فروری 16, 2022 - ایم بلال ایم
تبصرہ کریں

سندھو رانی – انڈس کوئین – مولانا عبیداللہ سندھی

گزشتہ سے پیوستہ
پنجابی جٹوں کا لڑکا سردار بوٹا سنگھ، جو ایک کتاب پڑھ کر اسلام سے متاثر ہوا اور پھر مسلمان ہو کر کتاب کے مصنف کے نام پر اپنا نام ”عبید اللہ“ رکھا۔ اپنے ایک سندھی استاد سے محبت کی وجہ سے نام کے ساتھ سندھی لگایا۔ یوں عبید اللہ سندھی کہلایا۔ اک دنیا گھومنے والے تحریک آزادی ہند کے کارکن اور کئی کتابوں کے مصنف مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا مرقد دین پور میں ہے۔ ناشتے کے بعد ہم ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے گئے۔۔۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم دین پور پہنچے کیونکر۔ اس کے جواب کے لئے کہانی کو تھوڑا سا بیک گیئر لگانا پڑے گا۔

ہوا کچھ یوں کہ پچھلے ایک ہفتے سے چل سو چل اور نیند پوری نہ ہوئی۔ کچھ طبیعت ناساز اور کچھ دو دن سے مسلسل سفر و سیاحت اور خاص طور پر پچھلے ساٹھ گھنٹے سے مسلسل جاگ رہا تھا۔ یوں جسم کے ساتھ ساتھ دماغ بھی کام کرنا چھوڑ رہا تھا۔ اور جب ڈاکٹر عظیم شاہ بخاری صاحب کے مہمان خانے میں آرام دہ بستر نصیب ہوا تو سوچا کہ آج جم کر سوئیں گے۔ مگر یہ نہ تھی ہماری قسمت۔ ابھی کوئی چار گھنٹے ہی نیند ہوئی تھی کہ اگلوں نے صبح چھ بجے جگا دیا۔ اس بات پر رانا عثمان یقیناً حیران ہو گا کہ میں چپ چاپ اٹھ بیٹھا اور کسی کو کچھ نہ کہا۔ دورانِ سفر مسلسل جتنا جاگ لوں تو جاگ لوں مگر جب سوتا ہوں تو نیند پوری کیے بغیر اٹھنا؟ نہ جی نہ۔ رانا صاحب سے پوچھیئے کہ میں اس معاملے میں کیسا ہوں اور اگر کوئی مجھے اٹھائے تو اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔۔۔ خیر اٹھ کر ابھی ٹھیک طرح ہاتھ منہ بھی نہ دھویا تھا کہ کارواں خانپور سے دین پور کی اور چل دیا۔ جہاں عظیم شاہ جی کے والد محترم کے جگری دوست میاں سلیم دین پوری صاحب نے نہایت پُرتکلف ناشتے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اور ہم نے ناشتے کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا۔ اور پھر وہی کہ مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی قبر پر فاتحہ خوانی کو گئے۔

اس کے بعد گاڑی نے سندھو ندی کے اُس پار اترنے کے لئے دوڑیں لگا دیں۔ اور جو اُس پار ضلع راجن پور میں اُترے تو پہلے پہنچے ”سندھو رانی“ کے پہلو میں۔ ذرا غور کریں کیسا پیارا نام ہے ”انڈس کوئین“۔۔۔ کئی سال پہلے انٹرنیٹ پر اس کی تصویر دیکھی اور کہانی پڑھی تو یہ رانی دل میں بس گئی۔ تب بڑی مشکل سے گوگل ارتھ پر اسے تلاش کر کے مارک کر لیا۔ وقت گزرتا رہا، مگر جا نہ سکے۔ آخر وقت آیا تو اس روز کہ جب طبیعت ناساز اور ساتھ میں کافی لوگ۔ پہنچتے ہی سب نے رانی پر ہلہ بول دیا۔ یہ جا، وہ جا، جا جا، سیلفیاں بنا اور واپس لوٹ جا۔ سچ پوچھیں تو بڑے بوجھل دل سے چند تصویریں بنائیں اور پرندو نے ہلکی سی اڑان بھری۔ اور پھر چپ چاپ گاڑی میں آ بیٹھا، مگر اس نیت کے ساتھ کہ ان شاء اللہ میں پھر آؤں گا اور اے رانی! تمہیں تسلی سے ملوں گا۔

انڈس کوئین دراصل ایک بڑی کشتی نما چھوٹا بحری جہاز ہے۔ یہ 1867ء میں بنایا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ جہاز نواب آف بہاولپور کی ملکیت تھا اور انہوں نے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کو تحفے میں دیا۔ تاکہ ان کے مریدین آسانی سے ٹھاٹھیں مارتے دریائے سندھ کو عبور کر سکیں اور خود خواجہ صاحب کو بھی جب چلہ کشی یا دیگر سفر کے لئے روہی چولستان جانا پڑے تو سفر آسان ہو جائے۔۔۔ البتہ بعض محققین کے مطابق نواب آف بہاولپور کے اس جہاز کا نام پہلے ”ستلج کوئین“ ہوتا تھا۔ ریاست بہاولپور پاکستان میں ضم ہوئی تو نواب صاحب نے یہ جہاز حکومتِ پاکستان کو دے دیا۔ سندھ طاس معاہدہ ہوا، دریائے ستلج سوکھا تو یہ دریائے سندھ کے پانیوں پر تیرنے لگا اور نام ہوا ”انڈس کوئین“۔ چاچڑاں اور کوٹ مٹھن کے درمیان اک عرصے تک تیرتا رہا مگر پھر 1996ء میں اس نے اپنا آخری سفر کیا اور عدم توجہ کی بنا پر کوٹ مٹھن میں دریا کنارے ہمیشہ کے لئے لنگر انداز کر دیا گیا۔ پُل بنے، بند بنے، رکاوٹیں بڑھیں، سیلاب آئے، دریائے سندھ نے راستہ بدلا اور جہاز کے ارد گرد ماحول خشک ہو گیا۔ ذرہ سوچیں کہ وہ جو سوا سو سال تک پانیوں پر اک شان سے تیرتا رہا، مگر پھر خشکی میں دھنس گیا۔ اپنی بے بسی اور لاچاری پر سندھو رانی یقیناً خون کے آنسو روتی ہو گی۔
اگلا حصہ : فرید کی نگری – کوٹ مٹھن

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *