اکتوبر 13, 2013
25 تبصر ے

چاچا مستنصر حسین تارڑ سے ملاقات

ہم مقررہ وقت پر چچا مستنصر حسین تارڑ کے گھر پہنچے۔ انہوں نے ہمیں اپنے سٹڈی روم میں بیٹھایا۔ وہاں بہت ساری کتابیں اور دیواروں پر پینٹگز لگی تھیں۔ اردو بولنے پر انہوں نے کہا کہ پنجابی ہو تو پھر پنجابی میں بات کرو۔ زیادہ تر باتیں زبان، ملکی حالات، سیاحت اور تارڑ صاحب کی کتابوں پر ہوئیں۔ ہم سوال کرتے اور وہ اس پر تفصیلی بات کرتے۔ بڑے کھلے ڈلے ماحول میں بات چیت ہوئی۔ دو اڑھائی گھنٹے کی ملاقات میں انہوں نے بڑی اہم باتیں سناتے ہوئے کہا←  مزید پڑھیے
اکتوبر 6, 2013
15 تبصر ے

لاہور اور فیصل آباد یاترا – بلاگرز سے ملاقات

ایک زمانہ تھا جب ہم ہر چند دنوں بعد لاہور شہر میں پائے جاتے۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے لاہور بے وفا صنم کی طرح منہ دوسری طرف کیے بیٹھا تھا۔ خیر ہم روٹھے صنم کو منانے خود ہی پہنچ گئے، ریاض شاہد بھی آئے ہوئے تھے اور اوپر سے لاہوری بلاگرز نے پاک ٹی ہاؤس میں زبردست ملاقات رکھ لی۔ اگلے دن فیصل آباد، گوجرہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ گیا۔ دور دراز کے گاؤں اور ان کا رہن سہن، فیصل آباد کے آٹھ بازار اور گھنٹہ گھر دیکھنے اور مصطفیٰ ملک صاحب سے ملاقات کا مزہ آیا۔←  مزید پڑھیے
اگست 12, 2013
17 تبصر ے

اردو کے نام پر یاروں کو روتی پھتو

جیسے پھتو بھائیوں کے نام پر یاروں کو روتی ہے بالکل ایسے ہی احساس کمتری کے مارے کئی لوگوں نے رونا انگریزی کا ڈالنا ہوتا ہے لیکن بہانے بہانے سے نام علاقائی زبانوں یا اردو کا لیتے ہیں۔ ایک پھتو کہتی ہے کہ اردو کا رسم الخط رومن کر دیا جائے تو شرح خواندگی سو فیصد ہو جائے گی اور ملک ترقی کرے گا۔ واہ جی واہ۔ کیا عجیب منطق ہے۔ لگتا ہے پھتو کو زبان، خواندگی اور ترقی کی ذرا بھی سمجھ نہیں۔ کوئی تو اسے سمجھائے کہ رسم الخط تبدیل کرنے سے بات نہیں بنے گی، بات تو تب بنے گی جب پھتو←  مزید پڑھیے
جولائی 6, 2013
10 تبصر ے

فیس بکی مورچہ بندی

فیس بکی مورچہ بندی کریں کیونکہ اگر فرینڈ لسٹ بڑی ہے تو پھر حالات سنگین ہیں۔ ٹیگیا فیس بک کا خطرناک ترین جانور ہے اور شیئریا ہر چیز شیئر کرنے کو کارِثواب سمجھتا ہے۔ اس وجہ سے نوٹیفکیشن کی بھرمار ہوتی ہے۔ ایسے میں بندہ جنجال پورہ میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ مزید مختلف ایجنسیز اور گروہ رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر کام کر رہے ہیں، اس لئے کچھ بھی لائیک یا شیئر کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہئے کہ کہیں ہم جانے انجانے میں کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہو رہے۔←  مزید پڑھیے
جون 24, 2013
6 تبصر ے

جنت میں قتل

جہاں چشمے گنگناتے ہیں۔ جہاں چاندنی روح تک اترتی ہے۔ جہاں قدم قدم پر رب یاد آتا ہے۔ جس دیس کے سر پر پربت کا تاج ہے۔ جس دیس میں پریاں بستی ہیں۔ جو دیس دنیا میں جنت ہے۔ افسوس صد افسوس! اس دیس میں خون بہایا گیا۔ اس دیس میں صفِ ماتم بچھی ہے۔ وہ جنت خون کے آنسو رو رہی ہے۔ افسوس صد افسوس! آج پربت کا تاج شرم سے جھک گیا۔←  مزید پڑھیے