اکتوبر 13, 2012 - ایم بلال ایم
48 تبصر ے

ملالہ دراصل ہے کون؟

کچھ دن پہلے 9 اکتوبر 2012ء کو نامعلوم حملہ آور کی فائرنگ سے اپنی دو ساتھیوں سمیت زخمی ہونے والی ملالہ یوسف زئی دراصل ہے کون؟ اس بارے میں میڈیا اور مختلف نکتہ نظر کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات کا بھی اظہار کرتا ہوں۔

میڈیا کے مطابق جنوری 2009ء کے بالکل شروع میں کسی تحریک طالبان پاکستان نامی مسلح گروہ نے سوات میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگاتے ہوئے اعلان کیا کہ 15 جنوری 2009ء کے بعد لڑکیاں سکول نہ جائیں۔ یہ اعلان پہلے ہوا جبکہ سکول نہ جانے کی ”ڈیڈ لائن“ 15 جنوری دی گئی۔ ایسے حالات میں سوات سے تعلق رکھنے والی ایک ساتویں جماعت کی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے 3 جنوری 2009ء سے اپنی ڈائری لکھنی شروع کی، پھر یہ ڈائری ”گل مکئی“ کے قلمی نام سے بی بی سی اردو پر 9 جنوری 2009ء سے قسط وار شائع ہونی شروع ہوئی اور 13 مارچ 2009ء کو غالباً آخری اور دسویں قسط شائع ہوئی۔ اس ڈائری کے تمام لنکس تحریر کے آخر پر دے رہا ہوں۔ شورش زدہ علاقے کی دیگر کئی گمنام بچیوں کی طرح ایک گمنام ملالہ بھی تھی، مگر اسے اپنے اور اپنے علاقے کے حالات کے متعلق ڈائری لکھنے اور بی بی سی اردو پر شائع ہونے سے عالمی شہرت حاصل ہو گئی۔ بی بی اسی اردو کے مطابق اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ملالہ یوسف زئی کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے لگیں۔ ملالہ پر بین الاقوامی میڈیا کے دو اداروں نے فلمیں بھی بنائیں۔ نومبر 2011ء میں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا کہ ملالہ یوسفزئی کو سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے (جس کی بنیاد غالباً بی بی سی اردو پر ڈائری لکھنا تھا) پر ”امن ایوارڈ“ اور پانچ لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے بھی پانچ لاکھ روپے کا اعلان کر دیا۔ ہمارا میڈیا تو کہتا ہے کہ ملالہ کو ستارہ جرات بھی دیا گیا جبکہ اس کا کوئی مستند حوالہ مجھے نہیں مل سکا۔

یہ تھی جی ملالہ یوسفزئی کی مختصر کہانی۔ میری رائے کے مطابق اس بارے میں سب سے اہم اور مضبوط نکتہ نظر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ ڈائری کسی ساتویں جماعت کی طالبہ کی لکھی ہوئی نہیں بلکہ یہ کسی منجھے لکھاری کی لکھی ہوئی ہے۔ گو کہ لکھاری نے کوشش کی ہے کہ تحاریر سے بچپنا نظر آئے مگر پھر بھی تحریر میں پختگی واضح نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی جگہوں پر نہایت مختصر انداز میں ایسے طنز اور تجزیے ہیں جو ایک بچہ پیش نہیں کر سکتا۔

ایک نکتہ نظر یہ بھی ہے کہ بالفرض یہ ڈائری واقعی ساتویں جماعت کی طالبہ ملالہ یوسف زئی کی ہی لکھی ہوئی تھی تو پھر بھی اس طرح قلمی نام سے ڈائری لکھنا اور اس کا شائع ہونا کوئی انوکھا، اچھوتا یا جرأت والا کام نہیں اور نہ ہی یہ کوئی ایسا کارنامہ تھا جو سوئے ایوانوں کو جھنجھوڑ سکے اور ان کی توجہ اپنی طرف دلاتے ہوئے اتنی شہرت حاصل کر پائے، کیونکہ یہ تو ایک بچی کے اور اس کے علاقے کے حالات تھے۔ اس ڈائری میں ایک بچی کی تعلیم سے تھوڑی بہت محبت تو ظاہر ہوتی ہے مگر اس میں تعلیم کے لئے آواز بلند کرنے اور جرأت والی کوئی بات نہیں تھی۔ ڈائری تو ایک خبرنامہ کی طرح تھی جس میں لکھا تھا کہ آج طالبان نے ایسا کیا، آج فوج نے ویسا کیا، یہ یہ ہوا اور میرا دل یہ یہ کرتا ہے۔ اوپر سے اس ڈائری میں طالبان مخالف کچھ تھا ہی نہیں، اگر کہیں پر طالبان کا ذکر ہے تو وہ بالکل اسی انداز میں کیا گیا ہے جیسے عام خبرنامے میں کیا جاتا تھا/ہے۔ البتہ کہیں کہیں چند جملوں میں فوج پر تنقید ضرور تھی۔

ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ جب سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر ملالہ فرضی نام (گل مکئی) سے بی بی سی اردو پر لکھ رہی تھی تو پھر عین جنگ کے دنوں میں بھی اور اس کے بعد بھی ملالہ کا نام کس نے اور کیوں عام کیا؟ یعنی اس حقیقت سے آخر کس نے اور کیوں پردہ اٹھایا کہ گل مکئی اصل میں ملالہ ہے۔ چلو ایسا کر بھی دیا گیا اور ملالہ کو ضرورت سے زیادہ مشہور کر دیا گیا تو پھر اس کی حفاظت کا آخر کیوں بندوبست نہ کیا گیا؟ جب کہ ابھی تک شرپسندوں کا زور موجود ہے۔

اس کے علاوہ کچھ لوگوں کا خیال ہے، ڈائری جو کہ ایک عام انسان کی تھی اور اس میں کوئی انوکھا اور اچھوتا نہیں تھا مگر پھر بھی پہلے اس ڈائری کے ذریعے ملالہ کو شہرت دلوائی گی، پھر بچوں کی تعلیم کے حقوق پر بولنے کے نام پر ملالہ کو منظرعام پر لایا گیا، پھر شہرت حاصل کرنے (کروانے) کے بعد ملالہ یوسف زئی کی باتوں اور سوچ کا رخ بچوں کی تعلیم کی بجائے کسی اور جانب کر دیا گیا یعنی طالبان مخالفت کی طرف کر دیا گیا۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ ایک بچی کو جب اس انداز میں پیش کر دیا گیا کہ وہ طالبان مخالف ہے تو پھر اسے سکیورٹی کیوں نہ دی گئی؟ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے۔

جو لوگ پاکستان میں میڈیا اور حکومتی ایوانوں تک رسائی کے معاملات جانتے ہیں، ان میں سے بعض کا نکتہ نظر یہ بھی ہے کہ شورش زدہ علاقہ جہاں ہر کسی کو اپنی عزت، جان اور مال وغیرہ کی پڑی ہے، وہاں کی ایک عام لڑکی کا بی بی سی اردو تک اپنی تحاریر پہنچانا اور پھر ان کا شائع ہو جانا، ناممکنات کے قریب ہے۔ دراصل بڑے اداروں کو ایسے ہزاروں بچے لکھتے ہیں، ان میں سے منتخب شدہ تحاریر زیادہ سے زیادہ بچوں کے صفحات میں تو شائع ہو سکتی ہیں مگر اس طرح نمایا جگہ حاصل نہیں ہوتی۔مگر یہاں یہ کیونکر ممکن ہوا؟

ان سب باتوں کے جواب میں کچھ لوگ دبے الفاظ میں یہ بھی کہتے پائے گئے ہیں کہ ملالہ یوسف زئی ضرور کھاتے پیتے یا پہنچ رکھنے والے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے یا اس کے باپ کے اِدھر اُدھر کافی تعلقات ہیں۔ جس وجہ سے وہ اس کام سے شہرت حاصل کر پائی۔ یا پھر کچھ اداروں کا یہ کوئی پہلے سے طے شدہ کھیل تھا، جو کھیلا گیا اور ملالہ یوسف زئی کو مہرے کی طرح استعمال کیا گیا۔ کہنے والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ عین ان دنوں میں جب عمران خان نے عالمی میڈیا کی توجہ ڈرون حملوں کی طرف دلانے کی کوشش کی تو دوسری طرف یہ کھیل چلا کر رائے عامہ دوسری طرف ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کے لئے اسامہ بن لادن والی کہانی سب سے اہم تھی مگر اس پر بھی عالمی اداروں نے اتنے شادیانے نہیں بجائے تھے جتنے ملالہ یوسف زئی والے پر رو رہے ہیں۔ کہنے والے تو کہہ رہے ہیں کہ بی بی سی اردو تو جیسے ”ملالہ بی بی اردو“ بن گیا ہے۔ پاکستان میں آئے دن کئی بچے دھماکوں، ڈرون حملوں اور اس جنگ کی نذر ہو جاتے ہیں، مگر اس عالمی میڈیا کو وہ ہزاروں بچے نظر نہیں آتے مگر اس معاملے پر تو ایسے چیخ رہے ہیں جیسے ملالہ کوئی پاکستانی نہیں بلکہ امریکی ہے۔

اب آتا ہوں اپنے نکتہ نظر کی طرف

ہر چیز سے بالا تر ہو کر سب سے پہلے میں ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملے کی ہر حوالے سے مذمت کرتا ہوں۔ ملالہ یوسف زئی کے ساتھ ساتھ میں ہر اس ڈرون یا کسی بھی حملے کی مذمت کرتا ہوں جس میں کسی بھی بے گناہ انسان خاص طور پر بچوں کو نقصان پہنچے۔ طالبان، پولیس، فوج یا کسی بھی ادارے کے ہاتھوں اگر کوئی ماورائے عدالت قتل ہوتا ہے تو میں اس کی بھی شدید مذمت کرتا ہوں۔ میں ہر اس حملے کی مذمت کرتا ہوں جس میں غیر مسلح عام شہری مارے گئے۔ یہ حملے چاہے امریکہ نے کیے ہوں یا پاکستان نے، یہ حملے چاہے طالبان نے کیے ہوں یا کسی اور نے، میں ان سب کی شدید مذمت کرتا ہوں۔

ہمیں خبریں میڈیا کے ذریعے مل رہی ہیں اور میڈیا کتنے پانی میں ہے یا کیچڑ میں کس حد تک گرا ہوا ہے، یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں، اس لئے میں کس پر اعتبار کرتا ہوں اور کس پر نہیں کرتا، اس حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ جہاں تک ہم عام شہریوں کی سوچ جاتی ہے، یہ عالمی ادارے اس سے بھی اوپر کے کھیل کھیلتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا کہ کہیں پر یہ بادشاہت کو سلام کرتے ہیں تو کہیں پر جمہوریت کا رونا روتے ہیں۔ کہیں پر لاکھوں بچوں کو لٹل بوائے اور فیٹ مین (جاپان پر گرائے جانے والے ایٹم بم) سے ہمیشہ کی نیند سلا دیتے ہیں تو کہیں پر ایک پاکستانی بچی کا دکھ بھی ان کے سینوں میں جاگ اُٹھتا ہے۔

خیر اپنے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ ملالہ یوسف زئی میرے ملک کی ہے، ملالہ ایک کم سن بچی ہے اور اسے ”ان“ کھیلوں میں استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ اگر یہ ڈائری واقعی ملالہ نے لکھی تھی تو پھر بھی اس میں ایسا کچھ نہیں تھا کہ ملالہ پر اس حد تک حملہ کیا جاتا اور بالفرض اگر کچھ تھا بھی تو کسی کو کوئی اختیار نہیں کہ اس پر حملہ کرے کیونکہ اس نے قلم سے لڑائی کی تو قلم کا جواب قلم سے ہوتا ہے نہ کہ گولی سے۔ بالفرض اگر ملالہ یوسف زئی کو کسی ادارے نے مہرے کی طرح استعمال کیا ہے تو پھر میں ہر اس اس بندے یا ادارے کی اس حرکت کی مذمت کرتا ہوں جس نے اس بچی کو استعمال کیا۔

اے ملالہ یوسف زئی! تو بولے، تیرا قلم بولے یا بی بی سی بولے مگر تو اب اس کھیل کا اہم کردار بن چکی ہے۔ تم ایک ملالہ نہیں بلکہ اس ملک کا ہر ہر بچہ میرے لئے ملالہ ہے اور میں ہر محنتی بچے کو سلام کرتا ہوں۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود حکومت نے پاکستانی بچوں کی حفاظت کا بندوبست نہ کیا، پھر بھی بچے سکول جاتے ہیں۔ میں بچوں کی اس بہادری کو سلام کرتا ہوں۔ میرے ملک کے یا کسی بھی ملک کے بچوں پر حملہ کرنے والے، نہایت بزدل اور بے غیرت لوگ ہیں، میں ان کی اس حرکت اور سوچ پر لعنت بھیجتا ہوں۔ میرے ملک کا ہر ہر بچہ، وہ سوچ ہے جو ایک امید سحر ہے۔ یہ بچے میرے وطن کی ایک ایسی صبح ہو جو ایک خوبصورت دن کا پیغام دے رہی ہے۔ یہ شہرت، دولت اور یہ حکومتی ستارے، بچوں کے آگے کچھ بھی نہیں کیونکہ بچے خود روشن ستارے ہیں۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ تمام بچوں کو مکمل صحت اور بے شمار خوشیاں دے اور یہ یونہی روشن ستاروں کی طرح چمکتے رہیں۔۔۔آمین

میرے اللہ ہم پر رحم کر اور ہمیں بہتر سے بہتر اور اچھے سے اچھا کرنے کی ہمت دے۔ یا اللہ اس بچی کی حفاظت فرما اور اسے مکمل صحت دے۔ ملالہ کی ساتھی زخمی لڑکیوں کو بھی مکمل صحت دے۔ اے میرے پروردگار میرے ملک کے تمام بچوں کی حفاظت فرما اور انہیں اتنا لائق کر کہ یہ ہمیں غربت و ظلمت کے اندھیروں سے باہر نکال دیں۔۔۔آمین

گل مکئی کی ڈائری کا باریکی سے جائزہ لینے اور کئی دفعہ پڑھنے کے بعد میری ذاتی رائے یہ بنی ہے کہ یہ ڈائری کسی کم سن بچی کی لکھی ہوئی نہیں بلکہ کسی منجھے لکھاری نے لکھی ہے۔ مجھے یہ سب ایک کھیل جیسا لگ رہا ہے اور ملالہ کو اس میں ایسے استعمال کیا جا رہا ہے کہ اس بیچاری کو خود نہیں پتہ کہ وہ کن کے ہاتھوں کن مقاصد کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔ بہرحال یہ میری ذاتی رائے ہے اور آپ کا اس سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔ ملالہ یوسف زئی (گل مکئی) کی ڈائری کے تمام لنکس دے رہا ہوں۔ آپ بھی پڑھیے اور سوچئے کہ آخر اس میں ایسا کیا تھا کہ جو شرپسند اس حد تک گر گئے یا اس فرضی نام سے لکھی جانے والی ڈائری میں جرأت اور بہادری والی ایسی کون کون سی باتیں تھیں جو اس بچی کو اس خوف و خطر ناک مقام تک لے آئیں۔ اگر کچھ سمجھ آئے تو مجھ جیسے ان پڑھ کو بھی سمجھائیے گا۔ اللہ والو! اب اس بات کو تنقید نہ سمجھ بیٹھنا، یہ معاملہ اتنا الجھا ہوا ہے کہ مجھے واقعی سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ سب کیوں اور کس لئے ہو رہا ہے۔

ملالہ کی ڈائری:- پہلی قسطدوسری قسطتیسری قسطچوتھی قسطپانچویں قسطچھٹی قسطساتویں قسطآٹھویں قسطنویں قسطدسویں قسط

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 48 تبصرے برائے تحریر ”ملالہ دراصل ہے کون؟

  1. بلکل بہت اچھا کالم لکھا ہے اور ابھی تک کی آخری خبروں تک تو بلی تھیلے سے باہر آہی گئی ہے رحمان ملک صاحب وزیرستان میں آپریشن کا عندیا دے دیا ہے اور لگتا ہے یہ سارا ڈرامہ بھی اسی لیے کیا گیا تھا ۔

  2. میرے خیال مین ساراہ چکر شمالی وزیرستان مین آپریشن کرنا ہے اور مین آپ سے یہ بھی کہ دوں کہ اگر شمالی وزیرستان مین آپریشن ہوا تو پاکیستان تباہ ھہ جاہے گا البتہ امریکہ اور انڈیا اور ہماری منافق میڈیا بہت خوش ہو گی۔

  3. پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ کے ایمان افروز نعرے کو تعلیم کے سوا مطلب کیا جیسے ملالہ برانڈ نعرے میں بدل کر اسلام کو جہالت کا مذہب قرار دینے کی دجالی کوشش یا امن کی آشا کے گیت سنا کر کشمیر کاز بھلا کر خطے میں بھارتی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے کوشاں ایک میڈیا گروپ کے جاہلوں کو کون یاد دلائے کہ قرآن حکیم توحید و رسالت کے بعد اقرا یعنی حصول علم کا ہی درس دیتا ہے۔ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم ماں کی گود سے قبر تک اور چین کے سفر تک علم حاصل کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ روشن خیالی کے اندھیروں میں گم اورڈالروں کے نشے میں رقصاں و مست صحافتی لوگ بھول رہے ہیں کہ البیرونی،جابر بن حیان، عمر خیام، ابوالقاسم فرناس اور ذکریا الرازی جیسے اہل علم اہم سائینس دان لا الہ الا للہ کا ورد کرنے والے راسخ العقیدہ مسلمان ہی تھے۔ احباب اپنی تمام سیاسی ہمدردیوں کی عینک اتار کر صرف ایک مسلمان اور سچا پاکستانی بن کر ذرا سوچیےکہ بارک اوبامہ اور سرحدی گاندھی باچا خان کو اپنا ہیرو قرار دینے والی ملالہ جیسی معصوم بچیوں سے خلاف اسلام ڈائریاں کون اورکیوں لکھواتا ہے اور پھر تمام حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئےخود اندازہ لگایئےکہ انہیں اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر کے حملےکا خود ساختہ ڈرامہ سٹیج کرنے والوں کےاصل مقاصد اوراگلےخوفناک پلان کیا کیا ہو سکتے ہیں

    1. البیرونی،عمرالخیام اور زکریا الرازی راسخ العقیدہ مسلمان؟؟؟؟ ارے بھائی ان کےنام ہی سنے ہیں یا انکا لکھا ہوا کبھی پڑھا بھی ہے، زکریا الرازی اور عمر الخیام نے جو باتیں اسلام کے بارے میں لکھی ہیں اگر یہاں لکھ دوں تو مجھ پر توہین رسالت کا مقدمہ بن جائے گا اور مولوی مجھے قتل کرکے چھوڑیں گے۔ بھائی لکھنے سے پہلے کچھ تحقیق ہی کرلیا کریں۔

  4. بہت خوب۔ واقعی میں معاملہ اتنا الجھا ہوا ہے بلکہ ہمارے اپنے میڈیا کی حرکتوں سے تو یہ اور زیادہ الجھ گیا ہے۔ خیر یہ تو وقت ہی بتا سکے گا کہ اس سب معاملے کو اتنا طول دینے کے پیچھے کیا حکمت عملی چھپی تھی۔

  5. مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اوباما کو امریکی الیکشن کیلئے کچھ بھینٹ چاہیئے تھی، اور اس کا بندوبست پاکستان کی سرزمین سے ہونا بھی ضروری تھا۔ یہ سب کچھ اسی مکروہ کھیل کا حصہ ہے۔

  6. بندے سیانے ہو گئے ہیں ، سوشل میڈیا پر زیادہ کوڈی کوڈی نظر نہیں آئی یا پھر میں بے خبر ہوں ۔.
    بہرحال اتنی کوریج ، ہیلی کاپٹر ، صدر ، وزیر اعظم ، حتٰی کہ بوٹوں والے چوہدری تک دوڑتے بھاگتے پھر رہے ہیں تو دال میں یقینا کچھ کالا ہے ، ورنہ پھر ساری ملالائیں کہیں ایک طرف اکٹھی محفوظ کر کے باقی روم کو آگ لگا دیں اور بانسری بجائیں۔.

    1. ظہیر اشرف صاحب آپکی بات کا اشارہ بلکل درست سمت ہے – یہاں دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کلی ہے – اور دراصل وزیرستان پر حملے کے لیے رہ ہموار کی جا رہی ہے – اللہ خیر کرے !

  7. ملالہ یوسف زئی!
    اس بچی کی صحت و زندگی کے لیے جتنی بھی دعائیں کی جائیں کم ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ جو بچیاں اس حملے میں زخمی ہوئیں، کیا وہ اسی قوم کی بیٹیاں نہیں تھیں، یا وہ ان کی مائیں ان کو ملالہ کی ماں سے کم چاہتی تھیں؟
    ڈرون حملوں میں کتنے بچے شہید ہو چکے ان کا ذکر کہاں گیا؟
    ایک بچی ایک دور دراز قصبے سے اٹھتی ہے، سیکورٹی کے پیش نظر فرضی نام سے ڈائری لکھتی ہے، پھر اس کے نام کو اوپن کر دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر اس کے کام کو سراہا جاتا ہے، انٹرویو کیے جاتے ہیں جس میں یہ بچی اپنے آئیڈیلز کے طور پر 3 نام لیتی ہے۔ بےنظیر بھٹو، باچا خان، باراک اوبامہ۔ خاص کر اوبامہ کا نام اس کی عالمی امن کی کوششوں کی وجہ سے۔۔۔۔!
    پھر یہ بچی کچھ پس پردہ چلی جاتی ہے۔ ملک میں ڈرون حملوں کے خلاف ایک دفعہ پھر سے لہر اٹھتی ہے ایسے میں ایک حملہ ہوتا ہے اور ذمہ داری طالبان قبول کر لیتے ہیں۔ اس واقعہ کو ملکی و انٹرنیشنل میڈیا میں ہائی لائٹ کیا جاتا ہے۔ ڈرون حملوں اور وزیرستان آپریشن کی حمایت کی باتیں چل نکلتی ہیں۔
    کیا کہیں کچھ سمجھ نہیں آتا۔ 😕

