<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>م بلال م کی بیاض &#187; جاگو پاکستان</title>
	<atom:link href="http://www.mbilalm.com/blog/tag/%d8%ac%d8%a7%da%af%d9%88-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mbilalm.com/blog</link>
	<description>قطرہ قطرہ سمندر</description>
	<lastBuildDate>Thu, 19 Jan 2012 13:26:32 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>مقصد برائی لیکن وہ مخلص ہیں</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/misdeed-but-sincere/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/misdeed-but-sincere/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 26 Oct 2010 22:26:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[misdeed]]></category>
		<category><![CDATA[misdeed but sincere]]></category>
		<category><![CDATA[sincere]]></category>
		<category><![CDATA[wrong goal]]></category>
		<category><![CDATA[wrong goal but sincere]]></category>
		<category><![CDATA[اچھائی کے لئے جدوجہد]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جدوجہد]]></category>
		<category><![CDATA[رشوت]]></category>
		<category><![CDATA[سفارش]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست دان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاستدان]]></category>
		<category><![CDATA[مقصد برائی لیکن مخلص]]></category>
		<category><![CDATA[مقصد برائی لیکن وہ مخلص ہیں]]></category>
		<category><![CDATA[نظام کی خرابی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارے حکمران]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mbilalm.com/blog/?p=563</guid>
		<description><![CDATA[آپ خود سوچو! ان خراب حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے یا نظام کی بہتری کے لئے  ہم نے ان کا مقابلہ کرنے یا اچھائی کے لئے کیا کیا؟  ہم بڑی آسانی سے حکمرانوں کو قصوروار کہہ کر پھر اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں۔ تھوڑا سا سوچو! یہی ہمارے حکمران جنہیں ہم نالائق کہتے ہیں لیکن وہ اپنے کام اور مقصد کے لئے ہم سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اب ان کا کام اور مقصد ہی برائی کرنا ہے تو وہ برائی کرنے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے۔ بچپن سے لے کر مرنے تک دشمن کے ڈر اور خوف میں رہتے ہیں۔ میڈیا سے بچتے بچاتے اپنا کام کرتے ہیں۔ کئی کئی سال جیلوں میں گذارتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے اپنے رشتہ داروں کو گنواتے ہیں۔سوچ سوچ کر پلان بناتے ہوئے پاگل ہو جاتے ہیں۔ راتوں کو جاگ جاگ کر میٹنگز کرتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے دن رات لوگوں سے ملتے ہیں۔ کسی کو توڑتے ہیں تو کسی کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے انہوں نے ایک منظم گروہ تیار کر رکھا ہے۔ ایک مرتا ہے تو اس کا بیٹا، بیٹی یا دیگر کوئی وارث اس کی جگہ لے کر اپنے کام کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔63 سال ہو گئے لیکن ان کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ اپنے جیسوں کا بڑا برا انجام دیکھ کر بھی ان کی ہمت میں کمی نہیں آئی۔ بے شک ان کا مقصد برائی ہے لیکن وہ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ضرور ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
ہمارے معاشرے کی اکثریت نظام کی خرابی کا سہرا حکمرانوں کے سر سجاتے ہیں۔ ٹھیک ہے ہمارے حکمران بھی ”ہماری“ طرح خراب ہیں۔ بالکل ایسا ہی ہے جی ”ہماری طرح“۔ حکمران نہ تو کسی دوسرے سیارے سے آئے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسری مخلوق ہیں۔ وہ بھی ہمارے ہی ”لگدے لائی دے“ ہیں۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ اگر حکمران ٹھیک نہیں تو ہم کتنے ٹھیک ہیں؟ آج چھوٹی سی بات ہو ہم سفارش کروانے اور رشوت دینے کے لئے سب سے آگے ہوتے ہیں۔ یوں سفارش منظور کرنے والے اور رشوت لینے والے بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ بلکہ میں تو کہوں گا وہ ہم سے بہتر کام کرنے والے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے والے ہیں۔<br />
آپ خود سوچو! ان خراب حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے یا نظام کی بہتری کے لئے  ہم نے ان کا مقابلہ کرنے یا اچھائی کے لئے کیا کیا؟  ہم بڑی آسانی سے حکمرانوں کو قصوروار کہہ کر پھر اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں۔ تھوڑا سا سوچو! یہی ہمارے حکمران جنہیں ہم نالائق کہتے ہیں لیکن وہ اپنے کام اور مقصد کے لئے ہم سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اب ان کا کام اور مقصد ہی برائی کرنا ہے تو وہ برائی کرنے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے۔ بچپن سے لے کر مرنے تک دشمن کے ڈر اور خوف میں رہتے ہیں۔ میڈیا سے بچتے بچاتے اپنا کام کرتے ہیں۔ کئی کئی سال جیلوں میں گذارتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے اپنے رشتہ داروں کو گنواتے ہیں۔سوچ سوچ کر پلان بناتے ہوئے پاگل ہو جاتے ہیں۔ راتوں کو جاگ جاگ کر میٹنگز کرتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے دن رات لوگوں سے ملتے ہیں۔ کسی کو توڑتے ہیں تو کسی کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے انہوں نے ایک منظم گروہ تیار کر رکھا ہے۔ ایک مرتا ہے تو اس کا بیٹا، بیٹی یا دیگر کوئی وارث اس کی جگہ لے کر اپنے کام کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔63 سال ہو گئے لیکن ان کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ اپنے جیسوں کا بڑا برا انجام دیکھ کر بھی ان کی ہمت میں کمی نہیں آئی۔ بے شک ان کا مقصد برائی ہے لیکن وہ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ضرور ہیں۔<br />
شاید آپ کو میری باتیں عجیب لگیں لیکن اچھے یا برے مقصد سے بالا تر ہو کر کبھی کسی سیاست دان کی زندگی کا تھوڑا قریب سے تجزیہ کیجئے گا۔ پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ وہ اپنے مقصد کے لئے کتنی محنت اور کیسی کیسی قربانی دیتے ہیں۔ تب آپ کو پتہ چلے گا کہ دوسری طرف ہم جیسی عوام کتنے پانی میں ہے۔ ہم نے ان کی برائی ختم کرنے کے لئے یعنی ان کے مقابلے میں اچھائی کے لئے کیا کیا؟ کیا ان جتنی لگن سے محنت کی؟ کیا ان جتنا کام کیا؟ وہ برائی کی خاطر ہر وقت خوف میں زندگی گزارتے ہیں اور ہم خوف آنے کے ڈر سے اچھائی ہی نہیں کرتے۔وہ برائی کے لئے میڈیا سے بچتے ہیں اور ہم اچھائی کے لئے گواہی تک نہیں دیتے۔ وہ برائی کے لئے جیل کاٹتے ہیں اور ہم جیل کے ڈر سےمست ملنگ بنے ہوئے ہیں۔وہ اپنے مقصد کی خاطر رشتہ دار تک گنوا دیتے ہیں اور ہم رشتہ داروں کی خاطر اچھائی نہیں کرتے۔ وہ کرسی کے لئے پلان بناتے ہیں اور ہمارے پاس کچھ بہتر کرنے کی سوچ تک نہیں آتی۔وہ راتوں کو جاگ جاگ کر میٹنگز کرتے ہیں اور ہم آرام سے خواب غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ وہ دن رات لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہوئے ایک منظم گروہ تیار کرتے ہیں اور ہم نے اچھائی کے لئے نہ خود کو جوڑا ہے اور نہ ان کو توڑا ہے اور سونے پر سہاگہ ہم پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان میں تقسیم ہوئے بیٹھے ہیں۔ ان میں ایک مرتا ہے تو دوسرا آ جاتا ہے اور ہم مرنے کے ڈر سے اچھائی ہی نہیں کرتے۔ان کی جدوجہد 63 سال سے جاری ہے اور ہم ان کا مقابلہ کرنے کے 63 منٹ بھی نہیں نکال سکتے۔ ان کا برا انجام بھی ہوتا ہے لیکن وہ ڈرتے نہیں جبکہ ہم اچھے انجام کے لئے کوشش تک نہیں کرتے۔<br />
کبھی خود سے سوال کرنا کہ دوسری طرف بیٹھے ہوئے بھیڑیوں کے مقابلے میں تم نے کیا کیا؟ بے شک ان کا مقصد درندگی ہے لیکن وہ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ضرور ہیں۔ شاید عوام کا مقصد اچھائی لانے کی کوشش ہے لیکن ہم اپنے مقصد کے ساتھ مخلص نہیں۔ یا پھر ان مٹھی بھر لوگوں کے مقابلے میں اتنی بڑی عوام میں اتنی عقل اور ہمت موجود نہیں اور یہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہم نظام کی بہتری کے لئے اتنے بڑے ہجوم سے چند لوگ بھی آگے نہیں لا پائے، جو ان جتنی سوچ، عقل اور ہمت رکھتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/misdeed-but-sincere/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ</title>
		<link>http://www.mbilalm.com/blog/wake-up-pakistan-1/</link>
		<comments>http://www.mbilalm.com/blog/wake-up-pakistan-1/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 18 Feb 2010 13:23:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>م بلال م</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[jago Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[wake up Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[wakeup]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=166</guid>
		<description><![CDATA[یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; &#8220;حکومت ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔&#8221; اس جیسے فقرات اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ بات تو ٹھیک ہے کہ حکومت ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور ہر لحاظ سے ایک بہترین معاشرہ وجود میں آئے گا۔ پہلی بات کہ شاید ہم یہاں یہ بھول جاتے ہیں کہ خراب چیزیں کبھی خود بخود ٹھیک نہیں ہوتیں۔ دوسرا شاید ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جیسی عوام ہوتی ہے ویسے حکمران ہوتے ہیں۔ اگر ہم تھوڑا سا اپنا تجزیہ کریں تو یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ ہماری اکثریت سوائے حکومت اور نظام کو کوسنے کے اور کچھ نہیں کرتی۔ جبکہ ہماری اکثریت خود اندر سے خراب ہو چکی ہے۔ ہر کوئی شارٹ کٹ اور &#8220;یگاڑ&#8221; لگانے کے چکر میں ہے۔ اخلاقی قدروں کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ یہاں چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا۔ اگر کسی کے موبائل پر غلطی سے کسی دوسرے کا لوڈ یعنی بیلنس آ جائے تو شاید ہی کوئی ہو گا جو اسے واپس کرے گا یا کرنے کا سوچے گا ورنہ اکثریت کا تو یہ حال ہے کہ شکر کریں گے کہ مفت کا مال ملا ہے۔ جبکہ اخلاقی قدروں کو دیکھا جائے تو کم از کم بیلنس واپس کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیئے۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; اگر ہم چاہتے ہیں کہ نظام بہتر ہو۔ حق دار کو اس کا حق ملے، ہر کسی کو انصاف ملے تو سب سے پہلے ہمیں خود کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ جب ہم حق داروں کو ان کا حق دیں گے، ہر کسی سے انصاف کریں گے اور سب سے بڑھ کر جب اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے تو نظام خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; تاریخ گواہ ہے کہ جب برائی، ظلم و ستم، ناانصافی یعنی ہر طرف اندھیرے کا راج ہوتا ہے تو اس میں روشنی کی لئے دیا خود بخود روشن نہیں ہوتا بلکہ چند لوگوں کو ضرور خوابِ غفلت سے اٹھ کر آگے بڑ کر دیا جلانا پڑتا ہے۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; اے میرے ہم وطنو! بہت نیند ہو چکی اب جاگو اور دوسروں کو بھی جگاؤ۔ قطرہ قطرہ ملا کر سمندر بنا ڈالو، آگے بڑھو! دوسروں کے لئے نہ سہی کم از کم اپنے حق کے لئے تو آواز بلند کرو۔ اب نہیں تو کب اٹھو گے؟ ہم نہیں تو پھر کون جاگے گا؟ اے پاکستان کے عام شہری تم بکریوں میں رہتے رہتے یہ بھول گئے ہو کہ تم شیر ہو۔ تم ایک عام شہری ہو اور عام شہری اچھائی کا وہ فولاد ہوتا ہے جس سے جو برائی ٹکراتی ہے وہ چکنا چور ہو جاتی ہے۔اے پاکستان کے شیرو سب برائی کے پیمانے توڑ ڈالو۔ سب سے پہلے خود کو اچھائی کا فولاد بناؤ اور پھر دوسروں کو بھی بکریوں سے نکالو، انہیں آئینہ دکھاؤ اور ان میں حقیقی شعور بیدار کرو کہ تم بکری نہیں، تم شیر ہو۔<br />
اے میرے وطن کے مظلومو! پل پل غربت کی چکی میں پسنے والو! قدم قدم پر اپنی خودی کی دھجیاں اڑتی دیکھنے والو! اٹھواپنے حق کے لئے آواز بلند کرو۔ اندھیرے کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ایک دیا جلاؤ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خوابِ غفلت سے جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ۔</p>
<p>بقول شاعر<br />
کیا پوچھتے ہو یہ کیسی گھڑی ہے<br />
قیامت جیسی برسات کی جھڑی ہے</p>
<p>اپنی جان اپنا وطن بالکل آزاد ہے مگر<br />
عوام اک دوسرے کے پیچھے پڑی ہے</p>
<p>محبت کس کو کہتے ہیں بھول چکے<br />
موتیوں بغیر دیکھو خالی یہ لڑی ہے</p>
<p>کچھ ہمت کرو ساتھیو اٹھ کھڑے ہو<br />
بہت مشکل وقت کی یہ گھڑی ہے<br />
(ارمان سید)</p>
<p>جاری ہے۔۔۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mbilalm.com/blog/wake-up-pakistan-1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

