بسم اللہ الرحمن الرحیم
انٹرنیٹ بنانے والے نے بھی کیا زبردست چیز بنا دی ہے۔ ایک وقت تھا تحریک آزادی اور دوسری تحریکوں کے سربراہ اور دیگر ممبران کو دور دراز علاقوں تک سفر کرنا پڑتا، آزادی کا شعور دینے اور اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کے لئے پرنٹ میڈیا کا سہارا لینا پڑتا پھر کہیں جا کر چند لوگوں تک آواز پہنچتی۔ دوسری طرف آج کا وقت ہے جس میں انٹرنیٹ جیسی سہولت دستیاب ہے اور مجھ جیسا پینڈو بھی اگر ہمت رکھتا ہو تو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی آواز چند لمحات میں پوری دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ بلاگ لکھ سکتا ہے، مختلف فورمز پر اپنے حق کی صدا لگا سکتا ہے۔ مختلف اداروں کی رپورٹس دیکھ سکتا ہے۔ لائبریری میں کتابیں تلاش کرنے کی بجائے گوگل اور دیگر سرچ انجن کے ذریعے چند منٹوں میں اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ سوچتا ہوں اب وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کا بچہ بچہ یہ صدا لگائے گا کہ ہمیں ہمارا حق دو۔ کیونکہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے خیالات سن رہے ہیں۔ تھوڑا اور آہستہ آہستہ سہی لیکن عوام کو شعور ضرور آ رہا ہے۔ سیاست دانوں کے فریب اور جھوٹے وعدے اگر کوئی بھولنا چاہے تو انٹرنیٹ اسے دوبارہ یاد کروا دیتا ہے۔ اور یہ سب انٹرنیٹ کی بدولت تیزی سے ہو رہا ہے۔
ایک خبر پڑھی تھی کہ ” قرآن پاک میں تحریف کا الزام، لاہور ہائیکورٹ کا یاہو،ایم ایس این، گوگل سمیت 9 ویب سائٹس بند کرنے کا حکم“۔ اس سے پہلے خاکوں والے معاملے پر فیس بک اور یوٹیوب کو بھی بین کیا گیا تھا۔ اکثر جب دوستوں میں بحث ہوتی تو میری یہی کوشش ہوتی کہ میں اس معاملے پر خاموشی اختیار کروں۔ مجھے ٹھیک طرح سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟ جب کوئی زیادہ پوچھتا تو میرا جواب یہی ہوتا کہ اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہونا چاہئے لیکن یہ جو حل ہمارے لوگ کر رہے ہیں یہ کوئی بہتر حل نہیں۔ دیکھو جی جنہوں نے یہ گستاخی کی ہے اگر حقیقت کو تسلیم کیا جائے تو وہ اس وقت بادشاہ ہیں اور جنگل میں بادشاہ شیر ہی ہوتا ہے پھر چاہے شیر بچے دے یا انڈے اس کی مرضی۔ اگر بچے یا انڈے دینے پر اعتراض ہے تو خود شیر بنو۔ پھر کسی کی جرأت ہی نہیں ہو گی کہ وہ اس طرح کی گستاخیاں کریں۔ ایسے ویب سائیٹ بلاک کر کے تم اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ عوام میں جو تھوڑا بہت شعور آ رہا ہے اسے بھی ختم کر دو گے۔
اگر اسلامی تاریخ دیکھی جائے اور خاص طور پر صلح حدیبیہ کا معاہدہ دیکھا جائے تو اس کی زیادہ تر شقیں ظاہری طور پر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں جس کی سب سے بڑی مثال کہ” اگر کوئی مسلمان مکہ کے لوگوں کے کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا مگر کوئی مشرک مسلمان ہو کر اپنے بزرگوں کی اجازت کے بغیر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔“ لیکن اس وقت مسلمان جنگ کی پوزیشن میں نہیں تھے اور حالات کا یہی تقاضا تھا کہ مسلمان کسی طرح جنگ سے بچ جائیں۔ اسی معاہدہ جس کی زیادہ شقیں ظاہری طور پر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں کی بنا پر مسلمان جنگ سے بچ گئے اور پھر اگلے سال مکہ میں داخل ہوئے۔
اگر ہم اپنے آج کے حالات دیکھیں تو ہم بھی جنگ کی پوزیشن میں نہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم پہلے ترقی کریں۔ جب ہم ترقی کر جائیں گے اور بادشاہ ہوں گے تو اول غیر مسلموں کو گستاخی کی جرأت ہی نہیں ہو گی اور اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو ہم منہ توڑ جواب دے سکیں گے۔ لیکن اس طرف کوئی نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ کام یعنی مستقل مزاجی، ایمانداری، جذبے اور لگن کے ساتھ ترقی کرنا نعرے لگانے، جلوسوں میں اپنے ہی بھائیوں کے کاروبار تباہ کرنے اور ویب سائیٹ بلاک کرنے سے بہت مشکل ہے۔
