بسم اللہ الرحمن الرحیم

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک دوست کا ایس ایم ایس موصول ہوا۔ ”کیا بات ہے کدھر غائب ہو، کوئی رابطہ ہی نہیں؟ بندہ کبھی کوئی ایس ایم ایس ہی کر دیتا ہے۔“
میں نے جواب دیا ”واقعی یار میں کچھ غائب غائب ہوں۔ کافی دوست شکایت کرتے ہیں۔ لگتا ہے میں غلطی پر ہوں۔ خیر میں کوشش کر رہا ہوں کہ دوستوں سے رابطے میں رہا کروں۔“
آگے سے جواب آیا ”آپ جذباتی نہ ہوں، میں نے تو بس ایسے ہی بات کر دی ہے۔“

زید نے کہا ”یار ملک کا نظام بہت بگڑ گیا ہے کسی کو تو آگے بڑھنا چاہئے۔ کسی کو تو احساس کرنا ہو گا۔“
بکر بولا ”یہ سب جذباتی باتیں ہیں۔ جب ٹھیک ہونا ہو گا ہو جائے گا۔“

کہیں بحث ہو رہی تھی۔ ایک کے پاس دلائل ختم ہوئے تو دوسرے کو بڑے آرام سے کہہ دیا کہ ”اب آپ جذباتی ہو رہے ہیں۔“

حد ہے یار۔ کوئی اپنی غلطی کا احساس کرے تو وہ جذباتی۔ کوئی بہتری کا احساس کرے تو وہ جذباتی۔ دلائل ختم ہو جائیں تو دوسرا جذباتی۔ آج کل ہمارے پاس اپنی غلطی تسلیم نہ کرنے، میں نہ مانو پر قائم رہنے اور بحث میں دوسرے کو نیچا دکھاتے ہوئے فرار کا آسان راستہ یہی ہے کہ کہہ دو ”آپ جذباتی ہو رہے ہو“۔ کسی پر اپنی بڑتری جتانی ہو، خود کو عقل کل بنانا ہو، کسی کا تمسخرا اڑانا ہو یا کہیں بھی فلسفی بننا ہو تو دوسرے کو کہہ دو ”آپ جذباتی ہو رہے ہیں“۔ ٹھیک ہے کئی لوگ بحث یا کسی دوسری گفتگو میں اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں کہ موضوع سے ہٹ کر اِدھر اُدھر کی چھوڑنے لگ جاتے ہیں لیکن اگر کوئی بے شک جذبات میں ہی موضوع پر رہتے ہوئے دلائل دے تو پھر آپ کی بحث کا کمال تو تب ہو گا جب آپ اس کی ذات کو نشانہ نہ بناؤ اور اس کے جذبات میں دیئے گئے دلائل کو دلائل سے رد کرو۔ لیکن یہاں یہ ہوتا ہے کہ ایک بندہ دلائل سے بات کرتا ہے۔ جواب میں اِدھر اُدھر کی چھوڑی جاتی ہیں اور پھر آخر پر دلائل والے کو ”جذباتی“ ہونے کا کہہ کر فتح کا جھنڈا لہراتے پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔ اگر کسی کی ساری باتیں واقعی بغیر دلائل کے صرف اور صرف جذباتی ہیں تو تب آپ اس کو ”آپ جذباتی ہو رہے ہیں“ کا کہہ سکتے ہیں لیکن اگر جذبات کے ساتھ ساتھ دلائل بھی ہیں تو پھر جواب میں جذباتی تقاریر کی بجائے دلائل دیں اور اس کی باتوں کو رد کریں۔ ویسے بھی دلائل کا جواب دلائل ہوتا ہے نہ کہ جذباتی تقاریر۔

جس طرح ہمارے معاشرے میں اس جملے (آپ جذباتی ہو رہے ہیں) کا استعمال ہو رہا ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ یہ ایک طعنہ، گالی یا بہت بڑا ہتھیار ہے۔ یہ ایک ایسا طعنہ ہے جو آپ کہیں بھی دے کر اگلے کو آگ لگا سکتے ہو۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو آپ کسی بھی بحث میں استعمال کر کے بحث ختم کرتے ہوئے اپنی فتح کا جشن منا سکتے ہو۔اس ہتھیار کے استعمال کے بہت فوائد ہیں۔ ایک طرف آپ کو فتح ملتی ہے تو دوسری طرف دشمن کو ایسی جلن ہوتی ہے کہ اس کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف یہ آپ کو شعور کی اعلیٰ منازل پر پہنچاتا ہوا ثابت کرتا ہے کہ آپ بہت بڑے فلاسفر ہو جو دشمن کے اندر تک اتر کر اس کے اس جذباتی پہلو کو سمجھ گئے ہو، تو دوسری طرف یہ آپ کے دشمن کو جاہل، جذباتی اور فضول ثابت کرتے ہوئے آپ کی فتح کے جھنڈے گاڑ دیتا ہے۔

آخر یہ جذبات اور جذباتی پن ہے کیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جذبات کی بھی کئی قسمیں اور کئی تعریفیں ہیں؟ ہم نے تو سنا تھا جذباتی ہونا اچھی بات ہے لیکن جذبات میں بہہ جانا ٹھیک نہیں۔ اب اس جذباتی اور پھر بہنے کی تعریف کون کرے گا؟ اس پر حدیں کون لگائے گا؟
میرے خیال میں کسی چیز کا احساس ہو تو جذبات ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ جذبات تک آنا اچھا ہے۔ اس سے تھوڑا آگے ”جنون“ کی سرحد ہے اور آگے بڑھنا شدت ہے۔ شدت کسی کام میں بھی ٹھیک نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ بچوں سے پیار ہونا احساس ہے۔ اس پیار کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کیفیت جذبات ہیں۔ دوسروں کے بچوں کے لئے یہ کم ہوتے ہیں اور اپنوں کے لئے زیادہ۔ انہیں احساس اور جذبات میں اتنا آگے نکل جانا کہ صرف اپنے بچے پیارے لگیں، اپنے بچوں کے پیار کا جنون ہے۔ مزید دوسروں کے بچوں سے نفرت ہو۔ یہ شدت پسندی کا نتیجہ ہے۔

احساس -> جذبات -> جنون -> شدت

کئی معاملات میں جنون تک پہنچنا غلط نہیں ہوتا لیکن یہ ایک ایسے پہاڑ کی چوٹی ہوتی ہے جہاں پر ہر وقت شدت کی اندھیر نگریوں میں گرنے کا خطرہ رہتا ہے۔یہ ایسی وادی ہے جس کی سرحد شدت سے لگتی ہے۔ اِدھر سرحد کے پاس گئے اُدھر شدت نے آپ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس لئے ایسے مقام پر خود کو بہت سنبھال کر رکھنا پڑتا ہے۔

میرے خیال میں ہم جس چیز کے لئے بولتے ہیں، وہ ہمارے احساسات کا نتیجہ ہوتا ہے۔اب اس چیز کے حق یا مخالفت میں بولنا ہمارے جذبات کا اظہار ہے۔ بحث میں ان جذبات کو درست ثابت کرنے کے لئے دلائل بہت ضروری ہوتے ہیں۔لیکن جذبات میں اتنا بہہ جانا کہ کسی کی سنے بغیر اپنے ہی جذبات کو ٹھیک کہنا جنون ہے۔ اور پھر بغیر سوچے سمجھے اور بغیر دلائل کے دوسروں کی باتیں رد کر دینا، شدت ہے اور یہی شدت ہر بحث کو تنقید برائے تنقید اور میں نا مانو تک لے جاتی ہے۔ میرے خیال میں انسان کے ہر کام میں احساسات اور جذبات ضرور ہوتے ہیں۔ جو میانہ روی اختیار کرتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں اور جو شدت اختیار کرتے ہیں بس پھر وہ بہتے چلے جاتے ہیں۔۔۔