جولائی 7, 2019 - ایم بلال ایم
تبصرہ کریں

اور جب ہم بازارِ حُسن گئے

تین چار سال پہلے کی بات ہے کہ سعد ملک کے ساتھ لاہور آوارگی ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ استاد آج لگے ہاتھوں شاہی محلہ ہی دکھا دے۔ اس نے جواب دیا ”کچھ خدا کا خوف کر۔ میں ایسا بندہ نہیں ہوں“۔ تو میرے کونسے شہر بھر میں ”وانٹڈ“ کے اشتہار لگے ہیں۔ میں بھی ایساویسا نہیں ہوں، مگر آج مجھے شاہی محلہ دیکھنا ہی دیکھنا ہے۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ وہاں کونسی ”شہنشاہیت“ بستی ہے۔ میرے اصرار پر وہ مان گیا اور ہم چل دیئے شاہی محلے۔ پہنچتے ہی سڑک کنارے گاڑی پارک کی اور پھر چلتے چلتے ایک ”کوٹھے“ پر پہنچے۔ اس جگہ سے بادشاہی مسجد، شاہی قلعے اور شہر کا زبردست نظارہ تھا۔ کہیں سے کلاسیکل موسیقی کی آواز آ رہی تھی۔ میں تو موسیقی سے لطف اندوز ہوتا ہوا نظاروں میں کھو گیا اور استاد کھانے کا آڈر دینے لگا۔ ہیں جی! کوٹھے پر کھانا؟ جی ہاں! کھانا۔ چلیں! تھوڑا مہذب کر لیتے ہیں کہ چھت پر کھانا اور کھانا آنے تک اس جگہ کے متعلق تھوڑی بات چیت ہو جائے، جہاں ہم پہنچے ہوئے تھے۔۔۔

بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ لاہور کے تقریباً پہلو میں واقع شاہی محلے کو بازارِ حُسن اور ہیرا منڈی بھی کہا جاتا ہے۔ اس محلے پر مختلف زاویوں سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور کئی ڈاکومنٹریز بھی بن چکی ہیں۔ لہٰذا ابھی زیادہ تاریخ نہیں جھاڑوں گا۔ بس خلاصہ: کہتے ہیں کہ مغل دور میں یہ محلہ موسیقی اور رقص کی وجہ سے مشہور تھا۔ یہاں کی طوائفیں صرف رقص میں ہی نہیں بلکہ موسیقی، شاعری اور ادب آداب میں بھی ماہر تھیں۔ کسی زمانے میں یہ علاقہ رقاصاؤں، موسیقاروں اور فنکاروں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ لیکن بدلتے ماحول کے ساتھ ساتھ سبھی کوچ کرتے گئے۔ وہ کیا ہے کہ اس جگہ کے ماحول کا اصل بیڑا غرق چٹی چمڑی نے کیا تھا۔ برطانوی راج میں انگریز فوجیوں کے لئے شاہی محلے کے آس پاس جسم فروشی کا دھندا شروع کروایا گیا۔ رفتہ رفتہ یہی دھندا اس محلے کی پہچان بن کر رہ گیا۔ گو کہ پاکستان بننے کے بعد قحبہ خانے ختم کرانے کے لئے باقاعدہ آپریشن تک ہوا مگر یہ کام نہ رک سکا۔ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ منظم ہوتا چلا گیا اور معاملہ اپنی نوعیت میں معمولی سی تبدیلی کے ساتھ ہیرا منڈی سے نکل کر کئی دوسرے علاقوں تک پھیل گیا۔

بیرے نے کھانا لا رکھا اور ہم بات چیت کے ساتھ ساتھ کھانے میں مصروف ہو گئے۔ جب لاہوری کھابے تمام ہوئے تو استاد انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے بولا ”وہ بادشاہی مسجد ہے، اور اُدھر رہا شاہی قلعہ اور تم اس وقت شاہی محلے کے ایک کوٹھے پر بیٹھے ہو۔ اگر جناب نے سب دیکھ لیا ہے تو اب چلیں؟“۔۔۔ میں نے جواب دیا کہ استاد! تم نے تو واقعی استادی دکھا دی اور ہمیں ”شمشیروسناں“ کے درمیان لا کھڑا کیا۔ بے شک ”طاؤس و رباب آخر“ سہی، مگر کوئی جلوہ تو ہوتا 😉 ویسے مذاق اپنی جگہ مگر جلوہ بھلا کہاں سے ہونا تھا۔ ایک تو ہم شریف و شرمیلے 😛 اور اوپر سے اب بازارِ حُسن میں حُسنِ بازاری کہاں، بلکہ دیگر بازاروں کی طرح اب وہ بھی بس اک بازار ہی ہے۔ جہاں موسیقی کے آلات کی کئی دکانیں تو موجود ہیں مگر موسیقی ناپید ہے۔ کسی زمانے میں جن کوٹھوں پر موسیقی اور رقص و سرور کی محفلیں جمتی تھیں، اب ادھر اُلو بولتے ہیں یا اِکادُکا قحبہ خانوں کا تعفن اٹھتا ہے۔ اور کہیں کہیں کچھ بوڑھی طوائفیں زندگی کے آخری ایام کاٹ رہی ہیں۔ البتہ شاہی محلے کی ایک گلی ”کھابہ گلی“ بولے تو فوڈسٹریٹ بن چکی ہے اور اب وہاں ”شرفا“ منہ چھپا کر جانے کی بجائے کھلم کھلا جا سکتے ہیں اور ہم بھی اسی گلی کے ایک ہوٹل کی چھت پر موجود تھے۔ فوڈسٹریٹ میں زیادہ تر پرانی عمارتیں ہی ہیں اور اُن کے کوٹھوں پر طوائفوں کے رقص کی بجائے بیرے(ویٹر) دوڑتے پھرتے ہیں۔ اب اس گلی میں موسیقی اور گھنگروں کی چھنکار کی جگہ برتنوں کے ٹکرانے کی آوازیں آتی ہیں۔ پھولوں کے گَجرے تو قصۂ پارینہ ہیں، اب وہاں تِکے کبابوں کے دھویں اٹھتے اور کھابوں کی مہک آتی ہے۔

خیر استاد مزید استادی دکھاتے ہوئے بولا ”چلو شاباش! اب وہ کام کرو، جس واسطے اِدھر آئے تھے یعنی کیمرا کڈو، بادشاہی مسجد تے قلعے وغیرہ دیاں دو چار ستھریاں فوٹواں بناؤ۔ دھیان نال بنانا، استاد دا نام خراب نہ کرنا“۔ جو حکم استادِ محترم کہتے ہوئے میں بیگ سے ٹرائی پاڈ نکالنے لگا۔ دراصل تھوڑا ”لانگ ایکسپوژر“ چاہیئے تھا اور ایسی فوٹوگرافی اگر کیمرہ ہاتھ میں پکڑ کر کی جائے تو معمولی سی بھی جنبش سے تصویر دھندلا جاتی ہے اور کئی دفعہ روشنیوں کے ایسے شتونگڑے بنتے ہیں کہ۔۔۔ آہو۔۔۔ اس لئے ٹرائی پاڈ ضروری تھا تاکہ کیمرہ ذرا بھی نہ ہلے۔ خیر میں ٹرائی پاڈ لگانے ہی لگا تھا کہ ایک بیرہ دوڑتا ہوا آیا اور بولا ”سٹینڈ والے کیمرے سے تصویر بنانے کی اجازت نہیں“۔ میں: ”تو کیا بغیر سٹینڈ والے سے اجازت ہے؟“۔ بیرہ: ”جی اس میں کوئی مضائقہ نہیں“۔ میں: ”بھلا یہ کیا منطق ہوئی؟“۔ بیرے نے بادشاہی مسجد اور قلعے کے درمیان حضوری باغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو روشنیوں کے نیچے ماحول چل رہا ہے، یہ کلاسیکل میوزک کی آواز بھی اُدھر سے ہی آ رہی ہے۔ دراصل وہاں کچھ غیر ملکی مہمانوں کے اعزاز میں عشائیہ اور ”کلچرل شو“ ہے۔ چونکہ وزراء اپنے مندوبین اور غیرملکی مہمانوں کے ساتھ وہاں موجود ہیں۔ اس لئے سیکیورٹی کے پیشِ نظر تمام اونچی عمارتوں پر کیمرے کا سٹینڈ لگانے پر پابندی ہے اور وہ چوبارے پر دیکھیں کہ اہلکار نظر رکھے بیٹھے ہیں۔ آپ نے سٹینڈ لگایا تو وہ فوراً آ دھمکیں گے۔ آپ کو تو شاید کچھ نہ کہیں مگر ہماری سختی آ جائے گی۔۔۔ یہ ساری بات سن کر استاد کو تعجب ہوا اور وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ میں نے کہا ”چلو چلتے ہیں اور بتاتا ہوں کہ یہ کیا معاملہ ہے“۔

ہم سیڑھیاں اتر رہے تھے اور میں کہہ رہا تھا کہ دراصل ہماری انتظامیہ آج بھی ”سن انیس سو پتھر“ کے زمانے میں جیتی اور بوسیدہ قوانین کے سہارے چلتی ہے۔ ایک تو عجب ملکی حالات اور اوپر سے سیاستدانوں کو خوف اس قدر کہ چڑیا بھی پر مارے تو ان کا۔۔۔آہو۔۔۔ سٹینڈ(ٹرائی پاڈ) کے متعلق ان کا خیال ہے کہ اس پر سنائپر بندوق وغیرہ لگ سکتی ہے۔ یعنی کیمرے کا یہ معمولی سا ٹرائی پاڈ، جو کہ بمشکل کیمرے اور لینز کا وزن اٹھاتا ہے، اسے سنائپر کا سٹینڈ تصور کرتے ہوئے ہتھیار گردانتے ہیں۔ بلکہ کئی فوٹوگرافرز کے ساتھ ایسا بھی ہو چکا ہے کہ وہ کہیں جا رہے تھے اور صرف اس لیے پولیس ناکے پر دھر لیے گئے کہ ان کے پاس ٹرائی پاڈ تھا۔۔۔ کر لو گل۔۔۔

ہم باتیں کرتے کرتے فوڈسٹریٹ(فورٹ روڈ) کے آخر پر شہر لاہور کے روشنائی دروازے کے سامنے پہنچ گئے، جو کہ حضوری باغ کی طرف کھلتا ہے۔ بند دروازے کے باہر قانون پہرہ دے رہا تھا اور دروازے کی دوسری طرف، بازارِ حُسن کی حدود سے باہر، شرفا نے موسیقی و رقص کی محفل سجا رکھی تھی۔ میں نے ایسے ہی ایک پولیس والے سے پوچھا کہ اندر بڑا میوزک چل رہا ہے، خیر تو ہے؟ پولیس والا غالباً پہلے ہی تپا بیٹھا تھا، غصے مگر طنزیہ انداز میں بولا ”اندر فلاں وزیر صاحب کُڑیاں نچا کے غیر ملکیاں نوں اپنا کلچر وکھا رہے نیں“۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *