م بلال م نے جمعرات، 27 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
وہ منطق آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے جو ہمارے لئے ترقی کا آسان ترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک دفعہ اردو کو وہ مقام دے کر تو دیکھو، جس کی یہ مستحق ہے، پھر دیکھنا یہ زبان کیسے دنوں میں عروج دیتی ہے۔ نوجوانوں بہت ذہین ہیں، ایک دفعہ بیگانی زبان کی پابندی اٹھاؤ تو سہی پھر دیکھنا یہ کیسے ملک و قوم کے دن بدلتے ہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے جمعرات، 27 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
اگر کوئی علمی مقاصد کے لئے انگریزی سیکھے پھر بھی بات کوئی ہے لیکن ہمارے ایک گروہ کو ”انگریزیا“ کی بیماری ہو چکی ہے۔ یہ بیمار اور غلام ذہن انگریزی کو اعلیٰ مرتبے کی زبان سمجھتے ہیں یعنی ”سٹیٹس سمبل“۔ یہ لوگ اس بیماری کی وجہ سے ”نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے“
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے بدھ، 26 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
انقلاب کی بات کرتے ہیں، ثقافت کی بات کرتے ہیں لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہی ثقافت کی دھجیاں اڑا رہی ہوتی ہے۔ اخبار اردو، اخبار پڑھنے والے اردو والے، اشتہارات اردو والوں کے لئے لیکن مجال ہے کوئی بھی یونیورسٹی اپنا اشتہار اردو میں دے۔ ہمیں غلام اور ہمارے معاشرے کو ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ بنا کر رکھ دیا ہے
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے بدھ، 26 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
زیادہ نہیں بس تھوڑے سا تاریخ کا مطالعہ کرو۔ دیکھو یورپ کے اس تاریک دور کو جب انگریزی میں جدید مواد تھا ہی نہیں۔ تب کچھ بندوں نے اپنی ضرورت کے مواد کو فارسی، عربی اور دیگر زبانوں سے اپنی زبان میں منتقل کیا۔ عام عوام کو سیکھایا اور شعور دیا۔ عوام خوشحال ہونا شروع ہو گئی
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے سوموار، 24 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
جیسے دستانہ پہن کر کسی چیز کو چھونے کا احساس اتنا اچھا نہیں ہوتا جتنا ننگے ہاتھوں چھو کرہوتا ہے، بالکل ایسے ہی اگر ہم کسی دوسری زبان کا غلاف چڑھا کر کوئی بات سمجھنے کی کوشش کریں گے، تو وہ اتنی اچھی نہیں سمجھ سکیں گے، جتنی اپنی زبان اردو میں سمجھ سکتے ہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے اتوار، 23 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
معاشرہ کی ترقی کے لئے کئی تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں اور پہلی تبدیلی سوچ میں کرنی ہوتی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے بعد چاہے خونی انقلاب برپا ہو یا فکری انقلاب لیکن سب سے پہلی شرط سوچ کی تبدیلی ہے۔ سوچ کی تبدیلی کے لئے پہلی شرط زبان کا انتخاب ہے
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے اتوار، 16 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
لوگوں نے قوم کو اپنے بڑھے پن کا مسئلہ بنا لیا ہے، علاقائی حد بندیوں کو انسانیت کے درمیان دیوار بنا کر رکھ دیا ہے اور زبان کے معاملے میں اتنے شدت پسند کہ دوسری زبان بولنے والوں سے نفرت کرتے ہیں۔ آج کچھ لوگوں نے نفرت کے بازار گرم کر رکھے ہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»