Digital Camera Buying Guide

کیمروں کے عام ہونے اور خاص طور پر جب سے موبائل میں کیمرہ آیا ہے، تب سے تقریباً ہر کوئی فوٹوگرافر بن چکا ہے۔ کئی لوگ ہر لمحے کو کیمرے میں قید کرنا چاہتے ہیں۔ بعض تو بڑی زبردست تصاویر بناتے ہیں اور بعض کا مقصد بس کیمرے کو ”اذیت“ دینا ہوتا ہے۔ کئی لوگ تصویر میں تخلیق، فنکاری یا کوئی خاص چیز یا بات دیکھانے کی بجائے بے تکی تصویروں پر تصویریں بناتے چلے جاتے ہیں۔ میرے خیال میں اس طرح ”دے تصویر پر تصویر“ یعنی بغیر موضوع کے فوٹوگرافی کو تصویر کشی کی بجائے ”تصویر زنی“ کہنا زیادہ بہتر ہے۔ :-) بہرحال ایک اچھا فوٹوگرافر بننے، فوٹوگرافی کی دنیا میں آگے بڑھنے، تصویروں میں حقیقی رنگ بھرنے اور خاص طور پر ”تصویر زنی“ کی بجائے تخلیقی قسم کی ”تصویر کشی“ کرنے کے لئے یہ سلسلہ شروع کیا ہے، تاکہ کچھ آپ اور کچھ ہم سیکھیں اور دنیا کو ایک نئے انداز سے دیکھیں۔

گو کہ ابھی خود فوٹوگرافی (Photography) کا طالب علم ہوں، لیکن کئی احباب کیمرہ خریدنے کے متعلق راہنمائی مانگتے ہیں۔ اکثر میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ اچھے کیمرے سے فوٹوگرافی کرنے کا شوق اگر نیا نیا پیدا ہوا ہے تو پھر اپنے بجٹ (اس کام کے لئے مختص رقم) کے حساب سے کسی بھی کمپنی کا کوئی ”ابتدائی مرحلے“ (Entry-level) والا ڈی ایس ایل آر(DSLR) کیمرہ خرید لیں۔ اور اگر آپ پہلے سے ہی کسی اچھے کیمرے سے فوٹوگرافی کر رہے ہیں تو پھر یقیناً آپ مبتدی (Beginner) نہیں ہیں اور یقیناً خود ہی جانتے ہوں گے کہ اب آپ فوٹوگرافی میں کیا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے بہتر کیمرہ کونسا ہے۔ یہ تو تھا وہ جواب جو مختصر طور پر دیتا ہوں۔ لیکن ابھی ہم مختصر کی بجائے کیمروں کے متعلق چند بنیادی باتیں زیرِبحث لاتے ہیں۔ جس سے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ کونسا کیمرہ خریدنا چاہیئے۔

