تازہ تحاریر
تازہ تبصرے
-
- عابد وسیم» اردو کلیدی تختہ بنانا
- م بلال م» میرے بارے میں
- م بلال م» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- م بلال م» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- فرحت کیانی» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- زاہد» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- محمد اقبال مغل» پاکستان بلاگ ایوارڈ - شام سویرے ہون ووٹاں ای ووٹاں
- محمد فاروق» اردو فارمیٹر - شامل پلگ ان - اردو انگریزی بلاگنگ ایک سات…
ٹیگز
-
english computer انٹرنیٹ education urdu and blog read فانٹس language pak urdu installer کیبورڈ اردو بلاگنگ فونیٹک اردو کیبورڈ society کی بورڈ رسم الخط urdu blog urdu bloging اردو بلاگنگ صوتی keyboard لے آؤٹ system کمپیوٹر اردو فونیٹک urdu installation پاکستان keyboard setting ورڈ پریس بلاگ لکھنا اردو اور بلاگ اردو کیبورڈ لے آؤٹ urdu یونیکوڈ اردو لکھنا فانٹ layout keyboard layout اردو بلاگ in urdu ورڈپریس internet install زبان انگریزی کیبورڈ سیٹنگ wordpress اردو کیبورڈ fonts nation phonetic urdu keyboard installation اردو بلاگ بنانا urdu keyboard layout wordpress blog urdu keyboard معاشرہ اردو انسٹالیشن phonetic urdu phonetic keyboard ورڈ پریس pakistan اردو فونیٹک کی بورڈ write islam کی بورڈ لے آؤٹ fonetic نظام قوم unicode
محفوظات
فیس بک
Technology blogs
Blogs Directory
Blog Directory
Add blog to our directory.
Add Your Blog Blog Site 

Blogs Blog Tools Allie Marie































تمام نقاط سے متفق ہوں۔ باقی ہم لوگ بحثیت مجموعی ناشکری قوم ہیں ، اس لئے آپ کی شکایات بھی بجا ہیں۔
مجھ سے تو اگر کوئی بھی یونیکوڈ کے بارے میں پوچھے تو آپ کی فائل اور بلاگ کا لنک بذریعہ ای میل روانہ کردیتا ہوں کہ یہ رہا بابائے ورڈ پریس :laughloud:
ورڈ پریس ڈاٹ کام کے لئے ایک چھوٹا سا ٹیوٹوریل میںنے بھی بنا رکھا ہے۔ تا کہ جن کو ایچ ٹی ایم ایل کا کوڈ لگانے میں دشواری ہو ان کو وضاحت ہوجائے۔ طریقے یہ سارے آپ ہی سے سیکھے ہیں۔ :worship:
سلام بلال بھائی
جیسے عثمان بھائی نے بولا میں بھی آپ کے تمام نقاط سے متفق ہوں اور یہ آپ کا حق بھی بنتا ہے اور ہم لوگ آپ کی کیا قدر کریں گے جو اپنے کسی بھی محسن کی قدر کرنا ہی نہیں جانتے ابھی ایک دوست سے بحث کر رہا تھا کے ڈاکٹر قدیر نے ہم کو کیا دیا اور ہم نے بدلے میں اس کو کیا دیا
خیر
آپ کی تحریر پڑھتے ہوئے مجھے بھی اپنی ایک غلطی کا احساس ہوا اور میں شرمندہ بھی ہوں جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں میں نے آپ کے بناۓ ہوئے تھیم میں تھوڑی تبدیلی کر کے اپنے بلاگ میں استعمال کیا آپ کو اطلاح تو دی تھی لیکن بعد میں بھائی میں معذرت خواہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
آپکی عظمت ہے کہ آپ نے اپنی اتنی محنت سے سب کے حوالے کردیا۔ مگر دسروں کو بھی اور خاصکر اپنے نام سے اس میں کچھ ردوبدل کر آگے چلانے میں کچھ شرم اور غیرت کھانی چاہئیے تھی۔ اور وہ ابھی اپنی عظمت کا مظاہرہ کر کے کم از کم صاحب تصنیف یا صاحب مشقت کا کم ازکم حوالہ اور رابطہ لنک دیں۔
کسی ٹکیلق کار کو اسکے کام کا معاضہ بے شک نہ ملے تو شیاد وہ صبر کرجاتا ہے مگر اسکی تخلیق کو اپنے نام سے پیش کر دیا جائے۔ یہ ایک تخلیق کار کے ساتھ ناانصافی کے ساتھ ساتھ اسکی آئیندہ تخلیقی کام کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ اور پھر جامد اور بانجھ ذہن الوؤں کی طرح ٹک ٹک دیدم کی مثال بنے وہی منظر پیش کرتے ہیں جو آجکل ہر کسی کی تخلیقی قوتوں اور تخلیق کاروں کے بغیر پاکستان اور پاکستانی معاشرہ پیش کر رہا ہے۔ جس میں ہر دوسرا فرد ایک دوسرے کے پیچھے لٹھ لئیے دوڑ رہا ہے مگر روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے مسائل سے لیکر زندگی اجیرن کردینے والے گھمبیر مسائل تک پہ کوئی حل کوئی فارمولہ بتانے سے قاصر ہے۔
آئی ٹی ٹیکنالوجی حضرت انسان کی لوہے کی دریافت استعمال اور پہیہ کی ایجاد کی طرح شاید اس ملینیم کی سب سے بڑی دریافت و ایجاد ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں یہ ایک یونیورسل شکل رکھتی ہے۔ ایک کائینات کی طرح بہر بیکراں ہر طرف اور لامحدود پھیلی ہوئی۔ اور اس بارے ایک خیال یہ بھی ہے کہ آئی ٹی ٹی میں صدق دل سے کوشش کرتے ہوئے غریب معاشرے بھی اسی طرح ترقی کرسکتے ہیں اور ترقی کی رفتار میں ایک دن آج کی ترق یافتہ اقوام سے آگے نکلنے کے امکانات بھی ان کے لئیے روشن ہیں اور اس میں بہت سے حصے ایسے ابھی باقی ہیں جن پہ کام کئیے جانے کی بے انتہاء ضرورت ہے اور جن پہ ابھی کام نہیں کیا گیا۔ باالخصوص اردو میں اس پہ کام کرنا علم سے بے بہرہ پاکستانی قوم پہ ایک احسان عطیم سے کم نہیں مگر آپ نے جو اس پہ محنت خلوص بے لوث اور بلا معاوضہ کام کیا ہے آپ نے پاکستانی قوم کو اردو میں بنیادی مواد مہیاء کیا ہے جسے بنیاد بنا کر وہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ گو کہ میں نے ابھی تک اس سے ذاتی طور پہ استفادہ نہیں کیا مگر ایک پاکستانی ہونے کے ناطے آپ نے اردو اور پاکستانیوں پہ احسان کیا ہے جس پہ میں آپکو مبارکباد دیتا ہوں اور آپ کا مشکور ہوں۔
جہاں تک تجاویز کے بارے آپ نے سب سے مشورہ مانگا ہے۔ آپ نے خود بھی کئی ایک تجاویز پہ غور کر رکھا ہے اور کر رکھا ہوگا۔ میری رائے میں:۔
1۔ اپنی سبھی پی ڈی ایف فائلز میں واٹر مارک سے اپنا لنک اور نام شامل کیا کریں۔ واٹر مارک جسے ہٹانا ناممکن تو نہیں مگر اتنا آسان بھی نہیں کہ ہر کوئی مفت میں یوں کر کے آپ کا کریڈٹ اپنے نام کرتا پھرے۔
2۔ اپنی سبھی زپ ٹائپ اور دیگر فائلز میں اپنی ویب و بلاگ کا لنک شامل کردیں جس کا حجم زیادہ سے زیادہ ایک کے بی کا ہوگا۔
3۔اپنے ہر امیج اور پیج پہ کای رائٹس بنام بلال کا حوالہ ضرور دیں اور اگر ممکن ہو تو اسے کم از کم پاکستان میں پئٹنٹ کروا لیں۔
4۔ پاکستان میں کسی معقول آئی ٹی ادارے یا اداروں سے اور شخصیات سے اس بارے معتبر رائے لیکر اسی کام کے ساتھ چھاپ دیں۔
5۔ اپنے کام کو عام کریں اور اپنے نام سے کریں۔ جس تخلیق کے بارے میں عام لوگ جان جائیں جیسے غالب، اقبال وغیرہ کی شاعری ہے تو جو اسے اپنے نام سے چھاپے یا انٹنیٹ پہ چڑھائے اخر کار وہ شرمندہ ہوگا۔
6۔ ممکن ہو تو اردو مین اسطرح آئی ٹی ٹی پہ کام کرنے والوں کی کسی تنظیم میں شمولیت اور ان سے اپنا کام شئیر کرتے رہیں۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستان میں کوئی ادارہ آئی ٹی ٹی اور اسکے علاوہ دیگر علوم پہ بے لوث کام کرنے والوں کو حوصلہ افزائی کے طور کوئی تعریفی سند اور انکے کام کی منظوری کے ساتھ انکی تخلیقات کو کاپی رائٹس عطا کرتا۔ تو بہت سے کام کرنے والوں کو حوصلہ رہتا کہ وہ اس جگ میں اکیلے نہیں۔
اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
سر جی،
واٹر مارک والا آئیڈیا بہت اچھا ہے، مجھے زیادہ تو معلوم نہیں پر ایک کام اور بھی کیا جا سکتا ہے۔
کہ:::
اپنی پی ڈی ایف فائل کو پاسورڈ پراٹیکٹ کر دیں، جو کہ ڈاون لوڈ ہونے کے بعد پاسورڈ سے ہی اوپن ہو،اور پاسورڈ کے لیئے بندہ آپ کو ای میل کر کے پاسورڈ لے لے۔ میں نے ایک کتابوں کی ویب سائیٹ پر یہ طریقہ کار دیکھا ہے۔
باقی آپ کی کاوش کا صلہ تو صرف اللہ ہی دے سکتا ہے، دنیا تو ناشکری ہے۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
اللہ تعالٰی کامیابی و کامرانی عطاء فرمائے،
والسلام و دعا گو۔
السلام علیکم،
بلال، آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں، جزاکم اللہ۔
میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں کتاب تقسیم کرنے کے اپنے فوائد ضرور ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اپڈیٹ بھی فراہم کی جاتی رہنی چاہیے۔ ٹیکنالوجی پر کتاب بھی سوفٹویر کی مانند ہے۔ باقاعدہ وقفوں کے ساتھ اسے ورژن نمبر کے ساتھ اپڈیٹ کیا جانا چاہیے۔
آج کل ایک اور مقبول طریقہ کتاب کو وکی طرز کی ویب سائٹ پر پبلش کرنا ہے جہاں اسے آسانی سے اپڈیٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ذیل کا ربط ملاحظہ کریں۔
http://diveintopython.org
آپکے نکتہ نظر سے اتفاق ہے۔ پرانی معلومات کی ترسیل و ترویج سے اصل مقصد پس پشت چلا جائے گا۔ ایک مرکزی مقام پر اپنی فائل رکھنا کارآمد ہوگا۔ گوگل مین اکاونٹ کے ساتھ ڈوک اور پی ڈی ایف فائلز کو واٹر مارک کے ساتھ شیر کر سکتے ہیں اور اپڈیٹ کی صورت میں ایک ہی فائل یا لنک تبدیل کرنا پڑے گا۔
میرے خیال میں تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ اگر یوزر کو معلوم ہو کہ متعلقہ معلومات ایک مقام سے مل جائے گی تو وہ ہر بار اسی سورس پر اعتماد سے واپس آ سکتا ہے
اردو ویب پر آپ کی تحقیق اور بلاگنگ تفاصیل سے میں نے کافی سیکھا ہے گو ٹیکسٹ فائل کا لنک ہر مرتبہ آٹو ریموو ہو جاتا ہے۔ یا لگانا نہیں آ سکا۔ لیکن بہرحال بہت شکریہ۔
جناب آپ کی کتاب اردو اور کمپیوٹر کو تو میں نے کافی زیادہ دوستوں کے ساتھ شیئر کیا ہے وہ بھی ایسے کہ اُس کے داؤں لوڈ لنک کو شیئر کر کے اور چند ایک سے اردو و بلاگ والی کتاب کو اب اس کے لئے آپ سے اجازت نہیں لی اس پر تو اعتراضنہین ہو گا آپ کو؟؟؟؟
بلال بھائی، آپ کے کام کا تو میں ویسے ہی معترف ہوں۔ اب کیا بار بار آپ کو بتانا۔۔۔! :flower:
رہی بات شرائط وغیرہ کی، تو جناب جو چیز آپ کی ہے اس پہ جو چاہے قدغن لگائیں۔ ویسے بھی حوالے کے ساتھ شیئر کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ تو ایک بائی ڈیفالٹ ہی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے۔ اور اپڈیٹ والی بات صد فیصد درست ہے۔ نبیل صاحب کے مشورے سے بھی اتفاق ہے کہ اگر اپڈیٹ کریں تو ساتھ میں اپڈیٹ یا ورژن نمبر وغیرہ بھی بہتر طریقہ ہے۔
کچھ خیالات جو میرے ذہن میں آئے۔
مختلف نسخوں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے انہیں عدد دے دیا کریں۔
مثلاً پہلا پہلا نسخہ
1.00.mbilal
اس کا تھوڑا سا ترمیم شدہ نسخہ
1.01.mbilal
آخر میں نام کا مقصد شناخت ہوگا کہ یہ نسخہ کس کا لکھا ہوا ہے۔ تاکہ اگر کوئی اس میں مفید اضافے کرنا چاہے تو وہ بھی کر سکے اور لوگ نسخہ نمبر سے پہچان لیں کہ یہ خالص آپ کا لکھا ہوا ہے یا کسی کے اضافوں کے ساتھ ہے۔
اس کے علاوہ ہر نسخے کے شروع میں ریلیز نوٹس لکھے جائیں جس سے معلوم ہو کہ نسخہ نمبر فلاں میں کس کس نے حصہ ڈالا ہے۔
اور لائسنس کے لیے اس قسم کا کوئی اجازت نامہ استعمال کریں تو بڑی مہربانی ہوگی۔
http://creativecommons.org/licenses/
کاپی رائٹ کا روایتی طریقہ بہت پرانا ہو گیا ہے اور آج کے دور میں فائدے سے زیادہ نقصان بھی کر جاتا ہے۔ نقصان سے مراد ابتدائی کام کرنے والے کا ذاتی نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کا بحیثیت مجموعی نقصان۔
اگر ایسا کچھ انتظام ہو سکے کہ مزید حصہ ڈالنے کے خواہشمندوں کو یہیں پر کام کرنے میں آسانی ہو تو اور بھی بہتر۔ جیسے وکی میڈیا کا استعمال۔
یا پھر جیسے کوئی آزاد سافٹ وئیر تقسیم کیا جاتا ہے: چند سورس فائلیں اور ان سے پی ڈی ایف تیار کرنے کے لیے سکرپٹ وغیرہ۔ ایسے نظام کی صورت میں git جیسے کسی ورژن کنٹرول سسٹم کا استعمال ہو سکتا ہے۔
میرے خیال میں وکیپیڈیا جیسا کوئی آن لائن انتظام اور اس کے ساتھ خود کار طور پر پی ڈی ایف بنانے کا کوئی نظام بہتر ہوگا تاکہ اپڈیٹنگ یہیں ہوتی رہے اور آف لائن استعمال کے لیے لوگ اس کی تازہ ترین پی ڈی ایف آسانی سے حاصل کر سکیں۔ اگر کوئی ایسا نظام موجود نہ ہو تو سارے ویب ڈویلپرز کو جمع کر کے کچھ تیار کر لیں گے۔ اس طرح بہت سے مصنفین کا فائدہ ہو جائے گا۔ ایسے انتظام کی صورت میں کتاب کے ہر نسخے میں تیاری کا وقت شامل کر دیا جائے گا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ نسخہ کتنا تازہ ہے۔
کیا خیال ہے؟
کتابوں پر کنٹرول کا روایتی طریقہ بہت پرانا ہو گیا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم بھی زمانے کے ساتھ کچھ آگے بڑھِں بجائے ہر تصویر پر بڑا سا واٹر مارک لگانے اور ہر پی ڈی ایف پر پاس ورڈ لگانے کے۔
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بھائی بلال ۔۔ آپ کے بلاگ پر شاید پہلی تشریف آوری ہے ۔۔ بلاگ تھیم دیکھ کر ہی آپ کی صلاحیتوںکا معترف ہو گیا ہوں
یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ آپ نے اردو کے لیے جو کچھ کیا ہے اس کا اعتراف ایک دنیا کرتی ہے پھر آپ کو اتنا فکر مند ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے اندر ایسے لوگ اب بھی موجود ہیںجو دوسروںکا کریڈٹ چھپانے اور اپنے سر لینے کی کوششوںمیں مصروف ہیںلیکن ان کا قد اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ وہ نظر بھی نہیںآتے اور اگر کوئی دیکھ لے تو قدآوروںکے سامنے بونے نظر آتے ہیں
آپ اردو بلاگنگ کی ایک قدآور شخصیت ہیں۔۔ میرا مشورہ ہے کہ کتابچہ یا کتاب کو پی ڈی ایف کی صورت میںہونا چاہیے ۔۔۔ اس کے یونی کوڈ تک کسی کو رسائی دینے کی ضرور ت نہیں ۔۔ پی ڈی ایف میںواٹر مارک اور پاسورڈ والا مشورہ بھی مفید ہے
باقی انشاء اللہ آپ سے گفت و شنید رہے گی
والسلام
یہاں ایک تصحیحبھی کرنی تھی بھول گیا
جہاںتک میری اردو کہتی ہے نقاط صحیح نہیں
یہ نکات ہیں جمع کی صورت میں۔۔۔ اور واحد نقطہ نہیںنکتہ ہوگا
آپ کی دیکھا دیکھی تبصرہ نگاروںنے بھی غلط لکھا ہے نقاط کو نکات میں تبدیل کر لیں
بلال بھائی اگر لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ ؔپ نے کتاب اپنے بلاگ پر ٹریفک لانے کے لیے لکھی ہے تو انہیں سمجھنے دیں۔ یہ تو آپ کا حق ہے کہ آپ اس کو جیسے مرضی استعمال میں لائین۔ باقی آپ کی تمام پالیسیوں سے میں متفق ہوں۔ آپ کے بلاگ کو دیکھ کر ہی مجھے اردو میں بلاگ بنانے کی تحریک ملی ہے۔ ڈومین نیم رجسٹر کرا لیا ہے اب جلد آپ سے گائیڈ لائین لیا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ اآپ کا حامی و ناصر ہو
ارے یار۔۔۔ چھوڑو غصہ پہلی دفعہ جب آپ کے بلاگ پر شائع ہوگیا تو سارے سرچ انجنز اس کو آپ کی ملکیت ہی قرار دیں گے
انگریزی میں کہتے ہیں
سائیڈ ویکھ کے جان دیو
سب سے پہلے تو مشورہ دینے کا بہت شکریہ۔
اجی ہم کہاں کے بابائے ورڈ پریس۔۔۔ بس جو ہو سکے کر دیتے ہیں۔
لو کر لو گل۔۔۔ اگر ٹیوٹوریل لکھا ہوا ہے تو جلدی پوسٹ کرو تاکہ اس بارے میں آپ کے بلاگ کی راہ دیکھائی جا سکے۔ میں تو اس معاملے میں میلز کر کر کے اب تو تھکنے لگا ہوں۔ :laughloud:
وعلیکم السلام بھائی۔
محترم آپ نے اطلاع دی تھی بلکہ پوچھا تھا تو میں نے اس کی اجازت بھی دی تھی۔ اس لئے معذرت خواہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی چھوٹے بھائی آپ اس کی فکر نہ کیا کرو۔ آپ میرے بہت ہی پیارے بھائی ہو۔
آپ نے بہت ہی زبردست تجاویز دی ہیں۔ جس دن آپ نے یہ مشورہ دیا اس دن سے اس پر جہاں تک ہو سکے عمل جاری ہے۔ باقی کئی ایک تجاویز کے لئے غور ہو رہا ہے۔ جیسے کسی آئی ٹی کی تنظیم میں شمولیت اور چھاپنے والی بات۔ ویسے ایک بات ہے یہاں کام کو نہیں بلکہ بندے کی پہنچ کو دیکھا جاتا ہے۔ یہ تو آپ کی بڑی مہربانی ہے کہ آپ یہاں تشریف لائے ورنہ میں نہ تین میں ہوں اور نہ تیرہ میں۔
واٹر مارک والی بات تو ٹھیک ہے لیکن پاسورڈ والی بات سمجھ نہیں آ رہی کیونکہ میری پی ڈی ایف تو مفت میں ہے پھر پاسورڈ کی ضرورت کیونکر ہو۔ ویسے بھی میں آسان سے آسان طریقے سے لوگوں تک اردو کمپیوٹنگ کی باتیں پہنچانا چاہتا ہوں اس طرح پاسورڈ لگانے سے کئی لوگ ای میل کے ذریعے پاسورڈ مانگنے کی بجائے فائل ڈیلیٹ کرنے کو ترجیع دیں گے۔
وعلیکم السلام نبیل بھائی
سب سے پہلے تو بلاگ پر تشریف لانے اور میری حوصلہ افزائی کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ آپ نے بالکل ٹھیک کہا کہ ٹیکنالوجی پر کتاب بھی سافٹ ویئر کی طرح ہی ہے جس کی اپڈیٹ فراہم کرنا ضروری ہے۔ یقین کریں کتاب لکھنے میں اتنی محنت نہیں ہوئی جتنی اپڈیٹ فراہم کرنے میں ہو رہی ہے۔
ویسے وکی طرز کا مشورہ دل کو لگا ہے۔ لگتا ہے ایسا کوئی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ بس جب مصروفیت کم ہوتی ہے تو پھر اس پر کام کرتا ہوں۔ آپ کے مزید مشوروں اور حوصلہ افزائی کا ہر وقت انتظار رہے گا۔
رائے دینے کا بہت شکریہ۔ آپ کی رائے مطابق اپنی ویب سائیٹ پر ایک ڈاؤن لوڈ والا صفحہ بنایا ہے اور پھر وہاں پر لنک میں مسئلہ ہونے کی اطلاع دینے کا سسٹم بھی لگایا ہے۔ یہ سب اس لئے کیا ہے کہ ڈاؤن لوڈ کا لنک ای ہی رہے چاہے سورس میں میں تبدیلیاں کرتا رہوں لیکن ڈاؤن لوڈ لنک میں کوئی فرق نہ آئے اور صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
محترم کسی کے ساتھ لنک شیئر کرنے پر مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ بلکہ اس سے تو میرا کام مزید پھیل رہا ہے۔ اور لنک شیئر کرنے پر اجازت کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ بس اب کوشش کیجئے گا کہ میرے بلاگ یا ویب سائیٹ پر جو لنک ڈاؤن لوڈ کے لئے میں دیتا ہوں وہ دیجئے گا۔ یہ بھی اس لئے ہے کہ تاکہ جب میں اپڈیٹ فراہم کروں تو میں ایک ہی جگہ اپڈیشن کروں اور آئندہ ڈاؤن لوڈ کرنے والے نئی چیز ڈاؤن لوڈ کر سکیں۔
اجی قدغن بھلا کیوں لگانی ہے۔ میں تو بس چاہ رہا تھا کہ مواد کی آسان اور بہتر ترسیل ہو سکے۔ ویسے اپنے لکھے ہوئے ٹیوٹوریل وقتا فوقتا اپڈیٹ تو میں کرتا ہی رہتا ہوں۔ اب کوشش ہو گی کہ ساتھ ورژن نمبر بھی دیتا رہوں۔ ویسے نبیل بھائی کے مشورے پر ضرور عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔
بہت خوب جناب۔۔۔ آپ نے تو بہت ہی قیمتی مشورے دیئے۔ پہلی فرصت میں اور پہلی کوشش یہی ہو گی کہ اس طرح کا کوئی نظام تیار کرنے یا پہلے سے تیار شدہ میں تبدیلیاں کرنے کے لئے کچھ کام کیا جائے۔ ویسے یہ سارے ڈویلپرز جمع کرنے والی بات ہے تو بہت زبردست لیکن جمع کریں گے کیسے۔ کون وقت نکالے گا۔ خیر اس پر سوچا جائے اور کام کیا جائے تو ممکن ہو سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کتابوں اور دیگر مواد پر کنٹرول کا روائیتی طریقہ بہت پرانا اور کمزور ہو چکا ہے۔ یقینا اب کچھ نیا کرنا ہو گا۔ ان شاء اللہ پہلی فرصت میں آپ سے رابطہ کرتا ہوں اور پھر اس بارے میں مزید تحقیق کرتے ہیں۔
بلاگ پر پہلی تشریف آوری کا بہت شکریہ۔ امید ہے آپ آئندہ بھی تشریف لاتے اور اپنے قیمتی مشوروں سے آگاہ کرتے رہیں گے۔ محترم میں کوئی قدآور نہیں بلکہ میں تو ایک عام سا بندہ ہوں۔ بس کوشش یہی رہتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے دوستوں کے ساتھ تعاون کرتا رہوں۔ محترم یونیکوڈ تک رسائی اس لئے دے رکھی ہے تاکہ لوگ تلاش کر سکیں اور اردو کا زیادہ سے زیادہ مواد آن لائن مل سکے۔ باقی آپ کے مشورے کافی اچھے ہیں اور ان پر غور کرتا ہوں۔
محترم میری اردو تو بہت ہی کمزور ہے اور میں اس طرح کی کئی ایک غلطیاں کرتا رہتا ہوں۔ درستگی کا بہت شکریہ اور میں بھی کوشش کرتا ہوں کہ جلدی جلدی یہ درستگی کر لوں۔
محترم ٹریفک والی بات تو کئی لوگ میرے منہ پر اور کئی اشاروں اشاروں میں کہہ چکے ہیں۔ یقین جانئے تب بہت دل دکھا تھا کہ میں نے چاہے تھوڑا بہت کام کیا ہے لیکن انہیں ایسے تو نہیں کہنا چاہئے تھا۔ خیر ہر قسم کے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔
یہ تو اچھی بات ہے کہ آپ نے اپنا اردو بلاگ بنانا شروع کر دیاہے۔ محترم میں تعاون کے لئے حتی المقدور تیار رہوں گا۔
پیارے بھائی ٹھیک ہے جی۔۔۔ میری سائیڈ تو ٹھیک ہے اب آپ بتاؤ آپ کی کیسی ہے تاکہ گاڑی کو دوڑا دوں۔۔۔ ویسے آپ کو یاد نہیں ہو گا لیکن خرم بھائی کی شادی سے واپسی پر آپ نے ایک جگہ بتایا تھا کہ میری سائیڈ ٹھیک ہے آپ اپنی دیکھ کر جانے دو۔ :rotfl: :rotfl: :rotfl:
یہ سوال موضوع سے ہٹ کرہے۔
کیا کوئی ایسا ایڈیٹر مل سکتا ہے جس میں htmlاورvisulکی سہولت شامل ہو