بسم اللہ الرحمن الرحیم
سب سے پہلے عرض ہے کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنا آسان ہی نہیں بلکہ نہایت ہی آسان ہے۔
جب مجھے میرے دوست غلام عباس سے یونیکوڈ اردو کا پتہ چلا تو اس کے بعد میری کوشش ہوتی کہ میں ہر کسی کو بتاؤں کہ اردو لکھنے کا یہ انداز کتنا اچھا ہے اور ہمیں آنے والے وقتوں میں کتنا فائدہ دے گا۔ تب ایک فولڈر تیار کیا جس میں اردو ایکٹیو کرنے کی بنیادی معلومات ایک Read me قسم کی فائل میں لکھی، ساتھ میں اردو کے ایک دو فانٹس اور اردو کی بورڈ لے آؤٹ رکھا۔ جس کسی کو ضرورت ہوتی اسے وہ فولڈر بھیج دیتا۔ سب کچھ ایک فولڈر میں موجود ہوتا لیکن پھر بھی لوگ کہتے کہ کیا اس سے بھی آسان طریقہ نہیں ہو سکتا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی لوگوں کو واقعی مشکلات کا سامنا ہوتا تھا اور ہمیں سیکھانے کے لئے لمبی لمبی چیٹ اور ای میلز لکھنا پڑتی تھیں۔ خیر یہ تو گئے دنوں کی باتیں ہیں۔

کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ اردو ایکٹیو کرنے کا یہ طریقہ واقعی تھوڑا مشکل ہے تو اس کے حل کے لئے کوئی انسٹالر بنانا چاہئے۔ اس کام کو آسان کرتے ہوئے اللہ کے فضل سے ”پاک اردو انسٹالر“ بنا دیا۔ حیرانی تب ہوئی جب ایک ای میل ملی کہ کیا اس سے بھی کوئی آسان طریقہ نہیں؟ میں نے جوابی ای میل میں صرف اتنا لکھا کہ جتنی آسانی آپ کو یہ ای میل کرنے میں ہوئی ہے اس سے کہیں زیادہ آسان اردو ایکٹیو کرنا ہے۔ سلام ہے اردو محفل کی انتظامیہ اور شروع کے بلاگران کو جنہوں نے تب اردو کمپیوٹنگ کی ترویج اور انٹرنیٹ پر اصل اردو (یونیکوڈ اردو) میں لکھنا شروع کیا جب ہر طرف مشکلات ہی مشکلات تھیں۔ جبکہ عام صارف کے لئے اب تو کوئی خاص مشکل باقی نہیں۔

جو تھوڑا بہت لوگوں کو اردو اور خاص طور پر اردو کمپیوٹنگ کا کہتا ہوں تو اس میں بڑے عجیب عجیب تجربات کا سامنا اور باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ سب سے عام بہانہ یہ ہے کہ ”اردو لکھنے کو دل تو بہت کرتا ہے لیکن اردو لکھنا مشکل ہے۔“ اجی ایسی کیا مشکل ہے؟ مشکل یہ ہے کہ پتہ نہیں چلتا کہ کونسا حرف کس Key سے لکھا جائے گا۔ چلیں ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ یہ مشکل ہے یا نہیں۔ اچھا آپ بتائیں کہ آپ کے خیال سے ”الف“ اپنی آواز کے مطابق کس Key پر ہو گا۔ فوراً جواب ملتا ہے جی A سے۔ اسی طرح اکثر کیز کا معاملہ صاف ہو جاتا ہے تو جب معمولی پچیدہ حروف مثلا ”ض“ اور ”ء“ وغیرہ کا ذکر آتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ ”میں نہ کہتا تھا کہ اردو لکھنا مشکل ہے۔“ ایسے حالات میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ جناب کا ”اردو لکھنے کو واقعی بہت دل کرتا ہے۔“

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے لوگ آخر چاہتے کیا ہیں؟ کمپیوٹر مشین کو بنیادی طور پر چلانے سے لے کر میڈیا پلیئر، براؤزر اور دیگر سافٹ ویئر/ٹولز تک سب کچھ استعمال کرنا سیکھنا پڑتا ہے اور ان سب کے استعمال سے کہیں آسان اردو لکھنا ہے لیکن پھر بھی عجیب عجیب بہانے۔۔۔ مانا کہ اردو لکھنے میں کہیں تھوڑی بہت مشکل آ سکتی ہے اور ایسی مشکل تقریباً کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے ہر جگہ آتی ہے لیکن دیگر مشکلات کے حل کے لئے پتہ نہیں کیا کیا جتن کیے جاتے ہیں۔ اینٹی وائرس سے سکین اور تو اور ونڈوز تک نئی انسٹال کرلیتے ہیں لیکن جب اردو کا معاملہ آتا ہے تو اتنا آسان کام بھی انہیں مشکل لگنے لگتا ہے۔ ارے جس طرح باقی سب کچھ سیکھا ہے اسی طرح ایک دو دن میں اردو لکھنا بھی سیکھ جاؤ گے۔ ایک دفعہ قدم تو اٹھاؤ۔ شاید ہم پکی پکائی کھیر کھانا چاہتے ہیں بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کھیر ہمارے منہ میں بھی کوئی اور ڈالے۔ کل کو کہیں گے کہ کھیر کا مزہ ہمیں آئے لیکن اس کو ہضم اور دیگر کام بھی کوئی دوسرا کرے۔۔۔ :rotfl:

میرے خیال میں سارا مسئلہ ہماری ترجیحات کا ہے۔ یوں تو اردو لکھنا بہت ہی آسان ہے لیکن اگر کوئی مشکل ہو بھی تو جس کی ترجیح اردو لکھنا ہو وہ ہاتھ پاؤں مار کر اِدھر اُدھر سے پوچھ کر آخر کار لکھنا سیکھ جاتا ہے اور جس نے نہیں لکھنی وہ اس بندے کی طرح جس نے کہا تھا ”دل تو بہت کرتا ہے“ جیسے بہانے بناتا ہے۔

اردو ہماری قومی زبان ہے اور اردو ہی وہ واحد زبان ہے جو کئی ایک زبانیں بولنے والے پاکستانیوں میں ایک اٹوٹ رشتہ قائم کرتی ہے۔