محفوظات برائے ”فوٹو گرافی“ زمرہ     ( صفحہ نمبر 8 )
September 14, 2019
1 تبصرہ

دیوسائی میں ہماری ریچھ کہانی

جنگلی جانور انسان سے ڈرتے ہیں، لیکن جب مدبھیڑ ہو جائے تو وہ انسان پر حملہ کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ درندہ تو پھر درندہ ہی ہوتا ہے اور جب وہ اپنی آئی پر آتا ہے تو انسان کو بھاگنے کا موقع نہیں دیتا اور چیر پھاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ جب ایک دفعہ کوئی درندہ انسانی خون چکھ لے تو پھر وہ آدم خور ہو جاتا ہے اور انسان کو آسان شکار سمجھنے لگتا ہے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی ہم دیوسائی میں ریچھوں کی تلاش کو نکلے، مگر دعائیں بھی کرتے کہ ریچھ مل تو جائے لیکن اس انداز سے کہ ہم اسے دیکھ لیں، تصویریں بنا لیں اور وہ اتنا قریب بھی نہ ہو کہ ہم پر حملہ کر دے۔ آخرکار واقعی ہمارا ریچھ سے سامنا ہو گیا اور پھر ہماری دوڑیں←  مزید پڑھیے
July 7, 2019
3 تبصر ے

اور جب ہم بازارِ حُسن گئے

تین چار سال پہلے کی بات ہے کہ سعد ملک کے ساتھ لاہور آوارگی ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ استاد آج لگے ہاتھوں شاہی محلہ ہی دکھا دے۔ اس نے جواب دیا ”کچھ خدا کا خوف کر۔ میں ایسا بندہ نہیں ہوں“۔ تو میرے کونسے ”وانٹڈ“ کے اشتہار لگے ہیں۔ میں بھی ایساویسا نہیں ہوں، مگر آج مجھے شاہی محلہ دیکھنا ہی دیکھنا ہے۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ وہاں کونسی ”شہنشاہیت“ بستی ہے۔ میرے اصرار پر وہ مان گیا اور ہم چل دیئے شاہی محلے۔ وہی محلہ جسے ہیرا منڈی اور بازارِ حُسن بھی کہا جاتا ہے۔ خیر شاہی محلے پہنچتے ہی سڑک کنارے گاڑی پارک کی اور پھر ایک کوٹھے پر پہنچے۔ جہاں طوائفوں کے رقص اور موسیقی←  مزید پڑھیے
July 2, 2019
تبصرہ کریں

بھان متی نے تصویر جوڑی، شمال و جنوب سے لی تھوڑی تھوڑی

ایک تصویر ہزار الفاظ سے بھی بھاری ہوتی ہے۔ مگر المیہ تو یہ ہے کہ دنیا اسی بھار کے چکروں میں ہلکی ہو رہی ہے۔ اگر ایک تصویر ہزار الفاظ سے بھاری تو ایک جعلی تصویر ہزاروں الفاظ کو ہلکا بھی کر دیتی ہے۔ چوری شدہ یا جعلی تصویروں کے ذریعے تصویری چونا لگانے اور فوٹوگرافرز کو دیوار سے لگانے کا عمل جاری و ساری ہے۔ بتاتا چلوں کہ مجھے کسی پر کوئی اعتراض نہیں۔ برفوں سے صحرائی اونٹ گزاریں یا کہیں خلائی مخلوق اتاریں، میری بلا سے۔ مجھے تو بھان متی فوٹوگرافر صاحب اور اس چمتکاری تصویر پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ جس تصویر نے فوٹوگرافی کا بلاتکار کیا اور اچھے اچھے فوٹوگرافرز کی←  مزید پڑھیے
October 30, 2018
تبصرہ کریں

تصویر کے ساتھ بے ہودگی اور حقیقی منظر

جب تصویر کا تن من چیخا۔ آج کے دور میں یہ صرف فوٹوگرافرز کو ہی نہیں بلکہ سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پیار کی یہ واردات تو بہت پہلے سے شروع ہو چکی تھی، مگر پوسٹ پراسسنگ اور ایڈیٹنگ کے درمیانی وقفے کے فوراً بعد کا ذکر ہے کہ ایک سیاحتی سفر کے دوران ایک صاحب ملے۔ کئی دفعہ ایسا ہو جاتا ہے کہ سیاحت کے دوران جنگل بیابانوں میں، انجان راستوں پر کوئی نہ کوئی فیس بک فرینڈ یا ’انٹرنیٹی‘ جان پہچان والا مل جاتا ہے۔ بے شک فوٹوگرافرز اور سیاحوں پر کئی الزام لگائے جاتے ہیں مگر شمال کے اس سفر میں جو صاحب ملے، انہوں نے تو تصویر کے ساتھ ایسی بیہودگی←  مزید پڑھیے
July 23, 2018
2 تبصر ے

کمراٹ اور جھیل کٹورہ پر کبھی آؤ چناب کی صورت

سنو…روح بنجر ہے اور پیاسا من…کبھی آؤ چناب کی صورت۔ دِیاخلیل صاحبہ کا یہ شعر مجھے بہت پسند ہے۔ یوں محبوب کو چناب کی صورت بلانے کے تو کیا ہی کہنے۔ سن لیا تم نے؟ نہیں سنا تو یہ سنو کہ لمبی چوڑی سیاحتوں، دربدر بھٹک کر، لمبی لمبی تحریروں اور ڈھیروں تصویروں سے جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہوں، اس کی ایک جھلک جب میرے سامنے پردۂ سکرین پر چل رہی تھی، تب جھیل کٹورہ کے کنارے محترم شفان حسن نے اور کمراٹ آبشار کے سامنے انم خان صاحبہ نے وہ نایاب لمحات قید کر دیئے۔ تُو اس وقت چناب کی صورت آیا اور سارے منظرنامہ پر چھایا اور دھرتی نے گایا اور عشق نے بلھے کو نچایا اور پھر←  مزید پڑھیے