تازہ تحاریر
تازہ تبصرے
-
- عابد وسیم» اردو کلیدی تختہ بنانا
- م بلال م» میرے بارے میں
- م بلال م» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- م بلال م» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- قاری غلام محی الدین» میرے بارے میں
- فرحت کیانی» اردو بلاگوں کے تھوڑے قارئین کی وجوہات
- زاہد» ویب سائیٹ وائرس ختم کرنے کا طریقہ
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- م بلال م» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- عمر» متفرق سوالات اور تبصرے
- محمد اقبال مغل» پاکستان بلاگ ایوارڈ - شام سویرے ہون ووٹاں ای ووٹاں
- محمد فاروق» اردو فارمیٹر - شامل پلگ ان - اردو انگریزی بلاگنگ ایک سات…
ٹیگز
-
اردو اور بلاگ یونیکوڈ urdu blog اردو english ورڈ پریس بلاگ پاکستان فانٹس computer کی بورڈ لے آؤٹ urdu کمپیوٹر انگریزی urdu installation phonetic urdu keyboard urdu keyboard islam in urdu unicode wordpress urdu phonetic keyboard رسم الخط کیبورڈ nation قوم pak urdu installer system ورڈ پریس اردو لکھنا urdu and blog install اردو کیبورڈ لے آؤٹ write society language فانٹ زبان اردو بلاگ بنانا fonetic keyboard setting read کی بورڈ نظام فونیٹک wordpress blog urdu bloging فونیٹک اردو کیبورڈ education لے آؤٹ اردو بلاگنگ keyboard معاشرہ کیبورڈ سیٹنگ phonetic اردو بلاگنگ لکھنا pakistan انٹرنیٹ صوتی اردو کیبورڈ ورڈپریس installation اردو فونیٹک کی بورڈ internet keyboard layout urdu keyboard layout اردو بلاگ layout fonts اردو انسٹالیشن
محفوظات
فیس بک
Technology blogs
Blogs Directory
Blog Directory
Add blog to our directory.
Add Your Blog Blog Site 

Blogs Blog Tools Allie Marie































آپ یہاں فاروق سرور خان صاحب کا ذکر نا کر کے اردو کے ساتھ نہایت زیادتی کررہے ہیں۔ انہوں نے غالبا 1980 میں کام شروع کیا تھا۔ ان کے بارے میں مزید جاننے کے لئے آپ ان کا انٹرویو یہاں پڑھ سکتے ہیں
http://goo.gl/uI10K
بھائی جان پہلی بات تو یہ کہ میں تو کئی اور نام چھوڑ کر بھی اردو کے ساتھ ”زیادتی“ کر رہا ہوں اور دوسری بات یہ کہ یہ تحریر کوئی اردو کمپیوٹنگ کی تاریخ نہیں جس میں کوئی نام رہ گیا تو زیادتی ہو جائے گی۔ تیسری بات یہ کہ دو چار ناموں کے بعد ”وغیرہ وغیرہ“ اسی لئے لکھا ہے کہ ان ناموں کی فہرست لمبی ہے۔ چوتھی بات یہ کہ یہ تحریر جوابات پر مبنی ہے اس لئے چند نام مثال کے طور پر پیش کئے ہیں۔ پانچویں اور آخری بات یہ کہ جب اردو کمپیوٹنگ کی تحریر لکھی تب فاروق سرور صاحب کو نہیں بھولوں گا۔
آہ آہ آہ
رکھ ایتھے ملنگی
اچھا جواب دیا ہے ان لوگوں کو جو اردو کے لئے کچھ کرتے نہیں،،،،، اور جو کرتے ہیں ان کو داد دینے کی بجائے انہیں دل شکستہ کرتے ہیں۔
فخر نوید بھائی! جواب کیا دینا ہے بس کوشش کی ہے کہ تھوڑی تعمیری قسم کی بحث میں حصہ لیا جائے۔ دراصل جنہوں نے (عام آدمی) وہ تحریر لکھی ہے وہ اور ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہے۔ انہوں نے بھی اردو کی صدا بلند کی ہے۔ باقی میں جوابی تحریر ہر گز نہ لکھتا، بس کچھ جگہ چند باتوں کی کمی اور غلطی محسوس کی تو سوچا تھوڑی وضاحت کر دوں۔
خوب جواب دیا ہے
واقعی؟ ویسے وہ بھی ہمارے ہی بھائی ہیں۔
السلام علیکم،
جزاک اللہ بلال۔ آپ نے یقیناً ہمارا بہت محبت سے ذکر کیا ہے۔ کرلپ پر جو کام کیا گیا ہےاس کی نظیر کہیں نہیں ملتی ہے۔ کرلپ پر خالصتاً سائنسی بنیادوںپر تحقیق کی گئی ہے اور مشین ٹرانسلیشن جیسے پراجیکٹس پر کام کیا گیا ہے۔ بہرحال اس میدان میںحکوتی سرپرستی کی بہت ضرورت ہے اور ایسے اداروںکی بھی جو حکومت سے ملنے والی گرانٹس کو درست طور پر استعمال کریں۔
والسلام
وعلیکم السلام!
نبیل بھائی تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ۔ بات آپ کی ٹھیک ہے کہ کرلپ نے اچھا کام کیا ہے اور ہم بھی ان کی قدر کرتے ہیں اور یہ بات میں نے تحریر میں بھی لکھی ہے، لیکن کرلپ ایک ادارہ ہے، اور ایک بڑا ادارہ ہونے کی حیثیت سے اس نے اتنے سالوں میں جتنا کام کیا ہے وہ میرے خیال میں، یہ کہنے کے لئے کافی نہیں کہ انہوں نے جتنا کام کیا ہے اتنا باقی سب نے مل کر بھی نہیں کیا۔ ویسے کبھی خود پر اور ابن سعید وغیرہ وغیرہ جیسے لوگوں پر غور کیجئے گا کہ جس طرح یہ تمام لوگ جان مار کر اردو کے لئے ”مفت“ میں کام کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنا روزگار بھی چلا رہے ہیں اور دوسری طرف ایک ایسا ادارہ ہے جس کے پیچھے کافی مضبوط ہاتھ ہیں، تو ایک ادارہ ہونے کی حیثیت سے انہوں نے جو کام کیا ہے وہ کوئی۔۔۔۔۔
“ٹوٹی پھوٹی سی اردو آپ آفس یا ایکسپلورر میں دیکھ سکتے ہیں جو کہ ایسے لکھی گئی ہوتی ہے کہ پڑھتے ہوئے سر میں درد ہوتا ہے۔” از “عام آدمی”
مر شد!
عام آدمی کے بلاگ پر کوئی اردو فونٹ ڈاؤن لوڈ کرا دے۔ کہ ہر خاص و عام کو وہ بلاگ کھولتے ہی سر درد ہوتا ہے۔ :laughloud:
چ م ی والی سرکار۔۔۔ ایسے نہیں کہتے۔ دراصل ”عام آدمی“ بھی ہماری طرح کا ہی ہے۔ انہوں نے بھی اردو کی بہتری کے لئے تحریر لکھی ہے، بس مجھے لگا کہ ان کی اور میری غلطیوں کی اصلاح ہونی چاہئے اس لئے جوابی تحریر لکھی تاکہ لوگوں میں حوصلہ پیدا ہو کہ اردو کی اب اتنی بھی مشکلات نہیں۔ اس لئے آؤ سب مل کر چلیں اور جو مشکلات باقی ہیں، ان کا بھی حل تلاش کریں۔
بہت اچھی تحریر ہے۔ جزاک اللہ
انڑنیٹ پر موجود یونیکوڈ اردو میں موجود اخباروں کی وجہ سے اردو کی تشہیر میں وسعت لائی جا سکتی ہے۔
اس حوالہ سے ایک عملی قدم یہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ :-
ایک سو لوگوں کی طرف سے روزنامہ ایکسپریس کو ای میل کرنے کی ضرورت ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ براہ کرم ایکسپریس اخبار کو تصویری متن سے تحریری متن میں تبدیل کردیں۔ عین نوازش ہوگی۔
رابطہ :-
عباس اطہر
گروپ ایڈیٹر
48N انڈسٹریل ایریا ، گلبرگ 2 ، لاہور
Phone : +92-42-35878700-7 Fax : +92-42-35878708
abbasathar@express.com.pk
ای میل:-
مکرمی مدیر روزنامہ ایکسریس
السلام علیکم
براہ کرم روزنامہ ایکسپریس کے انٹرنیٹ ایڈیشن کو دیگر اردو اخبارات مثلا روزنامہ جنگ ، پاکستان ، نوائے وقت ،بی بی سی اردو کی طرح “تصویری متن” کے برعکس “تحریری متن” یا “یونیکوڈ اردو” میں تبدیل کر دیں۔
مجھے امید ہے کہ آپ کا یہ عمل روزنامہ ایکسپریس کے قارئین کی تعداد اور انٹرنیٹ ایڈیشن کے وزیٹرز کی تعداد میں اضافہ کا باعث ہوگا کیونکہ انٹرنیٹ پر تحریری متن پر مشتمل مواد کو گوگل کے ذریعے باآسانی سرچ کیا جاسکتا ہے جبکہ تصویری متن کی شکل میں ایسا ممکن نہیں ہوتا جس کی وجہ سے آپ گوگل سے سرچ کر کے اپنے اخبار تک پہنچنے والے قارئین سے محروم ہو جاتے ہیں۔
امید ہے کہ آپ اس بارے میں غور فرمائیں گے۔
والسلام
خیر اندیش
“آپ کا نام”
ای میل کے متن کو مزید واضح اور بہتر کرنے کے لیے اپنی تجاویز ضرور دیں۔
الف نظامی بھائی میں ایکسپریس تو کیا اور بھی کافی ساروں کو ای میل، فیکس اور فون تک کر چکا ہوں اور ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ، لیکن یہ لوگ سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔ ای میل اور فیکس وغیرہ کا جواب تک نہیں دیتے۔ ویسے زیادہ تر ای میل ڈیلیوری فیل ہو جاتی ہے، شاید ان کے ان باکس بھرے پڑے ہیں۔
خیر آپ کی تجویز بہترین ہیں۔ اگر زیادہ لوگ ایک بات کہیں تو شاید ان کو کچھ خیال آ جائے۔۔۔
اس قسم کے مباحثے یا مضامین، سٹوڈنٹ کے لئے بہت فائدہ مند ہیں۔ آپ کے اس آرٹیکل سے مجھے تو بہت فائدہ ہوا ہے۔ میرے لئے یہ ساری معلومات ہی نئی ہیں۔
تحریر پسند کرنے بہت بہت شکریہ۔ چلیں اسی بہانے کسی کو معلومات ملی اور کچھ فائدہ تو ہوا۔
ٖٖٖٖٖکیا آپ مجھے اردو میں ڈیسک ٹاپ پبلشنگ کے مختلف سافٹ وئیر کا نام بتا سکتے ھیں۔ مھربانی
پہلی بات تو یہ کہ تقریباً تمام اچھے سافٹ ویئر میں اردو لکھی جا سکتی ہے۔ دوسری اور اہم بات یہ کہ جس طرح آپ ان پیج سے تحریر کو کورل ڈرا اور فوٹو شاپ میں لے کر جاتے ہیں ویسے ہی دیگر ٹیکسٹ ایڈیٹر مثلاً مائیکروسافٹ ورڈ وغیرہ سے بھی لے جا سکتے ہیں بلکہ کئی اردو فانٹس تو براہ راست فوٹو شاپ وغیرہ میں بھی بالکل ٹھیک چلتے ہیں۔ مزید میں ڈیسکٹاپ پبلشنگ کا زیادہ نہیں جانتا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ مائیکروسافٹ پبلشر وغیرہ میں بھی اردو لکھی جا سکتی ہے۔ ویسے تحریر میں یہ بات کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ان پیج کی محتاجی نہیں رہی کیونکہ جس انداز میں ان پیج کو استعمال کر کے کام کیا جاتا ہے بالکل اسی انداز میں دیگر سافٹ ویئر بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
Can someone please inform about a text editor to type urdu/english in non–arabic windows? Thanks a lot.
محترم آپ پاک اردو انسٹالر کے ذریعے کسی بھی ٹیکسٹ ایڈیٹر مثلاً مائیکروسافٹ ورڈ اور نوٹ پیڈ وغیرہ میں اردو لکھ سکتے ہیں۔ مزید ”ٹیکسٹ ایڈیٹر میں اردو لکھنا“ والی تحریر دیکھیں۔
فوٹو شاپ میں اردو لکھیں تو لکھی نھیں جاتی بلکہ مختلف قسم کے سمبل بن جاتے ھیں۔آپ مجھے اردو فانٹس کا نام بتا دیں جن سے فوٹو شاپ میں اردو لکھی جا سکے۔
اردو یا عربی وغیرہ لکھنے کے لئے فوٹوشاپ کے میڈل ایسٹرن ورژن کو استعمال کریں۔ رہی بات فانٹس کی تو تقریبا اردو کے زیادہ تر فانٹس میڈل ایسٹرن ورژن پر ٹھیک کام کرتے ہیں، ہاں کچھ نستعلیق فانٹس میں کہیں کہیں تھوڑا بہت مسئلہ آ رہا ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ جمیل نوری نستعلیق کا جو نیا ورژن آنے والا ہے وہ فوٹو شاپ وغیرہ پر بالکل ٹھیک چلے گا۔
جمیل نوری نستعلیق کا نیا ورژن کب تک آ جاۓ گا؟
جمیل نوری نستعلیق کی ٹیم کے مطابق تو جلد ہی نیا ورژن آ جائے گا۔ انہوں نے کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔ ویسے آپ کی طرح ہمیں بھی نئے ورژن کا شدت سے انتظار ہے۔
فیس بوک کے لنک سے موصوف کے بلاگ پر گیا، لیکن دو لائن پڑھنے کے بعد سر میں درد ہوگیا چنانچہ نستعلق فونٹ کا مشورہ دیکر بھاگ گیا۔ آپ کے بلاگ سے جانا کہ انہوں نے لکھا کیا تھا، یار وہ بچارے تو اپنی سادگی میں خلوص کے ساتھ لکھ گئے، آپ نے اچھا کیا جو انہیں اندھیرے سے نکال دیا۔
بلال بھائی بہت اچھا لکھاہے اور تعمیری انداز میں جواب دیا ہے! اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ! دعاگو شیراز علی
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ، آپ نے تو کمپوٹری اردو کی پوری کی پوری تاریخ لکھ ماری، میں کراچی یونیورسٹی کو صرف اس لئے مشورہ نہیں دے سکا کو وہ آپ کو اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دے کیونکہ جب سے انہوں نے رحمان ملک جیسے چول کو ڈگری دی ہے، کسی اور شریف آدمی کےلئے ڈگری لینا بےعزتی ہے۔