Pakistani Foreigner Mangoes

کئی ایک رشتہ دار اور جاننے والے بیرونِ ممالک ہوتے ہیں۔ سبھی میں تو نہیں لیکن بہتوں میں باقی کئی پردیسیوں کی طرح یہ عادت بدرجہ اتم موجود ہے کہ پاکستان کی ہر چیز پر تنقید کرتے ہیں۔ مثلاً پاکستان میں کچھ بھی کام کا نہیں۔ گندگی ہے، لوگ سستی کے مارے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ تو ہم زرِمبادلہ بھیجتے ہیں، اس سے تھوڑا بہت ملک چل جاتا ہے، ورنہ پاکستانی کسی کام کے نہیں۔ ”ہمارے“ ادھر یورپ میں ایسا ہوتا ہے۔ یہ ہوتا ہے، وہ ہوتا ہے۔ بچپن میں تو ایسی باتوں پر ”جی ٹھیک، جی ٹھیک“ کر دیا کرتا، مگر جب کچھ سمجھ آنی شروع ہوئی تو آگے سے جواب دیتا کہ ٹھیک ہے پاکستان کی حالت اچھی نہیں، لیکن اس کا مطلب یہ بھی تو نہیں کہ آپ لوگ ہمیں ہر بات پر زچ کریں اور ہمیں احساسِ کمتری میں مبتلا کریں۔ اوپر سے راہ چلتے زرِمبادلہ اور دیگر چیزوں کا احسان جتائیں۔ اگر ہمارا وطن ایسا ہے تو اس میں آپ لوگ بھی برابر کے شریک ہیں۔ اس لئے صرف ہمیں ذمہ دار نہ ٹھہرائیں۔

سبھی تارکین وطن ایسے نہیں، بس ایک خاص سوچ کے حامل پردیسیوں کو یہ ”بیماری“ لگی ہوئی ہے۔ ایسے پردیسیوں کو میں ”مینگوز“ کہتا ہوں۔ وہ کیا ہے کہ ہمارے مزیدار آموں کی طرح یہ بھی ایکسپورٹ ہو گئے۔ ان کا اصل حصہ (توانائیاں) تو دیگر ممالک کھا گئے یا کھا رہے ہیں۔ اصل سواد تو بیگانے لے گئے۔ ہمارے لئے پیچھے بس گھٹلیاں بچی ہیں، جو وقتاً فوقتاً ہمارے سروں پر برستی ہیں۔ خیر ایک دن ایسے ہی چند مینگوز بڑی باتیں کررہے تھے۔ پہلے چپ چاپ سنتا رہا، پھر تنگ آ کر دو چار جواب کیا دیئے، مینگوز تو غصہ ہی کر گئے۔ مکالمہ ملاحظہ کیجئے۔
مینگوز:- یہ جو پاکستانی سیاست دان ہیں، یہ فتنہ ہیں اور یہ بیرونی (امریکی و یورپی) سازش وغیرہ کا حصہ ہیں۔ اوپر سے پاکستان میں رہنے والے جاہل ہیں۔
میں:- جی جی پاکستان میں رہنے والے جاہل ہی ہیں کیونکہ سارے سیانے باہر جو چلے گئے۔
ویسے جب مینگوز نے پاکستان میں رہنے والوں کو جاہل کہا، تو ایک حساب سے میرا ”میٹر“ گھوم گیا۔ ٹھیک ہے ہمارے حالات اچھے نہیں بلکہ بہت برے سہی، مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ خود باہر بیٹھ کر سکون کی زندگی گزاریں اور جب چاہیں ہماری توہین کرتے پھریں۔ اگر یہ مینگوز اتنے ہی سیانے ہیں تو خود پاکستان آ کر ملک کو ٹھیک کر لیں۔ خیر میں نے مینگوز کو کہا کہ سازشوں اور دیگر باتوں کی وضاحت کرو۔

مینگوز:- فلاں لیڈر نے فلاں حرکت کیوں کی۔ عوام فلاں لیڈر کے پیچھے کیوں لگی ہے؟ عوام نے یہ کیوں کیا؟ وہ کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ ویسا کیوں ہوا؟ وغیرہ وغیرہ۔
میں:- اس بے جوڑ منطق کو چھوڑیں۔ چلیں یہ بتائیں کہ کیا آپ بیرون ملک اور پاکستان میں ٹیکس دیتے ہیں؟

مینگوز:- بیرون ملک تو دیتے ہیں مگر چونکہ ہم پاکستان میں رہتے ہی نہیں، اس لئے ادھر ٹیکس دینے کا کوئی جواز ہی نہیں۔
میں:- جی ٹھیک، بہت خوب کہا۔ جب آپ پاکستان میں مستقل رہتے ہی نہیں تو پھر آپ کو صحیح معنوں میں اندازہ ہی نہیں کہ ہم ”ایسا ویسا“ کیوں کرتے ہیں؟ آپ بس اپنے بچپن، پھر کبھی کبھار چند دن پاکستان میں گزارنے اور چند ایک سنی سنائی باتوں کو بنیاد بناتے ہیں جبکہ آپ کو زمینی حقائق ٹھیک طرح معلوم ہی نہیں۔ آپ کی غیر موجودگی میں بہت سارا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔ آپ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو سرے سے جانتے ہی نہیں جنہوں نے بعد میں بڑے مسائل کو جنم دیا۔ ایک لمبے عرصے سے ”مسلسل“ یہاں رہنے والوں کی تکلیفوں اور مسائل، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے رویے کو آپ ٹھیک طرح محسوس کر ہی نہیں سکتے۔ لہٰذا ہمیں جاہل کہنے یعنی ہم پر رائے دینے کا آپ کو کوئی حق نہیں۔ دوسرا جن ملکوں کی سازشوں کا کہتے ہو، الٹا خود انہیں ہی ٹیکس دیتے ہو۔ انہیں ملکوں میں رہ کر اور کام کر کے ان کی معیشت کا حصہ بنے ہوئے ہو۔ امید ہے سمجھ گئے ہوں گے کہ اگر واقعی دوسرے ممالک سازشیں کر رہے ہیں تو بالواسطہ آپ بھی انہیں سازشوں کا حصہ ہیں۔ اس لئے برائے مہربانی ہمیں سازشوں پر لمبے لمبے لیکچر نہ دیں۔

مینگوز:- ہم بہت بڑا زرِ مبادلہ اپنے ملک بھیجتے ہیں، جبکہ تم لوگوں نے ملک کے لئے کیا کیا؟ اوپر سے تم ہماری حب الوطنی پر شک کر رہے ہو۔
میں:- بزرگو! ہمیں آپ کی حب الوطنی پر ذرا بھی شک نہیں۔ ویسے بھی آپ کی حب الوطنی کا یہی ثبوت کافی ہے کہ پیدا پاکستان میں ہوئے، جوانی کی ساری توانائیاں باہر کے ملکوں کی ترقی میں لگائیں اور لاش پاکستان میں دفنائی۔ ویسے بھی اب یہ ملک لاشیں دفن کرنے کے لئے ہی تو رہ گیا ہے۔ خیر باتیں تلخ تو ہیں لیکن حقیقت ہیں۔ گستاخی معاف کرو تو عرض ہے کہ دراصل آپ اپنے ملک کی بجائے اپنی روزی روٹی کے لئے باہر گئے تھے۔ آپ ملک کی بجائے اپنے رشتہ داروں کو پیسا بھیجتے ہیں۔ اب وہ پیسا ملک کو بھی فائدہ دیتا ہے تو آپ ایک تیر سے دو شکار کر لیتے ہیں۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر وہ دن یاد کریں، جب آپ باہر گئے تھے۔ پھر آپ کو اندازہ ہو گا کہ جاتے ہوئے آپ کی نیت ملک کو فائدہ پہنچانے کی نہیں تھی، بلکہ آپ صرف اور صرف اپنے فائدے کے لئے باہر گئے تھے اور اب آپ مفت میں ہم پر احسان جتا رہے ہیں۔ اپنے لئے کمایا گیا پیسا، جسے آپ زرِمبادلہ کہتے ہیں، اگر اس سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے تو یہ کوئی انوکھا کام نہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اس ملک میں رہ کر ایک کسان، ایک مزدور، خلوص نیت کے ساتھ کام کرنے والا ہر ہر بندہ اِدھر رہ کر بھی ملک کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ جناب غور تو کریں کہ ایک کسان اناج اگاتا ہے، خود کھاتا ہے، آپ کے گھر والوں کو کھلاتا ہے اور پھر جب وہی اناج دوسرے ممالک میں برآمد ہوتا ہے تو کتنا زرِمبادلہ آتا ہے؟ آپ تو اپنی جوانی دوسرے ممالک کی ترقی پر نچاور کر کے پیسے بھیجتے ہیں جبکہ وہ کسان بیچارہ تو اپنی ساری توانائیاں اپنے ہی ملک پر لگاتا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ وہ بھی زرِمبادلہ کماتا ہے۔ مجھ جیسے کئی لوگوں کو ہی دیکھ لیں۔ ہم پاکستان میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں اور ہماری وجہ سے اچھا بھلا زرِمبادلہ پاکستان آتا ہے۔ برائے مہربانی ہم پر اپنے اس زرِمبادلہ کا رعب نہ ڈالیں۔ آپ کوئی انوکھا کام نہیں کر رہے۔

