مارچ 13, 2014
15 تبصر ے

گوگل کی مشہور سروسز کا جائزہ

گوگل کی ابتداء ایک ویب سرچ انجن کے طور پر ہوئی مگر آج گوگل انٹرنیٹ سے متعلقہ کئی قسم کی سہولیات دے رہا ہے بلکہ ایک عام صارف کی ضرورت کی تقریباً تمام سہولیات مفت فراہم کرتا ہے اور انہیں مفت سہولیات پر اشتہارات سے گوگل کو آمدن ہوتی ہے۔ آج کل زیادہ تر مشہور سہولیات وہی ہیں، جنہیں کسی زمانے میں گوگل نے خریدا تھا۔ ابھی گوگل کی چند مشہور سروسز کا سرسری اور تاریخی جائزہ لیتے ہیں یعنی کون سی سروس کس کام کے لئے ہے اور وہ کب←  مزید پڑھیے
مارچ 12, 2014
9 تبصر ے

گوگل کا آغاز اور نام کہانی

گوگل کی بنیاد امریکی لیری پیج اور روسی نژاد امریکی سرگے برن نے 1998ء میں رکھی۔ شروع میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے گوگل بیچنے کا سوچا اور ایکسائیٹ کے چیئرمین جارج بل کو دس لاکھ ڈالر کے عوض گوگل فروخت کرنے کی پیشکش کی، مگر جارج نے یہ سودا ٹھکرا دیا۔ گوگل کا نام لفظ Googol کی بنیاد پر رکھا گیا۔ Googol ایک بہت بڑے نمبر کو کہتے ہیں۔ ایسا نمبر جس میں ایک کے ساتھ سو صفر لگتے ہیں یعنی دس کی طاقت سو۔ گوگل کا نام رکھنے کی کہانی بڑی دلچسپ←  مزید پڑھیے
مارچ 6, 2014
20 تبصر ے

افسانہ افسانی

پچھلے دنوں دیکھا کہ بلاگستان ”افسانہ افسانی“ ہوا پڑا تھا۔ اپنے عمر بنگش، ریاض شاہد، علی حسان اور خرم ابن شبیر کی کیا ہی بات ہے۔ بڑے لوگ، بڑی باتیں۔ بھلا کسی کی کیا مجال کہ انہیں کچھ کہے۔ اس سب کے بعد بھی ہمارا قلم حرکت میں نہ آئے، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہماری سوئی ہوئی حس چھلانگ مار کر اٹھی۔ یوں برگر تو برگر، بریانی بھی ہم پر ہنسی۔ اسی اثنا میں ہماری ملاقات اشفاق احمد، سعادت حسن منٹو، ابن انشاء، ساغر صدیق، حکیم ناصر اور ممتاز مفتی صاحب سے ہوئی اور ہماری پوٹلی←  مزید پڑھیے
مارچ 4, 2014
18 تبصر ے

ابھی میں زندہ ہوں

سنو تو سہی! کوہِ سوز کے دامن میں، دکھی وادی کے فریبی جنگلوں کے درمیاں، اک حقیر و لاغر ہوں میں۔ انا پرستی کے گرداب میں میری سانسیں ڈوب جاتی ہیں۔ میری روح بادِ صبا کے اک جھونکے کو ترستی ہے۔ مُردار کا گوشت نوچنے والی گِدھوں کی اولادیں، جب اونچے برجوں پر براجمان ہوتی ہیں تو ان کا نزلہ بھی مجھ پر گرتا ہے۔ یوں میری رہی سہی عزت کے چیتھڑے اڑ جاتے ہیں۔ میری خودی کی دھجیاں بکھر جاتی ہیں۔ میری روح دھاڑیں مار کر روتی←  مزید پڑھیے
فروری 22, 2014
13 تبصر ے

انٹرنیٹ کی ایک آزاد ریاست – بلاگستان

انٹرنیٹ کے اس جدید دور میں یہ تو عوام کے ہاتھ میں ہے کہ انہیں آج کونسا ہتھیار چاہیئے؟ قلم یا تلوار، بلاگ یا بلٹ؟ بلاگرز جدید دور کے تھینک ٹینک ہیں اور ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ یہ انٹرنیٹ کی ایک آزاد ریاست بلاگستان کے باشندے ہیں، جہاں انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر بلاگنگ کی اہمیت، اس کے نقصانات اور فوائد کی بات کی جائے تو دنیا میں اس کے ذریعے ہونے والی تبدیلیوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ امریکہ، روس، جارجیا اور عرب ممالک میں←  مزید پڑھیے