Current Situation of Urdu Blogosphere

معذرت کے ساتھ سب سے پہلے یہ عرض کرنا چاہوں گا: ہمارے چند دوست اس غلط فہمی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ ہم جو پرانے چلے آ رہے ہیں وہی مستند بلاگر اور بلاگنگ کے کرتا دھرتا ہیں۔ مزید جو ہماری طرز پر ہی بلاگنگ کرے گا اور ہمارے ساتھ شامل ہو گا وہی بلاگر کہلائے گا۔ ایسی باتوں اور بلاگنگ کے حوالے سے ہر کام میں ضرورت سے زیادہ شک اور جارحانہ انداز نے کئی پرانے بلاگرز کو ایک مخصوص گروہ تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ ہمارے کچھ دوست سوچتے ہیں کہ بلاگنگ صرف ذاتی بلاگ پر ہی ہوتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ زمینی حقائق کے ساتھ ساتھ بلاگنگ کا انداز بھی بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ آپ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ بلاگنگ کی بنیاد نے اپنی شکل تبدیل کر لی ہے لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ بلاگ لکھنے کے مزید کئی طریقے آ چکے ہیں اور جو جس طریقے سے بھی بلاگنگ کر رہا ہے وہ بلاگر ہی کہلائے گا۔ پہلے بھی ایک تحریر میں تفصیلی عرض کیا تھا کہ بلاگ کی تعریف ویب سائیٹ کی ظاہری شکل و صورت کی بجائے تحریر کے گرد گھومتی ہے۔ اب وہ تحریر چاہے کسی بھی ویب سائیٹ پر ہو، چاہے فیس بک پر ہی کیوں نا ہو، وہ تحریر ”بلاگ“ ہی کہلائے گی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ تحریر اپنے ٹھیک مقام پر رکھی گئی ہے یا بلاگر نے اپنے قیمتی الفاظ ضائع کر دیئے ہیں۔

کچھ عرصے سے نوٹ کر رہا ہوں کہ ہمارے کئی دوستوں کے ذہن میں یہ آ رہا ہے کہ کہیں بلاگنگ کا رجحان کم تو نہیں ہوگیا؟ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ یہاں عرض کرتا چلوں کہ میرے بلاگ پر ماضی کی نسبت زیادہ ٹریفک ہوتی ہے۔ اب کئی تحروں کے قارئین تو ہزاروں ہو جاتے ہیں۔ جیسے پہلی کمائی والی اور اس جیسی دیگر کئی تحاریر۔ خیال رہے کہ یہ میں اردو کمپیوٹنگ اور بلاگنگ کے ٹیوٹوریلز کی بجائے دیگر تحاریر کی بات کر رہا ہوں۔ ویسے دو تین سال پہلے اردو بلاگز کے تھوڑے قارئین اور بلاگز کی ٹریفک بڑھانے پر کافی تفصیلی بات کی تھی۔ ساتھ ہی بلاگر دوستوں کو کہا تھا کہ وہ بھی اس پر لکھیں۔ لیکن ایک دو کے علاوہ کسی نے توجہ نہ دی تھی۔ دوستوں کو ان موضوعات پر لکھنے کا اس لئے کہا تھا کہ جب وہ تحقیق کرتے اور سوچتے تو ان پر کئی اہم انکشافات ہوتے۔ یوں وہ اپنی بلاگنگ کو مزید بہتر کر سکتے۔ بہرحال میں نے اپنی کوشش جاری رکھی اور اس کا پھل آج مجھے مل رہا ہے۔ میں ایسی معلومات عموماً شیئر نہیں کرتا لیکن چند دوستوں کے لئے کر رہا ہوں کہ آج اگر گوگل ایڈسنس اردو کو اشتہار دے یا میں خود اشتہارات کی تھوڑی بہت کوشش کروں تو ایک دو ماہ میں میرے بلاگ سے معقول آمدنی شروع ہو جائے گی۔ خیر اسے چھوڑیں کیونکہ ابھی ہمارا موضوع بلاگنگ کے موجودہ رجحانات اور صورتحال ہے۔

