م بلال م نے جمعرات، 20 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
جب ہم کسی کام (چاہے کام اچھا ہی کیوں نہ ہو) کے معاملے میں شدت پسند بنتے ہیں تو ہمارا مقصد صرف وہی ایک کام بن کر رہ جاتا ہے، ہمارے دماغ پر وہی کام سوار ہو جاتا ہے تو ہمیں دنیا کا سب سے اچھا کام وہی لگنے لگتا ہے۔ بس پھر یہاں سے نقصانات شروع ہو جاتے ہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے اتوار، 16 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
لوگوں نے قوم کو اپنے بڑھے پن کا مسئلہ بنا لیا ہے، علاقائی حد بندیوں کو انسانیت کے درمیان دیوار بنا کر رکھ دیا ہے اور زبان کے معاملے میں اتنے شدت پسند کہ دوسری زبان بولنے والوں سے نفرت کرتے ہیں۔ آج کچھ لوگوں نے نفرت کے بازار گرم کر رکھے ہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے بدھ، 12 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
دو گروہ مجھے منفرد نظر آتے ہیں۔ دونوں گروہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں لیکن دونوں میں ایک عادت مشترک ہے اور وہ عادت ہے ”شدت پسندی“۔ میں ایک گروہ کو ”مذہبی شدت پسند“ کہتا ہوں تو دوسرے کو ”روشن خیال شدت پسند“۔ میرے کہنے پر نہ جائیے گا کیونکہ ان دونوں گروہوں کا مذہب اور روشن خیالی سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے بدھ، 27 اکتوبر 2010 کو شائع کیا۔
آپ خود سوچو! ان خراب حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے یا نظام کی بہتری کے لئے ہم نے ان کا مقابلہ کرنے یا اچھائی کے لئے کیا کیا؟ ہم بڑی آسانی سے حکمرانوں کو قصوروار کہہ کر پھر اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں۔ تھوڑا سا سوچو! یہی ہمارے حکمران جنہیں ہم نالائق کہتے ہیں لیکن وہ اپنے کام اور مقصد کے لئے ہم سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اب ان کا کام اور مقصد ہی برائی کرنا ہے تو وہ برائی کرنے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے۔ بچپن سے لے کر مرنے تک دشمن کے ڈر اور خوف میں رہتے ہیں۔ میڈیا سے بچتے بچاتے اپنا کام کرتے ہیں۔ کئی کئی سال جیلوں میں گذارتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے اپنے رشتہ داروں کو گنواتے ہیں۔سوچ سوچ کر پلان بناتے ہوئے پاگل ہو جاتے ہیں۔ راتوں کو جاگ جاگ کر میٹنگز کرتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے دن رات لوگوں سے ملتے ہیں۔ کسی کو توڑتے ہیں تو کسی کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے انہوں نے ایک منظم گروہ تیار کر رکھا ہے۔ ایک مرتا ہے تو اس کا بیٹا، بیٹی یا دیگر کوئی وارث اس کی جگہ لے کر اپنے کام کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔63 سال ہو گئے لیکن ان کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ اپنے جیسوں کا بڑا برا انجام دیکھ کر بھی ان کی ہمت میں کمی نہیں آئی۔ بے شک ان کا مقصد برائی ہے لیکن وہ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ضرور ہیں۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے جمعہ، 13 اگست 2010 کو شائع کیا۔
تمام پاکستانی میری طرف سے ایک چھوٹا سا تخفہ قبول فرمائیں۔ تخفہ ہے کہ پاکستانی پرچم کس طرح بناتے ہیں اور اس کی پیمائش کیا ہوتی ہیں۔ بات تو چھوٹی سی ہے لیکن ہماری اکثریت پرچم کی شکل و صورت تو جانتی ہے لیکن سو فیصد درست پرچم بنانا تو دور پیمائش تک نہیں جانتے۔ اس لئے میں نے سارا طریقہ، پیمائش اور ساتھ میں ایک کیلکولیٹر بھی تیار کردیا ہے تاکہ کسی بھی پیمائش کا پتہ لگانا آسان ہو سکے۔
جیسا کہ پہلے لکھا ہے چھوٹا سا تخفہ تو یہ واقعی آپ سب کے لئے چھوٹا سا تخفہ ہے لیکن میں نے اس پر بہت محنت کی ہے۔ محنت کسی قسم کی پروگرامنگ یا کسی اور چیز پر نہیں ہوئی بلکہ پاکستانی پرچم بنتا کیسے ہیں اس پر ہوئی ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ابھی تک مجھے کوئی مستند حوالہ نہیں مل سکا۔ وکی پیڈیا اور دیگر ویب سائیٹ نے ایک ہی طریقہ جگہ جگہ کاپی پیسٹ کیا ہوا ہے جو کہ میرے خیال میں نامکمل ہے یا پھر مجھے ان کے طریقوں کی سمجھ نہیں آ رہی۔
آپ سب سے پہلے پاکستانی پرچم کی کچھ تفصیل دیکھیں مزید بحث بعد میں کرتے ہیں۔
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے اتوار، 21 فروری 2010 کو شائع کیا۔
ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان اپنے نوجوانوں کو پکار رہا ہے کہ اے میرے نوجواں! میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر۔۔۔میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»