<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>م بلال م کی بیاض &#187; jago Pakistan</title>
	<atom:link href="http://www.mbilalm.com/blog/tag/jago-pakistan/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mbilalm.com/blog</link>
	<description>قطرہ قطرہ سمندر</description>
	<lastBuildDate>Thu, 19 Jan 2012 13:26:32 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>پاکستان کی پکار۔۔۔ اے میرے نوجواں</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/call-of-pakistan-oh-my-youth/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/call-of-pakistan-oh-my-youth/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 21 Feb 2010 13:38:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ویڈیوز]]></category>
		<category><![CDATA[aatif saeed video]]></category>
		<category><![CDATA[call of pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Jago jagao]]></category>
		<category><![CDATA[jago Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[youth of pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[آنچل]]></category>
		<category><![CDATA[اتحاد]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان]]></category>
		<category><![CDATA[اے میرے نوجواں]]></category>
		<category><![CDATA[بات]]></category>
		<category><![CDATA[بازوں]]></category>
		<category><![CDATA[بچے]]></category>
		<category><![CDATA[بہنوں]]></category>
		<category><![CDATA[بیٹے]]></category>
		<category><![CDATA[تعبیر]]></category>
		<category><![CDATA[تنظیم]]></category>
		<category><![CDATA[جدا]]></category>
		<category><![CDATA[جھکے]]></category>
		<category><![CDATA[خواب]]></category>
		<category><![CDATA[خوف]]></category>
		<category><![CDATA[سر]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[صدیوں]]></category>
		<category><![CDATA[ضبط]]></category>
		<category><![CDATA[فریاد]]></category>
		<category><![CDATA[قائد]]></category>
		<category><![CDATA[لاشیں]]></category>
		<category><![CDATA[ماؤں]]></category>
		<category><![CDATA[محسوس]]></category>
		<category><![CDATA[مٹی]]></category>
		<category><![CDATA[نظم]]></category>
		<category><![CDATA[نوجوان]]></category>
		<category><![CDATA[نوچ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان کی پکار]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان کی پکار۔۔۔ اے میرے نوجواں]]></category>
		<category><![CDATA[پرچم]]></category>
		<category><![CDATA[پکار]]></category>
		<category><![CDATA[ڈر]]></category>
		<category><![CDATA[یتیمی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=205</guid>
		<description><![CDATA[ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان اپنے نوجوانوں کو پکار رہا ہے کہ اے میرے نوجواں! میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر۔۔۔میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کل (20 فروری 2010ء) فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھی۔ مجھے تو بہت اچھی لگی۔ <a href="http://www.facebook.com/aatif.saeed">عاطف سعید</a> صاحب نے کیا خوب کام کیا ہے۔ پاکستان کی پکار ہے جو اپنے جوانوں کو پکار رہا ہے۔ فریاد کر رہا ہے کہ ”اے میرے نوجواں کچھ تو محسوس کر“۔ ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش کریں۔<br />
” میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر۔۔۔میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر“<br />
میری تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ جو بھی میری تحریر پڑھیں اگر ان کے پاس وقت ہو تو بے شک یہاں کمنٹس کرنے کی بجائے اس ویڈیو کو دیکھیں اور صرف چند لمحات کے لئے پاکستان کی پکار کے صرف اس فقرے ” میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر“ پر غور کریں۔</p>
<p><a href="http://www.mbilalm.com/blog/call-of-pakistan-oh-my-youth/"><em>Click here to view the embedded video.</em></a></p>
<p>اے میرے نوجواں تو میری بات سن<br />
کچھ تو محسوس کر<br />
تیرے چاروں ہے جو پھیلا ہوا<br />
اس کو محسوس کر<br />
سب مجھے نوچ کر کھا رہے ہیں یہاں<br />
بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے<br />
ان کو معلوم ہے، جانتے ہیں وہ سب<br />
کتنی لاشیں گریں، کتنے بازوں کٹے<br />
کتنی ماؤں کے بیٹے جدا ہو گئے<br />
کتنی بہنوں کے آنچل جلائے گئے<br />
کتنے بچے یتیمی کو اوڑھے ہوئے میری جانب بڑھے<br />
میں اک خواب تھا<br />
ایسے گھر کا جہاں ہر کوئی رہ سکے ایک پرچم تلے<br />
نہ کوئی خوف ہو اور نہ ڈر کوئی<br />
غیر کے سامنے نہ جھکے سر کوئی<br />
میں اک خواب تھا جس کو قائد نے تعبیر تو کر دیا<br />
میرے بچے مگر اس کی تعبیر کے حرف و معانی سمجھنے سے قاصر رہے<br />
خون اپنوں کا خود ہی بہاتے رہے<br />
اپنے لاشوں کو خود ہی اٹھاتے رہے<br />
لا الہ زباں سے تو کہتے رہے<br />
اس کے معانی سے آنکھیں چراتے رہے<br />
متحد نہ ہوئے منتشر ہو گئے<br />
اور ایمان کو بیچ کر سو گئے<br />
نظم و تنظیم کی خوبیاں بھول کر<br />
میرے بچوں کی قربانیاں بھول کر<br />
اپنی دنیا میں گم اس طرح ہو گئے<br />
جوش جذبے سبھی ولولے کھو گئے<br />
بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے<br />
جانتا ہوں کہ سب لوگ ایسے نہیں<br />
میری آغوش میں ایسے بچے بھی ہیں<br />
میری چاہت سے دل جن کے لبریز ہیں<br />
جن کی آنکھوں میں خوابوں کی تعبیر ہے<br />
جو سمجھتے ہیں قائد کے فرمان کو<br />
جانتے ہیں جو اقبال نے کہہ دیا<br />
ان کے دم سے ہی زندہ ہوں میں آج تک<br />
یہ میرا نام ہیں میری پہچان ہیں<br />
اے میرے نوجواں تو میری بات سن<br />
کل جو گزرا ہے تو بھی اسے دیکھے<br />
کس میں تیری بقاء ہے اسے جان لے<br />
آنے والا جو کل ہے تیرے دم سے ہے<br />
ایسا بچہ نہ بن جو مجھے نوچ کر پیٹ بھرتا رہے<br />
کام کی عظمتوں کو سمجھ نوجواں<br />
میری مٹی میں سونا ہے تیرے لئے<br />
اپنے قائد کے خوابوں کو تعبیر کر<br />
اپنے اندر کے دشمن کو خود مار دے<br />
میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر<br />
آنے والا جو کل ہے تیرے دم سے ہے<br />
اے میرے نوجواں سن میری بات سن<br />
میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر<br />
میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر<br />
اے میرے نوجواں تو میری بات سن</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/call-of-pakistan-oh-my-youth/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/wake-up-pakistan-1/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/wake-up-pakistan-1/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 18 Feb 2010 13:23:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[jago Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[wake up Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[wakeup]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=166</guid>
		<description><![CDATA[یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; &#8220;حکومت ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔&#8221; اس جیسے فقرات اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ بات تو ٹھیک ہے کہ حکومت ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور ہر لحاظ سے ایک بہترین معاشرہ وجود میں آئے گا۔ پہلی بات کہ شاید ہم یہاں یہ بھول جاتے ہیں کہ خراب چیزیں کبھی خود بخود ٹھیک نہیں ہوتیں۔ دوسرا شاید ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جیسی عوام ہوتی ہے ویسے حکمران ہوتے ہیں۔ اگر ہم تھوڑا سا اپنا تجزیہ کریں تو یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ ہماری اکثریت سوائے حکومت اور نظام کو کوسنے کے اور کچھ نہیں کرتی۔ جبکہ ہماری اکثریت خود اندر سے خراب ہو چکی ہے۔ ہر کوئی شارٹ کٹ اور &#8220;یگاڑ&#8221; لگانے کے چکر میں ہے۔ اخلاقی قدروں کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ یہاں چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا۔ اگر کسی کے موبائل پر غلطی سے کسی دوسرے کا لوڈ یعنی بیلنس آ جائے تو شاید ہی کوئی ہو گا جو اسے واپس کرے گا یا کرنے کا سوچے گا ورنہ اکثریت کا تو یہ حال ہے کہ شکر کریں گے کہ مفت کا مال ملا ہے۔ جبکہ اخلاقی قدروں کو دیکھا جائے تو کم از کم بیلنس واپس کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیئے۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; اگر ہم چاہتے ہیں کہ نظام بہتر ہو۔ حق دار کو اس کا حق ملے، ہر کسی کو انصاف ملے تو سب سے پہلے ہمیں خود کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ جب ہم حق داروں کو ان کا حق دیں گے، ہر کسی سے انصاف کریں گے اور سب سے بڑھ کر جب اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے تو نظام خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; تاریخ گواہ ہے کہ جب برائی، ظلم و ستم، ناانصافی یعنی ہر طرف اندھیرے کا راج ہوتا ہے تو اس میں روشنی کی لئے دیا خود بخود روشن نہیں ہوتا بلکہ چند لوگوں کو ضرور خوابِ غفلت سے اٹھ کر آگے بڑ کر دیا جلانا پڑتا ہے۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; اے میرے ہم وطنو! بہت نیند ہو چکی اب جاگو اور دوسروں کو بھی جگاؤ۔ قطرہ قطرہ ملا کر سمندر بنا ڈالو، آگے بڑھو! دوسروں کے لئے نہ سہی کم از کم اپنے حق کے لئے تو آواز بلند کرو۔ اب نہیں تو کب اٹھو گے؟ ہم نہیں تو پھر کون جاگے گا؟ اے پاکستان کے عام شہری تم بکریوں میں رہتے رہتے یہ بھول گئے ہو کہ تم شیر ہو۔ تم ایک عام شہری ہو اور عام شہری اچھائی کا وہ فولاد ہوتا ہے جس سے جو برائی ٹکراتی ہے وہ چکنا چور ہو جاتی ہے۔اے پاکستان کے شیرو سب برائی کے پیمانے توڑ ڈالو۔ سب سے پہلے خود کو اچھائی کا فولاد بناؤ اور پھر دوسروں کو بھی بکریوں سے نکالو، انہیں آئینہ دکھاؤ اور ان میں حقیقی شعور بیدار کرو کہ تم بکری نہیں، تم شیر ہو۔<br />
اے میرے وطن کے مظلومو! پل پل غربت کی چکی میں پسنے والو! قدم قدم پر اپنی خودی کی دھجیاں اڑتی دیکھنے والو! اٹھواپنے حق کے لئے آواز بلند کرو۔ اندھیرے کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ایک دیا جلاؤ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خوابِ غفلت سے جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ۔</p>
<p>بقول شاعر<br />
کیا پوچھتے ہو یہ کیسی گھڑی ہے<br />
قیامت جیسی برسات کی جھڑی ہے</p>
<p>اپنی جان اپنا وطن بالکل آزاد ہے مگر<br />
عوام اک دوسرے کے پیچھے پڑی ہے</p>
<p>محبت کس کو کہتے ہیں بھول چکے<br />
موتیوں بغیر دیکھو خالی یہ لڑی ہے</p>
<p>کچھ ہمت کرو ساتھیو اٹھ کھڑے ہو<br />
بہت مشکل وقت کی یہ گھڑی ہے<br />
(ارمان سید)</p>
<p>جاری ہے۔۔۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/wake-up-pakistan-1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

