نومبر 19, 2012 - ایم بلال ایم
21 تبصر ے

الف سے اردو، ب سے بابا

بچپن میں پڑھا تھا کہ الف سے انار اور ب سے بابا۔ انار کا تو بچپن میں پتہ چل گیا تھا کہ جی یہ انار ہوتا ہے۔ مگر بابے کے معاملے میں تذبذب کا شکار رہے۔ جب بھی کوئی بابا دیکھتے تو ایسا لگتا یہی وہ اردو قاعدے والا بابا ہے، پھر کسی دوسرے بابے کو دیکھتے تو لگتا کہ نہیں نہیں پہلے والا نہیں بلکہ یہ قاعدے والا اصل بابا ہے۔ وقت گذرتا رہا اور پھر الف انار سے الف اردو تک پہنچ گئے، ساتھ ہی اردو کی دنیا میں ایک بندے سے واسطہ پڑا تو سمجھ آئی کہ اردو قاعدے والا بابا تو دراصل یہ ہے۔

قارئین! یہ کوئی اخباری بات یا کسی ایجادی کی بارات نہیں بلکہ واقعی ایک ذیابیطس کے مریض بوڑھے بابے نے اردو کی دنیا میں ایک بہت بڑا کام کر دکھایا ہے۔ اس بابے نے پہلے ہی اردو کے رنگا رنگ فانٹ بنا دیئے تھے مگر اب وہ کر دیا ہے جو بڑے بڑے تیس مار خاں نہیں کر سکے۔ خراب صحت اور دیگر وجوہات کی بنا پر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اردو والوں کو وہ تخفہ دے دیا جو قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ اٹک شہر سے تعلق رکھنے والا یہ بابا انٹرنیٹ کی دنیا میں شاکرالقادری کے نام سے جانا جاتا ہے اور ہمیں القلم تاج نستعلیق کی صورت میں ایک بہت بڑا تخفہ دیا ہے۔ شاکر القادری صاحب میرے لئے نہایت ہی محترم ہیں۔ یہ تو میں بس ذرا ”فری موڈ“ میں بابا:بابا لکھ رہا تھا ورنہ میری کیا مجال کہ ان کی شان میں ذرہ برابر بھی گستاخی کروں۔ امید کرتا ہوں کہ محترم شاکرالقادری میری اس موج مستی پر درگزر فرمائیں گے۔

یوں تو آپ میں سے اکثر لوگ شاکرالقادری صاحب کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ جو نہیں جانتے انہیں بتاتا چلوں کہ شاکرالقادری بہت سارے اردو فانٹس تخلیق کر چکے ہیں اور یونیکوڈ فانٹ سازی کا ایک بہت بڑا نام ہیں۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں انہیں ”بابائے یونیکوڈ اردو فانٹس“ کا خطاب دوں گا۔ میرے خیال میں کسی اکیلے بندے نے اتنے اردو فانٹ نہیں بنائے ہوں گے جتنے شاکرالقادری صاحب نے بنائے ہیں۔ یوں تو انہوں نے اردو فانٹ بنانے میں پہلے ہی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر اب القلم تاج نستعلیق بنا کر وہ کام کر دیا ہے جس کی تعریف میں میرے پاس الفاظ نہیں۔

2008ء میں دو تین یونیکوڈ نستعلیق فانٹ تو موجود تھے مگر وہ اس قابل نہیں تھے کہ مکمل طور پر استعمال کیے جا سکیں۔ ان دنوں کسی اچھے نستعلیق فانٹ کی کمی ہم سب بڑی شدت سے محسوس کر رہے تھے۔ مجھے یاد ہے، میں نے جولائی 2008ء میں اردو محفل پر نستعلیق کی تیاری کی ایک تحریک شروع کی۔ جس میں سبھی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اپنے اردو بلاگستان سے آوازِ دوست والے شاکر عزیز پیش پیش تھے اور انہوں نے اس کام کی آسانی کے لئے ایک اطلاقیہ بھی بنایا۔ شاکر عزیز کے علاوہ عبدالمجید، عارف کریم، مہوش علی، امجد حسین علوی اور شاکرالقادری کے ساتھ ساتھ دیگر کئی احباب نے بھی حصہ لیا۔ بہت تعمیری باتیں ہوئیں، کئی ایک مسائل کے حل سامنے آئے۔ یہیں سے ترسیمہ جاتی (لگیچر بیسڈ) نستعلیق فانٹ بنانے پر سب متفق ہوئے اور اس پر ایک ٹیم نے کام شروع کیا۔ میں بھی فانٹ بنانے والی ٹیم میں شامل تھا اور شاکرالقادری صاحب ہمارے پروجیکٹ مینیجر تھے۔ میں تقریباً پانچ سو ترسیمے تیار کرنے کے بعد ذاتی زندگی میں ایسا مصروف ہوا کہ مزید نستعلیق فانٹ بنانے والی ٹیم کے ساتھ نہ چل سکا، جس کا مجھے آج بھی افسوس ہے۔ اس کے علاوہ باقی بھی مصروف ہو گئے اور پیچھے شاکرالقادری اور خاور بلال رہ گئے۔ کام سست رو ہو گیا مگر آخری اطلاع کے مطابق چلتا رہا۔

