تازہ تحاریر
تازہ تبصرے
-
- عابد وسیم» اردو کلیدی تختہ بنانا
- م بلال م» میرے بارے میں
- م بلال م» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- م بلال م» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- فرحت کیانی» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- زاہد» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- محمد اقبال مغل» پاکستان بلاگ ایوارڈ - شام سویرے ہون ووٹاں ای ووٹاں
- محمد فاروق» اردو فارمیٹر - شامل پلگ ان - اردو انگریزی بلاگنگ ایک سات…
ٹیگز
-
urdu keyboard layout کمپیوٹر فانٹس اردو ورڈپریس صوتی keyboard ورڈ پریس urdu phonetic keyboard urdu blog fonts install اردو کیبورڈ layout language urdu کی بورڈ لے آؤٹ فانٹ pakistan قوم unicode اردو اور بلاگ english fonetic keyboard setting wordpress blog پاکستان رسم الخط phonetic urdu keyboard urdu keyboard education فونیٹک اردو کیبورڈ write keyboard layout انٹرنیٹ installation کیبورڈ سیٹنگ urdu bloging اردو بلاگ بنانا اردو کیبورڈ لے آؤٹ نظام society in urdu اردو فونیٹک کی بورڈ فونیٹک islam یونیکوڈ لکھنا انگریزی internet urdu installation nation system اردو لکھنا معاشرہ computer لے آؤٹ اردو انسٹالیشن زبان اردو بلاگنگ phonetic اردو بلاگنگ اردو بلاگ pak urdu installer ورڈ پریس بلاگ کی بورڈ read wordpress urdu and blog کیبورڈ
محفوظات
فیس بک
Technology blogs
Blogs Directory
Blog Directory
Add blog to our directory.
Add Your Blog Blog Site 

Blogs Blog Tools Allie Marie































بلال بھائی۔۔
اس تحریر میں آپ کی معصومیت کا عکس نمایاں ہے۔ :love:
میںکبھی دیہات میںنہیں رہا۔۔۔اس لیے آپ کے درد کو محسوس کرنے سے قاصر ہوں۔ لیکن دوستوں، رشتہ داروں سے لاہور بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ وہ بھی شکایت کرتے ہیںکہ بجلی نہیں، گیس نہیں، پانی نہیں۔ سُنا ہے بعض علاقوںمیںبجلی بارہ بارہ گھنٹے بند رہتی ہے۔ کچھ جاننے والوں نے گیس کی استریاں لے رکھیںہیں۔ :rolleyes:
چلئے غصہ رفع کیجئے۔ موڈ اچھا کرنے کے لئے میںآپ کو اپنے پسندید شاعر۔۔حضرت امام دین گجراتی کا کلام سناتا ہوں جو اُنھوں نے جلال پور جٹاں کی عظمت اور جی ٹی روڈ کی مداح سرائی میںکہا تھا۔
؎ یہ سڑک
سیدھی جلال پور جٹاںکو جاتی ہے
:whistling:
.-= عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … ہوزے ساراماگو۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ! =-.
آپ نے سیاستدانوں کی توہین کی ہم سے برداشت نہیں ھوئی۔

اب گاوں میں آپ کے علاوہ گائے ماتا اور بھینسیں بھی ھوتی ہیں انہیں بھی ہم سیاستدان اور حکمراں بجلی دیں۔ :laughloud:
ویسے میں خود بھی دیہاتی ہوں۔نہ گیس نہ بجلی ہمیں لوڈ شڈنگ کی پریشانی ھی نہیں ھے۔
اس کی ايک وجہ تو يہ ہے کہ انگريزوں نے جو لوگ ديہات کے نمبردار يا چوہدری مقرر کئے تھے وہ مال اکٹھا کر کے مالدار ہو گئے اليکشن وہ ديہات سے جيتتے ہيں مگر رہائش بڑے شہروں ميں رکھتے ہيں بچے ان کے ولائتوں ميں پڑھتے ہيں ۔ اپنی بجلی وہ فِٹ رکھتے ہيں اور اپنے ووٹروں کی قربانی ديتے ہيں
.-= افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر … لطيفے شعبہ انجنئرنگ کے =-.
بالکل انسان ہیں بلکہ سچ پوچھیئے تو سب سے بڑھ کر انسان ہیں کہ آپ لوگوں کے دم سے ہی پاکستان کی رونقیں ہیں آپ جان مارتے ہیں تو پاکستانیوں کو غذا نصیب ہوتی ہے اور اس معاملے میں ہم آپکے ہم آواز اور ہم احتجاج ہیں اللہ ان ارباب اختیار کو ہدایت عطافرمائے :pray:
ویسے جو لوڈ شیڈنگ کا حال ہے وہ شہروں میں بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔۔لیکن دیہات میں تو بتی ہوتی ہی نہیں ہے۔۔

جب میں اسلام آباد سے لالہ موسیٰ آتا ہوں تو یہی سوچتا ہوں۔۔۔۔۔وہاں صرف چار گھنٹے بجلی جاتی ہے اور وہ بھی اگر ذرا سی بارش ہو جائے تو دو گھنٹے پہ آ جاتی ہے۔۔۔۔ اور ہماری یونیورسٹی چک شہزاد یعنی اسلام آباد کے گاؤں میں ہے۔۔۔!
.-= عین لام میم کے بلاگ سے آخری تحریر … ڈائری لکھنا =-.
میں آپ کے جذبات سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں خود دیہاتی ہوں۔ :island:
ميں آپ کے غم ميں برابر کی شريک ہوں اور آپکے گاؤں کی بجلی کے ليے تو سب بلاگروں کو مشترکہ احتجاج کرنا چائيے بجلی نہيں آئے گی تو ہمارے بلاگ تو يکے بعد ديگرے بند ہی ہو جائيں گے، آپ سولر سسٹم کا کيوں نہيں سوچتے ؟
.-= پھپھے کٹنی کے بلاگ سے آخری تحریر … 180 ڈگری =-.
بھائی جی دیہاتوں کو بجلی دینے کا نعرہ سیاہ ستدانوں نے لگایا تھا، آئی میرے گاؤں میں بجلی، کھمبے لگا کر وہ تو ووٹ لے گئے پیچھے سیاپا ڈال گئے۔ اب نہ شہروں کو پوری ہوتی ہے نہ دیہاتوں کو۔ شہریوں کا تو ہگنا بھی بجلی کے بغیر نہیں چلتا، واسا کے ٹیوب ویل بجلی سے ہی چلتے ہیں پاء جی ورنہ خشبوئیں ہوجائیں ہر پاسے۔ تو عرض یہ ہے کہ پہلے جہاں جہاں بجلی ہے اسے تو پورا کرلیں باقیوں کی باری تو بعد میں آئے گی۔
آپ کی بات بالکل بجا ہے کہ دیہوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا شہروں کا، لیکن شہروں میں روزی روٹی بھی بجلی سے ہی چلتی ہے، دیہوں میں اس کے بغیر بھی گزارا ہوجاتا ہے۔ بس یہ بات ہے۔ میں نے صرف بجلی کی بات کی ہے ہسپتال اور سکولوں کی نہیں، ان کو پیدا نہیں کرنا پڑتا، بجلی کو پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اور چلتے چلتے گیس کی بات بھی کرتا چلوں۔ سیاہ ستدان اپنے آبائی حلقوں میں گیس کے کنکشن دھڑا دھڑ لگوا رہے ہیں اور حالات یہ ہیں کہ گرمیوں میں بھی گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوگئی ہے۔ چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں تو لوگ لکڑی جلا لیتے ہیں، ہم کیا کریں؟ جو کئی سالوں سے گیس کے عادی ہیں فیصل آباد میں تو دور نیڑے سے لکڑی ملتی بھی نہیں۔ سائیں بات یہ ہے کہ کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ اگلوں کو چیز پوری نہیں پڑتی اور نئے آتے جاتے ہیں۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ دیہوں کو یا چھوٹے شہروں کو سہولت نہ دیں۔ لیکن جن کو دی ہوئی ہے ان سے تو نہ چھینیں۔ لاہور جیسے شہر میں کئی علاقوں میں اگست سے گیس کا پریشر اتنا کم ہوجائے گا کہ روٹی بھی نہیں پکے گی، میرے گھر میں پچھلے سال سے سردیوں میں چراغ جتنی گیس آتی ہے صبح اور شام کو روٹی پکانے وقت، میری خالہ کے گھر جو ایک چھوٹے شہر میں ہے یہ لمبا شعلا نکلتا ہے، ان کے علاقے کے سیاہ ستدان نے تازہ تازہ گیس دلوائی ہے انھیں۔ چناچہ اسے خوش کرنے کے چکر میں ہماری مومیائی نکالی جارہی ہے۔
.-= دوست کے بلاگ سے آخری تحریر … اشکے وئی اشکے =-.
آپ کو معصومیت نظر آ رہی ہے اور یہاں ہم غصے سے لال پیلے ہو رہے ہیں۔ بجلی کا مسئلہ تو پورے ملک میں ہے لیکن میں نے نوٹ کیا ہے شہروں اور دیہاتوں میں اس معاملے میں بڑی تفریق کی جا رہی ہے۔ بڑے شہروں کے مقابلے میں ہمیں جتنی بجلی ملتی ہے اگر اس کا حساب لگایا جائے تو ہمارے ہاں ڈبل لوڈ شیڈنگ ہے اور اوپر سے کوئی شیڈول نہیں۔
امام دین گجراتی کی بات نہ کریں۔ پتہ نہیںوہ ایسے تھے بھی یا نہیں لیکن جیسا ان کا کلام یہاں مشہور ہے اگر اس کا ایک شعر لکھ دیا جائے تو پھر بلاگ کو تالا ہی لگانا پڑے گا۔ ویسے سنا ہے امام دین گجراتی سے کسی نے کہا کہ بڑے شعر لکھتے ہو کبھی نعت بھی لکھو تو امام دین گجراتی نے نعت لکھی اور اس کے بعد کچھ نہیں لکھا۔
محترم جتنا غصہ تھا شکر کریں الف ب پ تک کام رہا ورنہ ارادہ تو ی ے تک جانے کا تھا۔
آپ ہمیں بجلی اور دیگر سہولیات دیں گائے اور بھینس کے حقوق ہم خود دے لیں گے۔ بجلی نہ ہو پھر تو سیاپا ہی نہ رہے۔ ہم کوئی متبادل سوچیں گے لیکن مسئلہ یہ ہے نہ مکمل بند کرتے ہیں نہ مکمل دیتے ہیں۔ یعنی کتا کھو چہ لٹکایا اے۔
آپ نے بالکل بجا فرمایا۔ یہ نمبردار اور چوہدری تو ہمیں لے بیٹھے ہیں۔ جب ووٹ لینے ہوتے ہیں تو ہمارے آگے پیچھے ہوتے ہیں۔ لیکن جب مطلب نکل جاتا ہے تو پھر کبھی ادھر منہ نہیں کرتے۔ ویسے یہ بھی ہمارا ہی قصور ہے ہمارے لوگوں کو بھی سمجھ نہیں آتی اور جب الیکشن ہوتے ہیں تو پھر انہیں ہی ووٹ دے دیتے ہیں۔
یوں تو میں بھی چوہدری گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ لیکن میں ایسی چوہدرا اور نمبر داری پر لعنت بھیجتا ہوں جس میں عام عوام کی حق تلفی ہو۔
عبداللہ بھائی آپ کا بہت شکریہ کہ آپ بھی ہمارے ہم احتجاج ہیں۔ ورنہ ہمارے معاشرے کا حال تو یہ ہے کہ گاؤں کے سادہ لوگوں کی باتوں کو مسالحے لگا لگا کر سواد لیا جاتا ہے جبکہ حقیقت کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی ان کے مسائل کی طرف کوئی توجہ دیتا ہے۔
بالکل ٹھیک کہا شہروں میںبھی لوڈ شیڈنگ ہے۔ پچھلے دنوں میں لاہور میں تھا وہاں ایک گھنٹہ یا زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے جاتی اور پھر آ جاتی لیکن گاؤں میں نہ جانے کا پتہ نہ آنے کا پتہ۔ چلی جائے تو آنے کا نام نہیں لیتی اور آ جائے تو پھر بس ایسے جاتی ہے جیسا آئی صرف دیدار کروانے کے لئے تھی۔ یہاں اپنے ایک دوست کی بات یاد آ گئی۔ جب بجلی ایک دو گھنٹے مسلسل رہے تو وہ کہتے ہیں مانو یا نہ مانو یہ کمینے کسی بڑے چکر میں ہیں جو اتنی دیر ہو گئی بجلی نہیں لے کر گئے۔
آپ کا بہت شکریہ۔ اگر آپ دیہاتی ہیں تو پھر یقینا آپ بھی ہماری طرح کی ذہنی کوفت کا شکار ہوں گے۔
اجی ایسی بھی کوئی بات نہیں۔ آپ کے بلاگز کے سرور تھوڑا میرے گاؤں میں ہیں۔ باقی اگر آپ مشترکہ احتجاج کریں تو ہمیں خوشی ہو گی کہ ہمارے سارے پاکستانی ہمارے ساتھ ہیں۔ پھر چاہے بجلی نہ بھی ملے ہمارے لئے یہ خوشی سب سے بڑ کر ہو گی۔ دیہاتی تو وہ سادہ بندہ ہوتا ہے جو ساری زندگی ایک چھوٹی سی خوشی کے سہارے گزار دیتا ہے۔
رہی بات سولر سسٹم کی تو کئی بار سوچا اور پتہ بھی کیا لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لئے فی الحال ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ اس کے علاوہ بائیو گیس کا بھی سوچا تھا اور مکمل تحقیق کی تھی لیکن اس پر بھی کافی اخراجات آتے ہیں۔ شاید آپ کو معلوم ہوں کہ سولر پینل سلیکان سے تیار ہوتا ہے اور سلیکان کو اس پوزیشن میں لانے کے لئے جو بھٹی ہوتی ہے اس کی اجازت بھی دنیا کے چند ملکوں کو ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی اجارہ داری قائم رکھے ہوئے ہیں اور سولر سسٹم مہنگا ہے۔
:brheart: :brheart: :brheart:

.-= عثمان کے بلاگ سے آخری تحریر … ہوزے ساراماگو۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ! =-.