بے شک ذاتی بلاگ بنانے کی رفتار ماضی کی نسبت کچھ زیادہ نہیں بڑھی مگر پھر بھی بہت لوگ بلاگ بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی لوگ دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ اخبارات کی ویب سائیٹس پر بھی بلاگ لکھ رہے ہیں اور کئی تو فیس بک کو ہی بلاگ بنائے بیٹھے ہیں۔ گوکہ فی الحال ”فیس بک“ پر بلاگنگ یا مائیکروبلاگنگ میں کسی بلاگر کا کوئی خاص مستقبل نہیں اور یہ بات ہم تو سمجھا سمجھا کر تھکنے والے ہیں کہ اللہ والو! آپ لکھ سکتے ہیں تو بلاگ پر لکھیں تاکہ کوئی مستقبل بھی بنے مگر لوگ سنتے ہی نہیں۔ بہرحال اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان لوگوں کی فیس بک پر موجود تحاریر ”بلاگ تحریر“ ہی ہیں اور ان پر پسند، ناپسند اور رائے دینے والوں کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے۔ اردو لکھنے پڑھنے، بلاگرز اور ان کے قارئین کی دن بدن بڑھتی تعداد یہ ثابت کر رہی ہے کہ بلاگنگ کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب ہمیں ان کی خبر نہ ہو تو یہ علیحدہ بات ہے۔

ایک طرف کئی لوگ ضرورت سے زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور دوسری طرف کچھ لوگ بلاگنگ کے رجحان میں کمی پر تحفظات کا شکار ہیں۔ میرے خیال میں دونوں قسم کے لوگوں کے پیمانے معیاری نہیں۔ بلاگ کی ٹریفک ناپنے کے لئے سب سے بہتر گوگل انیلیٹکس ہے۔ اِدھر اُدھر کے کئی ”وزیٹر کاؤنٹر“ معیاری نہیں ہوتے اور ہر ”پیج ریفریش“ پر بڑھتے جاتے ہیں۔ اس بات کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کئی بلاگر اپنے بلاگ کی ٹریفک کا درست اندازہ نہیں کر پاتے اور غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں اور کئی بلاگر وزیٹر کی تعداد ”فیڈ بیک“ یعنی تبصروں یا فیس بکی لائیک وغیرہ سے ناپتے ہیں۔ بلاگ کی ٹریفک ناپنے کا یہ پیمانہ بھی درست نہیں۔

بالفرض اگر کسی کے ذاتی بلاگ پر تبصروں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے تو میرے خیال میں اس کی جہاں دیگر کئی وجوہات ہیں تو وہیں پر موجودہ صورتحال میں سب سے اہم وجہ سوشل میڈیا ہے۔ ماضی میں قارئین کے پاس صرف ایک آپشن تھا کہ وہ بلاگ پر تبصرہ کر کے ہی اپنی پسند، ناپسند یا رائے وغیرہ دے سکتے تھے۔ لیکن اب ان کے پاس کئی آپشز ہیں۔ وہ ٹویٹر پر فیورٹ یا ری ٹویٹ، فیس بک پر لائیک، شیئر یا کمنٹ وغیرہ کر کے اپنا اظہار کر لیتے ہیں۔ پہلے سارا ”فیڈ بیک“ بلاگ پر ہی موجود ہوتا تھا مگر اب ادھر ادھر سوشل میڈیا پر مختلف جگہوں پر بکھرا ہوتا ہے۔

مزید بات کرنے سے پہلے معلوم ہونا چاہیئے کہ بلاگ کے قارئین کی بنیادی دو قسمیں ہیں۔ مستقل قارئین اور عارضی قارئین۔ مستقل وہ ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے بلاگرکے حلقہ احباب میں شامل یا اس کے بلاگ سے جڑے ہوتے ہیں اور ہر نئی پوسٹ پڑھیں نہ پڑھیں لیکن ان کی نظر سے ضرور گزرتی ہے۔ عارضی قارئین وہ ہوتے ہیں جو راہ چلتے یا سرچ انجن میں تلاش کرتے بلاگ تک پہنچتے ہیں۔ دونوں قسموں کے قارئین کو بلاگ تک لانے کے لئے بنیادی چیز بہتر سے بہتر مواد ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ پر جس تیزی سے اردو لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد بڑھی ہے، اس نسبت سے بلاگ قارئین کی تعداد نہیں بڑھی۔ اس کے علاوہ اگر کسی کے قارئین کی تعداد دن بدن بڑھنے کی بجائے کم ہو رہی ہے تو اس سب کی صرف ایک وجہ نہیں بلکہ کئی چھوٹی چھوٹی وجوہات اس پر اثر انداز ہوئی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں زیادہ تر وجوہات کا منبع خود بلاگر حضرات ہیں۔ چند وجوہات درج ذیل ہیں۔

