محفوظات برائے ”چناب کنارے“ ٹیگ
فروری 6, 2018
4 تبصر ے

منظرباز کے چار یار – شمس، بمبوکاٹ، چندر بھاگ اور عکس ساز

یوں تو ہم ایک زمانے کو دوست رکھتے ہیں لیکن ابھی ذکر ہے جنابِ شمس، مسٹر بمبوکاٹ اور محترم چندربھاگ کا… اور عکس ساز کا۔ یہ سب منظرباز کے ہمراز ہیں۔ اب ایسا بھی نہیں کہ اشرف المخلوقات کو چھوڑ کر ان سے دوستی کر لی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کو دل کی بات کہتے ڈر لاگے ہے صاحب۔۔۔ چناب کنارے والے نے محبوب نگری میں کہا تھا کہ سب تعبیریں اک خواب کیں… سب پنکھڑیاں اک گلاب کیں… سب کرنیں اک آفتاب کیں… جن میں… ہم کنارے چناب کے… ہم سپوت دوآب کے… ہم شہرِخوباں کے… ہم ارضِ جاناں کے… اور ہم←  مزید پڑھیے
ستمبر 15, 2014
16 تبصر ے

سیلاب کی ایک رات

کئی دنوں بعد دھوپ نکلی۔ شاید باہر کا موسم خوبصورت تھا، مگر دل افسردہ تھا۔ کیونکہ ہماری دنیا ہی بدل چکی تھی۔ محض ایک رات میں دیہاتوں کے دیہات اجڑ گئے۔ کئی لوگ انتظامیہ کے کہنے پر گھر بار چھوڑ کر نکلے اور بہتوں کو پانی نے خود آ کر نکالا۔ اس کے باوجود بھی چند لوگ گھر چھوڑنے کو تیار نہ ہوئے۔ پھر سیلاب کی ایسی رات آئی جو بہت کچھ بہا کر لے گئی۔ وہ رات امدادی کاموں میں گزری۔ لیکن اگلے دن میں اس سے مخاطب ہوا کہ لوگ تو تیرے عاشق ہیں مگر کل رات تیری بے وفائی نے←  مزید پڑھیے
جولائی 11, 2012
20 تبصر ے

ابتدائیہ – پربت کے دامن میں

سو چہروں والے قاتل پہاڑ کے دامن میں ہر سال جانے کا سوچتے، پروگرام بننا شروع ہوتا اور مکمل ہونے سے پہلے ہی کوئی دوست کہتا کہ دن بہت زیادہ لگ جائیں گے اور کاروبار متاثر ہو گا، کوئی لمبے سفر سے ڈر جاتا۔ کاروبار متاثر اور لمبا سفر تو صرف بہانا ہوتا، حقیقت تو یہ تھی کہ ہر کسی کو ”بیوی“ سے اجازت نہ ملتی۔ ہمارا کیا ہے، دوست ساتھ ہوں تو لمبے سے لمبا سفر بھی چھوٹا لگتا ہے اور موتی چور کا لڈو کھانے کا ”ارمان“ خیر سے ابھی تک پورا ہی نہیں ہوا۔ بہرحال جیسے تیسے کر کے اب کی بار سب نکل ہی پڑے←  مزید پڑھیے