مینگوز:- تو تمہارا کیا مطلب ہے کہ بندہ روزی روٹی کے لئے بیرونِ ملک نہ جائے؟ کیا یہیں بیٹھا رہے؟
میں:- یقین کرو، ہمیں آپ کے باہر جانے پر اعتراض نہیں، اعتراض تو بس آپ کی بے جوڑ منطق اور ہمیں کمتر سمجھنے پر ہے۔ بزرگو! میرا ماننا تو یہ ہے کہ جس کا وطن میں کچھ نہ بنے وہ بے شک باہر جائے، بلکہ ضرور جائے۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پاکستان کی ساری ذہانت ہی باہر کے ملکوں میں بھیج دو۔ کیا آپ جانتے ہو کہ باہر کی کمائی سے آپ نے جو ”چن چڑھائے“ ہیں، اس سے معاشرے پر کیا اثرات پڑے ہیں؟ ڈالروں کی ریل پھیل اور یورو کی چمک جو آپ نے معاشرے کو دیکھا کر بے چینی اور احساس کمتری پیدا کی ہے، کیا آپ جانتے ہیں کہ اس دوڑ میں شامل ہونے کے انتظار میں کتنے نوجوان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں، کتنے نوجوان غیرقانونی بیرونِ ممالک جاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کتنے آج بھی جیلوں میں قید ہیں؟ آپ ہمارے اپنے ہو لیکن اگر آپ نے یونہی ہمارے خلاف محاذ کھولے رکھا تو وہ وقت دور نہیں جب آپ کے اپنے ہی سختی سے پیش آئیں گے۔

مینگوز:- تم بڑی باتیں کرتے ہو۔ یہ معاشرہ ہماری وجہ سے نہیں بلکہ تم لوگوں کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ ہم پاکستان رہ کر کرتے بھی تو کیا کرتے؟ اِدھر کوئی مستقبل نہیں۔
میں:- اِدھر کوئی مستقبل اس لئے نہیں کہ ہم نے اس کی کوشش ہی نہیں کی۔ آپ جیسے ذہین لوگ جو کچھ اچھا کر سکتے تھے وہ باہر جا بیٹھے، پھر پیچھے سے ہم سے جیسا تیسا ہو رہا ہے، وہ کر رہے ہیں۔ آپ کا باہر جانا کچھ ایسا ہی ہے، جیسے ہمارے معیاری اچھے آم باہر چلے جاتے ہیں اور خود ہم بچا کچا کھاتے ہیں۔ اب بچے کھچے سے ایسے ہی ملک چلتا ہے۔ رہی بات ادھر رہ کر کیا کرتے؟ تو جناب عرض ہے کہ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ آپ امریکہ و یورپ وغیرہ کے بیت الخلاء صاف کرنے کو تیار ہیں جبکہ پاکستان میں آپ وزیرِاعظم سے کم بننے کو تیار نہیں۔ باقی کوئی بھی معاشرہ شروع سے درست نہیں ہوتا، بلکہ خود ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔ بے شک معاشرے کے خراب ہونے میں کئی عوامل ہیں مگر ان عوامل میں چاہے تھوڑا سہی مگر آپ کا حصہ بھی ہے۔ آپ اسے فراموش نہیں کر سکتے۔ آپ نے باہر جا کر ایک لمبے عرصے تک اپنی ماں سے اس کا بیٹا چھین لیا۔ اپنے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ دور کر دیا۔ ایک بیوی کو اپنے شوہر سے جدا کر دیا۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان سب کے معاشرے پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟ آپ نے صرف پیسے اور اپنی ذات کے سکون کے لئے کئی رشتوں کا حسن تباہ کر کے معاشرے کو کئی مسائل دیئے ہیں۔ معاشرہ تو دور شاید آپ کو معلوم ہی نہیں کہ آپ نے اپنے قریبی رشتوں کو اذیتیں دی ہیں۔ میں کیا کہنا چاہتا ہوں، امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔

مینگوز:- تم بدتمیزی کرتے ہوئے حدیں پار کر رہے ہو۔
میں:- اگر آپ نے ایسے ہی بات چیت کرنی ہے تو پھر ایسے ہی سہی۔ جناب میں کہاں حدیں پار کر رہا ہوں بلکہ دنیا کی سرحدیں تو غیر قانونی آپ لوگوں نے پار کیں اور بدنام سارے پاکستان کو کروایا۔ بیرونی ممالک کے قانون کو دھوکہ دیتے ہوئے سیاسی پناہ اور دیگر کئی معاملات کے لئے جھوٹ آپ نے بولے۔ ناجانے کون کون سے ہتھکنڈے اپنا کر باہر کی ”نشنیلٹی“ اور نوکریاں حاصل کیں۔ ویسے سوچو! کیا وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے قانون توڑنے والے اب ہمیں قانون پر لیکچر دے رہے ہیں۔ بہرحال بزرگو! اگر ہم جاہل ہیں اور ہمارے ملک میں سازشیں ہو رہی ہیں تو سازشیں آپ بھی کم نہیں رچاتے۔ آخری بات کہوں گا کہ خود جن ملکوں میں بیٹھ کر سکون کی زندگی گزارتے ہو۔ ہمیں انہیں ملکوں کی سازشوں سے ڈراتے ہو۔ ہمیں بدتمیز کہنے والو! چار دن ہمارے ساتھ رہو، ساری اخلاقیات باہر نکل جائیں گی۔ جب گھر میں بجلی، پانی اور گیس نہیں ہو گی تو پیاس، بھوک اور پسینے سے عقل کے سارے پردے اتر جائیں گے اور نیچے سے ”جاہلیت“ چنگاڑتی ہوئی نکلے گی۔ حالات کی وجہ سے جب آپ بھی ہمارے جیسی حرکتیں کرو گے تو پھر میں پوچھوں گا کہ بتاؤ کون جاہل ہے اور کون نہیں؟ یہ جو آپ لوگ کرتے ہو، یہ سب پیٹ بھرے کی باتیں ہیں۔ خیر بزرگو! آج میں فارم میں ہوں۔ مزید نہ چھیڑو اور یہ بات ادھر ہی ختم کرتے ہیں ورنہ کہیں میں واقعی گستاخی نہ کر جاؤں۔

مینگوز:- تم جیسے آج کل کے لونڈوں میں ذرا بھی عقل نہیں اور باتیں بڑی بڑی کرتے ہیں۔
میں:- ارے پردیسی بابو! ہمیں اتنی سناتے ہو مگر ہماری باتیں برداشت نہیں کرتے۔ کہا جو ہے کہ آپ ہمارے اپنے ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تارکِ وطن ہونا آسان نہیں۔ ہم آپ کے دکھ میں شریک ہیں۔ جب آپ ہم سے پیار کرو گے تو ہم آپ کو سر آنکھوں پر بیٹھا کر رکھیں گے لیکن اگر ہم پر زرِمبادلہ کا رعب جمائیں گے، ہمیں کمتر جانیں گے اور ہمیں احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر ہم بھی سختی سے ہی پیش آئیں گے۔ اللہ والو! آپ تو ہمارے میٹھے آم تھے، جس کا سواد دوسرے ممالک لے گئے۔۔۔

شاعر حکیم ناصر سے بہت ہی معذرت کے ساتھ
گھٹلیو! آج ہمارے سر پر برستی کیوں ہو
ہم نے تم کو بھی کبھی اپنا ”مینگو“ رکھا ہے