  8. یہ باتیں تو واضع ہو گئیں کہ یہ سب ایک پری پلانڈ ڈرامہ تھا۔ مگر افسوس ہمارےسب کچھ سمجھنے کے باوجود آخر میں وہ مقصد حاصل کر لیتے ہیں اور ہم تبصرے کرتے رہ جاتے ہیں۔ افسوس صد افسوس

  9. محترم م بلال م : بعداز سلام عرض ہے کہ جس وقت لڑکیوں کے سکول تباہ ہورہے تھے بی بی سی والوں نے شاید اس کے خلاف آواز اُٹھانے کا منصوبہ بنایا انہوں نے اپنے خیبر پختون کے ایک نمائندے کو اس کام پر معمور کیا کہ ایک ایسی لڑکی منتخب کریں جس کے خیالات لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں ہوں اس نے ملالہ کو منتخب کیا وہ ملالہ سے انٹرویو کی شکل میں اس کے خیالات معلوم کرتا تھا پھر ان خیالات کو وہ ڈائری کی شکل میں لکھ کر بی بی سی پر شائع کراتا تھا ۔۔۔ ملالہ حملے پر اس نمائندے نے بی بی سی کو انٹرویو میں بتایا کہ ملالہ کی اسکی بیٹی سے اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی ۔۔۔
    میڈیا ہر واقعہ کے بارے میں اپنی ریٹنگ میں اضافے کیلئے ایسے بے تُکے مفروضاتی سوال اُٹھاتا ہے کہ جس سے “اصل حقیقت بھی شک اور سازش”۔۔ کے دائرہ میں سفر کرنے لگتی ہے ۔۔۔میڈیا کی طرح ہمارے مذہبی اور سیاسی رہنما بھی ہر حقیقی واقعہ کو واقعہ سمجھنے کے بجائے۔۔ اس میں سے اپنے مطلب کی سازش نکال کر قوم کو اس سازش سے آگاہ کرتے ہیں ۔۔۔ غرض کہ: میڈیا ، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے مل کر، آج کے انسانوں کو بے یقینی کی بیماری میں مبتلا کردیا ہے۔۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔احسان مند ( ایم۔ڈی) ۔

    1. ملالہ یوسفزئی کے ساتھ دو اور لڑکیاں بھی زخمی ہوئیں ہیں۔ہمارے نام نہاد میڈیا، سیاستدانوں اور پوری قوم میں سے کسی نے انکے لئے آواز نہیں اٹھائی، حتی کہ ان دو لڑکیوں کے نام تک کسی کو معلوم نہیں،کیا صرف ملالہ یوسفزئی مسلمان ہے؟ کیا صرف اسی کیلئے آواز اٹھانا فرض ہے؟ کیا میڈیا ،سیاستدانوں سمیت کسی نے بھی انکے ساتھ اظہار ہمدردی نہیں کیا، کیا یہ ہم سب کا یہ دوہر ا معیار نہیں ہے؟؟؟

  10. ہم پردیسی تو صرف سوشل نیٹ ورک سے ہی ملالہ کے معاملے پر دو رائے سن رہے تھے یا پھر اخبارات سے شور سن رہے تھے، اصل معاملہ سے آپ نے روشناس کرایا۔ بی بی سی پر جب یہ ڈائری چھاپی جا رہی تھی میں‌اس وقت اس کو اول باول پڑھ رہا تھا مگر اس کا صحیح معنوں‌میں تجزیہ اب دیکھ پایا ہوں‌آپ کے اس مضمون کی وساطت سے۔ جزاک اللہ خیرا۔ اللہ رکھے زور قلم اور زیادہ

  11. ہم ملالہ یوسف زئی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور آئے دن کوئی نہ کوئی ایسے حملوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اللہ ہمارے ملک کی تمام بچیوں کی حفاظت کرے۔ آمین

  12. ہم میڈیا ، لبرلز، این جی اوز اور حکومت پر لعنت بھیجتے ہیں جنہوں نے معصوم بچی کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا اور عوام کو بیوقوف بنایا ۔ اور اب عالمی و قومی میڈیا کی حمایت سے پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

  13. جب کوئی اپنا مرتا ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے ؟
    مگر لال مسجد میں شہید ہونے والی پاکباز بچیاں نہ تمھاری اپنی تھیں نہ پاکستانی خبیث میڈیا کی …
    تم لوگوں کی اپنی تو صرف ملالہ ہے اباما جس کا ہیرو ہے اور پردہ جس کے نزدیک انتہاپسندی کی علامت……..
    کچھ تو خیال کرو میڈیا والو!

  14. بھئی جب آپ کو خود علم نہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے تو سیاسی ٹاک)یعنی سب زاویے بتا بتا کر ٹائیں ٹائیں فش(نتیجہ کچھ نہیں تو کمپیوٹر کی روشنائی ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

    1. بھائی جان ضرورت یہ تھی کہ ہم بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے اور آپ لوگوں کے سامنے سارے نکتہ نظر رکھ دیئے تاکہ آپ کچھ سمجھ بوجھ رکھتے ہو تو اس کو سمجھ کر ہمیں بھی سمجھاؤ مگر آپ بھی اس ”ٹائیں ٹائیں فش“ میں اپنا سیاسی بیان چھوڑ کر چلتے بنے۔ مزہ تو تب تھا جب آپ ہمیں کچھ سمجھاتے کہ اصل معاملہ کیا ہے۔
      ویسے اگر آپ کے فارمولے پر چلیں اور چپ رہیں تو اسی چپ کی وجہ سے آج ہمارا یہ حال ہے، اگر عوام بولنا اور کچھ سمجھنا چاہ رہی ہے تو فتوی مل جاتا ہے کہ چپ رہو۔

  15. میں بھی آپ کی طرح اصل حالات اور جائے وقوعہ سے دور ہوں۔چپ رہنے کو ہرگز نہیں کہا لیکن جب لکھنے سے فضا صرف دھواں دار ہو تو نہ لکھنا ہی بہ تر ہے۔

    1. آپ نے بالکل بجا فرمایا کہ جب لکھنے سے فضا صرف دھواں دار ہو تو نہ لکھنا بہتر ہے۔ اگر آپ غور کریں تو میں نے مختلف پائے جانے والے نکتہ نظر لکھے ہیں اور باقاعدہ سرخی کے ساتھ اپنا نکتہ نظر بھی واضح کیا ہے کہ جس بات کا علم نہیں اس بات سے فی الحال مجھے کوئی لینا دینا نہیں مگر میں اس بچی پر حملہ کی ہر حوالے سے مذمت کرتا ہوں۔ ویسے فضا دھواں دار تب ہوتی جب میں حالات نہ جانتے ہوئے بھی اپنے فتوی صادر کرتا جبکہ میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ مشاورت چاہی ہے۔

  16. نیٹ پر سرچنگ کے دوران اچانک اور پہلی بار آپ کے بلاگ پر آیا ہوں ، ڈیزائن اور مواد ہر اعتبار سے پسند آیا ہے ،ملالہ پر آپ کی تحریر” چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی “کے موسموں میں ایک الگ سے تازہ ہوا کا جھونکالگا،یقین کیجیے یہی باتیں ہمارے ذہن میں بھی گھومتی تھیں مگر جس مرتب انداز میں سب کچھ شیشے پر اتارا ہے وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ، ہماری درخواست ہے یہ تحریر پرنٹ میڈیا پر بھیج کر عام لوگوں تک حقائق پہنچادیں ❗

  17. سلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ سب میڈیا کا حرامی پن ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 65 سال ک بعد بھی ہم انگریز کی غلامی سے نہیں نکل سکے۔۔۔۔ جس چیز کو مغربی میڈیا غلط بتاتا ھے ہم اسکو غلط اور جسکو وہ صحیح بتاتا ہے ہم اسکو صحیح سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں ہم کب آزاد ہونگے
    عافیہ۔ لال مسجد۔برما۔ ڈرون حملوں اور امریکا اور اسکے ٹکڑوں پر پلنے والے اب تک لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرچکے لیکن کسی چینل کو غیرت نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  18. کیا آپ نے نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ پر موجود ایک ڈاکومنٹری فلم دیکھی ہے جس میں ملالہ اور اسکا والد پاکستانی فوج کا تمسخر اڑا رہے ہیں، علاوہ ازیں ملالہ اور اس کی والد کی امریکی آفیشیلز سے ملاقاتیں اور ان سے شمالی علاقوں میں آپریشن کی درخواست۔۔۔۔ یہ سب تو یہی ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں نے پاکستانی فوج کو بدنام کرنے کے لیے اور امریکی آپریشن کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا ایمان فروخت کیا ہے، اور میڈیا سے وکلا تک سیاسی جماعتیں اور صحافی جس انداز میں ملالہ کے لیے پاگل ہو رہے ہیں ان سے یہی لگتا ہے کہ خوب لفافے تقسیم ہوے ہیں۔

    1. جی ہاں! یہ ڈاکیومینٹری باقاعدہ بنوائی گئی ہے جس میں ملالہ کے والد اپنے بچی کو جو ڈاکٹر بننا چاہتی ہے سیاست دان بنانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔امریکی آفیشلز سے ملاقاتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ ابتدا میں بچی کی جھجک اور بعد کا اعتماد منصوبہ بندی کا نتیجہ لگتا ہے۔ملالہ کے ساتھ اچھا نہیں ہوا لیکن وہ بھی اپنی اداؤں پہ غور کریں۔ملالہ کے والد نے بیٹی کو استعمال کیا اور اپنی بیوی کو کیمرے کے سامنے آنے سے روکا، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

  19. السلام علیکم
    اُس ڈاکیومینٹری میں یہ بھی ہے کہ ملالہ اور اسکا والد امریکی اہلکاروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ سوات میں آپریشن کریں۔
    ملالہ بچی نہیں اپنے والد کی طرح اپنے ہر فعل کی ذمہ دار ہے۔ وہ بالغہ ہے۔ اسکے والد اور خود اسے اسلام اور پاکستان دشمنی کی وجہ سے کیوں نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ دشمن تو دشمن ہوتا ہے مرد ہو یا عورت جبکہ انہیں تین مرتبہ متنبہ بھی کیا گیا۔ مگر وہ باز نہ آئے۔ اور یہ بچی والی کہانی تو اب بند ہونی چاہئے رمشا مسیح کے کیس کو بھول گئے؟
    جہاں تک شمالی وزیرستان کے آپریشن کا تعلق ہے تو اس واقعے سے اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہونے والا، طالبان اب نہیں لڑ سکتے ہمارے آرمی والے پہلے بہت پٹ چکے۔
    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/10/121012_taleban_warning_ha.shtml

  20. السلام علیکم
    بہت اچھا لکھا ہے بلال صاحب۔
    میں آپ کے ہر نقطہ نظر سے مکمل اتفاق کرتا ہوں مگر میرا خیال ہے کہ یہ سارا ڈرامہ ہے۔
    ملالہ کیساتھ 2 اور بچیاں بھی تھیں ان کا کوئی ذکر کیوں نہیں کر رہا کیا وہ ہماری بچیاں نہیں ہیں؟
    اور یہ سارا ڈرامہ آپریشن کرنے کیلئے کیا گیا ہے جس طرح جعلی ویڈیو والا ڈرامہ تھا اور دوسری بات وہ فلم سے توجہ ہٹانا ہے جس میں یہ سب بے غیرت مجھے کامیاب ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

  21. کافی بہتر لکھا ہے اور ہر مکتبہ فکر کے نقطہ نظر کو بیان کردیا۔ واقعہ اتنا گھمبیر ہے کہ آسانی سے فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
    لیکن دال میں کچھ کالا کالا نظر آرہا ہے۔

  22. مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ امریکا اور ان کے ہم نوا کب سے وزیرستان میں آپریشن کرنے کا کہہ رہے تھے مگر ہماری فوج کسی ملالہ کی منتظر کیوں رہی؟ آپریشن کیے بغیر تو ان کی جان نہیں چھوٹ سکتی تھی۔ پھر قوم کی ایک بیٹی کو اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے بھینٹ کیوں چڑھایا؟ پھر صرف ایک جان کی پے مالی کا ہی سوال نہیں‘ یہ لوگ مذہب اسلام کے پیچھے بھی یوں ہاتھ دھو کر پڑ جاتےہیں جیسے اصل قصور ہی اسلام کا ہو۔

  23. مجھے لگتا ہے کہ یہ حملہ حکومت نے خود کروایا ہے۔ ہیلی کاپٹر ، سی ایم ایچ میں آپریشن، سر پر گولی پھر بھی جان بچ جانا، یکا یک میڈیا کے ایک ہفتے تک ٹسوے بہانا، زرداری اور بلاول کو بھی رحم آ جانا، حملہ آور کا پکڑے نہ جانا، الزام فورا ٹی ٹی پی پر لگا دینا، تحقیقات نہ کروانا، علاج کے بعد ملالہ کو بیرونِ ملک دورے کروانا، اور مولویوں کے غیر شرعی کے فتوے۔۔۔۔ سب کیا لگتا ہے کہ ہمارے ملک کی ایک بڑی طاقت اس میں خود ملوث ہے۔ اوباما اور بانکی مون اور برطانیہ اور فرانس کی حکومتی سطح پر مذمت ۔۔۔۔۔ ہو سکتا ہے حکومت نے یہ بات ان تک پہنچائی ہو ثابت کرنے کے لئے کہ ہم مظلوم ہیں، دہشت گرد اچھے لوگوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں! ہمیں پیسہ دو اور حکم بھی کہ ہم ان دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیں۔ پیسے سے ہمارا پیٹ بھرے گا اور حکم سے آپ کا پاکستان میں آپریشن کا شوق پورا۔۔۔ اب ملالہ جرمنی اور برطانیہ کی سیر کو جائے گی، ان کے میڈیا کو انٹر ویو دے گی، چھا جائے گی، علمی سطح پر پاکستان میں آپریشن کا مطابہ زور پکڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  24. acha he.kafi had tak ap se itifaq krta hu.me b is par kuch resarch kr rha hu, me ne malala k kuch interview sune he. jis se masla kafi hal hojata he.wo pashtoo me he,shayd ap ko smj nhi ay.Baqi fb pa jo fazool qisam k aateraz ky jate he, ye wo loog krte he, jinho ne siry se is dairy ko phara hi nhi, tuhmat lagatee he ak masoom par

  25. محترم! آپ نے جو انٹرویوز دیکھی ہیں ان کاحوالہ دیں. اگرہمارے محترم م بلال م کوپشتو نہیں آتی تو دوسرے ناظرین تو ہیںجو پشتو سمجھ سکتےہیں. باقی تہمت والی بات ہے تو اب یہ واہیات بندہونی چاہیےکہ وہ معصوم ہےوغیرہ. اس طرح کےلوگوں کو ہمارا پختون معاشرہ ناسور سمجھتاہےجو صرف پیسوںاور شہرت کےلیےاپنی بیٹیوں کو استعمال کرتےہیں. ‏ ANP‏ کاانجام سب کےسامنےہے. ایسےبزدل، احمق اورحریص لوگوںکی ہمارےہاں ایک پائ کی عزت نہیں ہوتی.
    دوسری بات یہ کہ جب تک طالبان کو میڈیا پراپنےنظریات اور راۓکی ایسی آزادی نہیں ملتی جس طرح فوج اور سیکولرمغرب نواز طبقےکو حاصل ہے، اس وقت تک طالبان کو دہشت گرد، انتہاپسند، وغیرہ کہنا کھلی جہالت کےسوا کچھ نہیں. آج اس بات پر سب سےزیادہ زور دیاجاتاہےکۂ طالبان لڑکیوں کی تعلیم کےخلاف ہیں، یہ سراسر جھوٹ اوربکواس ہے. طالبان نےمیرےبونیراور سوات میں نہ کسی اسکول یاکالج کو بندکیا اور نہ کسی کوبموں سےاڑایا. اگر (کسی سرکاری اسکول کو) تباہ بھی کیاہےتوصرف اس وجہ سےکہ ہماری فوج بعد میں ان کو زبردستی بندکراکر اسےتوپ خانہ یا چھاؤنی بنادیتے. آخر ہمیں فوج کا یہ رخ نظر کیوں؟

  26. نہیں آتا. بات لمبی ہے اور وقت کم ہے. صرف اتناکہناہےکہ اگر اس فتنےکےدور میںکوئ حق کامتلاشی ہےتو اسےدونوں فریق کا نکتہ نظر سننا اور دلائل پرکھنے ہوںگے. اس کےبغیر بات/تبصرہ/تجزیہ یا فیصلہ کرنا گمراہی ہی ہے….

  27. اگر امریکہ ڈرون حملے کرکے مجرم ہے تو طالبان
    بے گناہ مسلمانوں کو مار کر معصوم کیسے ہوسکتے ہیں

    اگر امریکہ کا افغانستان پر قبضہ ناجاائز ہے توطالبان
    کا پاکستانی علاقوں پر قبضہ کیسےجائز ہوسکتا ہے

    Hadith
    جو شخص اپنے حکمران میں ناپسندیدہ چیز دیکھے تو چاہئے کہ صبر کرے کیونکہ جو شخص بالشت بھر ریاست کی اطاعت سے نکلا اور اسی حال میں مرا وہ جاہلیت کی موت مرا
    بخاری و مسلم

    Quranic Ayahs
    رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے… 4:93

    جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا…. 5:32

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے… 5:8

    1. السلام علیکم فرید بھائی
      طالبان کا عام لوگوں کو مارنا ٹھوس ثبوت طلب ہے۔
      طالبان نے پاکستانی علاقوں پر قبضہ نہیں کیا بلکہ پاکستان نے آزاد قبائل پر غیر قانونی قبضہ کیا ہے امید ہے آپ آزاد قبائل اور محمد علی جناح کے درمیان ہونے والے معاہدے سے واقف ہونگے۔
      حدیث کے ترجمے میں آپ نے غلطی کی ہے “ریاست” کا لفظ حدیث میں نہیں بلکہ حدیث میں خلیفہ کا ذکر ہے۔ اور زرداری قطعا ہمارا خلیفہ نہیں۔ پھر خلیفہ کے خلاف بھی اگر کھلا کفر دیکھیں تو بغاوت اور اسکی اطاعت سے نکلنے پر امت کا اجماع ہے۔ جیسا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بکاری والی روایت میں ہے۔
      حکمرانوں نے کئی ایک کھلے کفر کئے ہیں مثلا
      1۔ شریعت کو عملا نافذ نہ کرنا۔
      2۔ مسلمانوں کے خلاف کفار کا ساتھ دینا۔
      3۔ مسلمان کے خون کو حلال جاننا۔
      4۔ سود کو جائز قرار دینا۔
      5۔ شرعی احکامات کا انکار اور استھزاء۔
      اور دیگر پر امت کے اجماعی فتاویٰ موجود ہیں مزید آپ خود تحقیق کرسکتے ہیں۔

  28. ملالہ کو استعمال کیا گیا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں کتنی ایسی بچیاں ہیں جو ڈرون حملوں کا شکار ہوئیں اور کسی نے ان کو پوچھا تک نہیں۔حملے کی مذمت کی جانی چائے مگر دوسری دونوں بچیوں کا کیا ہوا اس بارے میں ہمیں بالکل فکر یہ جو کسی بھی طرح مناسب نہیں

  29. ملالہ نہایت ہی بہادر عورت ہے۔
    آپ کو ایک بات بتاتا چلوں کہ جنگ میں بہت سارے سپاہی مارے جاتے ہیں پر اہم اعزاز کم ہی لوگوں کو ملتا ہے۔ لیکن باقی سب گمنام سپاہی ہوتے ہیں۔
    اور یہ ملالہ کے بارے میں بھی کہوں گا۔
    اور امید ہے کہ اس کو اب نوبل پرائز بھی مل جائے ۔۔۔

  30. فوجی بھی کچھ نہیں کررہے ہیں۔وہ پہاڑوں میں اپنے مورچوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔بکریاں ذبح کرتے ہیں اور مزے لے کر کھاتے ہیں۔

  31. آج ہر کوئی ملالہ ملالہ کر رہا ہے جسکا مقصد دوسرے اہم ایشوز سےتوجہ ہٹانا ہے روزانہ کتنی ملالائیں مرتی ہیں ان کا کوئی نام بھی نہیں لیتا

  32. : ملالہ پرتوساری دنیااورمیڈیاچیخ رھی تھی.آج کیوںخاموش ھے؟اگرملالہ قوم کی بیٹی ھےتوکیاجامعہ عربیہ احسن العلوم گلشن اقبال کراچی اورجامعہ اشرف المدارس گلستان جوھرکراچی کے طلباءکرام قوم کے بیٹےنہیں؟
    ملالہ پرحملہ اگرتعلیم پرحملہ ھےکیامدارس کےطلباء پرحملہ تعلیم پرحملہ نہیں؟
    اگردجالی میڈیا خاموش ہے

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *