محفوظات برائے ”تصویر“ ٹیگ
اپریل 6, 2016
26 تبصر ے

فوٹوگرافی میں ایکسپوژر – شٹر، اپرچر اور آئی ایس او

جاندار کی آنکھ ہو یا پھر کیمرے کی، دونوں ایک طرح ہی کام کرتی ہیں۔ جس طرح آنکھ کی پتلی پھیل یا سکڑ کر روشنی کی شدت کو قابو کرتے ہوئے پردۂ چشم پر عکس بناتی ہے، بالکل ایسے ہی کیمرے میں اپرچر کو بڑا یا چھوٹا کر کے مناسب عکس بنایا جاتا ہے۔ اپرچر کے ساتھ ساتھ شٹر اور آئی ایس او سے بھی روشنی کی شدت یعنی ایکسپوژر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ فوٹوگرافر بننے کے لئے ان چیزوں کی سمجھ بہت ضروری ہے۔ کیمرہ سیکھنے، اچھی فوٹوگرافی کرنے اور نئے لوگوں کی آسانی کے لئے اس تحریر میں←  مزید پڑھیے
مارچ 30, 2016
32 تبصر ے

ڈیجیٹل کیمرہ خریدنے کی راہنمائی

موبائل میں کیمرہ آنے کی وجہ سے ہر کوئی فوٹوگرافر بن چکا ہے۔ بعض لوگ بڑی زبردست تصاویر بناتے ہیں، جبکہ بعض تو کیمرے کو اذیت ہی دیتے ہیں۔ میرے خیال میں بے تکی اور بغیر موضوع کے فوٹوگرافی کو تصویر کشی کی بجائے ”تصویر زنی“ کہنا زیادہ بہتر ہے۔ بہرحال اچھا فوٹوگرافر بننے، فوٹوگرافی کی دنیا میں آگے بڑھنے اور تصویروں میں حقیقی رنگ بھرنے کے لئے یہ سلسلہ شروع کیا ہے، تاکہ کچھ آپ اور کچھ ہم سیکھیں اور دنیا کو ایک نئے انداز سے دیکھیں۔ یہاں کیمرہ خریدنے کی تفصیلی معلومات←  مزید پڑھیے
جون 11, 2015
12 تبصر ے

انٹرنیٹ پر تخلیقی مواد کی حفاظت اور چوروں کے خلاف کاروائی

کسی بھی تخلیقی مواد مثلاً تحریر یا تصویر کے تخلیق ہونے کے ساتھ ہی اس پر کاپی رائیٹ خود بخود لاگو ہو جاتا ہے اور کسی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کا تخلیقی مواد بغیر اجازت استعمال کرنا کاپی رائٹ کی خلاف ورزی اور اخلاقی جرم ہے۔ ہمارے ملک میں یہ جرم زوروشور سے ہو رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر مواد چور پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ایسے ہٹ دھرم چوروں کا بہتر علاج یہی ہے کہ ان کی ویب سائیٹس، بلاگز اور اکاؤنٹس وغیرہ ہمیشہ کے لئے بند کروا دیں۔ جس کا طریقہ یہ←  مزید پڑھیے
جولائی 4, 2014
6 تبصر ے

یک روزہ کشمیر گردی – آغاز

ظالموں کو بہت کہا کہ کسی نئی جگہ چلتے ہیں مگر لمبی چوڑی بحث کے بعد ”یک روزہ کشمیر گردی“ کا پروگرام بنا۔ کئی قصبوں اور دیہاتوں سے ہوتے ہوئے کشمیر کے شہر بھمبر میں داخل ہونا تھا۔ وہ اپریل کا ایک خوبصورت دن تھا۔ تھوڑی مسافت طے کرنے کے بعد کشمیر کی سرحد پر سڑک کنارے میز کرسی لگا کر بیٹھی، بیچاری قسم کی پولیس نے ہمارا قافلہ روکا۔ ادھر ”تنچی“ کروا کر منزل کی طرف چل دیئے۔ وادی کشمیر کے خوبصورت سماہنی سیکٹر میں دوستوں کے تماشے اور تصویر زنی←  مزید پڑھیے
مئی 6, 2014
6 تبصر ے

کچھ باتیں چناب کے کنارے

چندر بھاگ سے چناب ہونے والے دریا کے کنارے بیٹھا ہوں۔ ٹھنڈی ٹھنڈی پورب کی ہوا چل رہی ہے۔ اس سارے ماحول سے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دماغ کو تازگی مل رہی ہے۔ دوسری طرف کسان کڑکتی دھوپ میں گندم کی کٹائی میں مصروف ہیں۔ دراصل وہ مٹی سے رزق تلاش کر رہے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کیا صرف پیسا ہی رزق ہے؟ نہیں نہیں۔ ہم جہاں مرضی بھاگتے پھریں، درحقیقت ہم سکون کے متلاشی ہیں۔ خیر یہ تو اپنی اپنی تلاش کی بات ہے۔ پیسا تو مائع←  مزید پڑھیے