    بہت سارے بلاگرز ٹھیک طرح سے اپنی منزل ہی طے نہیں کر پائے۔ آیا بلاگنگ کے ذریعے انہوں نے آگے بڑھنا ہے یا پھر صرف وقت گزاری (ٹائم پاس) کرنا ہے؟
    اردو بہت زیادہ لوگ پڑھنا چاہتے ہیں لیکن بلاگرز نے ان کی نفسیات سمجھ کر لکھنے کی کوشش نہیں کی۔ یعنی بلاگرز نے یہ ٹھیک طرح تعین ہی نہیں کیا کہ ان کے اردگرد کیسے لوگ ہیں اور وہ کن کے لئے لکھ رہے ہیں۔
    حلقہ احباب تیار کرنے میں موضوعاتی بلاگنگ والوں نے اپنے موضوع سے متعلقہ لوگوں کو ٹارگٹ نہیں کیا اور اسی طرح متفرق حلقہ احباب والوں نے اپنے حلقہ احباب کے حساب سے لکھنے کی کوشش نہیں کی۔ افسوس! حلقہ احباب بڑھتا گیا اور بلاگ تحاریر کم ہوتی گئیں۔
    بات غور کرنے والی یہ بھی ہے کہ کوئی ہمیں کیوں پڑھے گا؟ اگر قارئین نے روایتی انداز والی تحریریں ہی پڑھنی ہوں تو ان کے پاس بڑے مشہور نام ہیں، وہ ہماری بجائے انہیں پڑھیں گے۔ یہاں یہ بات سوچنے والی ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر بلاگنگ دنیا میں کامیاب کیسے ہو گئی؟ اس کی بنیادی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ انسان گروہ کی بجائے فرد کے معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے۔ وہ فرد کے تجربات، اس کی باتوں کو غور سے سنتا ہے۔ لوگ کسی واقعہ کے بارے میں اس کے متاثرہ یا اس علاقے کے رہائشی سے جاننے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ بلاگنگ چونکہ فرد کے گرد گھومتی ہے اسی لئے مشہور بھی ہوئی۔ دوسری وجہ بلاگنگ روایتی انداز سے ہٹ کر تھی۔ یہ ہر قید سے آزاد، روایتی میڈیا اور اس کی پالیسی سے ہٹ کر، روایتی ڈھکے چھپے انداز کی بجائے بے باک انداز اپنائے ہوئے تھی۔ بلاگنگ ایک عوامی چیز تھی اسی لئے مشہور ہوئی۔ لیکن ہمارے ہاں معاملہ بڑا عجیب بنا ہوا ہے۔ یار لوگ اسے اعلیٰ کالم نگاری اور ضرورت سے زیادہ ادبی چیز بنانے پر تلے ہیں۔ پھر کہوں گا کہ اگر لوگوں نے اچھے کالم یا اعلیٰ ادب ہی پڑھنا ہو تو وہ ہماری بجائے پرانے یا بڑے لکھاریوں کو یا پھر اخبارات پڑھیں گے۔
    عام لوگ لمبی چوڑی تحقیق نہیں پڑھنا چاہتے۔ عوام کے مسائل اور کام بھی عام ہوتے ہیں۔ لیکن بلاگر حضرات عوامی تحاریر لکھنے میں کافی حد تک ناکام رہے ہیں۔ یہ لکھنے پر آئیں تو تحقیقی مقالہ لکھ دیں اور دوسری طرف نہایت عامیانہ تحریر۔ بلاگرز نے وہ والا درمیانہ راستہ بہت کم اپنایا ہے جس سے زیادہ لوگ ٹارگٹ کیے جا سکیں۔
    مطالعہ اور کچھ نیا جاننے کا شوق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت جاہل نہیں ہوتی۔ وہ سر پیر اور ثبوت کے بغیر کی گئی باتوں پر واہ واہ نہیں کرتے۔ لکھاری کے معاملے میں قارئین ایک دو غلطیاں تو معاف کر جاتے ہیں مگر پے در پے ”بونگی“ تحریروں کی وجہ سے قارئین دور ہو جاتے ہیں۔
    عموماً دیکھا گیا ہے کہ کئی بلاگر اپنے قاری سے بحث کرتے ہوئے ایسا تاثر پیش کرتے ہیں کہ وہ خود وسیع مطالعہ والے اور قاری ان سے کمتر ہے۔ کبھی قاری کو سطحی سوچ کا کہتے ہیں تو کبھی تم سادے ہو وغیرہ وغیرہ۔ یہ رویہ بلاگر کے لئے سیدھا سیدھا زہر قاتل ہے۔ اول تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ بلاگر ہر بات کا جواب دے اور دوسرا بلاگر خود جو بھی ہو لیکن بحث کرتے ہوئے اسے قاری کی سطح پر رہ کر بات کرنی چاہیئے۔ قاری کو عزت دینی چاہیئے۔ سیانے کہتے ہیں کہ ”ہر قاری ضروری ہوتا ہے“ اور انہیں کے دم سے لکھاری زندہ رہتا ہے۔
    مائیکروبلاگنگ یعنی فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ بھی روایتی بلاگنگ پر کافی حد تک اثر انداز ہوئے ہیں۔ اس کی چند ایک وجوہات بیان کرتا ہوں۔ جب آپ اپنے حلقہ احباب کو ایک دو فقروں کے ”اقوال زریں“ پڑھنے کی عادت ڈال دیتے ہیں تو پھر عموماً لوگ تھوڑی لمبی تحریر پڑھنے کا ”تردد“ نہیں کرتے۔ ویسے بھی جب بلاگر اپنے بلاگ کی بجائے سارا وقت سوشل میڈیا پر سٹیٹس لگانے اور بحثوں میں صرف کرے گا تو پھر بلاگ کے لئے اچھا مواد تخلیق نہیں کر پائے گا۔ سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ بحثوں کی وجہ سے چڑچڑاپن اور اس جیسی دیگر چیزیں جنم لیں گی۔ اس سب کی وجہ سے تخلیقی صلاحیت کم ہوتی جائے گی۔ زیادہ عرصے تک بلاگ نہ لکھنے سے ایک حساب سے بلاگ مردہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ احباب سوشل میڈیا پر بلاگ تحریر ”بنا سنوار“ کر پیش نہیں کرتے۔ صرف سادہ لنک پیسٹ کر دیتے ہیں۔ یوں جن کی نظر پڑتی بھی ہے ان کی اکثریت بھی اسے نظر انداز کر دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر تحریر کا لنک شیئر کرتے ہوئے ساتھ اس کا مناسب خلاصہ اور اس سے متعلقہ مناسب تصویر ضرور لگائیں۔ بعض بلاگرز کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ بلاگ کے لنک پر کلک کرنے کا تردد بھی نہیں کرتے۔ کسی حد تک ایسا کہا جا سکتا ہے مگر سوفیصد ایسا نہیں ہوتا۔ بہت ساری ویب سائیٹس ایسی ہیں جن پر بہت زیادہ ٹریفک ہے اور ٹریفک کا بڑا سورس سوشل میڈیا ہی ہے۔ یہ تو لنک کے ساتھ خلاصہ اور تصویر کی بات ہوتی ہے۔ اگر تصویر اور خلاصہ قاری کو متاثر کر دے تو پھر وہ ضرور بلاگ پر پہنچتا ہے اور اگر تحریر میں دم ہو تو مکمل پڑھتا بھی ہے۔ ایک وجہ تحریر کو سوشل میڈیا پر متعلقہ گروپ میں شیئر نہ کرنا بھی ہے۔ اس متعلق مزید تفصیل بلاگ بنانے کے بعد ضروری اقدام والی تحریر میں پڑھیں۔

ماضی اور حال میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ بلاگستان کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے گروہ بن چکے ہیں۔ سارے بس اپنے مکتبہ فکر اور قریبی احباب کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنے اپنے چھوٹے سے گروہ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور نئے قارئین کو ٹارگٹ نہیں کرتے۔ جبکہ ماضی اس سے مختلف تھا۔ تب سارے بلاگرز ایک دوسرے کی تحاریر پڑھتے، تبصرہ کرتے اور پھر دل و جان سے آگے شیئر کرتے تھے۔ یوں سبھی کو نئے قارئین ملتے۔ ماضی میں اجتماعیت تھی اور حال میں انفرادیت ہے، ہر کوئی اپنی اپنی دوڑ میں لگا ہے۔ بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ بلاگستان کے بڑھنے کے ساتھ ایسا ہونا ہی تھا۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ابھی بھی کچھ بلاگرز پرانی ڈگر پر ہی چل رہے ہیں اور نئے قارئین، نئی مارکیٹ اور نیا جہان تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