شروع نومبر 2008ء میں امجد حسین علوی نے ترسیمہ جاتی ”علوی لاہوری نستعلیق“ بنا کر اردو کمپیوٹنگ میں تہلکہ مچا دیا۔ اس کے فوراً بعد دسمبر 2008ء میں”جمیل نوری نستعلیق“ مع کشش و کشیدہ بھی بن گیا۔ پے در پے دو نستعلیق فانٹ بننے سے نستعلیق فانٹ کی ایک بڑی کمی پوری ہو گئی۔ اِدھر نستعلیق فانٹ مفت میں اردو والوں کو نصیب ہوئے اور کچھ سکون آیا تو اُدھر ان پیج والوں نے نوری نستعلیق کی اشکال پر اپنا دھونس جماتے ہوئے اعلان کیا کہ علوی اور جمیل نستعلیق میں ان کے فانٹ کی اشکال استعمال ہوئی ہیں اس لئے یہ چوری ہے۔ ابھی تھوڑا سکون آیا اور خوشی ملی ہی تھی کہ اردو والوں کی نئی دوڑیں لگ گئیں یعنی اب یہ تھا کہ نئی اشکال بنا کر فانٹ بنایا جائے تاکہ ان پیج کے اس طعنے سے تو جان چھوٹے اور نئی اشکال بنانا کوئی آسان کام تو تھا بھی نہیں۔

وہ کام جو ہم سب نے مل کر شروع کیا تھا، اب پتہ نہیں میرے بعد وہ کہاں تک پہنچا، مگر شاکرالقادری صاحب نے پرانے پروجیکٹ سے زیادہ بہتر اور مشکل پروجیکٹ شروع کر دیا۔ نئی ٹیم کے ساتھ تاج نستعلیق پروجیکٹ پر کام کرنے لگے تاکہ اردو والوں کو اوپن سورس نستعلیق فانٹ بنا کر دیں۔ جس سے کوئی ادارہ یا شخص اردو والوں پر چوری کا الزام نہ لگا سکے اور کسی قسم کا طعنہ سننے کو نہ ملے۔ 2009ء کے آخری مہینوں میں اس پروجیکٹ پر کام شروع ہوا۔ شاکر القادری اور ان کی ٹیم کی تین سال کی شب و روز محنت کے بعد حکیم الامت علامہ محمد اقبال کے یومِ ولادت کے موقع پر 9 نومبر 2012ء کو برصغیر پاک و ہند کا تیس ہزار ترسیموں کے ساتھ سب سے پہلا اوپن سورس لاہوری نستعلیق فانٹ اردو کی دنیا میں طلوع ہوا۔ علوی نستعلیق بننے کے ٹھیک چار سال بعد اور اسی مہینے میں یہ نہایت خوشی کی خبر سننے کو ملی۔ القلم تاج نستعلیق مکمل طور پر مفت ہے اور بلا خوف و خطر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بے شک اردو والوں کی اکثریت نوری نستعلیق پر ان پیج کی اجارہ داری کو قبول نہیں کرتی مگر اب شاکرالقادری صاحب کی مہربانیوں سے ہمارے پاس اپنا لاہوری نستعلیق فانٹ ہے۔ اس پروجیکٹ کے دوران کئی اداروں اور لوگوں نے اردو کی دنیا میں اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے شاکرالقادری صاحب کو اس پروجیکٹ سے ہٹانے کی کوشش اور فانٹ کی اشکال فروخت کرنے کی آفر بھی کی۔ مگر ہمارے ”بابائے یونیکوڈ اردو فانٹ“ نے اردو کی خدمت کے آگے کسی دنیاوی لالچ کو ترجیح نہ دی۔

