ماضی کے جوگیوں، مقامی لوگوں اور محکمہ جنگلات کے ملازمین وغیرہ کو چھوڑ کر یعنی بطور سیاح بہت کم لوگ اتنی دفعہ ٹلہ گئے ہوں گے کہ جتنی دفعہ جوگی منظرباز جا چکا ہے۔ اس سیروسیاحت میں ٹلہ کا چپا چپا چھان مارا مگر قسمت دیکھیئے کہ کوشش کے باوجود بھی کبھی موروں کا دیدار نہ ہوا۔ طاؤسِ ٹلہ کی فقط اک جھلک بھی نصیب نہ ہوئی۔ بس ایک دو دفعہ جنگل میں مور پنکھ ملے تو میں انہیں ہی اعزاز سمجھ لیتا۔ اور پھر حالیہ ”بہارِ ٹلہ“ کی پہلی یاترا ہوئی تو صبح فجر کے وقت جنگلوں کو نکل گیا۔ اچانک ایک جگہ مور نظر آیا تو جیسے سانسیں تھم سی گئیں، میں ساکت ہو گیا، کچھ گھبرا سا گیا۔ اور پھر افسوس! شومئی قسمت کہ← مزید پڑھیے
صحرائے چولستان کے گھپ اندھیروں اور دہشت ناک ویرانوں میں… بھوکے پیاسے اور بھولے بھٹکے ہم چار کھوجی… کہیں کانٹے دار جھاڑیوں میں گھسنا پڑا تو کہیں ٹیلے پر چڑھ کر جائزہ لیا۔ کہیں گیڈر دم دبا کر بھاگے تو کہیں آوارہ کتوں نے راستہ روکا۔ مگر ہم بھی دھن کے پکے تھے اور راستے کے کتوں سے الجھنے کی بجائے اپنی منزل کی اور چلتے رہے۔ پچھل پیری تو نہ ملی لیکن ہمارے پیر بوجھل ضرور ہو گئے۔ اس سے پہلے کہ واقعی ہار جاتے، عمران صاحب نے زنبیل کھولی اور عیاشی کرائی۔ پانی کا وہ ایک گھونٹ آب حیات تھا صاحب۔۔۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم وہاں کیسے پہنچے اور کیونکر بھٹکے؟ جی ہاں! آپ ٹھیک پہچانے کہ← مزید پڑھیے
یہ اعزاز صرف مجھے ہی بخشا گیا ہے۔ ابھی تک یہ کارنامہ صرف منظرباز نے ہی سرانجام دیا ہے۔ اچانک لمحہ بھر کے لئے یہ محل روشن ہوا، سفید سے سنہری ہوا۔۔۔ جب ایک دوست کو یہ تصویر دکھائی تو اس نے پہلی نظر میں کہا کہ کیا یہ بہاولپور کا نور محل ہے؟ نہیں جناب، درحقیقت یہ ڈیرہ نواب صاحب میں اُجڑ چکا صادق گڑھ محل ہے۔ دراصل کسی کے وہم میں بھی نہیں آ سکتا کہ یوں روشن اس محل کی تصویر بھی ہو سکتی ہے۔ اس محل کی بڑی تصویریں ملیں گی، مگر اس انوکھی تصویر جیسی شاید نہ ملے۔۔۔ اور کیا آپ یہ تصویر بنانے کی مزیدار خجل خواری اور بہت سارے پاپڑ بیلنے کی کہانی سننا چاہیں گے؟ ہوا کچھ یوں کہ← مزید پڑھیے
یہ تصویر دیکھنے میں جیسی بھی ہو لیکن اپنے آپ میں اک عجوبہ ضرور ہے۔ کیونکہ تصویر میں نظر آنے والے نوکیلے پہاڑ تصویر بننے کے مقام سے 200 کلومیٹر دور ہیں۔ ویسے ابھی تک کئی لوگ ضلع گجرات سے سو کلومیٹر دور پیرپنجال کے برف پوش پہاڑوں کے نظارے کو ہی ہضم نہیں کر پا رہے۔ ایسے میں یہ دو سو کلومیٹر والی تصویر دیکھ کر پریشان تو ہوں گے، لیکن ہمارے پیارے نیلے سیارے یعنی زمین پر ایسے کئی انوکھے مقامات پائے جاتے ہیں کہ جہاں سے دور کے نظارے کی عجوبہ تصویریں بن سکتی ہیں۔ انہیں میں سے ہمارے ضلع گجرات میں دریائے چناب کے کنارے ہیں۔ جہاں پر میری تپسیا ایسی ہے کہ← مزید پڑھیے
جب ہم پہنچے تو دروازے پر ہی خوش آمدید کہا گیا اور طلبہ نے پھول پیش کیے۔ گویا احوال زبردست رہا جبکہ حال کے متعلق کہوں تو کافی نازک صورتحال تھی۔ وہ کیا ہے کہ طلبہ کے ساتھ ساتھ کئی اداروں سے مختلف شعبہ جات کے ماہرین آئے ہوئے تھے اور مجھے ان کے سامنے ٹریول اینڈ ٹورزم فوٹوگرافی پر گفتگو کرنی تھی۔ ہائے ظالم! مجھے کن ماہرین اور استادوں کے حضور کھڑا کر دیا۔ اوپر سے طلبہ کی اکثریت بھی ماس کام کی۔ ایتھے رکھ سو۔۔۔ بہرحال رب کا نام لے کر آپ کا منظرباز میدان میں کود گیا۔ سلام دعا اور تعارف کی سلائیڈز چلنی شروع ہوئیں اور میں نے ایسا سٹارٹر لگایا کہ← مزید پڑھیے