توہین رسالت قانون، اصل خرابی کہاں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یوں تو آج کل توہین رسالت، ختم نبوت، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر بہت باتیں اور جگہ جگہ بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے لیکن 17 ستمبر 2009ء کو روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ کے صفحہ اول پر شائع ہونے والے گورنر پنجاب کے بیان “توہین رسالت کا قانون ختم ہونا چاہیے” نے مجھ جیسے عام شہری کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آج ہم یہاں اسلام میں توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے بات نہیں کریں گے بلکہ عمومی جائزہ لیں گے کیونکہ اگر اسلامی نقطہ نظر سے بات کی جائے تو اس کے لئے علم کا معیار بھی کافی بلند ہونا چاہے اور ویسے بھی یہ ایک بہت حساس معاملہ ہے اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہوئے ایک ایک قدم پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس لئے آج ہم عمومی جائزہ ہی لیتے ہیں۔
پوری دنیا میں کوئی قانون اس لئے بنایا جاتا ہے کہ ریاستی نظام کو امن و امان سے چلایا جا سکے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ مجرم یا کوئی دوسرا بھی سزا سے نصیحت پکڑے اور جرم سے دور رہے۔ قانون پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا صرف اور صرف عدالت دے سکتی ہے۔ عوام کسی جرم کی نشاندہی کر سکتی ہے،جرم روکنے میں حکومت کی مدد کر سکتی ہے لیکن سزا دینے کا اختیار عام عوام کے پاس نہیں ہوتا اور جب ماورائے عدالت سزا عام شہری دینے لگتے ہیں۔ ایک تو یہ سیدھا سیدھا جرم کرتے ہیں اور دوسرا اس وجہ سے معاشرے میں شر پیدا ہوتا ہے اور سارا معاشرہ تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر کہیں ایسے حالات پیدا ہو جائیں جیسا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے تو اس صورت میں حکومت وقت کو خود بھی اور عام عوام کو بھی قانون پر سختی سے عمل کرنے اور کروانے کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ادارے اور حکمران نہ تو خود سو فیصد قانون پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی عوام سے کروا سکتے ہیں۔ جب کوئی مسئلہ بنتا ہے تو اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے عجیب عجیب بیان دے دیتے ہیں کہ فلاں قانون ٹھیک نہیں، فلاں شق تبدیل کی جائے ، یہ کیا جائے ، وہ کیا جائے وغیرہ۔۔۔
ایسا ہی ایک بیان ہمارے گورنر صاحب بھی دے چکے ہیں جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ہم پر ایسے حکمران بیٹھے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ دنیا کا کوئی ملک، کوئی قانون نبی تو دور کی بات ایک عام انسان کی توہین کی بھی اجازت نہیں دیتا اور تو اور کسی مجرم کو اس کے جرم کی سزا کے علاوہ مزید کوئی تکلیف دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اور ایک ہمارے گورنر صاحب ہیں جو توہین رسالت کے قانون کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ ہاں یہاں یہ بات یاد رہے کہ توہین رسالت کی سزا کیا ہے اور کیا ہونی چاہیے اس پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسمبلی اور پارلیمنٹ وغیرہ اسلامی نقطہ نظر سے ضرور بحث کر سکتی ہے اور قانون میں تبدیلی کر سکتی ہے لیکن یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ توہین رسالت کا قانون ختم ہو جائے۔ ذرا سوچئیے دنیا کا کوئی بھی انسان اپنے نبی، پیغمبریا لیڈر کی توہین برداشت نہیں کرتا۔ مسلمانوں کو ایک طرف کر کے فرض کریں اگر کوئی ہندؤ یا کوئی دوسرا بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو کیا عیسائی یہ برداشت کریں گے؟ اگر کوئی مسلمان ہندؤں کے دیوتا کی توہین کرتا ہے تو کیا ہندؤں یہ برداشت کریں گے؟ ہر گز نہیں کریں گے اور کرنی بھی نہیں چاہئے کیونکہ جب ہم اپنی توہین ہونے پر ہتک عزت کا دعوی کر دیتے ہیں تو پھر ان لوگوں جن کو انسانوں کی ایک جماعت عظیم ہستی سمجھتی ہے کی شان میں گستاخی یا توہین کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہئے۔ چاہے وہ ہستی مسلمانوں کی ہو یا پھر کسی بھی مذہب کی ہو۔ کسی کی بھی توہین قابل قبول ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ نظریات و عقائد سے اختلاف اور چیز ہے اور توہین و گستاخی اور چیز ہے۔
فرض کریں اگر یہ قانون ختم کر دیا جاتا ہے تو پھر ہر کسی کو چھوٹ ہو گی کہ وہ جو چاہے کرے۔ منفی ذہنیت کے مالک لوگوں کو موقع مل جائے گا اور پھر ایسے ایسے بیانات اور گستاخیاں ہو گیں کہ پوری دنیا کا معاشراتی نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔ یہ ہمارے کچھ لوگ اور حکمران آج ہمیں جس دنیا کے قانون کا حوالہ دیتے ہیں شاید ان کو خود معلوم نہیں کہ اُس دنیا میں ایک عام انسان کی توہین پر کیا سے کیا ہو جاتا ہے اور عدالتیں ایسے حرکت میں آتی ہیں کہ صدر تک کو اپنی فکر ہونے لگتی ہے۔ میں کوئی قانون دان تو نہیں لیکن یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کا کوئی قانون کسی کی مذہبی شخصیات اور مذہبی رسومات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا کے ہر ملک میں ایسے قانون کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔
آج کل ایک اور بحث بڑی چل رہی ہے کہ مسئلہ توہین رسالت کے قانون کا نہیں بلکہ اس قانون کے غلط استعمال کا ہے۔ بات پھر وہیں آ جاتی ہے کہ قانون کا ٹھیک استعمال کرنا اور کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی چیز ، عہدہ اور نہ ہی کوئی قانون ایسا ہے جس کا غلط استعمال نہ کیا جاسکتا ہو۔ مثلا کوئی جھوٹی گواہی دے کر کسی کو سزا دلوا دیتا ہے اب بے گناہ کو سزا ہو جاتی ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ سب جانتے ہوئے بھی کہ گواہی کے نظام کے بغیر کام نہیں چلے گا اور آپ سیدھا سیدھا گواہی کے نظام کو ہی ختم کروانے چل پڑیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس نظام کو بہتر کیا جائے۔ اگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے تو بہتری کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بھی پیدا کریں تاکہ کوئی جھوٹی گواہی دے ہی نہ۔ اب یہ بات تو صاف ہے کہ کسی کی مذہبی شخصیات کی توہین کا قانون اگر ختم کر دیا جائے تو بے شمار مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہاں اگر اس قانون میں کوئی کمی ہے تو اس کو بہتر کیا جائے اور اگر حکمرانوں یا انتظامی اداروں سے ٹھیک طرح قانون پر عمل درآمد نہیں کروایا جا رہا تو وہ خود کو بہتر کریں یا پھر اپنی غلطی تسلیم کریں۔ میں مانتا ہوں کہ توہین رسالت کے قانون کی آڑ میں کئی شر پسند عناصر فائدہ حاصل کرتے ہیں اور قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ بات پھر وہیں آتی ہے کہ قانون کا ٹھیک استعمال کس نے کروانا ہے؟ انتظامی اداروں کو کس نے بہتر کرنا ہے؟
میری گورنر صاحب اور ہر اس بندے سے گذارش ہے جو خودکو “لبرل” ظاہر کرنے کے لئے پتہ نہیں کیا کیا بیان دے جاتے ہیں کہ جناب ذرا سوچئیے کیا اس قانون کو ختم کرنے سے معاشرے میں فساد برپا نہیں ہو گا؟ باقی اگر آپ سے انتظامی امور نہیں چلائے جاتے اور آپ کے دور حکومت میں توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے تو برائے مہربانی اپنی کمی کو چھپانے کے لئے قانون کو ختم کرنے کے بیان نہ دیں۔ ویسے یہ تو آپ اور ہم سب جانتے ہیں کہ اصل خرابی کہاں ہے۔۔۔
نوٹ:- یہ کوئی فتوی نہیں بلکہ میرے خیالات و نظریات ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کو ان سے مکمل اتفاق ہو لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ بحث برائے تعمیر کی بجائے بحث برائے بحث شروع کر دیں۔
20 تبصرے برائے تحریر ”توہین رسالت قانون، اصل خرابی کہاں“
تبصرہ تحریر کریں
آپ ”بیاضِ بلال“ کے قاری ہیں اور مجھے بہت عزیز ہیں، لیکن خیال رہے یہ ”توہین رسالت قانون، اصل خرابی کہاں“ والا صفحہ ہے اور اس صفحہ پر صرف اسی موضوع کے مطابق بات کی جائے گی۔ موضوع سے ہٹ کر سوال پوچھنے یا تبصرہ کرنے کی تفصیل یہاں ملاحظہ فرمائیں۔ برائے مہربانی ابھی یہاں جو بھی لکھیں موضوع کے مطابق ہی لکھیں۔ شکریہ۔« پچھلی تحریر اردو بلاگرز کے لئے چند تکنیکی مشورے































شیئر کریں
ای میل
فیس بک
ٹویٹر
گوگل بز
ٹیکنوراٹی
ڈگ
ڈیلیشیئس





![Validate my RSS feed [Valid RSS]](http://www.mbilalm.com/blog/wp-content/themes/paksign/images/valid-rss-rogers.png)






آپ نے بالکل بجا فرمایا، قانون برا نہیںہوتا، قانون پر عمل کرانے والے کی نیت ٹھیک ہونی چاہیے۔ آپ یہ سن کر حیران ہوںگے کہ ابھی تک اس قانون کے تحت کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ آج کل یہ فیشن بن چکا ہے اسلام کی تضحیک کرنے کیلیے مولویوں کو برا کہنا اور اسلام کے قوانین کا مزاق اڑانا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ کیخلاف یورپ میں کچھ کہیں گے تو قانون آپ کو پکڑ لے گا مگر میڈیا اس کے بارے میں کبھی کچھ نہیںکہے گا۔
.-= میرا پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر … سفید جھوٹ =-.
Governer sahib ka yeah biyaan parhain aur batain ismain kiya galt kaha giya hai?
اللہ اور اسکے رسولﷺکی ذات کے بارے کوئی غلط بات برداشت نہیں کرسکتا‘گورنر سلمان تاثیر ،توہین رسالت کے قانون میں بعض شقوں کا خاتمہ ناگزیر ہے‘ سینئر صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع پر گفتگو:
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19ستمبر۔2009ء)گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے اسلام امن محبت اور رواداری کا درس دیتا ہے ‘ شدت پسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘ اقلیتوں کا تحفظ کرنا ہمارا اخلاقی‘ دینی اور قومی فریضہ ہے‘ توہین رسالت کے قانون میں سے ایسی شقیں دور کر دینی چاہئیں جن سے معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ لاحق ہو۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز گورنر ہاؤس لاہور میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع پر کہی۔ گورنرنے کہا کہ میں بھی سچا عاشقِ رسول ہوں ۔ اللہ اور اُس کے رسول کی ذات کے بارے میں کوئی غلط بات برداشت نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں کسی ایک شخص کا ناجائز قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے اور یہی میرے آقا کا فرمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ توہینِ رسالت کے قانون میں بعض شقوں کا خاتمہ ناگزیر ہے کیونکہ ان شقوں کی بنیا د پر کچھ لوگ ذاتی دشمنی لینے کے لیے مخالفین پر توہینِ رسالت کا غلط الزام لگا دیتے ہیں اور عوام کو اشتعال دلا کر لوگوں کی جانوں ومال کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے فرامین مشعلِ راہ ہیں ۔ ہمیں ذاتی دشمنیوں کے لیے نبی کریمﷺ کی پاک ہستی کا نام قطعاََ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون میں ترامیم کرکے معصوم لوگوں کے جان و مال کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔گورنر نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے یہ برداشت اوررواداری کا درس دیتا ہے۔ پاکستانی قوم شدت پسندی کے سخت خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو حقوق دینا ہمارا مذہبی فریضہ ہے ۔ جو لوگ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے ہیں وہ کوئی دینی اور قومی خدمت نہیں کر رہے ہمیں اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی اور شفقت سے پیش آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام تلوار کی نوک پر دنیا میں نہیں پھیلا بلکہ یہ نبی کریم ﷺ کے محبت اور امن کے پیغام کی وجہ سے پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔
بہر حال ایک اچھی تحریر کا مزہ آخری ایک جُملے نے خراب کر دیا۔
.-= منیر عباسی کے بلاگ سے آخری تحریر … شائد کوئی آجائے آبلہ پا میرے بعد۔ =-.
” یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ کیخلاف یورپ میں کچھ کہیں گے تو قانون آپ کو پکڑ لے گا ”
aisa hargis naheen hai, aap ku kis nay bataya hai?
جناب کیا آپ بتائیں گے کہ کس آخری جملہ نے مزہ خراب کیا ہے؟ کیا نوٹ والے الفاظ نے یا کسی اور جملہ نے؟ اگر آپ بتا دیں تو میرے لئے کافی اچھا ہو گا تاکہ میں اپنی درستگی کر سکوں۔۔۔
بلال صاحب، بہت اچھی تحریر لکھی آپ نے، یقیناً قانون پر عمل درامد میں ناکامی کے بعد حکومتی اراکین ایسے بیان دیتے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں جاہل علما کا بھی بہت ہاتھ ہے،لاوڈ سپیکر کا غلط استعمال بھی ایسی اندھی عوامی تحریکوں اور بے وقوفیوں کو جنم دیتا ہے،یہاں سعودی عرب میں اس مسئلے کا بہت اچھے طریقے سے حل کیا گیا ہے۔ علما کو اپنے ذاتی بیانات اور خیالات بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ محکمہ اوقاف ایک تحریری خطبہ ہر جمعہ کے موقع پر ہر مسجد میں فیکس کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ لاوڈ سپیکر کو استعمال نہیں کیا جاتا۔ اگر پاکستان میں بھی ایسا نظام بنا دیا جائے تو یقیناً بہت سارے غیر اخلاقی واقعات نہیں ہوں گے۔
.-= یاسر عمران مرزا کے بلاگ سے آخری تحریر … خلیجی ممالک میں عیدالفطر =-.
اس قانون کے تحت کسی کو سزا نہیں ہوئی اس بات کو چھوڑ کر میں آپ کی سب باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔ قانون والی بات اس لئے چھوڑی ہے کیونکہ اس بات کا مجھے ٹھیک طرح سے علم نہیں۔ باقی آپ نے بتائی ہے تو میں کوشش کروں گا کہ اس کا کوئی حوالہ ڈھونڈ سکوں۔۔۔
جناب عمر صاحب سب سے پہلے تو بلاگ پر تبصرہ کرنے اور گورنر صاحب کا بیان لگانے کا بہت شکریہ۔۔۔ یہ بیان میری نظر سے نہیں گزرا تھا۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ گورنر صاحب یہ بیان دے چکے ہیں تو میں شائد تحریر میں ان کا ذکر نہ کرتا۔ یہ ایسا حساس معاملہ ہے جس پر بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے بلکہ ہزار بار سوچنا چاہئے۔ گورنر صاحب نے جو پہلے بیان دیا تھا اگر اس میں ہی وضاحت کر دیتے تو شائد میری تحریر کچھ اور ہوتی یا ہوتی ہی نہ۔
ویسے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ علماء اور دیگر سیاسی جماعتوں کے احتجاج پر گورنر صاحب نے یہ بیان دیا ہو۔
علماء کے احتجاج کی خبر کا لنک (اردو پوائنٹ)۔۔۔
ن لیگ کے بیان کا لنک (اردو پوائنٹ)۔۔۔
جی میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔۔۔
میں اپنی معلومات کے لئیے پوچھ رہی ہوں۔ دنیا میں کن کن ممالک میں بشمول اسلامی اور غیر اسلامی توہین کا قانون موجود ہے۔ اسکی سزائیں وہاں کیا ہیں۔
فتح مکہ کے بعد جب ایک بڑے علاقے پر اسلامی حکومت قائم ہو چکی تھی تو کیا یہ قانون اس وقت تشکیل دیا گیا تھا۔ خود رسول اللہ اپنی شان میں گستاخی کرنے والوں کے ساتھ کی سلوک کرتے تھے۔
یہ تو تھے میرے سوالات۔ اگر کوئ انکے تشفی جوابات دے تو مشکور ہونگی۔
