<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بیاضِ بلال &#187; load-shading</title>
	<atom:link href="http://www.mbilalm.com/blog/tag/load-shading/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mbilalm.com/blog</link>
	<description>قطرہ قطرہ سمندر</description>
	<lastBuildDate>Fri, 11 May 2012 20:46:16 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=</generator>
		<item>
		<title>دور حاضر میں بے شمار مسائل اور بیماریوں کی جڑ</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-and-pakistani-nation/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-and-pakistani-nation/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 25 Apr 2010 13:50:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[load shading and pakistani nation]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading-and-pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ اور بیمار عوام]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ اور نفسیاتی مریض]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=230</guid>
		<description><![CDATA[اللہ نہ کرے جب کسی انسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو وہ کئی لحاظ سے بے بس ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں انرجی کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ آج ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی بُری طرح ٹوٹے ہوئے بھی ایک عرصہ ہونے کو ہے لیکن ہمارے حکمران کرسی بچانے کے چکر میں اس مرض کا علاج کرنے کی بجائے عام کو جھوٹے دلاسے اور جھوٹے سرکاری بیان دیتے رہتے ہیں۔ انہیں بیانات اور اشتہارات پر غریب عوام کا بے شمار پیسا لگا دیا گیا ہے۔ اگر یہی پیسا اپنی واہ واہ بنانے کی بجائے کسی کام پر لگایا جاتا تو آج ہمارے حالات بالکل ٹھیک نہ سہی لیکن کم از کم آج جیسے نہ ہوتے۔
ہمیں جھوٹے دلاسے دینے والے، ہمیں بجلی کم استعمال کرنے کا کہنے والے خود آرام سے عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کے گھروں اور دفتروں میں بڑے بڑے جنریٹر اور یو پی ایس لگے ہیں۔ جو جہاں جائیں وہاں بجلی بند نہیں ہوتی چاہے وہ نتھیا گلی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیکسوں اور ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ہمارے نوکر ہمیں ہی ذلت کی زندگی دے رہے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
	اللہ نہ کرے جب کسی انسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو وہ کئی لحاظ سے بے بس ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں انرجی کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ آج ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی بُری طرح ٹوٹے ہوئے بھی ایک عرصہ ہونے کو ہے لیکن ہمارے حکمران کرسی بچانے کے چکر میں اس مرض کا علاج کرنے کی بجائے عوام کو جھوٹے دلاسے اور جھوٹے سرکاری بیان دیتے رہتے ہیں۔ انہیں بیانات اور اشتہارات پر غریب عوام کا بے شمار پیسا لگا دیا گیا ہے۔ اگر یہی پیسا اپنی واہ واہ بنانے کی بجائے کسی کام پر لگایا جاتا تو آج ہمارے حالات بالکل ٹھیک نہ سہی لیکن کم از کم آج جیسے نہ ہوتے۔<br />
	لوڈ شیڈنگ یعنی بجلی کا بحران ایک ایسا مرض ہے جو عوام کی زندگی کو ”الف“ سے لے کر ”ے“ تک متاثر کر رہا ہے۔ اس سے پوری قوم نفسیاتی مریض بنتی جا رہی ہے۔ جس کی مثالیں آپ کو جگہ جگہ ملیں گی۔ تمام شعبہ ہائے زندگی برباد ہورہےہیں۔ طالب علم اپنی جگہ پریشان ہے تو صنعتکار اپنی جگہ۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، غریب مزدور فاقوں پر مجبور ہورہا ہے۔ جو کام گھنٹوں میں ہو جاتے تھے وہ دنوں میں بھی نہیں ہو رہے۔ ساری ساری رات مچھر سے گانے سننے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی کوفت میں رات جاگ کر گزارنے والے طالب علم دن کو کیا خاک پڑھائی کریں گے۔ اسی طرح مزدور دن کو مزدوری کرے گا یا اپنی نیند پوری کرے گا۔ اسی طرح ہر شعبہ ہائے زندگی کا حال ہے۔ آپ جہاں دیکھو جدھر دیکھو ہر محفل میں ہر دفتر میں غرض ہر جگہ لوگ لوڈ شیڈنگ کی ہی باتیں کرتے ہیں اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور اندر ہی اندر لوڈ شیڈنگ کی وجوہات کو کوستے ہیں۔ یہ عجیب سی کیفیت ذہنی مریض بنانے کے لئے کافی ہے۔<br />
	ذرا سوچئے! نیند کی کمی، ذہنی الجھن، روزگار میں کمی، پیسے کی مشکلات، فاقوں کا ڈر، پروڈکشن میں کمی، منٹوں کا کام دنوں میں اور سست رفتاری وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ چھوٹی سی مصیبتیں ہیں؟ نہیں۔ بلکہ آج کے دور میں یہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی بے شمار بیماریوں اور مسائل کو گلے لگانے پر مجبور ہیں۔ ہمارا مستقبل دن بدن تاریک سے تاریک تر ہو رہا ہے۔ ہماری پوری ایک نسل نفسیاتی مریض بن رہی ہے۔ ہمیں کمر کسنے کا کہنے والے، ہمیں جھوٹے دلاسے دینے والے، ہمیں بجلی کم استعمال کرنے کا کہنے والے خود آرام سے عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کے گھروں اور دفتروں میں بڑے بڑے جنریٹر اور یو پی ایس لگے ہیں۔ جو جہاں جائیں وہاں بجلی بند نہیں ہوتی چاہے وہ نتھیا گلی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیکسوں اور ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ہمارے نوکر ہمیں ہی ذلت کی زندگی دے رہے ہیں۔<br />
	اور ایک ہم عوام ہیں جو بجلی جانے پر واپڈا و دیگر حکام کو چند گالیاں اور برا بھلا کہہ کر اندر ہی اندر جلتے اور تڑپتے رہتے ہیں لیکن کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھاتے۔ خود تو سوچتے ہیں اور عجیب عجیب سوچ کر خود کو نفسیاتی مریض تو بنا رہے ہیں لیکن جب آواز بلند کرنے یا کام کا وقت آتا ہے تو چپ کر جاتے ہیں۔<br />
	میں اپنی اس تحریر کے ذریعے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کو دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ وہ ذرا اپنے گھر اور گردونواح کے لوگوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ اس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے وہ خود اور باقی لوگ کن کن بیماریوں اور مسائل کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس زہر سے موت کی آغوش میں جا رہے ہیں۔ آخر پر بس اتنا کہوں گا کہ جاگو پاکستانی جاگو! اور دیکھو کہ آج کے دور میں یہ لوڈ شیڈنگ بے شمار بیماریوں اور مسائل کی جڑ ہے اور یہ کس طرح پوری ایک نسل کو نفسیاتی مریض بنا رہی ہے۔ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-energy-crisis-and-pakistani-minister/' title='وہ بات ہی نہ کریں جس کو کرنے کا آپ میں دم نہیں'>وہ بات ہی نہ کریں جس کو کرنے کا آپ میں دم نہیں</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/my-friend-computer-says-urdu-is-only-urdu/' title='میرا یار کمپیوٹر بولا ”اردو صرف اردو ہے“'>میرا یار کمپیوٹر بولا ”اردو صرف اردو ہے“</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-and-pakistani-nation/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وہ بات ہی نہ کریں جس کو کرنے کا آپ میں دم نہیں</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-energy-crisis-and-pakistani-minister/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-energy-crisis-and-pakistani-minister/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Feb 2010 14:15:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[energy crisis]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading-and-pakistani-minister]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading-in-pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[pakistani-minister]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی کا بحران]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں بجلی کا بحران]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں لوڈ شیڈنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=157</guid>
		<description><![CDATA[حکومت اور ان کے درباریوں سے صرف ہم یہ کہتے ہیں کہ اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ نے جو کہا عوام نے چپ چاپ سن لیا اور پھر کچھ عرصہ بعد بھول گئے۔ اب میڈیا بہت تیز ہو چکا ہے اور ساتھ ساتھ عوام کے ذہن بھی کچھ کچھ کام کرنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے اب یہ سچے جھوٹے وعدوں اور باتوں کو بھی یاد رکھتے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
	دنیا کا ایک بہت عام اور سادہ سا قانون ہے کہ جو جتنے بڑے عہدے پر ہوتا ہے اس پر ذمہ داریاں بھی اتنی بڑی ہی ہوتی ہیں۔آپ کسی گھر کے سربراہ کو دیکھ لیں یا کسی بھی ادارے کے سربراہ یا باقی کام کرنے والوں کو۔ جو جتنی بڑی نوکری پر ہو گا اس پر ذمہ داریاں بھی اتنی بڑی ہوں گی۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کسی کو بڑا عہدہ یا نوکری صرف اس لئے دی جاتی ہے کہ اس نے اس نوکری پر رہتے ہوئے بڑے کام اور بڑی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوتی ہیں۔<br />
	حاکمِ وقت ہونا ایک بہت بڑی نوکری اور بہت بڑا عہدہ ہوتا ہے۔ اس عام اور سادہ قانون کے تحت حاکمِ وقت پر بے شمار ذمہ داریاں ہوتی ہیں کیونکہ وہ کسی ملک وقوم کا سب سے بڑا نوکر ہوتا ہے۔ ایک عام انسان پر عام سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جبکہ حاکمِ وقت پر پورے ملک و قوم کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اس لئے حاکمِ وقت کو ایک ایک قدم پھونک کر رکھنا ہوتا ہے۔ ہر بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا اور اپنے درباریوں سے مشورہ کرنا ہوتا ہے۔<br />
	ہم ایک ایسی عوام ہیں جو کبھی یہ سوچتے ہی نہیں کہ ہم پر ایک قوم بننے کی ذمہ داری بھی ہے اور اوپر سے سونے پر سہاگہ کہ ہمارے حکمران بھی ہماری طرح کے ہیں کہ وہ بھی کوئی کام کرنے یا بولنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچتے۔ ابھی چند ماہ پہلے غریب عوام کے پیسے سے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کے اشتہارات اخبارات میں چھاپے اور چھپوائے گئے۔ جن میں سب سے اوپر اپنی اور ساتھ ساتھ اپنے درباریوں کی تصاویر بھی تھیں۔ اشتہارات میں کہا گیا کہ دسمبر 2009 تک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا یا پھر بڑی حد تک قابو پا لیا جائے گا۔ اسی طرح کے بے شمار بیانات بھی پڑھنے کو ملے۔ 18 جولائی 2009 کو ایک اشتہار وزارت پانی و بجلی، حکومت پاکستان کی طرف سے اکثر اخبارات میں شائع ہوا جس میں کہا گیا کہ&#8221;نئے پاور پراجیکٹس۔ خوشحالی کی روشن راہیں۔ انشاءاللہ بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مختلف نئے پاور پراجیکٹس کی تکمیل سے دسمبر 2009 تک مزید ساڑھے 3ہزار میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ ہمارا عزم۔روشن پاکستان۔ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی نئی جہت۔ پاکستان الیکڑک پاور کمپنی۔&#8221; اس کے ساتھ ساتھ مختلف پراجیکٹس ، وہ کتنے میگاواٹ بجلی بنائیں گے اور کب تکمیل کو پہنچیں گے درج تھا۔اشتہار کے مطابق آخر پر مکمل ہونے والے چار پراجیکٹ بھی دسمبر تک مکمل ہو جائیں گے۔<br />
	حکومت اور ان کے درباریوں سے صرف ہم یہ کہتے ہیں کہ اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ نے جو کہا عوام نے چپ چاپ سن لیا اور پھر کچھ عرصہ بعد بھول گئے۔ اب میڈیا بہت تیز ہو چکا ہے اور ساتھ ساتھ عوام کے ذہن بھی کچھ کچھ کام کرنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے اب یہ سچے جھوٹے وعدوں اور باتوں کو بھی یاد رکھتے ہیں۔<br />
ہم حکومت سے صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ نئے پاور پراجیکٹس کہاں ہیں؟ وہ خوشحالی کی روشن راہیں کہاں گم ہو گئیں؟ وہ دسمبر 2009 تک ملنے والی ساڑھے 3 ہزار میگا واٹ بجلی کونسی زمین نگل گئی؟ آپ کا عزم اور اس کے تحت روشن پاکستان کہاں ہے؟ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی نئی جہت تو کہیں نظر نہیں آ رہی۔ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کیا بس نام کی ہی تھی؟ روشن پاکستان کے خواب دیکھانے والوں کو صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ روشن پاکستان کی عوام آج بھی پندرہ پندرہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہی ہے۔ طالب علم  موم بتیاں جلا کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔ کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ مزدور بے روزگار ہو رہیں۔ مگر آپ کروڑوں کے اشتہارات دے کر آخر کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں؟<br />
حکومت سے گذارش ہے کہ کم از کم دنیا کے اس عام اور سادہ قانون کو ہی پہچان لو۔ کچھ بولنے سے پہلے کم از کم سوچ ہی لیا کرو۔ رب نے آپ کو بڑے عہدوں پر بٹھایا ہے تو آپ پر ذمہ داریاں بھی بڑی ہیں۔ کچھ اپنی ذمہ داریاں اور اپنے عہدوں کا ہی خیال کیا کرو۔ غریب عوام کے پیسے سے اخبارات میں اشتہار دینے سے پہلے کچھ سروے یا کچھ درباریوں سے ہی مشورہ کر لیا کرو تاکہ بعد میں آپ کو شرمندہ نہ ہونا پڑے اور غریب عوام کا پیسا فضول اشتہارات میں ضائع بھی نہ ہو۔ اب بہانے بنانے سے بہتر تھا کہ بیانات اور اشتہارات دینے سے پہلے سب دیکھ لیتے کہ یہ کام آپ مکمل کر بھی سکو گے یا نہیں۔ ہم یہاں اخلاقی جرات کی بات نہیں کرتے کیونکہ اگر وہ بات کی جائے تو پھر کئی وزراء کو جرات کرنی پڑے گی اور اپنی ناکامی یا اپنا جھوٹ تسلیم کرتے ہوئے وزارت چھوڑنی پڑے گی۔ اس لئے ہم وہ بات ہی نہیں کرتے جس سے آپ کو تکلیف ہو۔ ہم آپ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے بس ہماری اتنی گذارش ہے کہ اپنے عہدے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور وہ بات ہی نہ کریں جس کو کرنے کا آپ میں دم نہیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100672168&#038;Issue=NP_LHE&#038;Date=20090718"><br />
<img src="http://express.com.pk/images/NP_LHE/20090718/Sub_Images/1100672168-1.jpg" width="500" height="409"></a>ملتی جلتی تحاریر:-&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-and-pakistani-nation/' title='دور حاضر میں بے شمار مسائل اور بیماریوں کی جڑ'>دور حاضر میں بے شمار مسائل اور بیماریوں کی جڑ</a>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; •&nbsp;<a href='http://www.mbilalm.com/blog/my-friend-computer-says-urdu-is-only-urdu/' title='میرا یار کمپیوٹر بولا ”اردو صرف اردو ہے“'>میرا یار کمپیوٹر بولا ”اردو صرف اردو ہے“</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/load-shading-energy-crisis-and-pakistani-minister/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

