تازہ تحاریر
تازہ تبصرے
-
- عابد وسیم» اردو کلیدی تختہ بنانا
- م بلال م» میرے بارے میں
- م بلال م» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- م بلال م» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- فرحت کیانی» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- زاہد» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- محمد اقبال مغل» پاکستان بلاگ ایوارڈ - شام سویرے ہون ووٹاں ای ووٹاں
- محمد فاروق» اردو فارمیٹر - شامل پلگ ان - اردو انگریزی بلاگنگ ایک سات…
ٹیگز
-
اردو بلاگنگ کی بورڈ لے آؤٹ urdu phonetic keyboard فونیٹک اردو urdu installation یونیکوڈ اردو بلاگ بنانا installation فونیٹک اردو کیبورڈ urdu blog keyboard نظام ورڈ پریس urdu bloging زبان fonetic ورڈ پریس بلاگ اردو لکھنا فانٹ اردو کیبورڈ لے آؤٹ کیبورڈ urdu and blog لے آؤٹ english اردو کیبورڈ phonetic معاشرہ fonts language urdu phonetic urdu keyboard keyboard setting کمپیوٹر اردو اور بلاگ صوتی اردو بلاگ urdu keyboard layout system internet islam کیبورڈ سیٹنگ فانٹس urdu keyboard pak urdu installer read اردو انسٹالیشن layout انگریزی wordpress blog computer unicode wordpress لکھنا اردو فونیٹک کی بورڈ society nation ورڈپریس انٹرنیٹ قوم in urdu education install pakistan کی بورڈ keyboard layout اردو بلاگنگ پاکستان write رسم الخط
محفوظات
فیس بک
Technology blogs
Blogs Directory
Blog Directory
Add blog to our directory.
Add Your Blog Blog Site 

Blogs Blog Tools Allie Marie































جناب آپ اگر دلائل سے کسی سے بات کریں گے تو۔۔۔۔۔
سننے والا آپ کی بات ہی پوری نہیں ہونے دے گا اور بات کاٹ کر اپنی شروع ہو جائے گا۔
مدلل گفتگو کی نسبت مجنونی شدت سے ایک ہی جملے میں اپنی بات کہہ دینا ہی اپنے محسوسات پہونچانے کا آسان طریقہ ہے :laughloud:
یہ طریقہ میرے بس میں نہیں :sweating:
چھوڑیں بلال بھائی۔۔۔ ” آپ جذباتی ہو رہے ہیں!” ۔۔۔۔
یہ جملہ واقعی زچ کرنے کیلئے آخری ہتھیار بن گیا ہے۔۔۔۔ اگر کسی کی تعریف کرنی ہو تو کہا کریں۔۔ “واہ بھائی، آپ تو بے حس ہو گئے!”
بہت خوبصورتی سے اس معاشرتی برائی کو سامنے لانے کی کوشش ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ احساسات و جذبات انسانیت کے ازل سے ہی جڑے ہوئے اور اس کے بغیر حیات انسانی کا وجود ممکن نہیں۔ جذبات کی بھی دو قسمیں ہے ایک ٹھنڈے جذبات اور ایک گرم جذبات ۔۔۔ ٹھندے جذبات ان لوگوں کے ہوتے جو صاحب فراست ہوتے ہیں جن کے اندر معاملات کو تاڑ کر اپنا فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور ان کا ہر فیصلہ صحیح سمت میں ہوتا ہے جوان کے لئے اور معاشرے کے باقی افراد کے لئے سودمند ثابت ہوتاہے، جبکہ گرم جذبات وہ ہے جن کی نشاندہی آپ نے مذکورہ مضمون میں کہ اپنے نظریے یا بات کو ثآبت کرنے کے لئے دلائل کی عدم فراہمی سے ایسے جذبات پیداہوتا ہے اور یہ اس شحض کی انا کا مسئلہ بھی ہوتا ہے جس کے بل ہوتے ہر وہ ہی جملہ ”آپ جذباتی ہو رہے ہیں“ داغ کر راہ فرار اختیار کرتا ہے۔ ایسے میں مسائل بجائے سلجھنے کے الجھن کا شکار ہوجاتے اور اس قسم کی روایات کے زیر اثر فرد اپنے آپ کو بری ذمہ کر دیتا ہے ۔۔۔ جس سے معاشرتی بحران جنم لیتا ہے جس کا مشاہدہ آج کل کیا جا سکتا ہے۔
السلام علیکم
چھوڑیں بلال بھائی، جذباتی نہ ہوا کریں۔
انسان جتنا زیادہ شریف اور مہذبانہ طریقئہ تمسخر سے اشتعال میں آتا ہے اتنا فضول گوئی اور بدکلامی سے نہیں آتا۔
میرے خیال میں “جذباتی” ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ جذبات کا اسقدر بڑھ جانا کہ فیصلوں پر عقل کا عمل دخل کم ہو جائے۔جیسے کوئی پیشہ ور فقیر پھٹے پرانے کپڑے پہن کر روہانسی صورت بنا کر اور اور طرح طرح کے التجا کر کے ہمارے جذبات کو ابھارتا ہے تاکہ ترس اور رحم کا جذبہ ہم پر ہاوی ہو جائے اور ہم عقلی فیصلہ کہ یہ پیشہ ور فقیر ہے، ہٹہ کٹہ ہے، کوئی کام کاج کیوں نہیں کرتا وغیرہ چھوڑ کر جذباتی ہو جایں اور اسے پیسے دے دیں۔اسی طرح بحث مبا حثہ کے دوران بھی اگر شرکاء جذباتی ہو جایں گے تو عقل کی روشنی مدھم پڑ جائے گی اور فیصلے منطق کی حدوں کے پابند نہیں رہیں گے۔
لیکن جب دلیل نہ ہو یا لاجواب ہونے کا اندیشہ درپیش ہو تو مدمقابل کو جذباتی ہونے کا طعنہ دینا بذات خود شکست کی علامت ہے۔ویسے بعض لوگ بغیر سوچے سمجھے بھی دوسروں کو کہہ دیتے ہیں “آپ جذباتی ہو رہے ہیں”
جناب، آپ جذباتی ہو رہے ہیں۔ جانے دیجیے۔ :devil:
بلال بھائی زرا ادھر بھی توجہ کریں
شکریہ
http://pak.net/ask-experts-%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92/%D8%A7%D9%85%D9%BE%D9%88%D8%B1%D9%B9-%DA%A9%DB%8C%DB%92-%DA%AF%D8%A6%DB%92%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D9%81%DB%8C%DA%88-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%82-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84-61464/#post475227