میرا پاکستان، بہت عجیب بات یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اسکے تحت کسی کو ابھی تک سزا نہیں ہوء۔ لیکن اس جرم کے الزام میں کتنے لوگ جیل کے اندر ہیں اسکا کوئ حساب نہیں۔ پنجاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زمین پر قبضہ کرنے کےلئے یہ قانون انتہائ چالاکی اور مکاری سے استعمال کیا جارہا ہے اس بارے میں بھی آپکو مختلف رپورٹس کو دیکھنا چاہئیے۔
میں منیر عباسی کی بات سے اتفاق کرتی ہوں۔ یہ کہنا کہ بحث برائے بحث نہ کی جائے بلکہ بحث برائے تعمیر ہو۔ کسی کمپنی کی مینیجمنٹ کی میٹنگ کے لئے تو ایک ایسا جملہ ہو سکتا ہے جس پہ دھیان دینا چاہئیے۔ لیکن جس سطح پر آپ یہ تحریر لکھتے ہیں وہاں اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان تحریروں سے لوگوں کا دماغ فی الفورتبدیل کر دیں گے تو یہ اتنا آسان نہیں۔
کوئ بھی شخص اپنا نکتہ ء نظر پیش کرتا ہے۔ آپکا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اور ہو سکتا ہے کہ کوئ بھی اس سے متفق نہ ہو ۔لیکن آپ اسے بحث برائے بحث میں نہیں ڈال سکتے۔ یہ یاد رہنا چاہئیے کہ اکثریتی رائے کبھی کبھی بالکل غلط ہو سکتی ہے۔ ایک دانا کے خیال میں جب تمہاری رائے اکثریت کی رائے سے ملنے لگے تو تمہیں اپنی رائے پر دوبارہ نظر ضرور ڈالنی چاہئیے۔
شائد میں اپنی تحریر میں یہ بات سمجھا نہیں سکا جس کی وجہ سے شاید آپ نے یہ سوال کیا۔ محترمہ میں نے لکھا تھا “دنیا کا کوئی قانون کسی کی مذہبی شخصیات اور مذہبی رسومات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا کے ہر ملک میں ایسے قانون کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔” پہلی بات کہ میں نے مذہبی شخصیات اور مذہبی رسومات کی “توہین” کی بات تھی نہ کہ شخصیات اور رسومات سے اختلاف کی اور دوسرے جملے میں یہ بات بھی واضح کر دی تھی کہ ڈائریکٹ یہ قانون ہو نہ ہو لیکن کسی نہ کسی صورت میں ایسے قانون موجود ہیں۔ اور دوسرا کیا آپ سمجھتی ہیں کہ امریکہ یا دیگر ترقی یافتہ ممالک میںکسی کی مذہبی شخصیات یا مذہبی رسومات کی توہین اجازت موجود ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی سرعام اسلام، عیسائیت یا کسی بھی مذہب کو گالیاں نکالتا پھرے؟ اگر ایسا ممکن ہے تو سب سے پہلے میں اپنے وہ جملے واپس لیتا ہوں غلط معلومات کی وجہ آپ لوگوں کو اگر کوئی تکلیف ہوئی ہو تو دل سے معذرت کرتا ہوں اور ساتھ میں یہ کہتا ہوں یہ کیا بات ہوئی، یہ کیسی انسانیت ہوئی، انسانیت کا شور مچانے والوں کو میں یہ پوچھتا ہوں کہ ایک عام انسان کا دل دکھانے یا بے عزتی کرنے پر قانون حرکت میں آ جائے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کا دل دکھانے اور عقیدے کو گالیاں دینے پر قانون خاموش رہے۔۔۔ ویسے یہ بھی یاد رکھئیے میں نے اپنی تحریر میں یہ بھی لکھا تھا کہ “نظریات و عقائد سے اختلاف اور چیز ہے اور توہین و گستاخی اور چیز ہے۔”
سب سے پہلے تو میں یہ کہتا ہوں جیسا کہ میں نے اپنی تحریر میں لکھا کہ “اگر اسلامی نقطہ نظر سے بات کی جائے تو اس کے لئے علم کا معیار بھی کافی بلند ہونا چاہے” اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ میرے علم کا معیار بلند نہیں جبھی تو میں اسلامی نقطہ نظر سے بات نہیں کر رہا بلکہ عمومی جائزہ لے رہا ہوں۔۔۔ اب آپ مہربانی کریں تو میں کہتا ہوں کہ مجھے نہیں پتہ کہ کیا سزا دیتے تھے اس لئے آپ ہی بیان فرما دیں کہ رسولﷺ کے زمانہ اور صحابہ اکرام کے زمانہ میں کیا سزا دی گئیں تھیں؟
