م بلال م نے بدھ، 28 دسمبر 2011 کو شائع کیا۔
یہ سب ایک تحریر”موجودہ دور میں اردو زبان“ کے جواب میں لکھا ہے۔ لگتا ہے لکھاری کو کچھ باتوں کا علم نہیں تھا جبھی وہ کئی جگہوں پر غلطی کر گئے اور ساتھ ساتھ اردو کمپیوٹنگ کی تاریخ میں کافی کچھ چھوڑ گئے۔ تحریر میں کئی باتیں ایسی ہیں جو میرے خیال میں تھوڑی وضاحت طلب ہیں۔ خیر جتنا کچھ میرے علم میں ہے اس کے مطابق جواب اور وضاحت کر دیتا ہوں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے اتوار، 18 دسمبر 2011 کو شائع کیا۔
ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور یہی ضرورت چیخ و پکار کر رہی ہے لیکن ہمارے اکثر نوجوانوں نے صرف جنسی تسکین کو ہی ضرورت سمجھا ہوا ہے اور اس ضرورت کے تحت دن بدن ”محبت“ کے نئے سے نئے ماڈل ایجاد کر رہے ہیں۔ جیسے موبائلی محبت، انٹرنیٹی محبت اور فیس بکی محبت وغیرہ
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے سوموار، 28 نومبر 2011 کو شائع کیا۔
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو پڑھنے، لکھنے اور اس بارے میں مکمل رہنمائی کے لئے صرف ایک ہی چیز چاہئے اور وہ ہے پاک اردو انسٹالر۔ جب عام صارفین اردو لکھنے کی طرف آئیں گے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ بھی اردو ویب سائیٹ اور بلاگ وغیرہ کو ہو گا۔ وہ اس طرح کہ
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے جمعرات، 27 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
وہ منطق آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے جو ہمارے لئے ترقی کا آسان ترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک دفعہ اردو کو وہ مقام دے کر تو دیکھو، جس کی یہ مستحق ہے، پھر دیکھنا یہ زبان کیسے دنوں میں عروج دیتی ہے۔ نوجوانوں بہت ذہین ہیں، ایک دفعہ بیگانی زبان کی پابندی اٹھاؤ تو سہی پھر دیکھنا یہ کیسے ملک و قوم کے دن بدلتے ہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے منگل، 25 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
کسی قوم کی کتنی تعداد اس سطح تک پہنچتی ہے جہاں وہ اس گلوبل ویلیج کا حصہ بنتے ہوئے گلوبل ویلیج کی زبان اپناتی ہے؟ دنیا گلوبل ویلیج میں شامل ہوتی ہے لیکن ساری دنیا شامل ہوتے ہوئے عام طور پر اپنی زبان اپناتی ہے۔ اس کے بعد جس بندے نے جس سطح تک جانا ہوتا ہے، اس کے مطابق وہ دیگر کوئی زبان سیکھتا ہے
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے ہفتہ، 15 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
سب سے پہلے عرض ہے کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنا آسان ہی نہیں بلکہ نہایت ہی آسان ہے۔ میرے خیال میں سارا مسئلہ ہماری ترجیحات کا ہے۔ فرض کریں اگر کوئی مشکل ہو بھی تو جس کی ترجیح اردو لکھنا ہو وہ ہاتھ پاؤں مار کر لکھنا سیکھ جاتا ہے اور جس نے نہیں لکھنی وہ اس بندے کی طرح جس نے کہا تھا دل تو بہت کرتا ہے جیسے بہانے بناتا ہے
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے بدھ، 15 جون 2011 کو شائع کیا۔
اردو کی انسٹالیشن کو مزید آسان بلکہ بہت ہی آسان بنانے کے لئے ”پاک اردو انسٹالر“ تیار کیا ہے۔ ”پاک اردو انسٹالر“ بغیر ونڈوز کی سی ڈی کے تینوں کام خودبخود کر دیتا ہے یعنی اردو ایکٹیو، اردو کی بورڈ لے آؤٹ اور اردو کے چند ضروری فونٹس انسٹال کر دیتا ہے۔ ”پاک اردو انسٹالر“ انسٹال کرنے کے بعد آپ کے کمپیوٹر میں اردو کی مکمل سپورٹ شامل ہو جائے گی۔ جس سے کسی بھی جگہ اردو بہتر انداز میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ بالکل آسانی سے اردو لکھی بھی جا سکتی ہے۔ کمپیوٹر پر کسی بھی جگہ جہاں دوسری کوئی زبان لکھی جاتی ہے وہاں پر اردو بھی لکھی جا سکتی ہے۔ حتیٰ کہ ای میل، چیٹ اور کسی فائل یا فولڈر کا نام وغیرہ بھی اردو میں لکھ سکتے ہیں»»»
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے بدھ، 10 جون 2009 کو شائع کیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم آج نیٹ گردی کے دوران ایک تحریر ملی جس کا عنوان تھا “گلوبل ویلیج میں انٹرنیٹ کی دنیا کے اثرات” پڑھنی شروع کی تو حیرانی اس بات پر ہوئی کہ تحریر کا زیادہ بلکہ یوں کہیے کہ 95فیصد حصہ انٹرنیٹ کے منفی اثرات پر لکھا گیا تھا۔ حیرت کی بات ہے [...]
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے جمعہ، 2 جنوری 2009 کو شائع کیا۔
کمپیوٹر پر اردو لکھنے اور بہتر انداز میں دیکھنے کے لئے آپ کو تین چھوٹے چھوٹے کام کرنے پڑتے ہیں۔
• اردو کی انسٹالیشن یعنی کمپیوٹر پر اردو کو ایکٹیو کرنا۔
• اردو کی بورڈ لے آؤٹ کی انسٹالیشن۔
• اردو فونٹس کی انسٹالیشن۔
یہ تینوں مراحل بہت ہی آسان اور بالکل چھوٹے چھوٹے ہیں۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے اتوار، 28 دسمبر 2008 کو شائع کیا۔
عام طور پر ہر بندے کا ہاتھ سے لکھنے کا انداز الگ الگ ہوتا ہے۔ کوئی خوبصورت لکھتا ہے تو کوئی عجیب عجیب لکھتا ہے۔ بس اس لکھنے کے انداز کو ہی رسم الخط یعنی فانٹ (Font) کہتے ہیں۔ کمپیوٹر میں بھی لکھائی کے مختلف انداز یعنی رسم الخط (Font) موجود ہوتے ہیں جو ہمیں پسند ہو وہ ہم استعمال کر لیتے ہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»