اپریل 11, 2018
4 تبصر ے

چناب بادشاہ کا نیا راستہ اور شہباز پور پُل

لمبے انتظار کے بعد ایک دن دریائے چناب پر پُل بننا شروع ہوا۔ پل کے حفاظتی بند بنا کر جب کمپنی پل بنانے کے لئے دریا میں اتری تو حکومت بدل گئی۔ درخت کاٹ کر سیمنٹ سریا اُگانے کی قائل حکومت نے آتے ہی اس منصوبے کو منسوخ کر دیا۔ پل کا جو کچھ بنا ہوا تھا وہ ویسا ہی پڑا رہا اور من موجی دریا اسے آہستہ آہستہ بہا لے گیا۔ منصوبے کی فائل سردخانے میں پڑی رہی اور پھر ایک دن ”شریفِ لاہور“ کی میز پر پہنچی۔ یوں دوسری دفعہ اپنی نوعیت کا منفرد پل خشکی پر بننا شروع ہوا۔ بند باندھ کر دریا کو بند کر دیا گیا۔ پانی وسیع رقبے پر پھیل گیا۔ گندم کی تیار فصل برباد ہو گئی۔ اب اگر ہم ڈوبے ہیں تو صنم←  مزید پڑھیے
مارچ 25, 2018
1 تبصرہ

پردے کے پیچھے کیا ہے؟

چلیں! آج منظرباز کی ذات کے حوالے سے پردے کے پیچھے جھانکتے ہیں۔ دوستو! سوشل میڈیا پر یہ جو ہنستا کھیلتا اور کئی باتوں سے بے نیاز سا نظر آتا ہے، درحقیقت پسِ پردہ اس کی زندگی میں بھی کئی مسائل اور اُتار چڑھاؤ ہیں۔ لیکن لکھنا پڑھنا، سیروسیاحت اور فوٹوگرافی وغیرہ جیسے مشاغل نے اسے کئی دکھوں سے بچا رکھا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اندر ہی اندر درد سہتا، آنسو پیتا مگر زندگی جیتا ہے اور اس جینے کے لئے سفر کرنا، پہاڑ چڑھنا، بہروپ بنانا، تاک لگانا اور خاک ہونا پڑتا ہے۔ جی ہاں! خاک ہونا پڑتا ہے، کیونکہ ہر خوشی کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے۔ ویسے نوبت لہو اُگلنے تک آنے سے پہلے ہی منظرباز←  مزید پڑھیے
مارچ 15, 2018
12 تبصر ے

فوٹوگرافر اللہ دا فقیر

فوٹوگرافی کے حوالے سے ایک منفرد اعزاز ہمارے شہر جلالپورجٹاں کے پاس ہے۔ دراصل قیامِ پاکستان سے پہلے کی بات ہے کہ جب شہرِ خوباں ارضِ جاناں میں ایک بچے کو فوٹوگرافی کا شوق ہوا۔ تب اُس نے 13روپے کا کیمرہ خریدا۔ وہ شوقیہ فوٹوگرافی کرتا اور اخبارات کو تصویریں بھیجتا۔ اللہ دا فقیر کہہ گیا ہے کہ ”بات پیسے کی نہیں، بات تو ذہنی سکون کی ہے“۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ سب کچھ لُٹ گیا اور غربت نے ناک میں دم کر دیا۔ فقیر کویت چلا گیا۔ ادھر سخت مزدوری کرتا اور روتا اور دعا کرتا کہ یااللہ فوٹوگرافی کے علاوہ کوئی کام مجھے آتا نہیں، بس تو ہی کوئی راستہ نکال۔ اور پھر رب نے ایسا راستہ نکالا کہ دنیا نے دیکھا←  مزید پڑھیے
فروری 19, 2018
3 تبصر ے

یاراں نال بہاراں

ان سے ملئے! یہ ہیں چند ”نمونے“۔ ایک انٹرویو میں مجھ سے سوال ہوا ”کیا آپ ایک اچھے دوست ہیں؟“ میرا جواب تھا ”یہ تو پتہ نہیں، لیکن میرے دوست بہت اچھے ہیں“۔ بس جی! بعض دفعہ جواب دینے میں انسان سے غلطی ہو جاتی ہے۔ ویسے مانتا ہوں کہ جو میری حرکتیں ہیں ان سے دوسرے تنگ آ سکتے ہیں۔ مگر میرے دوست نہیں آتے اور مجھے برداشت کرتے ہیں، نمونے جو ہوئے۔ بس جی! موجیں لگی ہوئی ہیں، گھومتے پھرتے ہیں اور غم چھپائے بیٹھے ہیں۔ ورنہ وقت بدلتا ہے اور لوگ بدلتے ہیں۔ کوئی جیتا ہے، کوئی مرتا ہے۔ سدا وقت ایک سا نہیں رہتا۔ دکھ ہر بندے کی زندگی←  مزید پڑھیے
فروری 15, 2018
تبصرہ کریں

قلعہ روہتاس کی سیر – فرخ اور رانا عثمان کے ساتھ

یہ تب کی بات ہے جب ہمیشہ کی طرح وطنِ عزیز تاریخ کے نازک ترین موڑ سے گزر رہا تھا اور انسانیت خطرے میں تھی۔ یہ بات ہے اکیسویں صدی کے بالغ ہونے کی یعنی جب وہ اٹھارہ سال کی ہو چکی تھی اور گاتی پھر رہی تھی ”سوہنیا… میں ہو گئی اٹھرہ سال کی“۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ اتوار کا دن تھا، جب راجپوتوں کے سپوت نے اپنے دوستوں کی فوج کے ہمراہ شیرشاہ سوری کے قلعۂ روہتاس پر یلغار کر دی۔ فوج جیسے تیسے دریائے راوی، چناب اور جہلم عبور کر کے روہتاس پہنچی۔ وہاں انسانی روپ میں چھپے بھیڑیئے لڑکیاں تاڑ رہے تھے۔ قلعے میں ایک دوشیزہ نے ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ←  مزید پڑھیے