اکتوبر 26, 2011 - ایم بلال ایم
1 تبصرہ

ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ

گذشتہ سے پیوستہ

کیسی عجیب بات ہے ہمارے ہاں عدالت فیصلہ ایک کسان کے لئے کرتی ہے لیکن فیصلہ لکھتی انگریزی میں ہے۔ قانون پاکستانیوں کے لئے ہے لیکن لکھا انگریزی میں جاتا ہے۔ انقلاب لانے والے بات غریبوں سے کرتے ہیں لیکن زبان پتہ نہیں کونسی استعمال کرتے ہیں۔ بات ثقافت کی ہوتی ہے لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہی ثقافت کی دھجیاں اڑا رہی ہوتی ہے۔ اخبار اردو، اخبار پڑھنے والے اردو والے، اشتہارات اردو والوں کے لئے لیکن مجال ہے کوئی بھی یونیورسٹی اپنا اشتہار اردو میں دیتی ہو اور نہ ہی کسی کی ویب سائیٹ اردو میں ہے۔ ذہنی غلاموں نے ہمیں غلام اور ہمارے معاشرے کو ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ کبھی آپ نے غور کیا طالب علم پاکستانی، ہڈیوں میں رچی قومی زبان اردو، نصاب انگریزی، لیکچر گلابی اردو (اردو+انگریزی) میں، طالب علم سوچتا اردو میں، امتحانات میں لکھتا انگریزی میں، طالب علم آپس میں بات چیت اردو میں کرتے، استاد سے سوال اردو میں کرتے، جواب اردو میں لیتے لیکن نصاب انگریزی۔ اوئے! یہ سب کیا ہے؟ یہ ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ نہیں تو پھر مجھے بتاؤ اور اسے کیا کہوں؟ ہمارے ہاں پتہ نہیں کیوں ہر کام میں گنگا الٹی ہی بہتی ہے۔ آپ انٹرنیٹ پر دیکھ لیں باتیں انقلاب کی لیکن انگریزی میں، او خدا کے بندو! انہوں نے انقلاب نہیں لانا جن کو تم سنا رہے ہو بلکہ جس نے انقلاب لانا ہے وہ تو ایک عام پاکستانی ہے۔ اس تک پہنچو اور اس کی زبان میں بات کرو اور اسے سمجھاؤ، لیکن مجال ہے جو کوئی ”واقعی“ انقلاب لانے کے لئے عام انسان کی سطح پر آنے کو تیار ہو۔ یہ سب اعداد کے اور باتوں کے جادوگر ہیں، جن کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہے کہ کتنے لوگوں نے انہیں یا ان کے صفحہ کو انٹرنیٹ پر پسند کیا، ذرا پسند کا معیار تو دیکھو، واہ سبحان اللہ۔ اِدھر آج پسند کا بٹن دبایا اُدھر کل یاد بھی نہیں تھا کہ کسی ”انقلابی“ کی آواز پر لبیک کہا تھا۔ اس میں عام بندے کا کوئی قصور نہیں بلکہ قصور تو اس ”انقلابی“ کا ہے جس نے سوچ تبدیل کرنے کے لئے عام بندے تک آنے کی کوشش ہی نہیں بلکہ انقلاب کے لئے اس کا انقلابی قدم یہ تھا کہ ”Plz Like my Page“۔ واہ رے انقلابی، صدقے جاؤں تیرے انقلاب پہ۔۔۔

بے شمار محکموں کا کام صرف عام عوام تک محدود ہے لیکن انہیں محکموں میں بھرتی کرتے ہوئے معیار انگریزی بنایا جاتا ہے۔ سی ایس ایس جیسے امتحان لیے جاتے ہیں اور بھرتی ہونے والے ”سول سرونٹ“ ہوتے ہیں۔ ایسے نوکر جنہوں نے خدمت ایسی عوام کی کرنی ہے، عام طور پر ایسی عوام سے ملنا اور مخاطب ہونا ہے، جو اردو سمجھتی ہے لیکن انہیں ”سول سرونٹ“ کو بھرتی کرنے کے لئے معیار انگریزی رکھا گیا ہے۔ یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر سی ایس ایس جیسے امتحانات میں انگریزی پر اتنا زور کیوں دیا جاتا جبکہ اس امتحان کے نتیجے میں بھرتی ہونے والے تو عام عوام کے نوکر بننے جا رہے ہوتے ہیں۔ ٹھیک ہے کچھ نوکروں نے باہر کے ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرنی ہوتی ہے تو ایسے نوکروں کے لئے انگریزی لازمی رکھ لیں۔ لیکن جنہوں نے پولیس جیسے محکموں میں جانا ہے، جہاں پر سارا کام ہی عام عوام کے لئے کرنا ہے وہاں پر انگریزی کی اتنی کیا ضرورت ہے؟ سی ایس ایس جیسے امتحانات میں علم سے زیادہ انگریزی زبان پر عبور کو جانچا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک بہت بڑی تعداد جو ہونہار ہوتی ہے اور علم بھی رکھتی ہے مگر انگریزی زبان میں اپنا مدعا ٹھیک طرح بیان نہ کر پانے کی وجہ سے فیل ہو جاتی ہے۔ گویا ہمارے ہاں ذہانت اور علم معیار نہیں بلکہ انگریزی زبان کو معیار بنا دیا گیا ہے۔ جبکہ یہی سی ایس ایس اگر اردو میں ہو تو ایسے ایسے ہونہار لوگ سامنے آئیں گے کہ دنوں میں ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔

قرضہ اور اس جیسے دیگر درخواست فارم وغیرہ ہوتے عام انسان کے لئے ہیں لیکن لکھے انگریزی میں ہوتے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایسا سب کچھ کر کے ہم چھوٹی چھوٹی اور بنیادی باتوں پر پاکستان کی سب سے بڑی تعداد کے لئے سیکھنے، سمجھنے اور اپنا مدعا بیان کرنے کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ پھر انہیں چیزوں کی آڑ میں ہم ہر ادارے میں ایجنٹ مافیا پیدا کرتے ہیں، بابو صاحب پیدا کرتے ہیں اور اچھی بھلی سوچ رکھنے والے کو صرف زبان کی وجہ سے جاہل بنا دیتے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہم نے اپنے نوجوان کو دو کشتیوں (اردو اور انگریزی) کا سوار کر رکھا ہے اور طالب علم کی آدھی محنت تو ایک بیگانی زبان سیکھانے میں ضائع کر دیتے ہیں۔

اگلا حصہ :- ”انگریزیا“ کی بیماری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ہمارے ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *