م بلال م نے اتوار، 15 جنوری 2012 کو شائع کیا۔
یارو! کل میری بڑی بے عزتی ہوئی ہے۔ دل تو کر رہا ہے ”کمپیوٹر“ کو اچھی بھلی گالیاں نکالوں کیونکہ اس نے کل وہ کیا جس کی کبھی مجھے امید نہیں تھی۔ خیر کمپیوٹر بھی اپنا یار ہے اس لئے اس کی گستاخی پر درگزر کرتے ہیں۔ ویسے بھی بات چیت کے آخر پر اس نے یاروں کا یار بنتے ہوئے بڑے پیار سے بات کی۔ ہوا یوں کہ کل میں کمپیوٹر کو یہ پوچھ بیٹھا
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے جمعرات، 5 جنوری 2012 کو شائع کیا۔
کیبورڈ کی سیٹنگ مختلف کمپنیوں اور اینڈرائڈ کے مختلف ورژن کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے۔ یوں تو کام ایک ہی ہوتا ہے لیکن آپشن اور دیگر چند ایک چیزوں کے ناموں میں تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کے موبائل میں درج ذیل آپشن موجود نہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے جمعرات، 27 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
وہ منطق آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے جو ہمارے لئے ترقی کا آسان ترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک دفعہ اردو کو وہ مقام دے کر تو دیکھو، جس کی یہ مستحق ہے، پھر دیکھنا یہ زبان کیسے دنوں میں عروج دیتی ہے۔ نوجوانوں بہت ذہین ہیں، ایک دفعہ بیگانی زبان کی پابندی اٹھاؤ تو سہی پھر دیکھنا یہ کیسے ملک و قوم کے دن بدلتے ہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے جمعرات، 27 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
اگر کوئی علمی مقاصد کے لئے انگریزی سیکھے پھر بھی بات کوئی ہے لیکن ہمارے ایک گروہ کو ”انگریزیا“ کی بیماری ہو چکی ہے۔ یہ بیمار اور غلام ذہن انگریزی کو اعلیٰ مرتبے کی زبان سمجھتے ہیں یعنی ”سٹیٹس سمبل“۔ یہ لوگ اس بیماری کی وجہ سے ”نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے“
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے بدھ، 26 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
انقلاب کی بات کرتے ہیں، ثقافت کی بات کرتے ہیں لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہی ثقافت کی دھجیاں اڑا رہی ہوتی ہے۔ اخبار اردو، اخبار پڑھنے والے اردو والے، اشتہارات اردو والوں کے لئے لیکن مجال ہے کوئی بھی یونیورسٹی اپنا اشتہار اردو میں دے۔ ہمیں غلام اور ہمارے معاشرے کو ذہنی غلاموں کا جنجال پورہ بنا کر رکھ دیا ہے
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے بدھ، 26 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
زیادہ نہیں بس تھوڑے سا تاریخ کا مطالعہ کرو۔ دیکھو یورپ کے اس تاریک دور کو جب انگریزی میں جدید مواد تھا ہی نہیں۔ تب کچھ بندوں نے اپنی ضرورت کے مواد کو فارسی، عربی اور دیگر زبانوں سے اپنی زبان میں منتقل کیا۔ عام عوام کو سیکھایا اور شعور دیا۔ عوام خوشحال ہونا شروع ہو گئی
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے منگل، 25 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
کسی قوم کی کتنی تعداد اس سطح تک پہنچتی ہے جہاں وہ اس گلوبل ویلیج کا حصہ بنتے ہوئے گلوبل ویلیج کی زبان اپناتی ہے؟ دنیا گلوبل ویلیج میں شامل ہوتی ہے لیکن ساری دنیا شامل ہوتے ہوئے عام طور پر اپنی زبان اپناتی ہے۔ اس کے بعد جس بندے نے جس سطح تک جانا ہوتا ہے، اس کے مطابق وہ دیگر کوئی زبان سیکھتا ہے
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»
م بلال م نے سوموار، 24 اکتوبر 2011 کو شائع کیا۔
جیسے دستانہ پہن کر کسی چیز کو چھونے کا احساس اتنا اچھا نہیں ہوتا جتنا ننگے ہاتھوں چھو کرہوتا ہے، بالکل ایسے ہی اگر ہم کسی دوسری زبان کا غلاف چڑھا کر کوئی بات سمجھنے کی کوشش کریں گے، تو وہ اتنی اچھی نہیں سمجھ سکیں گے، جتنی اپنی زبان اردو میں سمجھ سکتے ہیں
««« مکمل تحریر پڑھیے »»»