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے والا ایک عام انسان شاید ان باریکیوں کو نہ سمجھ پا رہا ہو مگر تکنیکی اور اردو پرنٹنگ و پبلشنگ سے وابستہ لوگ یقیناً جانتے ہوں گے کہ شاکرالقادری صاحب نے واقعی ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔ یقیناً خراج و تحسین اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔ الف اردو، ب بابا والے اس بابے کی لگن، ہمت، حوصلے اور اردو سے محبت کو میں سلام پیش کرتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 21 تبصرے برائے تحریر ”الف سے اردو، ب سے بابا

  1. سلام
    محمد بلال اور شاکر القادری صا حب کو دل کی گہرائیوں سے مبا رک باد۔اللہ ھما ری ٹیم کو لا تعداد کا میا بیاں نصیب فر مائے امین

  2. مبارک جناب شاکر القادری صاحب مع باقی دوستاں

    بلال صاحب واقعی ہم عام محفلین کیلئے تو اسکی باریکیوں کا زیادہ انداہ نہیں ہوتا لیکن جو اسکام سے وابستہ ہیں ،اور انکا اوڑنابچونا ہی اردو ہے تو انکو اس کام کی نزاکت کا احساس ہوتا ہے۔

    تین سال طویل اور تھکا دینے والے ہیں۔شاکر صاحب کی ہمت کو سلام

  3. السلام علیکم سر جی ۔ اللہ تعالی ایسے لوگو ں کو سلامت رکھے جو لوگ ہماری پیاری زبان کو زندہ رکھے ہوے ہیں‌ ورنہ تو ہم کو گونگی قوم بنانے کا کام حکومت بہت آچھی طرح سے کررہی ہے اللہ تعالی آپ لوگوں‌ کو سلامت رکھے آمین ثم آمین ۔ سر جی میں‌ آپ نے کمپیوٹر میں اور فیس بک پر اس طر ح لکھنا چاہتا ہوں یعنی اس فونٹ میں میری مدد کریں آپ کی مہربانی ہوگی

  4. بہت شکریہ! م بلال! اللہ آپ کو اجر کریم عطا فرمائے۔ مجھے تو الف نظامی نے اس خوبصورت تحریر کے بارے مین بتایا ہے۔ میں آپ کی محبت اور خلوص کو اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس کر سکتا ہوں ۔ دیگر تمام احباب کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے میری حوصلہ افزائی کے لیے یہاں پر پیغامات ارسال کیے.

  5. اردو کی ترویج اور ترقی کیلیے کوشاں سب لوگوں کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اور شاکر القادری صاحب کو تندرستی دے آمین!

  6. ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے انہیں آفیشلی طور پر ” بابائے یونیکوڈ اردو فانٹس “ کا خطاب دے دینا چاہیئے ۔ اللہ انہیں ان کی خدمات کا صلہ ہمیشہ دے ۔ آمین

  7. واہ ”بابائے یونیکوڈ اردو فانٹس“ کا خطاب جناب شاہ صاحب کے لئے بالکل بجا ہے ۔

  8. بہت عمدہ۔۔ واقعی ان کی خدمات اردو کی ترقی کیلئے بہت بڑا سرمایہ ہیں۔۔۔ بہت عمدہ شاکر صاحب

  9. بہت ہی عمدہ۔

    آپکو اور ہم سب کو بہت بہت مبارک ہو۔

    یہ بھی ذرا بتا دیجیے کہ نستعلیق میں “کشش” اور “کشیدہ” کا کیا مطلب ہے۔

  10. جہالت کا ایک طوفان ہماری طرف بڑھ رہا تھا اردو کی ترقی نہ ہونے کی وجہ سے مگر شاکر القادری صاحب اس کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے لہذا ان کے نام ایک شعر پیش کیا ہے کہ ۔۔۔ یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو ۔۔۔ روک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاکر القادری زندہ باد

  11. جناب بلال اور محترم شاکرالقادری صاحب کو اس عظیم کاوش پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مبارک باد دیتاہوں اوردعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس ٹیم کو مزید کایابیوں اور کامرانیوں سے نوازے۔

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *