Hstorical information about geography and cartography

جب سے انسان زمین پر نقل و حرکت کر رہا ہے، تب سے یہ سمتوں، راستوں اور فاصلوں کا تعین، نشاندہی، پیمائش اور زمین کی ساخت پر تحقیق کر رہا ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ روزِاول سے ہی انسان بہتر سے بہتر سمتی و نقشہ جاتی نظام (Navigation System) بنانے میں مصروف ہے۔ زمین، اس کی خصوصیات، مظاہر، نقوش اور اس کے باشندوں کے مطالعہ کو جغرافیہ (Geography) کہا جاتا ہے، جبکہ زمینی نقشے بنانے کے علم و عمل کو نقشہ نگاری یا نقشہ سازی (Cartography) کہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جغرافیہ اور نقشہ سازی (نقشہ نویسی) کے لئے مختلف آلات اور اکائیاں بنائی جاتی رہیں۔ جدید نقشہ سازی کافی حد تک جغرافیہ سے جڑ چکی ہے اور جغرافیہ کے کئی معاملات کی بنیاد نقشہ سازی ہی فراہم کرتی ہیں۔ آج کے انسان کو ہزاروں سال پرانے نقشے بھی ملے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نقشہ سازی کا علم بہت پرانا ہے۔

زمین کے متعلق ایک تحقیق 276 قبل مسیح میں پیدا ہونے والے ایک یونانی ریاضی و جغرافیہ دان ”اراٹوس تھینیس“ (Eratosthenes) نے کی۔ اس نے مختلف طریقوں سے حساب کتاب لگا کر زمین کی پیمائش کے متعلق بتایا اور نقشہ جات کے متعلق چند قوانین بھی بنائے۔ وہ قوانین آج تک استعمال ہو رہے ہیں۔ یقیناً اس کے بعد بھی کام ہوتا رہا۔ پھر عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹے مامون الرشید نے بھی زمین کی پیمائش معلوم کرنے پر کام کروایا۔ بہرحال 1017ء میں مشہور مسلمان سائنسدان البیرونی نے اپنے پچھلوں کی نسبت زیادہ درست زمین کی پیمائش کی اور بتایا کہ 6335 کلومیٹر زمین کا رداس (Radius) ہے۔ جدید سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ البیرونی محض 36کلومیٹر کے فرق سے درست تھا۔

سمت کا تعین کرنے کے لئے پہلا قطب نما (Compass) دوسری صدی قبل مسیح سے پہلی صدی عیسوی کے درمیان چین میں بنا اور اسے سب سے پہلے چینیوں نے ہی استعمال کیا۔ بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی کے درمیان مغربی یورپ نے قطب نما کا استعمال شروع کیا۔ اس کے علاوہ فارسیوں نے تیرہویں صدی عیسوی میں اس کا استعمال کیا۔

ستاروں اور اندازوں سے سمت اور راستوں کا تعین کرنے والا انسان آج نہایت جدید جغرافیائی و نقشہ جاتی نظام رکھتا ہے۔ دنیا کے ایک ایک کونے کی نشاندہی ہو چکی ہے اور ہر ایک مقام کو خاص اعداد یعنی طول بلد (Longitude) اور عرض بلد (Latitude) سے پہچانا جاتا ہے۔ جدید نظام میں خاص طور پر سیارچے (سٹیلائیٹ) استعمال کیے جا رہے ہیں۔ سٹیلائیٹ کی مدد سے کام کرنے والے فی الحال جو نظام موجود ہیں، ان میں سب سے قابل ذکر گلوبل پوزیشننگ سسٹم یعنی جی پی ایس (GPS) ہے۔ اس کی مدد سے زمین پر کوئی بھی مقام، اس کی سطح سمندر سے بلندی، سفر کرتے ہوئے سمت اور رفتار وغیرہ معلوم کی جا سکتی ہے۔ جی پی ایس سے حاصل شدہ معلومات کو نقشہ جات سے ملا کر ایک مکمل سمتی و نقشہ جاتی نظام تشکیل پاتا ہے۔ جی پی ایس پر کام تو پہلے سے ہو رہا تھا مگر امریکی شعبہ دفاع نے 1973ء میں جی پی ایس بنایا جبکہ 1995ء میں یہ مکمل طور پر کام کرنا شروع ہوا۔ دن بدن اس میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ یورپی یونین، روس، چین اور انڈیا بھی امریکہ کے جی پی ایس کی طرح کے اپنے اپنے جغرافیائی و نقشہ جاتی نظام بنانے میں مصروف ہیں۔

آج کل ناسا کے علاوہ دیگر کئی ادارے جغرافیائی معلومات اور نقشوں کی سہولیات مفت فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم نام گوگل کا ہے۔ گوگل نے عام صارفین کے لئے گوگل ارتھ اور گوگل میپس کے نام سے دو اہم پروگرام بنا رکھے ہیں۔ ویسے گوگل ارتھ کی بنیاد گوگل نے نہیں رکھی تھی بلکہ سی آئی اے کے فنڈ سے چلنے والی ”کی ہول“ نامی کمپنی نے زمینی نقشہ جات کے متعلق ایک سافٹ ویئر ”ارتھ ویور“ کے نام سے بنا رکھا تھا۔ اکتوبر 2004ء میں گوگل نے کی ہول اور جغرافیہ سے متعلقہ ایک دوسری کمپنی خرید لی۔ اس کے بعد فروری 2005ء میں گوگل نے میپس کے نام سے اپنی سروس شروع کی۔ اس کے چند ماہ بعد جون 2005ء میں گوگل نے کی ہول کے ارتھ ویور نامی سافٹ ویئر میں ترامیم کر کے اسے”گوگل ارتھ“ کے نام سے متعارف کرا دیا۔