March 8, 2019
تبصرہ کریں

سائیکل سلامت، سفر بخیر

ابھی مجھے تنہا کئی دریا عبور کرنے ہیں۔ کئی وادیوں سے گزرنا ہے۔ بڑی منزلیں مارنی ہیں۔ لیکن اس سب سے پہلے، چناب کناروں والا منظرباز کچھ باتیں واضح کرنا چاہتا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ سیروسیاحت کے حوالے سے میں کوئی انوکھا نہیں، جبکہ وہ سائیکل والا کھوجی بھائی تو کمال ہے۔ ٹھیک ہے کہ میرے سیاحت اور فوٹوگرافی جیسے کئی شوق اس سے ملتے ہیں، لیکن کہاں مجھ جیسے مُلا کی دوڑ مسجد تک اور کہاں وہ۔ خیر جو بھی ہو مگر یارو! تلاش کا یہ سفر آسان تو نہیں۔ موسم کی شدت سے لڑنا، صحراؤں کی خاک چھاننا اور خطرناک جنگلی جانوروں کے درمیان بالکل تنہا جنگل بیابانوں میں راتیں گزارنا اور←  مزید پڑھیے
February 6, 2019
4 تبصر ے

دنیا کو میری ضرورت ہے یا نہیں؟

آج آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں اور یہ کہانی صرف میری ہی نہیں، بلکہ بہت سارے لوگوں کی ہے۔ کیونکہ دنیا ایسے عجوبوں سے بھری پڑی ہے۔ کہیں آپ بھی عجوبہ تو نہیں؟ بس جی! یہی بات تو جاننے والی ہے۔ مجھے بھی پہلے معلوم نہ تھا۔ لیکن پھر کسی حد تک معلوم ہو گیا کہ آخر میں کیا عجوبہ ہوں۔۔۔ ہاں تو! کہانی میرے بچپن سے شروع ہوتی ہے۔ میں وہ بندہ ہوں کہ جس کا بچپن شدید ذہنی الجھنوں میں گزرا۔ مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ بڑے ہو کر کیا بنوں گا۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ میری کوئی دلچسپی یا شوق نہیں تھا، بلکہ مسئلہ تو یہ تھا کہ میرے بہت سارے شوق تھے۔ سکول اور پھر کالج میں مجھے تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ بھی پسند←  مزید پڑھیے
November 19, 2018
1 تبصرہ

جوگیوں کے ساتھ ٹلہ جوگیاں

جوگی و نیم جوگی اور رانجھوں کی مہربانی کہ وہ تشریف لائے اور ہم نے ٹلہ جوگیاں کی مہم سرانجام دی۔ بتاتا چلوں کہ اپنا یار چناب تو سب سے پہلے، اس کے بعد ناران کا لالہ زار، نانگاپربت کا روپل چہرہ اور خاص طور پر ٹلہ جوگیاں کا میری سیاحت میں بہت بڑا کردار ہے۔ چناب کے بعد منظربازی کا اصل جوگ مجھے یہیں سے ملا تھا۔ ٹلہ جوگیاں ہزاروں برسوں کی تاریخ کا ایک نادر نمونہ ہے۔ گروگورکھ ناتھ سے لے کر باباگرونانک تک، رانجھے سے لے کر علامہ اقبال تک، احمد شاہ ابدالی کے قتل عام سے لے کر تقسیمِ ہند پر اجڑنے تک، اور خزانوں کی تلاش سے لے کر غوری میزائل کے تجربے تک، بہت سی کڑیاں اور سلسلے ٹلہ جوگیاں سے جا ملتے ہیں۔ وارث شاہ کے رانجھے نے بھی یہیں پر کان چھیدوائے اور جوگی بنا اور ہم نے بھی←  مزید پڑھیے
October 30, 2018
تبصرہ کریں

تصویر کے ساتھ بے ہودگی اور حقیقی منظر

جب تصویر کا تن من چیخا۔ آج کے دور میں یہ صرف فوٹوگرافرز کو ہی نہیں بلکہ سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پیار کی یہ واردات تو بہت پہلے سے شروع ہو چکی تھی، مگر پوسٹ پراسسنگ اور ایڈیٹنگ کے درمیانی وقفے کے فوراً بعد کا ذکر ہے کہ ایک سیاحتی سفر کے دوران ایک صاحب ملے۔ کئی دفعہ ایسا ہو جاتا ہے کہ سیاحت کے دوران جنگل بیابانوں میں، انجان راستوں پر کوئی نہ کوئی فیس بک فرینڈ یا ’انٹرنیٹی‘ جان پہچان والا مل جاتا ہے۔ بے شک فوٹوگرافرز اور سیاحوں پر کئی الزام لگائے جاتے ہیں مگر شمال کے اس سفر میں جو صاحب ملے، انہوں نے تو تصویر کے ساتھ ایسی بیہودگی←  مزید پڑھیے
August 30, 2018
5 تبصر ے

اک محبوب نگری – سفرنامۂ جہاز بانڈہ – چوتھی قسط

جھیل کٹورہ ٹریک کے آغاز پر ہی منظرباز نے پہاڑوں کے اوپر دیکھتے ہوئے کہا ”میخانے کا دروازہ کھول کہ رِند آئے ہیں“۔ پھر ہم خطرناک پتھروں پر بے حال ہوئے چلے جا رہے تھے۔ سچ ہے کہ حُسن کشٹ مانگتا ہے۔ جھیل یونس کے بعد راستے کی خطرناکی دیکھتے ہوئے شاہ رخ صاحبہ نے کہا ”سوچ لو کہ آج مرنا ہے“۔ پھر ایک لڑکی نے ظلم ڈھایا اور ہم نے غصہ کھایا۔ آخر جھیل کٹورہ پہنچ ہی گئے۔ اس مقام کی تاثیر یہ تھی کہ ”تم“ آئے چناب کی صورت۔ خیر جھیل کنارے مسافرِشب سے ماڈلنگ کرائی۔ فوٹوفوٹی جنگ ہوئی، بونے ناچے اور کئی لڑکیوں نے ”کُڑی مارکہ“ کا عملی نمونہ پیش کیا۔ آخر ریل گاڑی چلی اور پھر اچانک حادثہ←  مزید پڑھیے