دوسری بات کہ محترمہ گستاخی کی معذرت لیکن لگ رہا ہے آپ نے تحریر کو پڑھے بغیر سوال کر دیا۔ اگر دوبارہ پڑھیں تو ایک جگہ بلکہ شروع میں ہی آپ کو یہ لکھا ہوا ملے گا “آج ہم یہاں اسلام میں توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے بات نہیں کریں گے بلکہ عمومی جائزہ لیں گے” اس سے میری مراد یہ تھی کہ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ اسلام میں توہین رسالت کی کیا سزا ہے بلکہ ہم عمومی جائزہ یعنی اس سے معاشرے پر کیا اثر پڑے گا کو دیکھتے ہیں۔ اور آپ غور کریں تو میری تحریر میں کہیں بھی آپ کو اسلام میں توہین رسالت کی سزا پر بات نہیں ملے گی۔ بلکہ میں نے معاشرے سے توہین رسالت قانون کو ختم کرنے اور اگر انتظامی اداروں کا قانون نافذ نہ کر سکنے اور پھر قانون کو غلط کہنے پر بات کی ہے۔
اب آتے ہیں آپ کے تیسرے اور آخری سوال کی طرف جس کا مطلب آپ سمجھ چکی ہوں گی کہ میں نے ایسا کیوں لکھا تھا۔
کیا آپ “بحث برائے بحث” اور “بحث برائے تعمیر” کا مطلب سمجھتی ہیں؟ اگر سمجھتی ہیں تو پھر یہ باتیں میری سمجھ میں نہیں آ رہیں کہ آپ نے کیوں لکھیں؟ اگر نہیں سمجھتی تو کچھ عرض کیے دیتا ہوں۔ جب کوئی تحریر کو ٹھیک طرح پڑھے بغیر اصل خلاصہ کو سمجھے بغیر یا پھر سب کچھ پڑھتے اور سمجھتے ہوئے بس دوسرے کو زیر کرنے، اپنی بات کو بڑا کرنے کے لئے یا اختلاف ہونے کی صورت میں دوسرے کی بات نہ ماننے کی ضد میں دوسرے سے بحث شروع کر دے تو ایسی بحث کو “بحث برائے بحث” کہتے ہیں جس کو عام زبان میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ “میں نہ مانو” یعنی سب سمجھتے ہوئے بھی کہ دوسرا ٹھیک کہہ رہا ہے اور انا کا مسئلہ بنا کر اپنی ضد پر قائم رہنا بحث برائے بحث ہوتی ہے۔۔۔
جبکہ بحث برائے تعمیر کا تو مطلب ہی یہی ہے کہ اگر آپ کو اختلاف ہے تو آپ آسان الفاظ میں دلائل کے ساتھ دوسرے کو سمجھائیں۔ اچھے انداز میں اپنا مدعا بیان کریں اور کوشش کریں کہ جس سے بات کر رہے ہیں اس کی سطح پر آ کر بات کریں یعنی اگر مجھ جیسے کم علم سے بات کر رہے ہیں تو سوالوں کی بھر مار کی بجائے کہیں کہ تم نے فلاں بات غلط لکھی ہے جبکہ اصل بات یہ ہے۔ فلاں الفاظ کا استعمال غلط کیا ہے اسے درست کرو۔
میں اپنے الفاظ دوبارہ یہاں لکھ رہا ہوں۔ “ضروری نہیں کہ آپ کو ان سے مکمل اتفاق ہو لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ بحث برائے تعمیر کی بجائے بحث برائے بحث شروع کر دیں۔” اگر آپ غور کریں تو میں کہیں یہ نہیں کہا آپ مجھ سے اتفاق کریں یا میری ہر بات کو حرف آخر سمجھیں بلکہ میں نے کہا ہے اختلاف کی صورت میں بحث برائے بحث نہ کریں بلکہ بحث برائے تعمیر کریں جس کا صاف صاف مطلب یہ بنتا ہے کہ آپ اختلاف کی صورت میں تعمیری بحث ضرور کریں تاکہ ماحول تعمیری ہو نہ کہ انا پرست ہو کر ضد کریں اور تعلیمی ماحول بنانے کی بجائے فضول میں صفحات کالے کرتے پھریں۔۔۔
آخری بات: میں اس لئے نہیں لکھتا کہ لوگ میری باتوں پر عمل کرتے ہوئے فی الفور میرے نظریات تسلیم کریں بلکہ میں تو اس لئے لکھتا ہوں کہ جو میرے ذہن میں ہے اس کو لوگوں تک پہنچاؤں۔ ایک تعلیمی ماحول بناؤں جس میں ہم سب کچھ نہ کچھ سیکھ سکیں اور خاص طور پر میں اس لئے لکھتا ہوں کہ اگر میرے نظریات میں کوئی مسئلہ ہے تو میں انہیں درست کر سکوں۔
محترمہ غلطی گستاخی کی معذرت چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ درگزر فرمائیں گی۔
بلال دھیرج، ان سوالات کا تعلق براہ راست آپ سے نہ تھا۔ یہاں بہت سارے لوگ آتے ہیں اور تحریریں پڑحتے ہیں ۔ زیادہ تر لوگ مختلف نوعیت کے علوم سے تعلق رکھتے ہیں ، دنیا کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور مختلف باتیں جانتے ہیں۔ ان میں سے اگر کوئ ان باتوں کو تفصیلی طور پر جانتا ہے تو ضرور بتائے۔ اگر محض آپ سے پوچھنا ہو تو آپکا نام ضرور لکھتی۔
میرا خیال ہے تبصروں کو بھی غور سے پڑھنا چاہئیے۔
.-= عنیقہناز کے بلاگ سے آخری تحریر … گھر کی جڑیں =-.
توہین رسالت کا کوئی قانون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمانے میں موجود نہیں تھا اس قانون کا استدلال اس واقعے سے لیا جاتا ہے کہ ایک بار ایک یہودی اور ایک مسلمان میں کوئی تنازعہ ہوگیا دونون اپنا معاملہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے آپ( ص) نے اس یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا کیونکہ وہ حق پر تھا مسلمان کو یہ بات ناگوار گزری اور باہر نکل کر اس نے کہا کہ میں اس فیصلے کو نہیں ماننتا یہودی نے کہا کہ پھر تم کس سے فیصلہ کروانا چاہتے ہو اس نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلتے ہیں،جب یہ دونوں وہاں پہنچے تو یہودی نے ان کو پوری بات بتائی کہ کس طرح ہم نبی (ص) کے پاس سے ہوکر آرہے ہیں اور انہوں نے میرے حق میں فیصلہ فرمایا مگر یہ شخص اسے تسلیم نہیں کرتا اور اب ہم فیصلے کے لیئے آپ کے پاس آئے ہیں،آپ نے یہ سن کر فرمایا تم یہیں ٹھرو میں ابھی فیصلہ کرتا ہوں آپ اندر گئے اور تلوار لا کر مسلمان کی گردن اڑادی،یہودی نے کہا یہ آپنے کیا غضب کیا یہ تو آپکا مسلمان بھائی تھا آپنے فرمایا یہ مسلمان نہیں منافق تھا کیونکہ ایک تو اس نے اللہ کے نبی کی بات کو رد کرکے ان کی توہین کی اور پھر میرے پاس یہ سوچ کر آیا تھا کہ میں یہود سے نفرت کرتا ہوں اور اس لیئے ناجائز فیصلہ اس کے حق میں کر دوں گا،یہ واقعہ تاریخ اسلام میں آیا ہے اب اس میں کتنی سچائی ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے،اور اسی واقعے کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے باز پرس کی اور ان کی وضاحت پر آپ مطمئن ہوگئے،کہیں یہ بھی ہے کہ آپنے اس شخص کا قصاص اپنے پاس سے ادا کردیا تھا آپ حضرات اس کی کنفرمیشن کر لیں،جزاک اللہ،
اس کے علاوہ توہین رسالت یا توہین مذہب کے حوالے سے میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ ہم آج کے مسلمان اور خاصکر پاکستان کے مسلمان جس طرح دل کھول کر اور بے دھڑک اپنے مذہب اور اپنے رسول کی توہین کررہے ہیں سب سے پہلے تو ہم سب عبرتناک سزاؤں کے مستحق ہیں جب ہم خود یہ کام ترک کردیں پھر ہم شائد کوئی ایسا قانون بنانے کا سوچ بھی سکیں فلحال تو اس طرح کے تمام قوانین کا پاکستان سے خاتمہ ہونا اشد ضروری ہے،
ہمارے ہاں تو ایک ایس ایم ایس پر بھی لوگ دھر لئے جاتے ہیں
.-= DuFFeR – ڈفر کے بلاگ سے آخری تحریر … معذرت نامہ =-.
صدر پاکستان کی توہین پر 14 سال کی قید بامشقت
محبوب رب کائنات کی توہین پر معافی کا اعلان
نا سزا نا تفتیش پھر ے تو سر عام
اور پھر بن جایئں ہم ماڈرن مسلمان
واہ رے اسلامی جمہوریہ پاکستان
واہ رے اللہ کے مجاہد مسلمان
.-= طارق راحیل کے بلاگ سے آخری تحریر … پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ =-.
ہم بھی اسی بات کے متمنی ہیں کہ پہلے اس قانون کو ٹھیک کیا جائے اور پھر یہ طے کیا جائے کہ کیا کیا کچھ توہین رسالت میں شامل ہے ۔ اور سب سے ضروری یہ کہ اس قانون پر عملدرآمد شفاف طریقے سے ہو ۔ یہاں جس کسی کو کسی سے کوئی حساب چکانا ہو وہ اس کی آڑ میں خوب خوب فائدہ اٹھاتا ہے ۔ مگر صاحب ایسی بات کرتے ہی پکے مسلمان ہم کچے مسلمانوں کو امریکہ کا یار مغرب کا دلدار بنا ڈالتے ہیں ۔
لیکن پھر بھی میں اس کی سزا موت کی حمایت کبھی نہیں کروں گا۔ کہ موت کی سزا کے لئے قران نے جرائم تفصیلا بتا دئیے ہیں۔
وسلام
قران کی رو سے تو اکثریت گمراہ ہوتی ہے اور گمراہی کا سبب بھی ۔ پنجاب میں اس قانون کو زمین پر قبضوں کے لئے استعمال کیا جا رہے اس کی ذرا وضاحت فرمائیں ، کہ اوپر سے گزر گئی ہے ۔
وسلام
یہ حال صرف توہین رسالت قانون کا نہیں بلکہ تقریبا تمام قوانین کے ساتھ ایسا ہی مذاق کیا جا رہا ہے۔ بالکل حساب چکانے کے لئے اسے بڑی اچھی طرح سے استعمال کیا جا رہا ہے اور تو اور یہاں لوگ شراب کے نشہ میں توہین رسالت کے ملزم کو حوالات میں گولی مار کر، پھر اس کے گھر والوں کو خون بہہ دے کر، جیل سے نکلتے ہیں تو جیل کے دروازے پر عاشقان کا ایک جلوس اسے خوش آمدید کہتا ہے اور پھولوں کے ہار ڈالے جاتے ہیں اور عاشق کے خطاب سے نوازہ جاتا ہے اور پھر جب عام عوام اس قاتل کو قاتل کہے تو الٹا عوام پر گستاخ رسول کا لیبل لگ جاتا ہے اور یہ سچا واقعہ ہے جو کہ ضلع گجرات کا ہی ہے اور مقتول جلالپورجٹاں کا تھا۔
رہتے تو ہم بھی پنجاب میں ہیں لیکن اس قانون کا ایسا استعمال پہلی بار یہاں اپنے بلاگ پر ہی سنا تھا۔
اوپر عبداللہ نے حضرت عمرً کے حوالے سے جو واقعہ بیان کیا ہے اس سےبھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ غیر مسلموں پر توہین رسالت کا اطلاق کیسے ہوگا۔یہاں سے ہمیں یہ دلیل تو ضرور ملتی ہے کہ اگر کوییْ مسلمان حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو نہ مانے تو وہ قابل تعزیر ہے۔