نبی پاکﷺ کی عظمت پر جان قربان کرنے کا نعرہ لگانا بہت آسان ہے لیکن اس کے حقیقی معنوں پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک طرف ہم انہیں گستاخی کرنے والوں کے ملکوں سے امداد لے کر چلتے ہیں اور دوسری طرف انہیں سے تعلق ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف ہم انہیں کی پروڈکٹ استعمال کر کے ان کی معیشت مستحکم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ وہ گستاخی کیوں کرتے ہیں۔ اگر حقیقت کو تسلیم کرو تو سچ یہی ہے کہ اگر ان میں گستاخی کی جرأت ہے تو یہ سب ہماری کمزوری ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے مسلمان کمزور ہیں زیادہ سے احتجاج کریں گے، اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچائیں گے، پھر چپ ہو جائیں گے، ہم سے امداد لے کر کھائیں گے اور ہماری معیشت کو طاقت ور بنائیں گے۔
کبھی کبھی سوچ آتی ہے کہ یہ سب کیا ہے ایک طرف ہم کاربونیٹڈ واٹرز کے ذائقہ تک کے معیار کو قربان نہیں کر تے اور نہ ہی ان کا متبادل بناتے ہیں اور اگر بنائیں تو ہمارے لوگ کہتے ہیں ، جی امپورٹڈ چیز تو پھر کمال کی ہوتی ہے۔ اور پھر دوسری طرف چیختے ہیں کہ وہ گستاخی کر گئے۔ کبھی سوچا ہے ایک سوئی تک ہم نہیں بنا سکتے۔ ہمارا نوجوانوں کا بس ایک ہی خواب ہے کہ کسی اچھے ملک جا کر سیٹ ہو جائیں۔ کبھی سوچا ہے یہی ہمارا ٹیلنٹ وہاں جا کر انہیں ترقی دیتا ہے اور پھر ان میں جرأت پیدا ہوتی ہے۔ نہیں یہ نہیں سوچیں گے ہم کیونکہ یہ سوچیں تو پھر بہت کچھ قربان کرنا پڑے گا اور ہم قربانی نہیں دینا چاہتے بس نعرے ہی لگا سکتے ہیں۔ کبھی سوچا کہ یہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ، گاڑیاں حتیٰ کہ وہ بندوق جو ہماری فوج استعمال کرتی ہے، وہ جہاز جن پر ہم حج کے لئے جاتے ہیں، وہ ماربل کاٹنے کی مشینیں جنہوں سے ماربل کاٹا اور حرم پاک میں لگا، وہ گھڑی جس سے وقت دیکھ کر ہم نماز کا وقت معلوم کرتے ہیں۔ ان سب کی ٹیکنالوجی کس نے بنائی؟ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کی پروڈکٹ استعمال نہ کرو ان کی ٹیکنالوجی استعمال نہ کرو بلکہ انہیں کی چیزیں، معلومات اور ٹیکنالوجی استعمال کر کے خود ترقی کرو۔ ان کے ملکوں میں جاؤ ان سے تعلیم حاصل کرو۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سیکھو۔ ان کے ساتھ امن سے رہو اور یہ سمجھو کہ ہم نے معاہدہ کیا ہوا ہےاور پھر ہر چیز خود تیار کرو، اپنے دوسرے بھائیوں کو سیکھاؤ اپنے ملک میں آ کر وہی تعلیم، وہی ٹیکنالوجی استعمال کرو اور زبردست قسم کی چیزیں تیار کرو۔ اپنے ملک کو ترقی دو، اپنی معیشیت مستحکم کرو اور پھر دیکھو وہ گستاخی کرتے ہیں یا نہیں؟ لیکن ہم یہ سب نہیں کریں گے کیونکہ ویب سائیٹس بلاک کرو اور بس کام ختم، مستقبل جائے بھاڑ میں۔
او خدا کے بندو! پہلے ترقی کرو، خود کو اتنا مستحکم کرو کہ آج جس ٹیکنالوجی کو وہ کنڑول کر رہے ہیں مستقبل میں تم کنٹرول کرو اور پھر اگر کوئی گستاخانہ ویب سائیٹ بناتا ہے یا فیس بک جیس ویب سائیٹ پر صفحہ بناتا ہے تم اسے ایک منٹ سے پہلے ختم کر سکو۔ مگر یہ کام، یہ محنت کرے کون؟ کیونکہ نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل ہے۔

 

تازہ تحاریر سے بذریعہ ای میل باخبر رہیں۔ اپنا ای میل ایڈریس درج کریں۔


شیئر کریں     ای میل     فیس بک     ٹویٹر     گوگل بز     ٹیکنوراٹی     ڈگ     ڈیلیشیئس

ملتی جلتی تحاریر:-کوئی ملتی جلتی تحریر موجود نہیں