م بلال م نے جمعرات، 24 مارچ 2011 کو شائع کیا۔
ذاتی ڈومین نیم اور ہوسٹنگ پر بلاگ بنانے کے لئے سب سے پہلے ڈومین نیم اور ہوسٹنگ خریدنی پڑتی ہے۔ پھر اس پر بلاگ بنایا جاتا ہے۔ ذاتی ڈومین نیم کا جہاں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے مرضی کے نام کی ڈومین ڈاٹ کام(.com)، ڈاٹ نیٹ (.net) یا ڈاٹ پی کے(.pk) وغیرہ میں حاصل کرتے ہیں وہیں پر ذاتی ہوسٹنگ ہونے کی وجہ سے آپ کو آزادی ہی آزادی اور اختیارات ہی اختیارات ہوتے ہیں۔ کئی سہولیات جو مفت کی سروس میں دستیاب نہیں ہوتیں وہ ذاتی ہوسٹنگ پر منٹوں میں دستیاب ہو جاتی ہیں۔ جیسے بلاگ کے لئے خوبصورت تھیم اور پلگ انز وغیرہ اور پھر ان کا آسان استعمال۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے منگل، 22 مارچ 2011 کو شائع کیا۔
اس طریقے سے بلاگ بنانے کے لئے پہلے مفت ڈومین نیم لینا ہوتا ہے اور پھر ہوسٹنگ کا اکاؤنٹ بنانا ہوتا ہے۔ ڈومین نیم www.co.cc ویب سائیٹ سے حاصل کریں گے اور ہوسٹنگ www.byethost.com سے حاصل کریں گے۔ پھر ڈومین نیم، ہوسٹنگ کی سیٹنگ اور پھر ہوسٹنگ پر ورڈ پریس سی ایم ایس انسٹال کر لیں گے۔
مفت ڈومین نیم حاصل کرنا
1:- سب سے پہلے co.cc پر جائیں اورCreate an account now کے لنک پر جائیں۔
2:- فارم میں مطلوبہ معلومات درج کریں، I accept the Terms of Serviceکے چیک باکس کو منتخب کریں اور Create an account now کے بٹن کو کلک کر دیں۔ معلومات درست درج کرنے کی صورت میں آپ نئے صفحہ پر پہنچ جائیں گے۔ نئے صفحہ پر اگر مزید کوئی معلومات پوچھی جائے تو وہ فراہم کریں اور Continue کا بٹن دبا دیں۔ یوں آپ کا اکاؤنٹ بن جائے گا۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے سوموار، 21 مارچ 2011 کو شائع کیا۔
بلاگر ڈاٹ کام پر بلاگ بنانے کے لئے محترم جہانزیب اشرف صاحب کا کتابچہ ”بلاگ اسپاٹ اور اردو“ بہت کارآمد ہے۔ اس کتابچہ کو یہاں لکھنے کی بجائے بہتر ہے کہ آپ وہ کتابچہ ڈاؤن لوڈ کر لیں اور اس سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنا بلاگ بنائیں۔ وہ کتابچہ آپ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ یاد رہے بلاگر اور بلاگ اسپاٹ ایک ہی سروس کے دو نام ہیں۔
اس کے علاوہ بلاگر ڈاٹ کام پر اردو بلاگ بنانے اور پھر اس کے تھیم اور تھیم میں تبدیلی کے لئے اردو محفل کے درج ذیل چند ایک لنک بہت مدد کر سکتے ہیں۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے سوموار، 21 مارچ 2011 کو شائع کیا۔
یوں تو بلاگ بنانے کے لئے کئی ایک مفت سروس میسر ہیں۔ جن میں سرفہرستblogger.com اور wordpress.com ہیں۔ یاد رہے بلاگر اور بلاگ اسپاٹ ایک ہی سروس کے دو نام ہیں۔ ان کے علاوہ مفت سروس کا استعمال کرتے ہوئے ایک طریقہ اور بھی ہے۔اس طریقے کا بہت کم لوگوں کو علم ہے اور اس طریقے کو ہم تک پہنچانے کے لئے میں محترم بلاگر محمد اسد صاحب کا شکر گزار ہوں۔ جن کی بدولت کم از کم مجھے اس طریقے کا پتہ چل سکا۔ اس طریقے کے ذریعے ہم ڈومین نیم اور ہوسٹنگ تو مفت میں حاصل کرتے ہیں لیکن یہ طریقہ ایسے ہی ہے جیسے ڈومین نیم اور ہوسٹنگ خرید کر بلاگ بنایا جاتا ہے۔ میں اس طریقہ کو انوکھا طریقہ کہوں گا۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے اتوار، 20 مارچ 2011 کو شائع کیا۔
اردو بلاگ بنانا بہت ہی آسان ہے۔ جس کے لئے بہت زیادہ مہارت کی ضرورت نہیں بلکہ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اردو بلاگ بنانا اب بچوں کا کھیل ہے۔ آپ مفت کی سروس استعمال کرتے ہوئے بھی اردو بلاگ بنا سکتے ہیں اور تھوڑے سے پیسے خرچ کر یعنی اپنے ذاتی ڈومین نیم اور ہوسٹنگ پر بھی اردو بلاگ بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ کی پہلے سے ہی کوئی ویب سائیٹ ہے تو اس پر یا اس کی سب ڈومین پر بھی اردو بلاگ بنا سکتے ہیں۔ اردو بلاگ بنانے کے لئے کئی طریقے اور بہت قسم کے سی ایم ایس موجود ہیں۔ یہاں چند ایک طریقے اور ”ورڈپریس“ سی ایم ایس کے بارے میں بات کریں گے۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے جمعرات، 10 مارچ 2011 کو شائع کیا۔
کسی کام کے مثبت نتائج تب ہی برآمد ہوتے ہیں جب آپ اس کام کو مثبت انداز میں کرتے ہیں۔ بلاگنگ کے مثبت نتائج اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کے لئے آپ کو مثبت انداز میں بلاگنگ کرنا ہو گی۔
میری نظر میں اس تیز رفتار دور میں بلاگنگ کے بے شمار فوائد ہیں جن میں سے چند ایک بیان کرتا ہوں۔
بلاگنگ سے انسان کو بہت کچھ سیکھنے، اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے اور دوسروں کی رائے کا پتہ چلتا ہے جس سے انسان کا ذہن کافی وسیع سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ بلاگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ فی الحال یہ سب سے آسان اور سستا طریقہ ہے جس کے ذریعہ آپ اپنی آواز، سوچ، تجزیات اور تجربات منٹوں میں دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں اور کسی موضوع پر دوسروں کی رائے حاصل کر سکتے ہیں۔
بلاگنگ رائے عامہ ہموار کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کم از کم پچھلی ایک صدی میں دنیا میں سب سے زیادہ تبدیلیاں قلم کے زور پر ہوئیں۔ سائنس کے اس دور میں جہاں دنیا ایک گلابل ویلیج بن گئی ہے وہاں قلم کا سب سے آسان اور مؤثر استعمال بلاگنگ ہی ہے۔ بلاگنگ جہاں بڑے بڑے لکھاریوں کو آسانیاں دیتی ہے وہی پر ایک عام بندے کو اپنے جوہر دیکھانے اور لکھنے کے ہنر کو مزید بہتر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
کئی بندے لکھنا چاہتے ہیں، اپنی سوچ اور تجربات دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ لیکن ہر بندہ کتاب، اخبارات یا رسائل میں لکھ نہیں سکتا لیکن بلاگنگ کے ذریعے بہت کچھ، بڑی آسانی سے اور آزادی کے ساتھ لکھا جا سکتا ہے اور تھوڑے سے بھی تھوڑے علم کو دوسروں تک آسانی سے پہنچایا جا سکتا ہے۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے منگل، 8 مارچ 2011 کو شائع کیا۔
کچھ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ بلاگ پر لکھیں تو کیا لکھیں اور کہاں سے شروع کریں اس بارے میں میرا خیال ہے کہ بس پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آگے آگے آپ کا اپنا بلاگ خود، دیگر بلاگز اور قارئین کے تبصرےیہ سمجھاتےجاتے ہیں کہ کیا لکھا جائے۔ سب سے پہلے تو آپ اپنے بلاگ پر اپنا تعارف کرائیں تاکہ قارئین کو آپ کے بارے میں پتہ چلے۔ اس کے بعد مزید اپنے شوق اور شعبہ کے مطابق لکھیں۔
بلاگنگ شروع کرنے کابہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ جو دیکھتے ہیں، جو محسوس کرتے ہیں ان کو سادہ الفاظ کی شکل دیں اور بلاگ لکھ دیں۔ فرض کریں آپ نے کہیں کو حادثہ دیکھا یا کوئی منفرد چیز دیکھی اب آپ اس حادثہ یا منفرد چیز سے کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟ ایسا کیوں ہوا؟اس کے پیچھے کیا محرکات تھے؟ اس سے آپ نے اور دوسروں نے کیا اثر لیا وغیرہ وغیرہ سوچیں اور پھر انہیں اپنے بلاگ پرلکھ کر دوسروں سے شیئر کر دیں۔ ایک تو آپ کی آواز دوسروں تک پہنچ جاتی ہے اور پھر دوسرے جب اپنی رائے دیتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ دوسرے اس بارے میں کیا سوچتے ہیں۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے سوموار، 7 مارچ 2011 کو شائع کیا۔
لفظ ”بلاگ(Blog)“ ویب لاگ(Web Log) سے بنا ہے۔ بلاگ ایک قسم کی ذاتی ڈائری ہی ہے جو آپ انٹرنیٹ پر لکھتے ہیں۔ ذاتی ڈائری اور بلاگ میں ایک فرق یہ ہے کہ ذاتی ڈائری آپ تک یاچند ایک لوگوں تک محدود ہوتی ہے جبکہ بلاگ پوری دنیا کے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہوتا ہے۔ جہاں آپ اپنی سوچ اور شوق کے مطابق اپنے خیالات، تجربات اور معلومات لکھتے ہیں اور قارئین سے تبادلہ خیال کرتےہیں۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بلاگ آپ کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ جیسے آپ ہوں گے ویسا ہی آپ کا بلاگ ہو گا۔ اس کے علاوہ جیسے آپ ذاتی ڈائری میں شاعری اور اچھی باتیں لکھتے ہیں اسی طرح بلاگ پر بھی آپ شاعری، اچھی باتیں ، تصاویر اور ویڈیوز شیئرکرسکتےہیں۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»