کل (20 فروری 2010ء) فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھی۔ مجھے تو بہت اچھی لگی۔ عاطف سعید صاحب نے کیا خوب کام کیا ہے۔ پاکستان کی پکار ہے جو اپنے جوانوں کو پکار رہا ہے۔ فریاد کر رہا ہے کہ ”اے میرے نوجواں کچھ تو محسوس کر“۔ ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش کریں۔

” میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر۔۔۔میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر“

میری تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ جو بھی میری تحریر پڑھیں اگر ان کے پاس وقت ہو تو بے شک یہاں کمنٹس کرنے کی بجائے اس ویڈیو کو دیکھیں اور صرف چند لمحات کے لئے پاکستان کی پکار کے صرف اس فقرے ” میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر“ پر غور کریں۔

اے میرے نوجواں تو میری بات سن
کچھ تو محسوس کر
تیرے چاروں ہے جو پھیلا ہوا
اس کو محسوس کر
سب مجھے نوچ کر کھا رہے ہیں یہاں
بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے
ان کو معلوم ہے، جانتے ہیں وہ سب
کتنی لاشیں گریں، کتنے بازوں کٹے
کتنی ماؤں کے بیٹے جدا ہو گئے
کتنی بہنوں کے آنچل جلائے گئے
کتنے بچے یتیمی کو اوڑھے ہوئے میری جانب بڑھے
میں اک خواب تھا
ایسے گھر کا جہاں ہر کوئی رہ سکے ایک پرچم تلے
نہ کوئی خوف ہو اور نہ ڈر کوئی
غیر کے سامنے نہ جھکے سر کوئی
میں اک خواب تھا جس کو قائد نے تعبیر تو کر دیا
میرے بچے مگر اس کی تعبیر کے حرف و معانی سمجھنے سے قاصر رہے
خون اپنوں کا خود ہی بہاتے رہے
اپنے لاشوں کو خود ہی اٹھاتے رہے
لا الہ زباں سے تو کہتے رہے
اس کے معانی سے آنکھیں چراتے رہے
متحد نہ ہوئے منتشر ہو گئے
اور ایمان کو بیچ کر سو گئے
نظم و تنظیم کی خوبیاں بھول کر
میرے بچوں کی قربانیاں بھول کر
اپنی دنیا میں گم اس طرح ہو گئے
جوش جذبے سبھی ولولے کھو گئے
بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے
جانتا ہوں کہ سب لوگ ایسے نہیں
میری آغوش میں ایسے بچے بھی ہیں
میری چاہت سے دل جن کے لبریز ہیں
جن کی آنکھوں میں خوابوں کی تعبیر ہے
جو سمجھتے ہیں قائد کے فرمان کو
جانتے ہیں جو اقبال نے کہہ دیا
ان کے دم سے ہی زندہ ہوں میں آج تک
یہ میرا نام ہیں میری پہچان ہیں
اے میرے نوجواں تو میری بات سن
کل جو گزرا ہے تو بھی اسے دیکھے
کس میں تیری بقاء ہے اسے جان لے
آنے والا جو کل ہے تیرے دم سے ہے
ایسا بچہ نہ بن جو مجھے نوچ کر پیٹ بھرتا رہے
کام کی عظمتوں کو سمجھ نوجواں
میری مٹی میں سونا ہے تیرے لئے
اپنے قائد کے خوابوں کو تعبیر کر
اپنے اندر کے دشمن کو خود مار دے
میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر
آنے والا جو کل ہے تیرے دم سے ہے
اے میرے نوجواں سن میری بات سن
میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر
میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر
اے میرے نوجواں تو میری بات سن