محفوظات برائے ”معاشرہ“ ٹیگ

ہمارے لئے اردو کیوں ضروری – خلاصہ

م بلال م نے جمعرات، 27 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
9 تبصر ے

وہ منطق آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے جو ہمارے لئے ترقی کا آسان ترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک دفعہ اردو کو وہ مقام دے کر تو دیکھو، جس کی یہ مستحق ہے، پھر دیکھنا یہ زبان کیسے دنوں میں عروج دیتی ہے۔ نوجوانوں بہت ذہین ہیں، ایک دفعہ بیگانی زبان کی پابندی اٹھاؤ تو سہی پھر دیکھنا یہ کیسے ملک و قوم کے دن بدلتے ہیں

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

پاکستان میں ”انگریزیا“ کی بیماری

م بلال م نے جمعرات، 27 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
11 تبصر ے

اگر کوئی علمی مقاصد کے لئے انگریزی سیکھے پھر بھی بات کوئی ہے لیکن ہمارے ایک گروہ کو ”انگریزیا“ کی بیماری ہو چکی ہے۔ یہ بیمار اور غلام ذہن انگریزی کو اعلیٰ مرتبے کی زبان سمجھتے ہیں یعنی ”سٹیٹس سمبل“۔ یہ لوگ اس بیماری کی وجہ سے ”نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے“

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

ہمارے لئے اردو کیوں ضروری ہے؟

م بلال م نے اتوار، 23 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
8 تبصر ے

معاشرہ کی ترقی کے لئے کئی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں اور پہلی تبدیلی سوچ میں کرنی ہوتی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے بعد چاہے خونی انقلاب برپا ہو یا فکری انقلاب لیکن سب سے پہلی شرط سوچ کی تبدیلی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے لئے پہلی شرط زبان کا انتخاب ہے

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

آخری حدوں کو چھوتی ہوئی شدت پسندی

م بلال م نے جمعہ، 21 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
12 تبصر ے

کوئی تو ان شدت پسند گروہوں کو سمجھائے کہ اسلام بہت روشن خیال مذہب ہے۔ بے گناہ انسان کو مارنا جہاد نہیں بلکہ ظالم سے ٹکرانے کو جہاد کہتے ہیں۔ کوئی تو قدم بڑھائے اور ان کا دماغ روشن کرے کہ اسلام عورت کو ملکہ بناتا ہے۔ ہے کوئی جو میانہ روی کا بتائے اور حق کی صدا لگائے

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

شدت پسندی اور معاشرے پر اس کے اثرات

م بلال م نے جمعرات، 20 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
4 تبصر ے

جب ہم کسی کام (چاہے کام اچھا ہی کیوں نہ ہو) کے معاملے میں شدت پسند بنتے ہیں تو ہمارا مقصد صرف وہی ایک کام بن کر رہ جاتا ہے، ہمارے دماغ پر وہی کام سوار ہو جاتا ہے تو ہمیں دنیا کا سب سے اچھا کام وہی لگنے لگتا ہے۔ بس پھر یہاں سے نقصانات شروع ہو جاتے ہیں

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

شدت پسندوں کے جھرمٹ

م بلال م نے بدھ، 12 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
10 تبصر ے

دو گروہ مجھے منفرد نظر آتے ہیں۔ دونوں گروہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں لیکن دونوں میں ایک عادت مشترک ہے اور وہ عادت ہے ”شدت پسندی“۔ میں ایک گروہ کو ”مذہبی شدت پسند“ کہتا ہوں تو دوسرے کو ”روشن خیال شدت پسند“۔ میرے کہنے پر نہ جائیے گا کیونکہ ان دونوں گروہوں کا مذہب اور روشن خیالی سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں

««« مکمل تحریر پڑھیے »»»

شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس