوچا۔ سوچ یہاں سے نکلی تو کبھی مریخ پر پہنچ جاتی تو کبھی واپس پاکستان پر آ جاتی اور جس سوچ کو میں حاضر نہیں کرنا چاہتا تھا مگر وہی سوچ سب سے زیادہ دیر دماغ میں رہی یعنی کہ انٹرنیٹ اور اپنا اردو بلاگستان۔ سوچ بلاگستان تک کیا گئی، پھر خوبصورت وادی راما نے کروٹ لی اور پہاڑوں پر پریوں کی جگہ ڈفریاں ناچتی نظر آنے لگیں۔ جھرنوں نے اپنے حالِ دل سنائے تو ”خود کلامی“ کرتے ہوئے خیال آیا کہ پھر میں کیا ہوں۔ درخت ”خاموش تماشائی“ بنے ہوئے تھے تو سوچ راجہ کی آپ بیتی پڑھنے اٹلی پہنچی، تو ساتھ ہی عام بندے کا حال دل سننے خوامخواہ جاپان چلی گئی۔ سوچ نے میرے خوابوں کو چھینا اور میں اس کی ”بے حسی پر مشتعل“ ہونے ہی لگا تھا کہ چڑھتے سورج کی سرزمین سےایسے پتھر برسے کہ دن میں تارے نظر آ گئے۔ تاروں سے یاد آیا کہ آسمان سے ٹوٹا ہوا ایک تارہ واقعی دن دیہاڑے نظر آیا تھا مگر میں نے کسی سے نہ کہا۔ مجھے لگا شاید میں سر جھکائے سوچ رہا تھا تو اچانک اوپر دیکھنے کی وجہ سے وہم ہوا ہے۔ تھوڑی دیر بعد سلیم نے مذاق سے کہا کہ یار یا تو بلندی کا اثر ہے یا پھر تھکاوٹ ہو گئی ہے وہ کیا ہے کہ مجھے دن میں تارے نظر آ رہے ہیں۔ اتنے میں میں بول پڑا یار مجھے بھی نظر آیا ہے، ادھر سے عباس نے بھی گواہی دی ہاں مجھے بھی نظر آیا ہے۔ گویا وہ میرا وہم نہیں تھا بلکہ واقعی ایک شہابیہ تھا۔ آسمان اتنا نیلا اور فضا اتنی صاف تھی کہ سورج کی روشنی میں بھی شہابیہ واضح نظر آیا۔

راما جھیل سے تھوڑا پہلے خوبصورت گلیشیئر

راما جھیل سے تھوڑا پہلے خوبصورت گلیشیئر

کچھ دوست آگے نکل چکے تھے، میں بھی چل پڑا جبکہ سلیم اور عباس سانس لینے رک گئے۔ اب کی بار میں اکیلا تھا تو سوچ جب بلاگستان میں داخل ہوئی تو اس کا دائرہ فکر مزید بڑھ چکا تھا۔ راستے میں کوئی پانچواں درویش نہیں ملا، البتہ کئی چھوٹے چھوٹے گلیشیئر آ رہے تھے مگر یہ سب کے سب بلاعنوان تھے۔ کھائیوں میں جفاکش پرندے اڑ رہے تھے اور یقینا ان کے پر بھی تھے مگر ان کی اڑان کسی شوخی تحریر جیسی نہیں تھی۔ مجھے بہت پیاس لگ رہی تھی، دماغ کام نہیں کر رہا تھا اور اس حالت میں، میں سوچ رہا تھا کہ يوں نہ تھا ميں نے فقط چاہا تھا يوں ہو جائے یعنی دماغ کا دہی بن چکا تھا۔ اللہ اللہ کر کے ایک چشمہ آیا تو میں نے صلہ عمر پایا۔ پانی پینے کے بعد مجھے ہوش آیا تو عقل ٹھکانے آئی کہ بے صبریاں نہ کر اور حقیقت کو پہچان، ابھی راما جھیل دور ہے اس لئے حوصلے سے چل، گویا میں نے دماغ میں اک نیا دیا جلائے رکھنے کا عہد کیا۔ مگر فکر تھی کہ شب کے حجاب اوڑھنے سے پہلے واپس راما کے میدان میں پہنچنا ہے۔ خیر میں تیزی سے پہاڑ چڑھنے لگا اور خدا کا شکر ادا کرنے لگا کہ ہم سب دوست اللہ کے فضل سے تندرست ہیں، چچا تارڑ کی طرح ہمارے ساتھ کوئی ذیابیطس کا مریض نہیں، ورنہ سفر سے پہلے اسے ذیابیطس کے متعلق سب کچھ پڑھا کر لاتے۔ پہاڑ پر بل کھاتا ٹریک جیسے ہی بل کھاتا تو ہر ”بل“ کے بعد ایک نیا دریچہ کھلتا۔ وادی کا نظارہ کیا تو معلوم ہوا کہ میرا پاکستان تو بہت ہی خوبصورت ہے۔ آخر کار آوازِ دوست کی صورت میں ایک خاموش آواز آئی کہ تو کن بے طقی باتوں اور بے طقے کاموں میں پڑا ہے۔ ابھی سیروتفریح کر اور واپس جا کر بے شک بلاگروں کا جریدہ چھاپ دینا۔ خیر اس آواز کے آتے ہی میں نے تمام سوچوں اور خیالات کو دماغ سے نکال دیا۔ افف ف ف ف یہ اردو بلاگستان کہاں سے میرے دماغ میں گھس گیا تھا؟ ویسے آپس کی بات ہے کہ یہ بلاگستان والے اتنی آسانی سے نکلنے والے نہیں تھے وہ تو بھلا ہو اس مقامی بندے کا جو اچانک ”جن“ کی طرح کہیں سے نمودار ہو گیا اور میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی صاحب جھیل کتنی دور ہے؟ اس نے کہا کہ بس آپ پہنچ گئے ہو۔ پانچ منٹ کے فاصلے پر ہے۔ یاد رکھو پہاڑی علاقے کے لوگ کسی جگہ پہنچنے کا جتنا وقت بتائیں اس کو تین یا چار سے ضرب دے لو کیونکہ وہ اپنے حساب سے بتاتے ہیں جبکہ ہم میدانی علاقے کے لوگ ان کی نسبت نہایت سست ہوتے ہیں۔ بہر حال میں بقایا وقت کے لئے حساب کتاب کرنے لگا اور بلاگستان میرے دماغ سے نکل گیا۔

راما جھیل

راما جھیل

خیر اردو بلاگستان کو چھوڑ کر میں کسی کی یاد میں کھویا مست ملنگ بنے ہوئے چلتا رہا۔ اتنے میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو زبردست نظارہ تھا۔ نیچے دور کھائی میں راما کا میدان نظر آ رہا تھا۔ ساتھ ہی میں زور سے پکار اٹھا، اوہ بھائی صاحب اُدھر ہی رک جاؤ۔ آگے گہرائی ہے اور اس میں یخ ٹھنڈا پانی ہے۔ میں چیخ چیخ کر ان دونوں نوجوانوں کو بتا رہا تھا مگر اُن پر کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا تھا یا شاید ان تک میری آواز پہنچ نہیں رہی تھی اور وہ برف پر پھسلتے خوفناک کھائی کی طرف بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ غور کرنے پر ان کے پھسلنے کے انداز سے پتہ چلا کہ دونوں بغیر کسی اوزار کے بس عام بوٹ پہنے برف پر ”سکیٹنگ“ کر رہے تھے۔ عین جہاں گلیشیئر ختم ہوتا تھا اور آگے پانی تھا، بالکل وہیں پر کنارے سے وہ دونوں یہ کہتے ہوئے مڑ گئے کہ بھائی جان ہم مقامی ہیں۔ میں نے جواب میں کہا کہ” واہ کیا بات ہے“۔ میں پھر چل پڑا۔ اب چڑھائی ختم ہو چکی تھی اور میں ایک سیدھے راستے پر چل رہا تھا۔ اب کی بار جب نظر اٹھا کر دیکھا تو راما جھیل کو سامنے پایا۔

اگلا حصہ:- راما جھیل اور تیس مار خاں سیاح – پربت کے دامن میں