اجی صاحب یہ کیا کہہ دیا آپ نے ۔ خیر مجھے آپ کا محل وقوع تو نہیں پتہ مگر میرا آبائی گاؤں کوٹلہ ارب علی خان کے پاس “لنگڑیال” کے نام سے ہے ۔ ہم سنتے ہیں کہ وہاں کہیں ساٹھ کی دہائی کے آخر میں ہی بجلی آ گئی تھی (شاید منگلا ڈیم قریب ہے اسلئے) ۔ اپنے بچپن میں معمولی بلب تک بند کر کے ایک پرانا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی چلانا پڑتا تھا (غالبا 1986/1987 کی بات ہے )۔ اب تو وہاں سے بھی اسی قسم کی شکایات آتی ہیں ۔ اور یہ علاقہ تو یوں بھی بارانی ہے بارش نہ ہوئی فصلیں نہ ہوئیں چھوڑ چھاڑ کر بیرون ملک و بڑے شہروں کو بھاگے۔ ساری زراعت باوجود زرخیز زمین کے برباد ہو گئی ۔ اب کے چچا نے ٹیوب ویل لگوایا ہے تو ڈیزل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ ڈھور ڈنگر باقی نہیں رہے لوگ ٹیٹرا پیک دودھ پر آ گئے ہیں اگر اس میں کچھ ڈالر ، یورو و ریالوں کا بھی کردار ہے مگر سچ یہی ہے کہ بجلی نہ ہونے سے ٹیوب ویل بھی نہیں لگوا سکتے ، نہریں نہ ہونے سے پانی کی سطح زمین میں انتہائی نیچے چلی گئی ہے ۔ کسی کو کچھ فکر نہیں ۔ اور جب یہی لوگ بحالت مجبوری شہروں کا رخ کرتے ہیں تو ان سے تعصب بھی برتا جاتا ہے ۔ :angry:
وسلام
تبصرے کا اتنی دیر سے جواب دینے پر معذرت چاہتا ہوں۔
باقی میں آپ کی باتوں سے مکمل اتفاق کرتا سوائے چند ایک کے۔ مزید آپ کے تبصرے/رائے ہمیشہ کمال کے ہوتے ہیں۔ یہاں تفصیل سے جواب اس لئے نہیں دے رہا کیونکہ میں اس پر ایک اور پوسٹ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار خوشیاں دے۔۔۔آمین
ارے آپ کا دل کیوں ٹوٹ گیا۔ حضرت یہ بلاگنگ ہے اور یہاں اختلاف ہونا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ اختلاف سے ہی تو ہم سیکھتے ہیں۔ بس اختلاف نظریاتی ہی رہنا چاہئے اور انا کا مسئلہ نہیںبننا چاہئے۔
بہت خوب طالوت بھائی۔ آپ نے تو میری کہی باتوں کی بڑی زبردست تفصیل بیان کر دی۔ میں جلالپورجٹاں کے ساتھ ایک گاؤں میںرہتا ہوں۔
واقعی کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ بجلی جتنی شہروں کو ضروری ہے اتنی ہی گاؤں کے لئے بھی۔ دو دن ہوئے جب بھی بجلی آتی ہے ٹیوب ویل چلا دیتے ہیں لیکن ابھی تک ایک ایکڑ کو پانی نہیں دے پائے۔ ابھی تو دھان لگانی ہے تو یہ حال ہے آگے پتہ نہیں کیا ہو گا۔ سوچ رہے ہیں کہ اس بار صرف تھوڑی بہت دھان لگاتے ہیں جو صرف اپنے لئے ہو باقی رہنے دیتے ہیں۔ ان دوستوں کے لئے جو دھان کے بارے میں نہیں جانتے ان کو بتا دوں کہ دھان چاول کی فصل کو کہا جاتا ہے۔