ضرورت اور قیمت

یوں تو نیا بندہ بھی اچھے سے اچھا کیمرہ خریدنا چاہتا ہے، مگر اچھے کیمروں کی قیمتیں بھی ”اچھی“ ہی ہوتی ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہوتا ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ کس قسم کی فوٹوگرافی کرنی ہے اور اس کام کے لئے آپ کتنی رقم خرچ کر سکتے ہیں۔ دونوں باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیمرے کی قسم اور ماڈل کا انتخاب کریں۔ ویسے بعض دفعہ انسان کافی شش و پنج کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ مثلاً فرض کریں کہ ایک کیمرہ پچاس ہزار روپے کا مل رہا ہے تو اس سے تھوڑا اچھا پچپن ہزار کا۔ اب بندہ سوچتا ہے کہ جہاں پچاس ہزار خرچ رہا ہوں، وہاں پانچ ہزار اور شامل کر لیتا ہوں تو تھوڑا اچھا کیمرہ مل جائے گا۔ جیسے ہی وہ اپنا بجٹ بڑھاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ایک اور تھوڑا اچھا کیمرہ ہے جوکہ ساٹھ ہزار کا مل رہا ہے۔ اب وہ مزید بجٹ بڑھانے کا سوچتا ہے۔ میرے خیال میں ایسا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ کیمروں کے ماڈل اتنے زیادہ ہیں کہ ہر ایک میں تھوڑا تھوڑا قیمت کا فرق ہوتا ہے اور یوں پانچ دس ہزار کرتے کرتے بات بہت اوپر تک پہنچ جاتی ہے۔ اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ اونچی چھلانگیں مارنے کی بجائے اپنی ضرورت اور بجٹ کے حساب سے مناسب کیمرہ خرید لیا جائے۔ ویسے بھی کیمرہ خریدتے ہوئے ضرورت یعنی فوٹوگرافی میں کرنا کیا چاہتے ہیں، اس کا خیال ضرور رکھنا چاہیئے۔ وہ کیا ہے کہ چڑیا کے شکار کے لئے ٹینک نہیں خریدا جاتا بلکہ اس کام کے لئے ہوائی بندوق (Air Gun) ہی کافی ہوتی ہے۔ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ چیز ایک دفعہ ہی خریدنی ہے تو پھر اچھی سے اچھی خریدی جائے۔ میرے خیال میں یہ بات بھی درست نہیں، کیونکہ اول تو طالب علم کو پہلی جماعت سے ہی آغاز کرنا چاہیئے اور دوسرا جب ضرورت سے زیادہ والی چیز خریدی جاتی ہے تو ایک لمبے عرصے تک بہت سے فنکشنز بیکار پڑے رہتے ہیں، جبکہ ان کی قیمت پہلے ہی ادا ہو چکی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ کچھ عرصے بعد نئے نئے ماڈل آ جاتے ہیں تو پھر انسان ان نئی چیزوں کی طرف دیکھتا ہے۔ بہتر یہی ہوتا ہے کہ آج کی ضرورت کے مطابق مناسب چیز خرید لی جائے اور جب کل ضرورت زیادہ ہو گی تو تب کی ضرورت کے حساب سے نئی چیز خرید لی جائے گی۔

پکسلز اور سینسر(Pixels and Sensor)

کیمروں میں سب سے اہم چیز میگا پکسلز(Mega Pixels) اور تصویر بنانے والے سینسر(Image Sensor) کا سائز اور قسم ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر کوئی بھی تصویر مختلف رنگوں کے نہایت چھوٹے چھوٹے نکتوں کے مجموعے سے بنتی ہے۔ ان نکتوں کو پکسلز کہا جاتا ہے۔ کیمرہ خریدتے ہوئے جہاں پکسلز کو دیکھا جاتا ہے، وہیں پر یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ تصویر بنانے والا سینسر کس قسم کا ہے اور اس کا سائز کیا ہے۔ آسان الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک جتنے میگاپکسلز کے دو کیمروں میں جس کا سینسر بڑا ہو گا، اس کی تصویر اچھی ہو گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ سینسر کی حساسیت یعنی آئی ایس او (ISO) کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنا ہے۔ آئی ایس او کا دائرہ جتنا وسیع ہو گا، اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔

لینز کا اپرچر اور زوم (Lens Aperture and Zoom)

لینز کے اپرچر اور زوم کا کیمرے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ مختلف اقسام کی تصویریں بنانے کے لئے مختلف اپرچر اور زوم کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیمرہ یا لینز خریدتے ہوئے کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ اپرچر اور زوم ضرور دیکھیں۔ خیال رہے کہ زوم دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک آپٹیکل(Optical) اور دوسرا ڈیجیٹل(Digital)۔ اصل زوم آپٹیکل ہی ہوتا ہے جبکہ ڈیجیٹل زوم میں تصویر کو کاٹ کر بڑا کیا جاتا ہے، جس سے تصویر کی کوالٹی کم ہو جاتی ہے۔ آج کل مارکیٹ میں لینز کی بہت زیادہ اقسام آ چکی ہیں۔ صرف لینز پر ہی کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ چونکہ یہ تحریر بنیادی راہنمائی کے لئے ہے اس لئے اس میں اتنا ہی کافی ہے۔ اس متعلق مزید کسی دوسری تحریر میں بات کریں گے۔

شٹر کی رفتار (Shutter Speed)

کیمرہ خریدتے ہوئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ شٹر کی رفتار کہاں سے لے کر کہاں تک ہے اور فوٹوگرافر کو اس پر کتنا اختیار دیا جا رہا ہے۔ شٹرسپیڈ کا دائرہ جتنا وسیع ہو گا، اتنا ہی بہتر ہو گا۔ کیونکہ بعض دفعہ متحرک چیزوں کی تصویر بنانے کے لئے زیادہ شٹرسپیڈ درکار ہوتی ہے اور بعض دفعہ کم روشنی میں اچھی تصویر بنانے کے لئے کم شٹرسپیڈ کی ضرورت پڑتی ہے۔

تصویر بنانے کے طریقے (Modes)

کیمرہ خریدتے ہوئے اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ اس میں تصویر بنانے کا کون کون سا طریقہ (Mode) دستیاب ہے۔ عموماً کیمروں میں خودکار طریقہ (Auto Mode) تو ہوتا ہی ہے لیکن دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ فوٹوگرافر کو ایکسپوژر سیٹنگز (Exposure Settings) کے لئے کتنا اختیار دیا جا رہا ہے۔ اچھے کیمروں میں فوٹوگرافر کو مکمل دستی اختیار (Manual Mode) دیا جاتا ہے۔ جس سے وہ اپنی مرضی کی تصویر بنانے کے لئے شٹر(Shutter) کی رفتار، اپرچر(Aperture) اور آئی ایس او(ISO) وغیرہ میں تبدیلیاں کر سکتا ہے۔

وزن اور حجم (Weight and Volume)

کم وزن اور حجم والا کیمرہ سنبھالنا آسان ہوتا ہے۔ مگر یہ بھی خیال رہے کہ موجودہ صورتحال میں زیادہ فنکشنز والے کیمروں کا وزن اور حجم بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے پہلے فوٹوگرافی میں اپنی ضرورت دیکھیں اور پھر اس حساب سے کم وزن اور حجم والے کیمرے کو ترجیح دیں۔

ماڈل، سپیئرپارٹ، دوبارہ فروخت اور مرمت وغیرہ (Model, Spare part, Sale and Service)

کیمرہ خریدتے ہوئے یہ ضرور دیکھیں کہ ماڈل نیا ہے یا پرانا۔ زیادہ پرانے ماڈل کا کیمرہ نہ خریدیں کیونکہ بعد میں اس کی مرمت، دوبارہ فروخت یا ایکسسیریز ملنے میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی کیمرہ خریدنا ہو، اس کے متعلق یہ ضرور جان لیں کہ اس کا سپیئر پارٹ یا لینز وغیرہ کی قیمتیں کیا ہیں؟ آیا اس کے لینز اور دیگر ایکسسیریز باقیوں کی نسبت مہنگی تو نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوبارہ فروخت یعنی ری سیل کا بھی دھیان رکھیں کہ اگر پہلا کیمرہ بیچنا پڑ جائے تو کیا یہ اچھے داموں فروخت ہو سکتا ہے یا نہیں؟ مزید کسی خرابی کی صورت میں مرمت آسانی سے ممکن ہے یا نہیں؟ کمپنی وارنٹی دے رہی ہے یا نہیں؟ اگر دے رہی ہے تو کتنے عرصے کی اور کس کس چیز کی وارنٹی دے رہی ہے؟ کیمرہ خریدتے ہوئے ان تمام سوالوں کے جواب ضرور حاصل کریں اور پھر اسی کی مناسبت فیصلہ کریں۔

دیگر فنکشنز اینڈ فیچرز (Other Functions and Features)

کیمرہ خریدتے ہوئے مندرجہ بالا فنکشنز اینڈ فیچرز تو ایسے ہیں کہ جو ہر ایک کے لئے ضروری ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف قسم کی فوٹوگرافی کے لئے مختلف قسم کے فنکشنز اینڈ فیچرز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر آؤٹ ڈور(Outdoor) فوٹوگرافی کرنے والے موسمی تبدیلیاں برداشت کرنے والے کیمروں کو پسند کرتے ہیں۔ کیمرہ خریدتے ہوئے مزید چند فنکشنز پر بھی ایک نظر مار لینی چاہیئے۔ جیسے فلیش لائیٹ، علیحدہ سے فلیش لگانے کے لئے ہاٹ شو، وائی فائی، جی پی ایس، ٹچ سکرین، امیج سٹیبلائزیشن، RAWفائل سپورٹ، ویڈیو بناتے ہوئے ایک سیکنڈ میں کتنے فریم بناتا ہے، علیحدہ سے مائیکروفون لگانے کی سہولت، موسمی تبدیلیوں کی برداشت (Whether Protection) اور ایک دفعہ بیٹری چارج سے کتنی تصاویر بنتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔

لوگوں کے خیالات (Reviews)

انٹرنیٹ پر کیمروں کے متعلق مختلف لوگوں کے خیالات موجود ہیں۔ جس قسم یا ماڈل کا کیمرہ خریدنا چاہتے ہیں پہلے اس کے متعلق لوگوں کے خیالات ضرور جانیں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ فلاں کیمرہ کتنا اچھا اور پائیدار ہے۔

کیمرہ خریدنے کا ایک نسخہ

کیمرہ یا کوئی بھی ایسی چیز خریدتے ہوئے اکثر لوگ کافی شش و پنج کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ کیا ہے کہ کسی میں ایک فنکشن ہے تو دوسرے میں نہیں، جبکہ دوسرے میں ایک ایسا فنکشن ہے جو کہ پہلے میں نہیں۔ ایسی صورتحال میں بندے کو سمجھ نہیں آتی کہ کونسی چیز خریدی جائے۔ اس کے لئے بہتر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو فنکشن آپ کے لئے جتنا اہم ہو اسی حساب سے اسے نمبر الاٹ کر لیے جائیں اور پھر ایک گوشوارہ بنا کر موازنہ کر لیا جائے۔ مثال کے طور پر میں میگاپکسلز، سینسر، اپرچر اور شٹرسپیڈ کو دس دس نمبر الاٹ کروں گا۔ اس کے بعد باقی زیادہ تر فنکشنز کو دو یا تین جبکہ سیاحت کے دوران تصویر کشی کی وجہ سے بیٹری، جی پی ایس اور موسمی تبدیلی برداشت کرنے کو پانچ پانچ نمبر دوں گا، کیونکہ سیاحت کے دوران لمبی بیٹری اور ہر تصویر کے ساتھ مقام (لوکیشن) کا محفوظ ہونا میرے لئے کافی سودمند فنکشن ہے۔ اسی طرح موسمی تبدیلی برداشت کرنا بھی اہم ہے۔ بہرحال ہر فنکشن کو کل نمبر دے کر اس کے بعد مختلف کیمروں کا موازنہ کروں گا کہ کس میں کونسا فنکشن کتنا زیادہ ہے اور اسے کل نمبروں میں سے کتنے ملتے ہیں۔ اس کے بعد تمام فنکشنز کے نمبروں کو جمع کروں گا اور یوں جس کیمرے کو زیادہ نمبر ملیں گے، میں وہ خرید لوں گا۔

کیمرہ خریدنے سے پہلے ڈیجیٹل کیمروں کی اقسام کے بارے میں جاننا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی بندہ اچھا کیمرہ خریدنے کے لئے بہتر فیصلہ کر سکتا ہے۔